سعودی صحافی کی گمشدگی

*سعودی صحافی جمال خاشقجی کی گمشدگی اور امریکی ردعمل*

تحریر: ثاقب اکبر

سعودی عرب کے معروف صحافی جمال خاشقجی 2 اکتوبر کو شادی کی دستاویزات لینے کے لئے استنبول میں واقع سعودی قونصل خانے میں گئے اور ترکی کی پولیس کے مطابق وہ وہاں سے باہر نہیں نکلے۔ استنبول میں حکام کا کہنا ہے کہ سفارتخانے کی چار دیواری میں انہیں مبینہ طور پر قتل کر دیا گیا۔ دوسری طرف سعودی حکومت کا کہنا ہے کہ صحافی خاشقجی سفارتخانے سے نکل گئے تھے۔ خاشقجی کی ترک منگیتر خدیجہ چنگیز کا کہنا ہے کہ انہوں نے 11 گھنٹے تک قونصل خانے کے باہر جمال کا انتظار کیا لیکن وہ باہر نہیں نکلے۔ جمال خاشقجی سعودی شاہی خاندان کے بہت قریب رہے ہیں۔ 2012ء میں انہیں سعودی عرب کی پشت پناہی میں چلنے والے العرب نیوز چینل کی سربراہی کے لئے منتخب کیا گیا۔ اس چینل کو قطری نیوز چینل الجزیرہ کا حریف کہا جاتا ہے، لیکن بحرین میں قائم کیا جانے والا نیوز چینل 2015ء میں اپنے آغاز کے 24 گھنٹوں کے اندر ہی بحرین میں حزب اختلاف کے ایک معروف رہنما کو مدعو کرنے کے سبب بند کر دیا گیا۔

2017ء کے موسم گرما میں وہ سعودی عرب کو چھوڑ کر امریکہ منتقل ہوگئے تھے۔ انہوں نے واشنگٹن پوسٹ کے اپنے پہلے کالم میں لکھا کہ کئی دوسرے لوگوں کے ساتھ انہوں نے خود ساختہ جلا وطنی اختیار کی ہے، کیونکہ انہیں گرفتار کئے جانے کا خوف ہے۔ یہ وہی دور تھا کہ جب سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے حکم پر سعودی عرب نے دھڑا دھڑ گرفتاریاں کی جا رہی تھیں، ان میں شاہی خاندان کے بہت سے شہزادے بلکہ شہزادیاں بھی شامل تھیں۔ علماء، اساتذہ اور صحافیوں کی ایک بڑی کھیپ بھی دھر لی گئی تھی۔ جمال خاشقجی تو بہت سی حکومتی پالیسیوں کو ناپسند کرتے تھے اور اس سلسلے میں انہیں بھی ناقدین میں سمجھا جاتا تھا۔ ایسے میں انہوں نے اگر خود ساختہ جلاوطنی کا فیصلہ کیا تو وہ قابل فہم ہے۔ بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق انہوں نے کہا کہ درجنوں افراد ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے دور میں بظاہر مخالفین پر کریک ڈاﺅن کے نتیجے میں حراست میں لئے گئے ہیں۔ شہزادہ محمد بن سلمان ملک میں اقتصادی اور سماجی اصلاح کے اپنے ویژن پر کاربند ہیں اور اس راستے میں آنے والی ہر رکاوٹ کو ہٹا دینا چاہتے ہیں۔

جمال نے اپنے مذکورہ کالم میں سعودی حکومت پر یہ الزام بھی لگایا کہ انہوں نے عربی اخبار ”الحیات“ میں ان کا کالم بند کروا دیا اور انہیں اپنے 18 لاکھ ٹوئٹر فالوورز کے لئے ٹویٹ کرنے سے اس وقت روک دیا گیا، جب انہوں نے 2016ء کے اواخر میں اپنے ملک کو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ”والہانہ طور پر گلے لگانے“ کے جذبے کے خلاف خبردار کیا تھا۔ انہوں نے لکھا: میں نے اپنا گھر، اپنی فیملی، اپنا کام سب چھوڑا اور میں اپنی آواز بلند کر رہا ہوں۔ اس کے برخلاف کام کرنا ان لوگوں کے ساتھ غداری ہوگی، جو جیلوں میں پڑے ہوئے ہیں۔ میں بول سکتا ہوں جبکہ بہت سے لوگ بول بھی نہیں سکتے۔ میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ سعودی عرب ہمیشہ ایسا نہیں تھا۔ ہم سعودی شہری اس سے بہتر کے حقدار ہیں۔ کالم میں یمن پر سعودی عرب کے حملے کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ اپنی تحریروں میں انہوں نے سعودی حکومت پر کریک ڈاﺅن میں اصل انتہا پسندوں کو نظرانداز کرنے کا الزام لگایا اور ولی عہد محمد بن سلمان کا روسی صدر ولادی میر پیوٹن سے موازنہ کیا۔ ان کا آخری کالم 11 ستمبر کو شائع ہوا تھا اور 5 اکتوبر 2018ء بروز جمعہ کو اخبار نے ان کی گمشدگی کو اجاگر کرنے کے لئے ایک خالی کالم کی اشاعت کی ہے۔

امریکہ کی ریپلیکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے سینیٹر لینزی گریم نے سعودی نژاد امریکی شہری اور صحافی جمال خاشقجی کی گمشدگی پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اس معاملے میں سعودی عرب کا ہاتھ ہوا تو اسے بھاری قیمت چکانا پڑے گی، معاشی بھی اور دوسری بھی۔ چند روز اس معاملے پر خاموش رہنے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اپنی خاموشی توڑتے ہوئے جمال خاشقجی کی گمشدگی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ وائٹ ہاﺅس میں میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مجھے اس مسئلے پر تشویش ہے، میں اس بارے میں کوئی بری خبر نہیں سننا چاہتا، امید ہے صورت حال جلد واضح ہو جائے گی۔ یوں معلوم ہوتا ہے کہ امریکی صدر ابھی انتظار میں ہیں کہ صورت حال مزید واضح ہو جائے، تاکہ وہ سعودی عرب پر زیادہ دباﺅ ڈال سکیں۔

جیسا کہ ہم نے اس سے قبل اپنے ایک کالم ”ٹرمپ دودھ ختم ہونے کے بعد گائے کا کیا کریں گے“ میں واضح کیا تھا کہ امریکی مختلف حیلوں بہانوں سے سعودی عرب سے پیسہ نکالنے کی کوشش کریں گے۔ اس کے لئے ان کے پاس دیگر موضوعات کے علاوہ 9/11 کے واقعے میں سعودی شہریوں کی شرکت ہے۔ یہ مقدمہ تیار ہے اور اس کے ذریعے امریکہ کئی سو ارب ڈالر سعودی عرب سے نکالنا چاہتا ہے۔ سعودی صحافی کے حوالے سے بھی امریکی سینیٹر نے واضح کر دیا ہے کہ اگر اس معاملے میں سعودی عرب کا ہاتھ ہوا تو اسے بھاری قیمت چکانا پڑے گی، معاشی بھی اور دوسری بھی۔ امریکہ ایسے واقعات کو اکٹھا کرتا رہے گا، تاکہ ان کے ذریعے سے سعودی عرب سے زیادہ سے زیادہ مفادات حاصل کرسکے۔ سعودی عرب کو نچوڑنے کے لئے امریکی صدر اپنے صدارتی انتخاب سے پہلے سے لے کر حالیہ دنوں تک جو کچھ کہہ چکے ہیں، وہ ان کے دل میں چھپے ارادوں کو جاننے کے لئے کافی ہونا چاہیئے۔

نومبر 2014ء میں انہوں نے کہا تھا کہ سعودی ایسے ڈرپوک ہیں کہ جن کے پاس پیسہ تو ہے شجاعت نہیں۔ مئی 2015ء میں انہوں نے سعودیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ تم نے دنیا کے مختلف ملکوں میں جو دہشتگرد بنائے ہیں اور ان سے تقاضا کیا ہے کہ وہ جہالت، درندگی، انسانوں کے سروں کو کاٹنے اور انسانوں کی زندگی کو تباہ کرنے کے سلسلے کو رواج دیں، ان کے بارے میں یہ گمان نہ کرنا کہ وہ تمھاری حمایت کریں گے اور وہ تمھارے ساتھ رہیں گے، وہ پوری دنیا سے سمیٹ کر آخر تمھارے پاس پہنچیں گے اور تمھارے اوپر مسلط ہو جائیں گے اور تمھیں ہی چبا جائیں گے۔ انہوں نے اگست 2015ء میں کہا تھا کہ ہم پسند کریں یا نہ کریں، ہمارے درمیان جو لوگ سعودی عرب کی حمایت کرنا چاہتے ہیں، میں ان کے مخالف نہیں ہوں، لیکن ہم نے سعودی عرب کی حمایت میں بہت مخارج برداشت کئے ہیں، جبکہ اس کے بدلے میں ہم نے اس سے کچھ نہیں لیا۔ انہیں یہ مخارج ادا کرنا چاہئیں۔ اب اگر ٹرمپ کے تازہ ترین بیانات کو سامنے رکھا جائے، جن میں انہوں نے شاہ سلمان کو مخاطب کرکے کہا ہے کہ شاید تم اپنے ہوائی جہازوں کی حفاظت بھی نہیں کرسکتے، لیکن اگر ہمارے ساتھ رہو گے تو پرسکون رہو گے، البتہ اس کے بدلے میں ہمیں جو کچھ ملنا چاہیے تھا نہیں مل رہا۔

ان تمام بیانات اور واقعات سے واضح ہوتا ہے کہ امریکہ دن بدن سعودی عرب سے اس کے وسائل لوٹنے کے لئے گھیرا تنگ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ یقینی طور پر امریکہ سعودی صحافی جمال خاشقجی کے واقعے سے بھی اپنے استعماری مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کرے گا۔ ترکی کے اندر اس کے لئے تحقیقات کا سلسلہ جاری ہے۔ سی سی ٹی وی کیمروں کے ذریعے ابھی تک یہ بات واضح ہوئی ہے کہ سعودی قونصل خانے سے گاڑیاں تو آتی جاتی رہی ہیں، لیکن سعودی صحافی پیدل باہر نکلتے دکھائی نہیں دیئے، جبکہ انہیں داخل ہوتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔ اگر اس سلسلے میں کوئی نئے حقائق سامنے نہ آئے تو ترک حکام کی اس رائے کو تقویت پہنچے گی کہ سعودی صحافی جمال خاشقجی کو قتل کر دیا گیا ہے۔

اس اندیشے کو اس امر سے بھی تقویت ملتی ہے کہ سعودی عرب اس سے پہلے بھی ایسے بہت سے کام کرچکا ہے۔ بیرون ملک سے منحرف شہزادوں کو سعودی عرب واپس لا کر قتل کیا جا چکا ہے۔ ملک سے باہر بھی حکومت مخالف سعودیوں کے قتل کے واقعات ریکارڈ پر موجود ہیں۔ خود ترکی کے اس وقت امریکہ سے کچھ ایسے تعلقات نہیں ہیں کہ وہ اس واقعے پر پردہ ڈالنے کے لئے سعودی عرب کی حمایت کرے۔ ترک حکومت بھی اپنا دامن بچانے کی کوشش کرے گی۔ ایسے میں نتائج جو کچھ بھی نکلیں گے، ان کا سامنا سعودی حکومت کو تنہا ہی کرنا پڑے گا۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے نزدیک سعودی عرب کی نہ تو کوئی عزت ہے اور نہ خادم الحرمین شریفین کا احترام، وہ سعودی عرب کو ایک دودھ دینے والی گائے کی حیثیت سے دیکھتے ہیں، رحم کی کوئی نظر اس پر نہیں ڈالتے۔ گائے کے ان کے نزدیک دو ہی فائدے ہیں، جیسے کہ وہ متعدد مواقع پر بیان کر چکے ہیں۔

گلگت بلتستان میں آئینی تحریک

گلگت بلتستان میں مسلح کارروائی کے ذریعے علیحدگی کی تحریک چلانے کی سازش بے نقاب

قوم پرست جماعت بلاورستان نیشنل فرنٹ ( بی این ایف) کے سابق رہنما آفاق بالاور نے انکشاف کیا ہے کہ گلگت بلتستان میں انارکی پھیلانے کیلئے نوجوانوں کی برین واشنگ کرکے افغانستان لے جاکر مسلح ٹریننگ دی جاتی ہے ، سیاسی جدوجہد کے نام پر بننے والی بی این ایف مکمل طور پر عسکری تنظیم میں تبدیل ہورہی ہے ، بی این ایف کے سربراہ عبدالحمید خان ، سنگے حسنین سکندر، سردار شوکت اور کرنل (ر) وجاہت خان بیرون ملک بیٹھ کر گلگت بلتستان اور پاکستان کیخلاف سازش کررہے ہیں ان کے پیچھے ملک دشمن طاقتیں موجود ہیں

گلگت پریس کلب پریس کانفرنس کرتے ہوئے آفاق بالاور نے کہا کہ مجھ جیسے بہت سے طالبعلموں کو بی این ایف اور بی این ایس او کی اندرونی کہانی کا پتا نہیں ہوتا اور وہ علاقے کی بہتری سمجھ کر کام کرتا رہتا ہے مگر حقیقت میں ملک دشمن عناصر کے ہاتھوں وطن عزیز پاکستان کیخلاف کام کر رہا ہوتا ہے اور دشمن ایجنسیوں کے کہنے پر چند لوگ اس علاقے کے نوجوانوں کا مستقبل تباہ کر رہے ہوتے ہیں اور ملک سے باہر بیٹھ کر دشمن سے پیسے لے کر ان کی ہدایات کے مطابق وہی احکامات نوجوان نسل کو دے کر بے وقوف بنایا جا رہا ہوتا ہے حالانکہ گلگت بلتستان تعمیروترقی ، تعلیم ، صحت ، روزگار اور سیاحت کے لحاظ سے پاکستان کے بہت سے علاقوں میں بہتر ہے لیکن جو کمی رہتی ہے اس کو آڑ بنا کر نوجوان نسل اور علاقے کے لوگوں کو پاکستان کیخلاف اکسایا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ2010ء میں میں تعلیم کے سلسلے میں لاہورمیں تھا جب بی این ایف ، بی این ایس او عبدالحمید گروپ کی تنظیم سازی ہو رہی تھی تو مجھے بی این ایس او لاہور زون کا صدر منتخب کیا گیا اور کہا گیا کہ گلگت بلتستان سٹوڈنٹس کو جن مسائل کا سامنا ہے ان کا حل نکالنا ہے اس کے ساتھ ساتھ گلگت بلتستان کے باشندوں کو اپنے حقوق کے بارے میں شعور دلانے کے بارے میں کہا گیا ، میرے صدر منتخب ہونے کے بعد عبدالحمید خان نے خاص طور پر مبارکباد دی اور کہا کہ تم محنت اور لگن سے گلگت بلتستان کیلئے کام کرو اور کالج اور یونیورسٹیوں میں زیرتعلیم گلگت بلتستان کے سٹوڈنٹس کو تنظیم کی طرف راغب کرنے کی کوشش کرو اس مقصد کیلئے جتنا پیسہ چاہیے میں بھیج دوں گا کیونکہ مستقبل میں آپ جیسے طالبعلم ہی گلگت بلتستان کے غریب عوام کو غلامی سے آزادی دلوائیں گے لہٰذا ہمیں اپنے حقوق کی جنگ لڑنی ہے جس کیلئے ہمیں منصوبہ بندی کرنے کی ضرورت ہے اس کے بعد میں گا ہے بگا ہے قیادت کی طرف سے ملنے والے احکامات کو عملی جامہ پہنانے کیلئے کوشاں رہا ، اس کے بعد میں کراچی منتقل ہو گیا جہاں میں نے کراچی یونیورسٹی میں داخلہ لے لیا اور تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ ایک ریسٹورنٹ میں ملازمت بھی کرتا رہا ایک دن ریسٹورنٹ والوں نے بتایا کہ کچھ سرکاری اہلکار میرا پوچھنے آئے اور انہوں نے بتایا کہ میرے اوپر گلگت بلتستان میں ایک ایف آئی آر درج ہے اور میں ان کو مطلوب ہوں جس سے میں خوفزدہ ہو گیا ، کراچی میں رہتے ہوئے میرا قوم پرست حلقوں سے رابطہ تھا اور انہی کے ذریعے نائلہ قادری بلوچ نامی ایک خاتون سے سوشل میڈیا پررابطہ ہوا اور مختصر عرصے میں ہمارا مستقل تعلق بن گیا میں نے اپنی پریشانی کا تذکرہ نائلہ بلوچ سے کر دیا تو اس نے مجھے کوئٹہ والے گھر جانے کا کہا تا کہ ادھر محفوظ رہوں اور کوئی مجھے تنگ نہ کر سکے۔ انہوں نے کہا کہ اگست 2017ء میں بذریعہ بس کراچی سے کوئٹہ چلا گیا مجھے نائلہ قادری نے میر مرتضیٰ نامی بندے کا حوالہ دیا اور اس کا موبائل نمبر بھی دیا تھا کہا تھا کہ کوئٹہ میں یہ بندہ تمام معاملات برابر کرے گا، کوئٹہ پہنچنے پر میر مرتضیٰ مجھے ایک گھر لے گیا جو اس کے چچا میر ودود رئیسانی کا تھا کوئٹہ میں 15/20 دن اس گھر میں قیام کے دوران مجھے مرتضیٰ نے بتایا کہ یہاں پر حالات ٹھیک نہیں ہیں لہٰذا میں آپ کو اپنے دوسرے گھر چمن لے جاتا ہوں لیکن چمن میں پہنچ کر اس نے مجھے سردار نامی ایک بندے کے حوالے کیا اور بارڈر کراس کر کے افغانستان ویش منڈی سپین بولدک لے گیا جہاں عمر نامی بندے نے مجھے خوش آمدید کہا اور مجھے کمپلیکس میں لے گیا اور مجھے علیحدہ کمرہ دے دیا مجھے افغان سمیں دے دیں تا کہ میں لوگوں سے اپنا رابطہ بحال رکھ سکوں، اس دوران میری ملاقات میر ودود رئیسانی سے ہوئی جس نے مجھے خوش آمدید کہا اور گلگت بلتستان کے حقوق کی آواز اٹھانے پر شاباش دی اسی دوران میری نائلہ قادری سے واٹس اپ اور فیس بک پربات ہوتی رہی۔

ایک ہفتے بعد میردودور ئیسانی نے ہدایات دے کرمیرا ایک ویڈیو پیغام بنوایا جس میں میںنے اپنانام،علاقہ اورتنظیم کابتاکرسی پیک کو جی جی میں مستردکیا اوراس کوجی بی کی عوام کے لئے نامناسب قراردیااوراس کوتنقید کانشانہ بنایا۔میردودورئیسائی نے یہ بھی بتایا کہ میری یہ ویڈیوجنیوامیں بھیجی جائے گی۔اور یہ بھی کہا کہ یہ ویڈیوعبدالحمید،وجاہت، سردار شوکت اورحسنین سکندر کے ساتھ میراتعلق مضبوط بنائے گی جوپہلے سے ہی اس ایجنڈے پرکام کررہے ہیں۔کچھ دنوں بعد میرودودرئیسانی اورنائلہ نے مجھے بتایا کہ میراافغان پاسپورٹ بناکر مجھے جنیوامیں بھجوادیا جائے گا جہاں پر مختلف پلیٹ فارم پرمجھے عبدالحمیداورحسنین سکندر کے ساتھ جی بی کے لئے آوازاٹھانے کے لئے بٹھایاجائے گا اوراس کے ساتھ مجھے ایک کثیررقم، گھرگاڑی وغیرہ کی بھی یقین دہانی کرائی گئی۔ چند دن بعد میرودود میرے پاس آیا اور مجھے کہا کہ میں جی بی سے چارچاربندوں کے پانچ سے چھ گروپ تیارکروں جن کوافغانستان میں ٹریننگ دلاکر واپس جی بی میںبھیجیں گے اور ان کے ذریعے باقاعدہ علیحدگی کی تحریک کاآغازحملوں کے ساتھ ساتھ جی بی میں حکومت کے خلاف آوازاٹھاکرکریں گے جس کے لئے مجھے کہاگیا کہ ان بندوں کے نام کی لسٹ اورتفصیل بیان کروں جن میں اس کام کاجذبہ ہو۔اس لمحے مجھے احساس ہونا شروع ہوا کہ غلط ہاتھوں میں آچکا ہوں جبکہ میں توصرف جی بی کے حقوق کے پرآوازاٹھانے کے ارادے سے آیا تھا لیکن دراصل جی بی کے حقوق کی آڑ میں یہ لوگ مجھے میری ہی سرزمین کے خلاف استعمال کرنا چاہ رہے تھے لیکن میرے ضمیر نے اس کوگوارا نہیں کیا تو میں نے وہاں سے بھاگنا مناسب سمجھا۔ بذریعہ چمن اسلام آباد پہنچا اور اپنے آپ کو قانون کے حوالے کردیا جہاں سے پولیس نے مجھے عدالت میں پیش کیا اورایک لمبے عرصے کے لئے مجھے جیل بھیج دیاگیا اور میراکیس چلتا رہا اس کے بعد میری رہائی ہوئی۔

جیل سے واپس آنے کے بعد میں نے یہ مناسب سمجھا کہ دشمن بنانے کی ناکام کوشش کی گئی اور میری ہی سرزمین کے خلاف استعمال کرنے کاسوچاتھا تومیں نے مناسب سمجھا کہ میں ان تمام عناصر کواپنی قوم اورنوجوانوں کے سامنے بے نقاب کروں گا تاکہ وہ کبھی بھی دشمن کے ہاتھوں میں آکرملک اور اپنے لوگوں کے خلاف کسی بہکاوے میں نہ آئیں اوروالدین کے لئے بھی ایک آگاہی ہوگی کہ وہ اپنے بچوں کوان ہاتھوں میں کھیلنے سے بچاسکیں۔ آفاق بلاور نے کہا کہ حقوق کی بات کرنابجا ہے مگر اس کی آڑ میں وطن کے خلاف کسی بھی قسم کی کارروائی کرنا غداری ہے۔ قوم پرستی شجرہ ممنوعہ نہیں ہے لیکن بیرون ملک مقیم نام نہاد قوم پرستوں کے ہاتھوں استعمال ہوناقوم پرستی نہیں بلکہ قوم فروشی ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں تمام سیاسی ومذہبی قوم پرست جماعت کے کارکنان اوراپنے قوم کے معماروں سے گزارش کروں گا کہ وہ حقوق کی بات کریں جو میں خود بھی کرتا ہوں اورکرتارہوں گا۔لیکن دائرے میں رہتے ہوئے کیونکہ ہمارے چند لفظوں کی وجہ سے دشمن عناصر کو فائدہ پہنچتا ہے۔ صوبائی اوروفاقی حکومتوں سے بھی استدعا ہے کہ وہ گلگت بلتستان کے آئینی مسئلے کوحل کریں اور یہاں کے لوگوں کوبااختیار بنائیںتاکہ یہاں کے نوجوانوں میںپائے جانے والے احساس محرومی کاازالہ ہوسکے اوردشمن عناصر کو موقع نہ ملے کہ ہمارے نوجوان ان کے بہکاوے میں آجائیں۔ انہوں نے کہا کہ قوم پرستی جرم ہے نہ ہی شجر ممنوعہ، میں اپنی حیثیت سے علاقے کے حقوق کیلئے آواز بلند کرتا رہوں گا لیکن عبدالحمید خان، کرنل (ر) وجاہت اور سنگے حسین جیسے قوم فروشوں سے کبھی اپنا تعلق نہیں جوڑوں گا، یہ لوگ قوم پرست نہیں بلکہ قوم فروش ہیں ہمارے نوجوان قوم فروشوں کے بہکاوے میں نہ آئیں۔

ایران سے کفار خوفزدہ کیوں ہیں!؟

*ایران سے کفار خوفزدہ کیوں ہیں!؟*

خوف بلا وجہ نہیں ہوتا، ہر خوف کے پیچھے ایک داستان، تاریخ، حقیقت یا واقعہ چھپا ہوا ہوتا ہے۔ ایران سے جو عرب بادشاہتیں اور اور امریکہ و اسرائیل ڈر رہے ہیں اور ایران کو اپنے لئے ایک مستقل خطرہ سمجھ رہے ہیں اس کے پیچھے بھی ایک چودہ سو سالہ تاریخ موجود ہے۔ آئیے بغیر کسی تعصب کے اس تاریخ پر ایک نظر ڈالتے ہیں اور سچائی کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

جب بانی اسلامﷺ کی جان کو خطرہ تھا تو حضرت ابوطالب سائبان بن کر بھتیجے کے سر پر کھڑے ہو گئے، یہ چچا اور بھتیجے کی محبت نہیں تھی بلکہ عقیدے کی جنگ تھی ورنہ چچا تو ابولہب بھی تھا۔جب دشمنوں کی سازشیں عروج پر پہنچیں تو آمنہؓ کے لخت جگرﷺ نے شعب ابی طالب میں جا کر پناہ لی، جب حضرت ابوطالب ؑ اورام المومنین حضرت خدیجہؑ کا وصال ہوگیا تو اس سال کو عام الحزن قرار دیا گیا،اس میں کوئی خاص بات تھی ورنہ رسولﷺ کے چچے اور بھی تھے اور امہات المومنین بھی دیگر تھیں کسی کی وفات کے سال کو عام الحزن قرار نہیں دیا گیا۔

مسلمانوں نے حبشہ کی طرف ہجرت کی تو کفار کا ایک وفد مسلمانوں کے تعاقب میں بادشاہِ حبشہ کے دربار میں پہنچا۔ بادشاہَ حبشہ ،یعنی نجاشی کے دربار میں مسلمانوں کی ترجمانی کرنے کے لئے پھر کوئی اور نہیں حضرت ابوطالب کا بیٹا جعفر ابن ابیطالبؑ اٹھا ۔

اسلام کے ساتھ حضرت ابو طالبؑ کا عجیب رشتہ ہے۔ ہر غزوے میں اسلام کا علمدار حضرت ابوطالب ؑ کا بیٹا “ علیؑ ”رہا۔ یہانتک کہ غزوہ خیبر میں ختم نبوت کا تاجدار پکار اٹھا:۔

قالَ: لاءُعطِيَنَّ الرّايَةَ غَدا رَجُلا يُحِبُّ اللّهَ وَ رَسُولَهُ و يُحِبُّهُ اللّهُ وَ رَسُولُهُ كَرّارٌ غَيْْرُ فَرّارٍ، لا يَرْجِعُ حَتّى يَفْتَحُ اللّهُ عَلَى يَدَيْهِ

کل میں علم اس کو دوںگا کہ جو خدا اور رسول کودوست رکھتا ہوگا اور خداو رسول اس کو دوست رکھتے ہونگے ،مردہوگا کرار ہوگا ، فرار نہ ہوگا یعنی جم کر لڑنے والا ہوگا بھاگنے والا نہ ہوگا اور اس کے ہاتھوں کامیابی و فتح حاصل ہوگی ۔

پھر چشمِ فلک نے دیکھا کہ یہ علم حضرت ابوطالب کے بیٹے کو عطا کیا گیا، جب علی ابن ابیطالب ؑ کو شہید کردیا گیا تو پھر ابوطالب کے پوتے میدان میں اتر آئے اور اکسٹھ ہجری میں ابوطالب کا پوتا حسینؑ ابن علی ؑ یہ کہہ کر میدان میں اترا:

إِنّى لَمْ أَخْرُجْ أَشِرًا وَلا بَطَرًا وَلا مُفْسِدًا وَلا ظالِمًا وَإِنَّما خَرَجْتُ لِطَلَبِ الاِْصْلاحِ فى أُمَّةِ جَدّى، أُريدُ أَنْ آمُرَ بِالْمَعْرُوفِ وَأَنْهى عَنِ الْمُنْكَرِ وَأَسيرَ بِسيرَةِجَدّى وَأَبى عَلِىِّ بْنِ أَبيطالِب

میں خود خواہی یا سیر و تفریح کے لئے مدینہ سے نہیں نکل رہا اور نہ ہی میرے سفر کا مقصد فساد اور ظلم ہے بلکہ میرے اس سفر کا مقصد امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ہے۔ اور میں صرف اور صرف اپنے جد کی امت کی اصلاح کے لئے نکلا ہوں۔ میں چاہتا ہوں کہ امر بالمعروف کروں اور نہی عن المنکر کروں اور میری یہ سیرت میرے جد رسول اللہ ﷺ کی اور میرے بابا علی ؑکی بھی سیرت ہے۔

یعنی جو راستہ حضرت ابوطالبؑ کا تھا وہی حضرت ابوطالب کے بیٹے اور پوتے کا بھی تھا، اکسٹھ ہجری میں ابوسفیان کے پوتے نے سوچا کہ میں آل بیطالب ؑ کو لق و دق صحرا میں دفنا کر مٹا دوں گا اور یوں پیغامِ مصطفیﷺ مٹ جائیگا لیکن عین اسی لمحے ابوطالب کی پوتی زینب کبریٰ ، عقیلہ بنی ہا شم سامنے آگئی اور یوں اسلام ابوطالب ؑ کی اولاد کی قربانیوں کے صدقے میں پروان چڑھتا رہا ، حتی کہ چودہ سو سال گزر گئے اور لوگ ظالم اور اوباش بادشاہوں کو ظل الٰہی کہنے لگے ۔ لوگ بادشاہوں کو اسلام کا مالک سمجھنے لگے ایسے میں اسلام کے دفاع کے لئے ، بادشاہت کے خلاف اگر کسی نے قیام کیا تو اور کسی نے بھی نہیں کیا بلکہ اس نے قیام کیا جس کی رگوں میں حضرت ابوطالب کا خون تھا اور دنیا جسے امام خمینیؒ کے نام سے جانتی ہے۔

چودہ سو سال کے بعد ابوطالب کے بیٹے خمینیؒ نے بادشاہت کا تختہ الٹ کر اقوام عالم کو یہ پیغام دیا کہ حقیقی اسلام وہ نہیں ہے جو بادشاہوں کے قدموں میں سانس لیتا ہے بلکہ حقیقی اسلام وہ ہے جو آج بھی بادشاہوں کے تختے الٹ دیتا ہے۔

جب بادشاہوں کے تخت تھرانے لگے تو اسرائیل کو مرحب کے طور پر سامنے لایا گیا، عرب بادشاہوں نے اس کی طاقت کا کلمہ پڑھ لیا، دنیا بھر میں اسرائیل کی طاقت کے چرچے ہونے لگے ایسے میں ابوطالب کے ایک بیٹے سید حسن نصرااللہ نے اسرائیل سے تینتیس روزہ جنگ مول لے کر اسرائیل کے غرور کو خاک میں ملا دیا۔

آج بھی مغرب اور مشرق کی شیطانی حکومتیں اور بادشاہتیں اگر کسی کے نام سے تھراتی ہیں تو وہ کسی اور کا نام نہیں بلکہ ابوطالب کے ایک بیٹے سید علی خامنہ ای کا نام ہے۔

شام سے لے کر عراق تک ، اور اسرائیل سے لے کر افغانستان تک پے درپے شکستیں کھانے کے بعد اب عالم کفر کو یہ احساس ہو چکا ہے کہ اسلام لاوارث نہیں ہے، دنیا میں جب تک اسلام پر حملے ہوتے رہیں گے ابو طالبؑ کی اولاد اسلام کے دفاع کے لئے قیام کرتی رہے گی،یہ تاریخِ اسلام کا بھی سنہری درس ہے اور کربلا کا بھی زرّیں پیغام ہے کہ جب تک آل ابوطالب دنیا میں موجود ہے اسلام سربلند و سرفراز رہے گا۔

آخری زمانے میں دینِ اسلام کے عروج کے لئے حضرت امام مہدیؑ کے ظہور پر سارے عالم اسلام کا اجماع ہے اور یہ بات مسلمات میں سے ہے کہ حضرت امام مہدیؑ کا تعلق بھی حضرت ابوطالبؑ کی آل سے ہو گا اور ایران کی موجودہ حکومت کو حضرت امام مہدیؑ کے ظہور کے لئے زمینہ ساز سمجھا جاتا ہے ، چنانچہ ساری بادشاہتیں اور کافر حکومتیں ایران کی موجودہ حکومت سے لرزاں ہیں۔

ایران کی دن دگنی اور رات چگنی ترقی نے سعودی و طاغوتی بادشاہوں نیز اسرائیل و امریکہ کے حکمرانوں کی نیندیں حرام کر رکھی ہیں۔

ایران نے انقلاب کے بعد صدام کی جارحیت کا مقابلہ تو کیا ہے لیکن آج تک کسی ملک پرحملہ نہیں کیا لیکن اس کے باوجود آج امریکی و سعودی و یہودی اور عیسائی نیز دنیا کے تمام سکالرز بخوبی جانتے ہیں کہ حضرت ابوطالبؑ کے امام مہدیؑ نامی بیٹے کا ظہور بہت قریب ہو چکا ہے۔لہذا یہ سب ایران میں آلِ ابو طالب کی موجودہ حکومت سے یکساں طور پر خوفزدہ ہیں اور باہم متحد ہو کر ایران کے خلاف سرگرمِ عمل ہیں جبکہ قرآن مجید میں خدا کا فیصلہ ہے کہ

 

يُرِيدُونَ أَن يُطْفِؤُواْ نُورَ اللّهِ بِأَفْوَاهِهِمْ وَيَأْبَى اللّهُ إِلاَّ أَن يُتِمَّ نُورَهُ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ
وہ چاہتے ہیں کہ اللہ کا نور اپنی پھونکوں سے بجھا دیں اور اللہ (یہ بات) قبول نہیں فرماتا مگر یہ (چاہتا ہے) کہ وہ اپنے نور کو کمال تک پہنچا دے اگرچہ کفار (اسے) ناپسند ہی کریں۔ سورہ صف آیت ۸

تحقیق: نذر حافی

nazarhaffi@gmail.com

شیعہ سنی اختلاف پر بےلاگ تجزیہ

دل پر ہاتھ رکھ کر فیصلہ کیجیے۔۔۔!!!!!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک شیعہ کا مقدمہ آپکی عدالت میں۔۔۔
ہم مسلمانوں میں شیعہ سنی اختلافات کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں یہ اختلافات ہر وقت ہر جگہ اور ہر بہس میں نظر آئےگا
یہاں تک کہ بات کوئی بھی ہو رہی ہو مگر اس میں شیعہ کا ذکر ضرور ہوتا ہے۔
اکثر کہا جاتا ہے کہ
شیعہ ایسا کیوں کرتے ہیں، ویسا کیوں کرتے ہیں؟
اصحاب کو غلط کیوں مانتے ہیں؟
ازواج رسول کو کیوں نہیں مانتے؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں اس پر کچھ جواب دینا چاہتا ہوں
شیعہ کے پاس ہمیشہ محدود آپشنز رہے ہیں
یعنی (یا یہ مانو گے یا وہ مانو گےبس)
اور شائد آپ کے پاس بھی اتنے ہی آپشنز ہیں۔
میں یہاں کچھ حساس واقعات کا ذکر کرتا ہوں اور ان میں آپشنز بھی بتاؤں گا۔۔۔
شیعہ سنی اختلافات میں
پہلا مسئلہ ہے
فدک یعنی وراثت نبیؐ ۔۔۔
یہاں میں یہ بہس نہیں کرتا کہ وراثت بنتی تھی یا نہیں
مگر سنی بھائی بھی مانتے ہیں کہ نبیؐ کی بیٹی حضرت فاطمہؑ اپنا حق لینے حضرت ابوبکر کے پاس گئیں اور حضرت ابوبکر نے وراثت نہ دی
بی بی ؑ ابوبکر سے ناراض ہوئیں اور وفات تک کلام نہ کیا
یہ میں نہیں کہہ رہا صحیح بخاری کی حدیث ہے
اب یہاں ایک حقیقت ہے کہ ان دو شخصیات میں ایک اپنے قول میں سچا تھا اور دوسرا جھوٹا
شیعہ کے پاس تیسرا آپشن نہیں تھا
شیعہ یا تو نبیؐ کی بیٹی کو سچا مانتا یا ابوبکر کو
شیعہ نے قرآن پڑھا اس میں ہر شخص کی وراثت کا حکم دیا گیا تھا اس میں کسی خاص یا عام کی بات نہیں کی گئی جو بھی اس دنیا میں آیا اور یہاں سے گیا اس کی وراثت ہوتی ہے یہی قرآن نے بتایا
جب شیعہ نے بی بی فاطمہؑ کی طرف دیکھا تو وہ جنت کی عورتوں کی شہزادی نظر آئیں انکے بیٹے جنت کے سردار نظر آئے انکےوالدؐ رحمۃ اللعا لمینؐ اور صادق و امین نظر آئے
اورانکے شوہر شیر خدا نظر آئے
تو شیعہ نے سوچا کہ اگر بی بی ؑ کو جھوٹا کہوں تو یہ نبیؐ کی تربیت کی توہین ہے اور جو جنت کی مالک ہو
اور جسے نبیؐ نے بھی بتا دیا ہو کہ تم سب سے پہلے میرے پاس آؤ گی
اس بی بیؑ کو زمین کے ایک ٹکڑے کے لیے جھوٹ بولنے کی ضرورت کیوں ہوگی؟ بس شیعہ نے ان 2 میں سے ایک کو سچا جانا
اور وہ بی بیؑ تھیں
یہ الگ بات ہے کہ بی بیؑ کو سچا ماننے سے دوسری شخصیت خود ہی غلط ثابت ہو گئی
دوسرا مسئلہ
اسکے بعد شیعہ نے دیکھا کہ
نبیؐ بستر بیماری پر حکم دے رہے ہیں کہ
مجھے کاغذ اورقلم لادو تاکہ میں ایسی تحریر لکھ دوں
کہ میرے بعد تم میں کوئی ختلاف نہ رہے
مگر ایک شخصیت کہہ رہی ہیں
کہ نبیؐ کو ہذیان ہو گیا ہے
ہمارے لیےقرآن ہی کافی ہے
شیعہ نے جب قرآن پڑھا تو دیکھا کہ نبیؐ کا حکم تو جان سے بھی زیادہ افضل ہے
اور انکا کلام حکم خدا سے ہوتا ہے
مگر یہاں یہ شخصیت ہے کہ نبیؐ کی توہین کر رہی ہے
جب شیعہ نے ان شخصیت کی خدمات دیکھیں
تو پوری زندگی میں جتنی بھی جنگیں لڑیں
کبھی بھی ثابت قدم نہ رہے
اور تاریخ میں سوائے ایک کافر کے کسی کا قتل ان کے حصے میں نہ آیا
یہی صاحب مجھے نبیؐ کی وفات کے کچھ ہی دن بعد انکی بیٹی کے گھر کے دروازے پر آگ لے کر کھڑے نظر آئے
اور چلا رہے تھے کہ علیؑ نے بیعت نہ کی تو خدا کی قسم میں آگ لگا دونگا
یہ بھی میں نہیں کہہ رہا اہلسنت کے معتبر علماء علامہ شبلی نعمانی کی کتاب الفاروق کہہ رہی ہے اور اہلسنت کی تاریخ کی کتابیں کہہ رہی ہیں (تاریخ مسعودی و تاریخ طبری)
یہاں بھی شیعہ حیرت اور افسوس کے ساتھ یہ سب دیکھ رہا ہے
کہ کیا یہی وہ اچھے دوست ہیں نبیؐ کے؟
کیا اسے محبت اور دوستی کہتے ہیں ؟
کیا یہی وہ اجر رسالت ہے جسکی قرآن و نبیؐ نے تنبیہ کی تھی؟
شیعہ کا دل اس دوستی اور محبت کے خوفناک مظاہرے کو ہضم نہ کر سکا
تو یہاں شیعہ کے پاس پھر 2 آپشنز تھے
یا تو نبی کے ہر حکم کا انکار کروں یا انکے خلاف ایسی باتیں کرنے والی شخصیت سے بیزاری کروں
تو شیعہ نے نبیؐ کی حمایت کی
کہ اگراس شخصیت کی بھی اگر شان و پہچان بنی تھی تو نبیؐ ہی کی وجہ سے بنی تھی
تیسرا مسئلہ
پھر شیعہ نے خود کو جنگ کے میدان میں پایا
جہاں دو فوجیں آپس میں جنگ کر رہی تھیں
ایک طرف خلیفہ وقت شیر خدا تھے
اور دوسری طرف ایک خاتون تھیں
شیعہ نے پھر قرآن کی طرف دیکھا تو قرآن نے بتایا کہ
میں نے تو حکم دیا تھا کہ اپنے گھروں میں بیٹھی رہو
اور سورۃ تحریم آیت نمبر۴ میں بتا دیا تھا کہ
نبیؐ کی 2 بیویوں کے دل پھر چکے ہیں اس لیے وہ توبہ کریں
مگر انہوں نے توبہ نہیں کی اس لیے آیت بھی منسوخ نہیں ہوئی
پھر شیعہ نے نبیؐ کی طرف رجوع کیا تو پتہ چلا کہ انہوں نے فرمایا ہے کہ
میں نے تو بتا دیا تھا کہ میری ایک بیوی پر حوّاب(ایک جگہ) کے کتے بھونکیں گے
اور وہ غلط ہوگی
میںؐ نے اسکے گھر کی طرف اشارہ کر کے بتا دیا تھا
کہ یہاں فتنہ ہے اور فتنہ شیطان کے سینگ کی طرح یہاں سے ہی نکلے گا
اب تم جانو اور تمہارا فیصلہ جانے
دوسری طرف جسکو میں نے دیکھا
تو بے شمار فضائل نظر آئے
ان میں سے ایک یہ ہے کہ
حق علیؑ کے ساتھ ہے اور علیؑ حق کے ساتھ ہے
افسوس کےساتھ
یہاں پھر شیعہ کوپھر 2 ہی آپشنز ملے
یعنی یا تو حق کے ساتھ ہو جاؤ یا حق کے خلاف یعنی باطل پر
شیعہ نے پھر حق کی حمایت کی
چوتھا مسئلہ
اسکے بعد پھر شیعہ دوبارہ ایک میدان میں کھڑا تھا
جہاں پر پھر 2 فوجیں آمنےسامنےتھیں
ایک طرف پھر وہی خلیفہ وقت علیؑ ابن ابی طالبؑ
اور دوسری طرف وہ شخص جس نے خلیفہ وقت سے بغاوت کر دی تھی
اور جو مجبوری ہوکر مسلمان ہوا تھا اور جسے طلقہ کا لقب ملا تھا
خلیفہ وقت کی فوج میں شیعہ کو ایک بوڑھے شخص کی لاش نظر آئی جس کا نام عمار یاسر تھا
جس کے بارے میں نبیؐ نے فرمایا تھا کہ اے عمار !
افسوس تمہیں ایک باغی گروہ قتل کرے گا
تم انہیں جنت کی طرف بلاؤ گے
اور وہ تمہیں جہنم کی آگ کی طرف بلائیں گے
حیرت کی بات ہے کہ یہاں پھر شیعہ کے پاس پھر سے 2 ہی آپشنز تھے
یا تو وہ حق اور جنت کی طرف ہو جائے
یا پھر باطل اور جہنمی گروہ کی سائیڈ لے
اب آپ مجھے بتائیں کہ کون پاگل ہوگا جو حق کو چھوڑ کر باطل کو اپنائے گا
یا جنت کو چھوڑ کر جہنم کی طرف جائے گا
شیعہ نے یہاں بھی ایک ذی شعور شخص کی طرح جنت والی پارٹی کی حمایت کی
اب میرا سوال آپ بھائیوں سے ہے کہ
آپ نے شیعہ کی مجبوریاں پڑھیں
اب اگر
اس نے ایک آپشن قبول کیا تو کونسا گناہ کیا اور کونسی غلطی کی؟
آج شیعہ آپ کی عدالت میں یہ مقدمہ لے کر آیا ہے
دل پر ہاتھ رکھ کر انصاف کےساتھ فیصلہ کیجیے ۔mas

مکتب اہل بیت کے خلاف سازش

تحریر:شازب جعفری

کیا آپ جانتے ہیں؟

شیعہ مکتب فکر وہ واحد مکتب ہے جس کی طرف ہر مسلک و مکتب کے لوگ مائل ہو جاتے ہیں بشرطیکہ وہ ہماری مجالس میں آئیں بیٹھیں سنیں یا ہماری کتب کا مطالعہ کریں اور شیعت پہ تحقیق کریں،اسی لیے اکثر سننے میں آتا ہے کہ فلاں جگہ پہ ایک شخص نے شیعت قبول کر لی فلاں جگہ اتنے لوگ شیعہ ہوگئے فلاں جگہ پورے کا پورا گاؤں شیعہ ہوگیا،صرف پاکستان میں ہی نہیں پوری دنیا میں اسی تناسب سے لوگ شیعت کی طرف مائل ہوتے ہیں-
لیکن دشمن کو یہ بات کھٹکتی ہے کہ جہاں مٹھی بھر شیعہ (حزب اللہ) ہم سے بھاری ہیں تو اگر آہستہ آہستہ ان کی تعداد بڑھتی گئی تو پھر ہمارا کیا بنے گا؟

اب دشمن نے یہ سوچا کہ کچھ ایسا کیا جائے کہ دیگر مذاہب و مسالک کے لوگ شیعوں سے نفرت کرنے لگیں اور ان کو مارنا شروع کر دیں
اس سے ایک تو یہ ہوگا کہ شیعوں میں اضافہ ہونا رک جائے گا اور مرنا شروع ہو جائیں گے تو عنقریب انکا خاتمہ ہو جائے گا

اب اس مکار دشمن نے دیکھا کہ کونسی ایسی چیز ہے کہ جس پہ شیعہ اپنی جان بھی قربان کرنے کو تیار ہیں تو اسے عزاداری نظر آئی کہ ایک ذاکر خطیب کھڑا ہو کے مصائب پڑھتا ہے اور لوگ نیچے بیٹھ کے روتے ہیں ماتم کرتے ہیں اور کچھ مخصوص دنوں میں سڑکوں بازاروں میں آکر ماتم و گریہ کرتے ہیں اور پوری دنیا کے تمام مذاہب کی نظر بالخصوص یوم عاشور کو ان شیعوں پہ ہوتی ہے

اس نے عزاداری کا خوبصورت چہرہ مسخ کرنا شروع کردیا اور چند ایسی بیہودہ اور خوفناک چیزیں عزاداری میں شامل کیں کہ ایک عام انسان تو کم از کم دیکھ ہی نہیں سکتا یا شرم سے یا خوف سے،اور جسے دیکھ کر دوسرے لوگ ان شیعوں کے قریب بھی نا آئیں اور شدید نفرت کرنے لگیں،وہ چند عوامل یہ ہیں

ڈنڈوں کا خوفناک ماتم
بیلچوں کا خوفناک ماتم
تلوار کا خوفناک ماتم
کانٹوں پہ لیٹنا
شدید قسم کی زنجیرزنی
شدید قسم کی قمہ زنی جس میں بندے کا بھیجا اڑنے لگے
آگ پہ ماتم
ڈھول کے ساتھ ماتم و زنجیرزنی
منہ میں سوئے گھونپنا
پیٹ میں سوئے گھونپنا
قمیضیں اور بنیان اتار کر ماتم و بےپردگی و بیہودگی
منہ میں آگ ڈالنا
خود کو گولی مارنا
چھوٹے چھوٹے معصوم بچوں کا سر چھری سے زخمی کرنا
ذوالجناح کو سجدے کرنا

یہ وہ چیزیں ہیں جنہوں نے عزاداری کو مسخ کر کے رکھ دیا اور عالمی سطح پر تشیع کو ایک وحشی ترین مسلک بنا کے پیش کیا جس سے کروڑوں افراد شیعت سے دور اور متنفر ہوئے

یہاں تک صرف عوام کو شیعت سے دور کیا گیا لیکن اب دوسرا مرحلہ یہ تھا کہ جو شیعہ موجود ہیں انہیں ختم کیسے کیا جائے،کیونکہ یہ سب دیکھ کے کوئی شیعت سے دور ضرور ہوسکتا ہے اسے غیر مذہب سمجھ سکتا ہے لیکن یہاں تک اسکے پاس شیعہ کو واجب القتل قرار دینے کا کوئی جواز نہیں تھا
اب دشمن نے شیعوں کو قتل کرنے کا ساماں تیار کیا
کچھ لوگ جو کہ پہلے وہابی تھے وہ لوگ آہستہ آہستہ شیعہ ہونا شروع ہوگئے،اور شیعہ ہوتے ہی منبروں پر قابض ہوگئے اور منبروں سے دوسرے مسالک کے مقدسات کی بدترین الفاظ میں توہین کرنا شروع کر دی،اور علی رب علی اللہ کے نعرے لگنا شروع ہوگئے
اب یہ سب سنا کے دشمن_شیعہ نے شیعوں کے قاتل تیار کیے اور قتال شروع کر دیا،یہاں پہ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ جی شیعہ تو ہر دور میں قتل ہوتے رہے ہیں اسکی وجہ بھی کیا مقدسات کی توہین یا علی اللہ کے نعرے تھی؟
تو عرض کروں کہ بنیادی وجہ آل محمد ص کی محبت و مودت ہی ہے لیکن ان جاہلانہ افکار سے وہ دشمن جو کہ نہایت ہی چالاک و مکار ہے اس نے نادان مسلمانوں کو اشتعال دے کر اور ان چیزوں کو بہانہ بنا کر شیعہ قتل عام کروایا،
دوسری طرف ایسی کتب لکھی گئیں جن میں امہات المومنین کی شان میں گستاخی کی گئی اور ایسے الفاظ استعمال کیے گئے جو ایک فاسق انسان بھی کسی خاتون کے بارے میں ادا نہیں کرسکتا
جن میں سر فہرست کویتی شیطان یاسر الحبیب جو کہ شیعہ کے لباس میں دشمن شیعہ ہے،اس کی کتاب ہے جو کہ بہت ذیادہ نقصان دہ ثابت ہوئی،بلکہ سعودی مفتی اعظم نے اس بات کا اقرار بھی کیا کہ اگر یہ کتاب (جو یاسر الحبیب نے لکھی) نا لکھی جاتی تو آج عرب خطے میں نوجوانوں کی ایک کثیر تعداد شیعت کو قبول کر چکی ہوتی کیونکہ ہمارے نوجوان حزب اللہ سے بہت متاثر تھے لیکن یاسر الحبیب کا شکریہ ادا کرتا ہوں جس نے اس مشکل سے نجات دی

میرے عزیز احباب_اہلیبت خدارا اس عزاداری کو ان فضول اور بیہودہ رسموں سے نجات عطا کریں تاکہ ہم دنیا کے سامنے ثابت کر سکیں کہ ہم مکتب کتنا پاک و پاکیزہ ہے
خدارا ایسی عزادری برپا کریں جس میں بےپردگی نا ہو جس میں خون و خون ریزی نا ہو،کیونکہ خون و خون ریزی سے شیطان خوش ہوتا ہے امام نہیں،اپنا یہ قیمتی خون امام زمانہ عج کےلیے سنبھال کے رکھیں اگر ابھی ہی نکالنا ہے جائیں شام میں اور بیبی زینب عالیہ س کے روضہ اقدس کی حفاظت کریں اور جام شہادت نوش کر کے بیبی س کو خون کا پرسہ پیش کریں
آپکا یہ خون بہت قیمتی ہے اسے سڑکوں بازاروں پہ ضائع نا کریں خدا کی قسم اس عمل سے امام خوش نہیں ہیں-