ولایت بموازنہ جمہوریت


 *ولایت بموازنہ جمہوریت*
العبد الفقیر: مجتبٰی ہمدانی

*پہلا نقطہ: جمہوریت یعنی مردم محوری*
سب سے پہلے تو یہ جان لیجئے الیکشن جمہوریت نہیں ۔جہموریت ایک مکتب ہے سکول آف تھاٹ ہے جسکاخلاصہ ہے مردم محوری ۔ یعنی ایسا نظام جو انسان محور ہو جس کی ہر چیز انسان کے گرد گھومے۔ یعنی حکومت و اقتدار انسانوں کا اپنا ، قانون انسانوں کا اور حاکم بھی انسانوں کیطرف سے
government of the people, by the people, for the people,

*دوسرا نقطہ: ولایت یعنی خدا محوری*
جبکہ ولایت اس کے بالکل برعکس نظام و نظریہ و مکتب ہے جو قرآن کا نظریہ و مکتب ہے اور اس پر ایمان لانا فکری و عملی دونوں واجب ہے ۔ یہ مکتب ہر زاویے سے محور اللہ کی ذات کو قرار دیتا ہے اور کچھ بھی اختیار نظام و حاکمیت کے معاملے میں بندوں پر نہیں چھوڑتا۔ *جس کے مطابق قانون الله کا، حکومت الله کی اور حاکم بھی الله کیطرف سے*

*نقطہ سوم: چناؤ یا تشخیص*
جمہوریت میں چناو ہوتا ہے جبکہ ولایت کے نظام میں تشخیص ہوتی ہے کہ مشخص کریں الله کے دیے گئے ضابطہ کے مطابق اس وقت ولایت یعنی سرپرستی و اختیار کس کے پاس ہے اسکو پہچانو اسکی تشخیص کرو اور پھر اسکی پیروی کرو چاہے اسکے ساتھ ایک آدمی بھی نہ ہو۔ یہی قاعدہ و کلیہ انبیاء کی تشخیص میں استعمال ہوتا ہے یہی قاعدہ آئمہ کی تشخیص کیلئے ہے اور یہی قاعدہ نائب امام و ولی فقیہ کی تشخیص میں ہے۔ اب تشخیص کا بھی ضابطہ و کرایٹیریا و معیار ہے ۔ جمہوریت میں ہوتا ہے چناو یعنی گن کر دیکھو زیادہ انسانوں کو کون پسند ہے ، مردم محور کون ہے وہ چن لو۔ کوئی ضابطہ و معیار نہیں بس جس کی شہرت زیادہ ہے وہی اختیار سرپرستی بھی لے لے گا ۔

*نقطہ چہارم: ولایت کے ضابطے*
ولایت یعنی کون اللہ کو پسند ہے ، الہی محور کون ہے ، بطور حاکم کسکو الله نے ولایت دی ہے اسکو ڈھونڈو ، شناخت کرو ، پہچانو اسکو ڈھونڈ کے لے کر آو مگر کیسے خدا سے پوچھ کر یعنی خدا کے بتائے ہوئے ضابطے و صفات کیمطابق کہ کون ہے حاکم و ولی و امام ۔۔۔۔

کون پہچانے ؟ جو حاکم کی صفات و ضابطہ سے متعلق خداکے قانون کو پہچانتا ہو۔۔۔۔۔

وہ کون ہے ؟ خدا کا قانون شناس یعنی فقیہ ۔۔ پس خبرگان یعنی فقہا کی جماعت الہی احکام و ضوابط شناسوں کی جماعت جو حکم الہی و ضابطہ الہی کی روشنی میں حاکم الہی کو تشخیص دے ۔۔۔

*نقطہ پنجم، اللہ کا نمائندہ کہ لوگوں کا نمائندہ*
جمہوریت ،لوگوں کے نمائندے چنتی ہے ولایت اللہ کے نمائندہ مشخص کرتی

*نقطہ ششم: خدا کا ضابطہ بموازنہ لوگوں کہ پسند*

📌اللہ کا قانون نہیں بدلتا بندوں کی پسند بدلتی رہتی اسلیے جمہوریت میں بدلتے مزاج و نسلوں کیساتھ بدلتا حاکم نظر آتا ہے۔۔۔ آج ایک، پھر کل دیکھیں کون مردم محور و نگاہ مردم میں ججتا ہے وہ نمائندہ و حاکم کہ باقی لوگوں کو بھی تو موقع ملنا چاہیے تو تیسری بار وہ نہیں جو پہلے ہے اب کوئی اور ۔۔۔۔ یہ کیوں ہے کہ اقتدار لوگوں کا ہے ، سب کا ہے ۔ تیرا، میرا ، اسکا ،انکا سب کا ہے تو موقع بھی سب کو ملے اپنی پسند کو ظاہر کرنے کا ۔۔ آج ایک ہے لوگوں کا نمائندہ تو کل کوئی اور۔۔۔۔ کل کوئی بزنس مین لوہار پسند تھا تو آج کی نسل کو کھلاڑی پسند آگیا ہو سکتا کل کوئی فنکار پسند آجائے

📌خدا کا نظام شرائط و صفات و معیارات پر ہے جب تک شرائط باقی ہیں اللہ کا نمائندہ ہے ۔ کیونکہ اللہ کا مزاج نہیں جو روز بدلے جس بنیاد پر آج خدائی نگاہ میں تھا اگر وہ بنیادیں مرنے تک قائم ہیں خدا کی نگاہ میں وہی ولی ہے کوئی اسکی جگہ نہیں لے سکتا ۔

*خلاصہ، خدا کا سیاسی و سماجی (سوشیو پولیٹیکل سسٹم) نظام فقط ولایت ہے جو خدا محور نظام ہے نہ کہ مردم محور*
ولایت نظام خدا ہے اور اسلام ہر شعبہ زندگی میں اسی نظام کو لاتا ہے ۔ ازدواج میں شوہر بیوی کا ولی ہے جبتک خدائی معیارات کیمطابق ہے شوہر ہی ولی ہے بیوی تبدیل ولایت کا حق نہیں رکھتی اسی طرح باپ بچوں کا ولی ہے جب تک معیارات الہیہ کیمطابق ہے ۔ ولی فقیہ امت اسلامیہ کا ولی ہے جب تک معیارات و شرائط پر ہے چاہے تا حیات رہے ۔۔۔ تو بھائیوں الیکشن ہونا یا نہ ہونا مسئلہ نہیں یہ ایک رائے شماری کا طریقہ کار ہے ۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم کس نظام و سسٹم کے تحت ہیں آیا ہماری زندگیوں کے فیصلے مردم محوری نظام کے تابع ہیں یا پھر خدائی محوری نظام کے تحت ہم نے اپنے آپ کو اپنے گھر کو اپنے خاندان اور اپنے معاشرے کو منظم کیا ہے ۔ یہ اصل نقطہ ہے

*اصل کیا ہے مجلس خبرگان یا ولایت*
مجلس خبرگان جو غیبت امام معصوم میں امت کے امام باالفعل* کی تشخیص کرتی ہے ۔ یہ مجلس بذات خود اصول مذہب و دینی و شرعی امر و حکم نہیں ۔ *دینی حکم و امر ولایت و نظام امامت کا قائم کرنا ہے*۔

*نوٹ: وہ مومن طاق جو ظاہر و خارج میں امت کی زمام اور دین و دنیا سے متعلق امور امامت سنبھالے اور امت کی رہنمائی کرے بطور نائب امام و ولی امر و ولی الفقیہ

*آخری نقطہ:ولایت کا قائم کرنا کیا ہے یا امر ولایت کیا ہے؟*

ولای

ت قائم کرنا یعنی ایک ظاہر بظاہر لوگوں کےدرمیان موجود پیشوا و ولی امر کی تشخیص کرنا ہے اور زمانہ غیبت میں یہ اختیار سرپرستی کسی امام (نائب امام) کے سپرد کرنا امر ولایت یا ولایت کا قیام ہے ۔ اگر ولایت قائم نہ ہو تو مذہب کا اصول و ستون گر گیا یعنی مذہب کی عمارت گر گئی۔ پس غیبت امام معصوم میں فقیہ کو بطور امام بالفعل تشخیص کرنے پر امامت عملی طور پر باقی ہے وگرنہ امامت صرف ذہنی ہے اور خارج میں اسکا کوئی وجود نہیں ۔ اسلئے ولایت فقیہ اصول و رکن مذہب ہے ۔ ولایت فقیہ ہے اصل ۔۔ مجلس خبرگان و شورائی نگہابان و دیگر یہ شرعی امر نہیں یہ اس ولایت کے اصول کو ادارہ کرنے و منظم کرنے و عملی کرنے کے لیے ایک سیستم ہے ۔۔ مجلس خبرگان نہ بھی ہو تو ولایت فقیہ ہے کیونکہ اصول مذہب ہے جمہوری اسلامی ایران کا قانون اساسی نہ بھی ہو تو ولایت فقیہ ہے ۔ خبرگان نے ولایت فقیہ نہیں بنائی بلکہ قرآن نے خدا و رسول و آئمہ نے ولایت فقیہ کو بطور امر واصول دین جاری کیا ہے

۔۔۔۔۔۔: العبد الفقیر الی الغنی الحق مجتبٰی ہمدانی ۔۔۔۔۔۔۔

سعودی اونٹ پہاڑ کے نیچے


سعودی اونٹ پہاڑ کے نیچے ،،

سلفی تکفیری گروہ داعش کی موجودہ دھشت گردی کی پشت پر سید مودودی کی کتابیں نہیں بلکہ امام ابن تیمیہ · کے اجتہادات ھیں ،، اسلامی تاریخ کے مختلف پسِ منظر رکھنے والے واقعات سے امام ابن تیمیہ نے جس طرح استنباط کر کے ان کو دوسرے پسِ منظر رکھنے والے احوال پر جس بے دردی کے ساتھ چسپاں کیا ، اور جس کو ان کی علمی ھیبت سے دھشت زدہ عقول حرف آخر سمجھ کر صدیوں سے پوجتے چلے آئے تھے ، اس نے آخر انڈے بچے دینے شروع کر دیئے ھیں ،،

امام ابن تیمیہ کے فرمودات لٹریچر میں رُل رھے تھے ان کو کوئی گھاس ڈالنے کو تیار نہیں تھا ،، سید مودویؒ کے بارے میں علمائے دیوبند کہا کرتے تھے کہ ھم مودودی کے امام ابن تیمیہ کو گھاس نہیں ڈالتے ،یہ مودودی کیا بیچتا ھے ،، ابن تیمیہ اسلامی تاریخ میں پہلی دفعہ سعودی نجدی انقلاب نے گود لیا اور چار فقہوں کے مقابلے میں پانچویں فقہ کے طور پر پالا پوسا اور پروان چڑھایا ،، اس سے پہلے کبھی بھی فقہ تیمیہ اقتدار میں نہیں آئی تھی ،، اب یہی فقہ سعودیوں کے گلے کا پھندہ بن گئ ھے ،

گزرے کل میں یہی نجدی داعش ھی کی طرح کا ایک گروہ تھے جن کو لارنس آف عریبیا نے عرب نیشنلزم کی بنیاد پر اسلامی خلافت کو ٹکڑے کرنے کا ٹاسک دیا تھا ، مشرک واجب القتل کا فتوی بھی ابن تیمیہ کا تھا اور حرمین میں ھزاروں ترک تہہ تیغ کیئے گئے جو حرمین کے تقدس میں شھید اور پسپا تو ھوتے گئے مگر پلٹ کر فائر نہ کیا کہ مقدس شہروں کی حرمت پامال نہ ھو ، داعش کی طرح بس مزاروں کو مسمار کرنا ھی ان کا بھی منتہائے مقصود تھا جیسا کہ داعش نے اپنے مفتوحہ علاقوں میں کیا ،آج داعش انہی کی ٹرو کاپی بن کر ان کے سامنے کھڑی ھے ، وھی متشدد نظریات ، وھی مسلمانوں کے واجب القتل ھونے کے فتوے ، اور وھی دولے شاہ کے چوہوں جیسی محدود سوچ اور اپروچ ،، سعودیوں میں ٹھہراؤ اور اعتدال باقی امت کے ساتھ تعامل کی وجہ سے آیا ھے ورنہ امام ابن تیمیہ کے فتوؤں نے ان کو راکٹ بنایا ھوا تھا ،، آج کئ جید سعودی علماء یہ کہتے ھوئے قطعاً نہیں شرماتے کہ نظریاتی طور پر داعش ھمارے ھی ایجنڈے کو کاپی کر رھی ھے اور ھم علمی طور پر ان کا رد نہیں کر سکتے ،یہی بات اس عربی مضمون میں بھی کہی گئ ھے کہ جب تک آپ ابن تیمیہ کی پوری میتھالوجی کو ری وزٹ نہیں کرتے آپ کبھی بھی داعش کے نظریات کا رد علمی بنیاد پر نہیں کر سکیں گے ، ایک آدھ فتوے کی بات نہیں ابن تیمیہ کا پورا بیانیہ ھی محلِ نظر ھے ،،

بہت کم لوگ جانتے ھیں کہ جب ترکوں نے مسجد نبوی کی تعمیر کی تو بچوں کو والدین سے لے لیا گیا ، رزقِ حلال سے ان کی پرورش کی گئ ، ان تمام کو معمار کی تربیت کے ساتھ حفظ قرآن کی تعلیم دی گئ ، جو دورانِ تعمیر باوضو حالت میں قرآن کی تلاوت کرتے ھوئے مسجدِ نبوی کی تعمیر کرتے رھے ،اگر پتھر کو چھوٹا کرنا ھوتا تو اس کو مدینے کی حدود سے باھر لا کر توڑا جاتا کہ نبئ کریم ﷺ کے آرام میں خلل نہ پڑے ، وھی ترک واجب القتل ٹھہرے اور حرم نبوی میں پتھر نہ توڑنے والوں کے سینوں کو گولیوں سے چھلنی کیا گیا اور ان کے سر قلم کئے گئے ،،

ابن تیمیہ نے یہ فتوی دیا کہ مسلم بیٹا اپنے کافروالدین کو قتل کر سکتا ھے - ظاھر ھے کہ یہ ابوعبیدہ ابن الجراحؓ کے اپنے والد کو قتل کرنے اور حضرت حذیفہؓ کے اپنے کافر باپ عتبہ کو للکارنے پر قیاس کر کے دیا گیا فتوی ھے جو کہ پہلے دن سے غلط تھا ، ایک تو اس وجہ سے کہ مکے کے لوگوں کے لئے تو طے ھی یہ تھا کہ وہ یا تو ایمان لائیں گے یا قتل کر دیئے جائیں گے تیسرا کوئی آپشن ان کے لئے اللہ کی شریعت میں تھا ھی نہیں اس لئے کہ ان میں ھی رسول مبعوث ھوئے تھے اور ان پر ھی اس درجے کا اتمام حجت قائم ھوا تھا کہ اب وہ اللہ کی سنت کے مطابق رسول اللہ ﷺ کو رد کر کے اللہ کے عذاب کے مستحق ھو چکے تھے ، اور یہ عذاب حالتِ جنگ میں ھی آنا تھا کیونکہ اللہ پاک نے واضح کر دیا تھا کہ " قاتلوھم یعذبھم اللہ بایدیکم ویخزھم وینصرکم علیھم ویشف صدورقوم مؤمنین (توبہ14) ان سے لڑو اللہ ان کو تمہارے ھاتھوں عذاب دے گا ، اور ان کو رسوا کرے گا اور ان کے خلاف تمہاری مدد کرے گا اور اس طرح مومنین ( کا غصہ نکال کر ) ان کے سینوں کو شفا بخشے گا ( ٹھنڈا کرے گا )

دوسرا اس وجہ سے کہ ابن تیمیہ کا یہ فتوی کہ بیٹا اپنے کافر والدین کو قتل کر سکتا ھے قرآن حکیم کے 180 ڈگری خلاف تھا جو واضح طور پر حکم دے رھا ھے کہ اگر والدین تم کو میرے خلاف شرک پر آمادہ کریں اور ایسا کرنے میں سختی بھی کریں تو بھی ان کی بات تو مت مانو مگر ان کے ساتھ رھو ، ان کو ساتھ رکھو اور جس طرح اولاد اپنے والدین کی معروف طریقے سے خدمت کرتی ھے اس طرح ان کی خدمت جاری رکھو ( لقمان )

وان جاھداک علی ان تشرک بی ما لیس لک بہ علم فلا تطعھما وصاحبھما فی الدنیا معروفا .( لقمان -15)

سعودی اس فتوے کو جنگی حالات کا فتوی کہہ کر مٹی جھاڑ کر اس کا دفاع کرتے رھے ،مگر جب داعش نے ابن تیمیہ کے فتوے کو بنیاد بنا

کر خود کو مسلمان اور سعودیوں کو کافر قرار دیا اور اپنے خلاف بولنےوالے والدین کی اولادوں کو حکم دیا کہ وہ ایسے والدین کو اپنے ھاتھ سے قتل کریں اور داعش کے اس حکم پر شام میں عملدرآمد شروع ھوا ،جہاں دو جڑواں بھائیوں نے اپنی والدہ کو اس جرم میں کہ اس نے ان کو داعش چھوڑنے کا مشورہ دیا تھا بازار میں پبلک کے سامنے لا کر خود گولی ماری اور اس کی ویڈیو بھی بنائی جو غالباً یو ٹیوب پر دستیاب بھی ھے نہ صرف ماں کو قتل کرتے وقت ابن تیمیہ کا فتوی پڑھا گیا بلکہ اردنی پائیلٹ کو زندہ جلاتے وقت بھی ابن تیمیہ کا ھی فتوی پڑھا گیا تھا اب سعودیہ میں دو جڑواں بھائیوں نے اپنی 67 سالہ ماں ،73 سالہ باپ اور بھائی کو چھرے سے قتل کرنے کی کوشش کی جس میں والدہ تو قتل ھو گئ جبکہ باپ اور بھائی ریاض اسپتال میں داخل ھیں دونوں بھائیوں کو فرار ھوتے ھوئے یمن کی بارڈر پر گرفتار کر لیا گیا ھے ،، تو اب سعودیوں کے ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے ھیں اور ان میں ایک طاقتور گروہ یہ مطالبہ کر رھا ھے کہ ابن تیمیہ کے فتاوی بھی نظر ثانی کے محتاج ھیں ان کا بغور جائزہ لے کر ان کا محاکمہ کیا جائے اور ان کو ایک مخصوص وقت اور پسِ منظر تک محدود کر کے اس کی عمومیت کا انکار کیا جائے تا کہ اس قسم کے گروھوں کو اس فعل شنیع کے لئے کوئی شرعی جواز دستیاب نہ ھو ،،

گویا ابن تیمیہ کی پوری فقہ تنازع کا شکار ھو گئ ھے ،،

پاکستان میں ٹی ٹی پی اور لال مسجد سرکٹ دیوبندی چہرہ رکھنے کے باوجود داعشی باطن رکھتے ھیں اور دیوبند کے لئے ایک Liability بن چکے ھیں ،جو دیوبندی عام آدمی کو اپنی دیوبندیت سے Attract کرتے ھیں مگر داعشیت کے خیمے میں داخل کر دیتے ھیں ، اور الزام سارا دیوبند پر آ جاتا ھے ، اس بات کو مسلک کی اعلی قیادت بخوبی جان گئ ھے اور اس نے اپنے آپ کو ان سے دور رکھنے کا فیصلہ کر لیا ھے ، دیکھ لیجئے گا کہ آئندہ لال مسجد تنازعے میں دیوبندی علماء قطعاً کوئی سرگرم کردار ادا نہیں کریں گے

الجدل الفقهي من جديد

هل أجاز ابن تيمية أن يقتل الابن والده الكافر؟ الجدل الفقهي يعود من جديد بعد غدر “توأمي داعش” بوالدتهم

صحيفة المرصد: تناول ناشطون من تيارات مختلفة قصاصات، زعموا أن شيخ الإسلام ابن تيمية أجاز فيها أن يقتل الابن والده الكافر، ما فهم منه البعض أن توأمي داعش، استندا إلى أقوال في التراث، أقربها ابن تيمية وذلك قبل أن تسفر التحقيقات الأمنية بالكشف عن خلفية التوأمين الداعشية، . لكن الفقهاء السعوديين الذين يعتبرون ابن تيمية عمدة اختياراتهم الفقهية والعقائدية، أشغلهم نفي التهمة عنه، حتى بدا اتهامه بإباحة فعل مثل «غدر التوأمين»، أشد من الفعلة نفسها بحسب صحيفة “الحياة”.

وفي تفاعل نادر حول قضايا مثل هذه علّق وزير الشؤون الإسلامية الشيخ صالح آل الشيخ، على هذه الجزئية بأن قول شيخ الإسلام رحمه الله، «وإذا كان مشركاً جاز للولد قتله، وفي كراهته نزاع بين العلماء»، يقصد به إذا تواجها في «الحرب»، هذا في فئة المؤمنين والوالد في فئة الكافرين، في هذه الحال فقط». ولفت في التعليق الذي نقله عنه طالبه المقرب الدكتور راشد الزهراني، في «تويتر»، إلى أن ابن تيمية ليس وحده الذي عالج هذه الحال علمياً، مضيفاً: «هذه المسألة ذكرها فقهاء المذاهب، ومما جاء في المذهب المالكي قول خليل في مختصره في قتال البغاة: «وكره للرجل قتل أبيه وورثته»، وجاء في المذهب الحنفي، قول الكاساني، في بدائع الصنائع «ويكره للمسلم أن يبتدئ أباه الكافر الحربي بالقتل»، والنقول في هذا كثيرة. لكنه شدد على أن تنزيل تلك الأحكام على اغتيال «توأمي داعش» والدتهما، افتراء على ابن تيمية.
وزاد آل الشيخ «أما القتل عنوة وغيلة وفي المدن فلا يقول به أحد من العلماء لا ابن تيمية ولا غيره، وهو حرام بالإجماع . مؤكداً أن «من نسب إلى العالم الجليل شيخ الإسلام ابن تيمية غير هذا فقد افترى على هذا الإمام».

بينما اتجه الداعية الشهير عائض القرني إلى نفي التهمة عن ابن تيمية، عبر شجب «أعداء الأمة، داعش الخوارج، والمجوس الصفويين، أجدادهم قتلوا عمر وعثمان وعلياً والحسين رضي الله عنهم، ولعن قاتليهم»، وأبرز فداحة الجريمة، قائلاً: «قدم رجل بوالدته يحج بها على ظهره من اليمن فقال لابن عمر: هل تراني كافأتها؟ قال: لا، ولو بزفرة من زفراتها عند الولادة».

ونافح الداعية السعودي أيضاً بدر العامر عن ابن تيمية، واعتبر نسب الجريمة النكراء إلى أقواله الفقهية، غلطاً بحثياً، وخللاً في الفهم، وأسس وسماً، بعنوان «براءة ابن تيمية»، حاول فيه جمع أقول الفقيه الحنبلي العريق، الرافضة لقتل الأب حتى وإن كان كافراً. لكن التيار الآخر الذي عرف محلياً بالليبرالي، انتقد كُتابه التراث التيمي، وأكدوا أن مراجعته ضرورة، في إشارة إلى وجاهة الربط، بحسب زعمهم.

وقال الكاتب السعودي محمد المحمود عبر حسابه في «تويتر»: «لماذا نعجب من (دواعش) يقتلون والدتهم، وفي تراثنا البعيد والقريب جواز قتل الوالد المشرك، بل وقتل الأطفا

ل (..) وفي سياق التراث العقائدي التقليدي مفهوم جداً أن نجد هكذا فعل لأن قتل الوالدين عندهم أرقى درجات صدق «الولاء والبراء».
وأكد نظيره في هذا الاتجاه الكاتب محمد آل الشيخ، أنه «يجب أن نعيد قراءتنا لتراث ابن تيمية الفقهي ونتعامل معه على أساس أنه مرتبط بزمن آخر وظروف أخرى لا علاقة لها بزمننا، وإلا فلن ينتهي الإرهاب».لكنه عاد وأكد في تغريدة أخرى، أن الإشكال الأكبر في توظيف أقوال الأقدمين من جانب تيارات الإسلام السياسي الراهنة، مثل تنظيم الإخوان المسلمين. وقال: «مواجهة الإرهاب تعني بالضرورة اجتثاث السلفية المتأخونة، ومكافحة تسييس الدين ودعاته مثل مكافحة الأوبئة القاتلة المميتة وإلا فلن ينتهي الإرهاب».
Qari Hanif Dar

سیکولر نظام سیاست


*تحریر کفایت ایلیا*

دنیا کے سیکولر نظام هائے سیاست نے یہ تصور ہر عام و خاص کے ذہن میں راسخ کر دیا هے بطور خاص آج کی نوجوان نسل young generation جو کالجز ،یونیورسٹیز اور مختلف جدید عصری تعلیمی اداروں سے زیور تعلیم سے آراستہ ہو کر معاشرے میں کسی شعبے میں اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں یا پهر آج کسی عصری educational institute میں زیر تعلیم ہیں ان نوجوانوں کی اکثریت کا یہ ماننا هے کہ دین کا سیاست سے اصلا نہ کوئی تعلق ہے اور نہ ہی کسی قسم کا کوئی تعلق ہونا چاہیئے کیونکہ بقول انکے سیاست تو ایک گندی شے هے اور علماء کرام کو اس کے نزدیک جانا تو درکنار بلکہ اسے اپنے حجرے کے کسی جهروکے سے جهانک کر بهی دیکهنے کی زحمت نہیں کرنی چاہیئے .بلکہ اسے معاشرے کے بے دین اور سیکولر اور دین سے پرلے درجے کے بے گانہ لوگوں کے ہاتهہ میں ہونا چاہیئے تاکہ معاشره کی زمام و لگام پرے درجے کے بے لگام لوگوں کے هاتهہ میں رهے .یہ سوال اپنی جگہ بہت اہم هے کہ معاشرے کی بهاگ ڈور دیندار ،دین شناس ،دین کا علم رکهنے والے افراد کے هاتهہ میں ہونا چاہیئے یا پهر دین سے پرلے درجے کے بیگانوں کے هاتهہ میں .اس بات پہ روشنی ڈالنے سے قبل ضروری معلوم ہوتا هے کہ پہلے دین اور سیاست کا ایک مختصر اور اجمالی سا جائزه لیا جائے اسکے بعد دین و سیاست کے تعلق کو واضح کیا جائے دین کے لغوی معنی جزا و التزام کے ہیں جیسے کہ آپ ص سے مروی حدیث میں آیا هے (کما تدین تدان ) یعنی جس سیرت و عقیدے کے تم پابند ہونگے قیامت کے دن اسکی جزاء ملے گی اور اسکے مطابق آپکا محاسبہ کیا جائے گا . مذکوره معنی دین کا literal meaning لغوی معنی هے البتہ اسکا ایک termenalogical meaning اصطلاحی معنی هے جسکے مطابق دین doctorine عقیده ،conceptions مفاهیم احکام instructions or orders جو ایک مذهب اپنے دامن میں لیئے ہوئے هے مفاهیم conceptions میں تمام شعبہ هائے زندگی سے تعلق رکهنے والے تصورات اور افکار thoughts شامل ہیں جن میں سے ایک شعبہ سیاست بهی هے پس دین مختصر طور پر منشور حیات هے charter of life یا مکمل ضابطہ حیات complete code of life ہے جس چارٹر کے اندر محص دفن و کفن ،تجهیر و تکفین ، نکاح و طلاق اور دیگر چند اخلاقی تعلیمات یا افکار و اذکار moral retuals نہیں بلکہ ہر دور کیلیئے اور ہر دور کے تقاضوں need of time سے ہم آہنگ درخشاں تعلیمات موجود ہیں جو تمام شعبہ هائے زندگی پر محیط هیں ان شعبہ هائے زندگی میں سے ایک شعبہ سیاست بهی هے جسکے بارے میں دین کی مکمل تعلیمات instructions موجود ہیں . پس دین جو کہ ایک مکمل منشور حیات هے جس میں سیاسی شعبے سمیت زندگی کے تمام پہلووں کے حوالے سے دینی رہنمائی guideline موجود هے . اسکا مطلب یہ ہوا کہ سیاست دین کا ایک اہم ترین جز هے اور یہ سیاست politics دین سے کسی بهی طور جدا نہیں . دین کے حوالے سے ایک مختصر سے بیان discriptiption کے بعد اب ذرا سیاست پہ کچهہ روشنی ڈالیں ، سیاست politics یعنی معاشرے کو چلانے کے طور طریقے یا یہ کہ معاشرے کو اس طرح منظم کیا جائے کہ اسکی ترقی و پیشرفت یقینی ہو سکے اور معاشرے کے تمام مصالح اور ضروریات یوری ہو سکیں . پس سیاست ملک و ریاست کو چلانے اسکے امور کو تنظیم کی لڑی میں پرو کر ایک خوبصورت مہکتے ہوئے گلدستے کی شکل دینے کا نام هے. دین و سیاست پر بلکل اجمالی اور مختصر سی روشنی ڈالنے کے بعد اب اس بات پہ بهی روشنی ڈالنا ناگزیر هے کہ دین و سیاست کا باہمی تعلق کیا هے ؟ دراصل دین ہر دور میں ہر معاشرے کی رہنمائی guidance کیلیئے آیا هے یعنی دین انسان سے یہ چاہتا هے کہ اسکا رخ خدا کیطرف ہو کیونکہ اس انسان کو خدا نے پیدا کیا هے اور وہی اسکا خالق و مالک هے خدا نے انسان کو خلق کرنے کے بعد اسے بے لگام نہیں چهوڑا بلکہ اسے یہ بتا دیا هے کہ وه کس طرح زندگی گزارے اسکلیئے خدا نے اسے باقاعده منشور زندگی اور قانون حیات عطا فرمائی انفرادی individual اور اجتماعی collective life کے واسطے واضح احکامات instructions بیان فرمائے . دین اسلام نے معاشرے سے الگ تهلگ ره کر زندگی گزارنے سے منع فرمایا اسکے بر عکس معاشرے میں ره کر معاشرتی سر گرمیوں ،معاملات زندگی میں مثبت فعالیت دکهانے کی حوصلہ افزائی فرمائی . ہمارے بہت سارے نوجوان اتنے پڑهہ لکهہ جانے کے

بعد بهی بڑی مان کے ساتهہ یہ کہہ جاتے ہیں کہ دین کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں اور تعلق نہیں ہونا چاہیئے اور بعض جوان یہ سوال کر بیٹهتے ہیں کہ دین دار لوگ سیاست کیوں کرتے ہیں کیونکہ سیاست تو دین دار لوگوں کے شایان شان نہیں هے. ہمارے نوجوانوں کا یہ معصومانہ سوال اپنی جگہ اس لیئے بهی درست هے کیونکہ شروع ہی سے انکے اذهان میں سیاست کی تعریف اور اسکا مفهوم یا تو واضح نہیں ہوتا یا پهر سیاست کی غلط تعریف انکے اذهان میں بٹها دی گئی ہوتی هے دراصل سیاست کے اس غلط تصور کی وجہ سے جو انکے اذهان بٹهایا گیا هے ہمارے اکثر نوجوان سیاست کو دیندار طبقے کیلیئے شجره ممنوعة سمجهہ بیٹهتے ہیں اور دین کو سیاست سے جدا سمجهتے ہیں کیونکہ ہمارے معاشرے میں سیاست کی تعریف معاشرے کو تنظیم کی لڑی میں پرونے تا کہ اسے شاه ترقی پہ گامزن کیا جا سکے ،،اس تعریف کے بجائے سیاست کو منافقت ،منافرت،فراڈ ،کرپشن ، ڈکیتی ، غنڈه گردی ، بغاوت ،شر پسندی اور اس قبیل کے منفی معانی پہنائے جاتے ہیں اس منفی اور گندی تعریف کی وجہ سے لوگوں کو سیاست ایک گندی چیز نظر آنے لگتی هے. لیکن سیاست تو معاشرے میں عدل و انصاف ،مساوات، مال کی عادلانہ تقسیم ،رواداری ، اخوت ، شجاعت ،وفا اور اعلی انسانی اقدار کو فروغ دینے سے عبارت هے. اور دین کا سیاست سے خاص طور پر اسلیئے بهی تعلق هے کہ اسلام غاروں اور پہاڑوں جا کر چهپنے والوں کیلیئے نہیں آیا بلکہ اسلام تو معاشرے کو خدا کے قریب کرنے کیلیئے لیکن سوال یہ هے جب معاشرے کی باگ ڈور سمبهالنے والے دین دار ، بے داغ ، شجاع ،بہادر ،عادل ،پاکیزه ، دین سے آشنا بلکہ اس سے بهی بڑهہ کر دین کو گہرائی سے جاننے والوں کے حوالے کرنے کے بجائے ، کرپٹ ،بے دین ، دین سے ناآشنا ، شرابی ،زانی ، چور ، اقربا پرور دوست نواز اور دین سے بیگانہ ہو کر ہر قسم کی قید بند سے آزاد ہوں تو اس معاشرے کا کیا ہوگا وہی نا جو موجوده حکمران کی شکل میں ہم ملاحظہ کر رهے ہیں بقول شاعر ہر شاخ پہ الو بیٹها هے .....انجام گلستاں کیا ہو گا لهذا politics and religion میں چولی دامن کا ساتهہ هے
کیونکہ دین معاشرے کو خدا کے قریب کرنا چاہتا هے جو سیاست کے بغیر ممکن نہیں اگر دین سیاست سے جدا رهے تو معاشره چنگیزیت میں تبدیل ہو جائے گا مطلب یہ کہ معاشرے میں یذید صفت لوگ مسلط ہونگے نتیجتا معاڑے ظلم و جبر ،ناانصافی ،بد عنوانی ، بد امنی ،بے دینی کا دور دوره ہو گس سگر معاشرے میں دین کا غلبہ ہو گا تو معاشره دینی و دنیاوی ہر حوالے سے ترقی کی شاہره پہ گامزن ہو سکے گا اگر بے دین لوگ معاشرے میں آ کر مادی ترقی materialistic progress کا بهی باعث بن جائیں تب بهی بے دین اور سیکولر حکمران ruling class معاشرے کو خدا سے قریب نہیں کر پائے گا کیونکہ وه دین کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں سمجهتا .پهر دین ہی کا معاشرے پر غلبہ ہونا چاہیئے کیونکہ دین دنیا اور ما بعد الدنیا دونوں میں کامیابی کو اہم سمجهتا هے جبکہ سکولریزم صرف ایک پہلو یعنی دنیا کو ہی اہم سمجهتا هے اور ایک مسلمان کیلیئے یقینا صرف دنیا ہی نہیں بلکہ آخرت میں کامیاب ہونا مقصود و مطلوب هے اور یہ کام محص دین و سیاست کے تعلق سے ہی انجام پا سکتا هے سیکولریزم دین و دیاست کی جدائی اپنانے سے آخرت داو پہ پڑ جائے گی

سید زادی کا غیر سید سے نکاح


[7/13, 9:33 PM] +92 312 8217328 : تاریخ میں سید زادیوں کے غیر سادات لڑکوں سے نکاح

 

تحقیق: محمد زکی حیدری

 

1-  فاطمہ صغریٰ (س) بنت حسین (ع) کا عبدالله ابن عمر و بن عثمان بن عفان (غیر سید) سے نکاح:


فاطمہ بنت حسین (س) یعنی فاطمہ صغریٰ (س) کے عبدالله ابن عمر و بن عثمان بن عفان سے ازدواج کے بارے میں آتا ہے کہ: "جب عبداللہ ابن عمر نے بیبی فاطمہ صغریٰ (س) کا رشتہ مانگا تو بیبی نے انکار کیا، لیکن ان (س) کی ماں اس رشتے کی طرف مائل نظر آئیں اور انہیں قسم دی کہ عبدااللہ سے شادی کرلیں، بیبی (س) نے اپنی ماں کے اسرار اور حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس شادی کیلئے ہاں کر دی لیکن اس کے بعد (تمام مورخین کے اتفاق سے) ایک سال تک اپنے شھید شوہر (حسن مثنی بن امام حسن ) کے غم میں خیمہ زن ہوکر خدا سے رازو نیاز کرتیں اور اپنے شوہر کا غم مناتی رہیں۔(1)(2)(3)(4)
حوالہ جات: 
1-قمي، عباس، سفينة البحار، ج1، ص256.
2- ترجمة مقاتل الطالبين، ص 196 و 194
3- صادقي اردستاني، احمد، فاطمه دختر امام حسين ـ عليه السّلام ـ ، تهران، مطهر، 1379، ص 182، 178
4-.انساب الاشراف، ج2، ص 47 و ج 8، ص245، البدایه و النهایه، ج9، ص256.

 

 

2-  مقداد بن اسود (غیر سید صحابی) کا ضباعة ابنة الزبير بن عبد المطلب (سید زادی) سے نکاح:


ہماری اہل تشیع کی مستند ترین کتب کتب اربعہ میں سے ایک "اصول کافی " کی حدیث ہے سند کے ساتھ ذرا غور سے پڑہیئے گا: 
محمد بن يعقوب ، عن علي بن إبراهيم ، عن أبيه ، عن الحسن بن علي بن فضال ، عن ثعلبة بن ميمون ، عن عمرو بن أبي بكار ، عن أبي بكر الحضرمي ، عن أبي عبدالله ( عليه السلام ) قال : إن رسول الله ( صلى الله عليه وآله ) زوج المقداد بن الاسود ضباعة ابنة الزبير بن عبد المطلب ، وانما  زوّجه لتتّضع المناكح ، وليتأسّوا برسول الله ( صلى الله عليه وآله ) ، وليعلموا أن أكرمهم عند الله أتقاهم .
ترجمہ: محمد بن یعقوب نے علی بن ابراہیم، نے ابیہ، نے حسن بن علی بن فضال، نے ثعلبہ بن میمون نے عن عمرو بن أبي بكار نے عن أبي بكر الحضرمي نے عن أبي عبدالله ( عليه السلام ) سے روایت کی کہ : رسول (ص) نے مقداد بن اسود کا نکاح ضباعہ بنت زبیر بن عبدالمطلب سے کروایا، اور یہ نکاح اس لیئے کروایا تا کہ لوگوں کو معلوم ہو کہ تم میں سے افضل وہ ہے جو متقی ہے۔ (نہ کہ قریشی یا ھاشمی )

حوالہ جات:
اصول کافی جلد 5 صفحہ 344
اور جن کو شک ہے وہ اس لنک پر کلک کر کے وسائل شیعہ جو کہ ایک اور مستند شیعہ کتاب ہے میں اس روایت کو دیکھ لیں: اس لنک پر کلک فرمائیںhttp://alkafeel.net/islamiclibrary/hadith/wasael-20/wasael-20/v04.html

 

۳. حضور (ص) کی پھوپھی کی بیٹی سیدہ زینب بنت جحش کا نکاح شیخ زید بن حارث (صحابی) سے


قرآن میں سورہ احزاب کی آیت نمبر 37 کی تفسیر پڑھیں، اس میں زید (رض) کا نام آیا ہے قرآن میں یہ واحد صحابی ہیں جن کا نام آیا ہے جا کر دیکھئے ان کا نکاح خود رسول (ص) نے زینب بنت جحش سے کروایا۔ اگر آپ مولانا ذیشان حیدر جوادی کی تفسیر پڑھین تو انہوں نے زینب بنت جحش کے لیئے لفظ "سیدانی" استعمال کیا ہے۔ بھرحال اس کے حوالے کی ضرورت نہیں قرآن میں زید کے نکاح اور پھر طلاق کا قصہ مشہور ہے مجہول نہیں۔


اس کے علاوہ میں نے پڑھا ہے امام حسین (ع) کی پوتیوں زینب، ام کلثوم، فاطمہ ، ملیکہ، اور ام قاسم وغیرہ کے نکاح بھی غیر سادات سے ہوئے

 

 سید زادی کا نکاح غیر سید زادے سے نکاح اور قرآن 


سید زادی کا نکاح غیر سید زادے سے حرام ہوتا تو قرآن ضرور اشارہ کرتا کیونکہ مشرکوں سے جب نکاح حرام کہا تو فرمایا:
وَلا تَنکحُوا المُشرِکَات حتَّی یُومنَّ (مشرکات سے نکاح مت کرنا جب تک وہ ایمان نہ لے آئیں) }سورہ البقرہ آیت 221{
اور کفار سے نکاح کی ممانعت سورہ ممتحنہ کی آیت نمبر 10 میں :
وَلَا تُمْسِكُوا بِعِصَمِ الْكَوَافِرِ (اور کفار عورت سے شادی کے روابط مت قائم کرنا)

اہل کتاب سے نکاح جائز کہا تو سورہ مائدہ کی آیت نمبر 5 میں فرمایا:
الْيَوْمَ أُحِلَّ لَكُمُ الطَّيِّبَاتُ ۖ وَطَعَامُ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ حِلٌّ لَّكُمْ وَطَعَامُكُمْ حِلٌّ لَّهُمْ ۖ وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ الْمُؤْمِنَاتِ وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِن قَبْلِكُمْ إِذَا آتَيْتُمُوهُنَّ أُجُورَ‌هُنَّ مُحْصِنِينَ غَيْرَ‌ مُسَافِحِينَ وَلَا مُتَّخِذِي أَخْدَانٍ ۗ وَمَن يَكْفُرْ‌ بِالْإِيمَانِ فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُهُ وَهُوَ فِي الْآخِرَ‌ةِ مِنَ الْخَاسِرِ‌ينَ۔
آج تمہارے لیے سب اچھی پاک صاف چیزیں حلال کی جا چکی ہیں اور اہل کتاب کااناج تمہارے لئے حلال ہے اور تمہارا اناج ان کے لیے حلال ہے اور پاک دامن مسلمان عورتیں اور پاک دامن عورتیں ان میں سے جنہیں تمہارے پہلے کتاب ملی ہے، جبکہ ان کی اجرتیں دیدوپاک دامنی کا تحفظ کرتے ہوئے، نہ کہ بے محابا شہوت رانی کرتے ہوئے اور نہخفیہ طور پر ناجائز تعلقات قائم کرتے ہوئے اور جو ایمان کے بجائے ک

شیخ غلام نبی نجفی مرحوم کے مختصر حالات زندگی

*مرحوم شیخ غلام نبی شهاب الدین نجفی کے مختصر حالات زندگی*:
آپ علاقے گلتری کے موضع تھلی میں 1925ء کو علاقے کی متدین سرکردہ شخصیت حسین علی کے گھر پیدا ھوئے۔

آپ بچپن سے ہی ذھانت اور فکری متانت جیسی خداداد صلاحیتوں سے مالا مال تھے جو آپ کے اندر علوم دین کے حصول جیسے اعلی ہدف کی سنجیدہ تڑپ کو مہمیز کرنے میں معاون ثابت ہوئیں۔

*ابتدائی تعلیم*:
مایہ ناز علمی شخصیت حجت الاسلام والمسلمین مرحوم شیخ محمد علی المعروف ماسٹر شیخ کے حضور زانوے تلمذّ تہہ کیا۔

شیخ محمد علی لکھنوی ( *آپ امروھہ مدرسہ الواعظین لکھنو سے سلطان الفاضل اور علی گڑھہ یونیورسٹی سے ایم اے فاضل کی سند یافتہ شخصیت تھے*) جیسی نبّاض شخصیت نے آپ کی علمی استعداد کو درست سمت عطا کرتے ھوئے آپ کو اسلامی علوم کے مرکز *نجف اشرف* کی طرف ہجرت کرنے کی ہدایت فرمائی۔

*نجف اشرف میں*: نجف اشرف میںً چار سال تک جوار امیر المومنین ع میں چشمہ زلالِ باب العلم سے سیراب ھوتے رھے۔

*وطن واپسی*: آپ جوار امیر المومنین ع میں تحصیل علم کے دوران ھی تبلیغِ دین جیسے اھم شرعی وظیفے کی انجام دھی کے لیے واپس اپنے وطن لوٹنے کا عزم بالجزم کر چکے تھے۔ علاقے میں خالص دینی ثقافت کا فروغ اور اس کے درست تحفظ کے لیے عملی اقدام ایک ایسا درد تھا جو آپ کو اپنی جنم بھومی کھینچ لایا۔

آپ نے اپنی بقیہ زندگی اس درد کو بانٹنے کے لیے وقف کردی جبکہ کراچی جیسے پر آسائش شہر میں ذاتی مکان رکھنے کے باوجود گلتری جیسے برف زار کو ترجیح دینا ھی بتاتا ھے کہ آپ جوار امیرالمومنین ع میں کیے ھوئے اپنے وعدے کو ایفاے عہد کی زندہ مثال بن کر نبھاتے رھے۔

*علاقے میں خدمات*: گلتری بالخصوص شنگو شگر میں عوام کی دینی ضروریات کو پورا کرنے میں اپنی توانائیاں صرف کیں۔
دینی ثقافت کی ترویج منجملہ طلاق اور وراثت جیسے پیچیدہ شرعی امور میں راہنمائی اور مقامی سطح پر حل طلب مسائل کا حل وفصل اور ابتدائی دینی مسائل کی عوامی لیول پر درست تبیین و تفہیم کے لیے مقامی سطح پر آخوند یا مقامی مبلغ کی تربیت جیسے دور رس نتائج کے حامل بنیادی اقدامات آپ کی بے لوث دینی خدمات کی درخشاں مثالیں ہیں۔

آپ ساری زندگی علاقے میں دینی راہنمائی جیسے طاقت فرسا شرعی وظیفے کو انجام دیتے رھے،شرعی وظیفے کی انجام دھی میں آپ اسقدر پرعزم اور مخلص تھے کہ کوئی مادی آسائش آپ کے پاے استقلال میں لغزش تک نہ لا سکی۔

یہی وجہ ھے کہ آپ نے کراچی میں موجود مکان کو علاقے میں تبلیغ دین جیسے شرعی وظیفے کی راہ میں مادی رکاوٹ جان کر کسی مستحق کو ھبہ کر دیا تاکہ آسائش بھری شہری زندگی کے خیالات آپ کے عزم صمیم کو مضمحل نہ کر سکیں۔

*وفات*: آپ 3جون 2012ء بمطابق 13 رجب المرجب1433 ھجری کو خالق حقیقی سے جا ملے۔گویا جوار امیر المومنین ع سے تبلیغ دین کا درد کچھہ اس انداز میں ملا کہ زندگی بھر اس کو عاشقانہ نبھاتے ھوئے روز ولادت امیر المومنین ع کو راھی جوارِ ابدی امیر المومنین ع ھوئے۔

*خدا رحمت کند آں عاشقان پاک طینت را*

*تحریر*: *اکبر حسین مخلصی*

امام حسین کی زندگی کے دو پہلو

🌹#امام_حسینؑ کی زندگی کے دو پہلو🌹

🌷امام حسینؑ کی زندگی کے دو پہلو ہیں:

1️⃣ایک پہلو وہی #جہاد، #شہادت اور جوش و خروش ہے جو انہوں نے تاریخ میں آغاز کیا...
2️⃣دوسرا پہلو #روحانی اور #عرفانی ہے جو دعا عرفہ میں حیران کن انداز میں نمایاں ہے.

👈شاید یقینی طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہی روحانیت، عرفان، توسل، الله کی ذات میں فنا ہو جانا، معشوق میں گم ہوجانا اور خود کو خدا کے ارادے کے سامنے کچھ نہ سمجھنا ہے کہ جس نے عاشوره کے واقعے کو اس طرح عظمت اور شان و شوکت کے ساتھ دائمی بنا دیا ہے.

✔️دوسرے الفاظ میں یہ کہ پہلا پہلو یعنی جہاد اور شہادت دوسرے پہلو یعنی عرفان اور روحانیت کی تخلیق ہے.

🔅بہت سے لوگ مومن ہیں، جاتے ہیں، جہاد کرتے ہیں اور شہادت کے مقام پر بھی فائز ہو جاتے ہیں؛ یہ بھی شہادت ہی ہے اس میں کچھ بھی کم نہیں.

✅لیکن ایک شہادت وه ہے جو ایمان سے زیاده، ایک داغدار دل سے، راه خدا اور اس کی محبت میں ایک شعلہ ور اور بے تاب روح سے ظاہر ہوتی ہے جو اس کی ذات اور صفات میں غرق ہے. اس طرح کا جہاد ایک الگ مزه دیتا ہے. یہ ایک الگ طرح کی حالت پیدا کرتا ہے.

رہبرمعظم آیت الله سیدعلی خامنہ ای

🌺🌺🌺ولادت باسعادت سید شباب اهل الجنة، سید الشهداء امام حسین علیہ السلام تمام مومنین کو بہت بہت مبارک ہو.

📚انجمن محفل کساءبشو 📚
📙شعبہ نشرواشاعت 📙

نصیحت امیرالمومنین علیه السلام

کپی👇

🌹صفین سے واپسی پر کوفہ سے باہر قبرستان پر نظر پڑ گئی تو فرمایا:

"اے وحشت ناک گھروں کے رہنے والو!اے ویران مکانات کے باشندوں!اور تاریک قبروں میں رہنے والو۔اے خاک نشینوں۔اے غربت ،وحدت اور وحشت والو۔تم ہم سے آگے چلے گئے ہو اور ہم تمہارے نقش قدم پر چل کر تم سے ملحق ہونے والے ہیں۔دیکھو تمہارے مکانات آباد ہوچکے ہیں۔تمہاری بیویوں کا دوسرا عقد ہو چکا ہے اور تمہارے اموال تقسیم ہو چکے ہیں۔یہ تو ہمارے یہاں کی خبر ہے۔اب تم بتائو کہ تمہارے یہاں کی خبر کیا ہے؟
اس کے بعد اصحاب کی طرف رخ کر کے فرمایا کہ *اگر انہیں بولنے کی اجازت مل جاتی تو تمہیں صرف یہ پیغام دیتے کہ بہترین زاد راہ تقوی الہی ہے*"

🌹نہج البلاغہ
#حکمت_نمبر 130
علامہ سید ذیشان حیدر جوادی رح

انسانی زندگی کے دو جز ہیں۔ایک کا نام ہے جسم اور ایک کا نام ہے روح۔اور انہیں دونوں کے اتحاد و اتصال کا نام ہے زندگی۔اور انہیں دونوں کی جدائی کا نام ہے موت۔اب چونکہ جسم کی بقاء روح کے وسیلے سے ہےلہزا روح کے نکل جانے کے بعد وہ مردہ بھی ہوجاتا ہے اور گل سڑ بھی جاتا ہے اور اس کے اجزا منتشر ہو کر خاک میں مل جاتے ہیں لیکن روح غیر مادی ہونے کی بنیاد پر اپنے عالم سے ملحق ہو جاتی ہے اور زندہ رہتی ہے۔یہ اور بات ہے کہ اس کے تصرفات اذن الہی کے پابند ہوتے ہیں اور اس کی اجازت کے بغیر کوئی تصرف نہیں کر سکتی ہے۔اور یہی وجہ ہے کہ مردہ زندوں کی آوازیں سن لیتاہے مگر جواب دینے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔
امیر المومینین نے اسی راز زندگی کی نقاب کشی فرمائی ہے کہ یہ مرنے والےجواب دینے کے لائق نہیں ہیں مگر پروردگار نےمجھے وہ علم عنایت فرمایا ہے جس کے زریعےمیں یہ احساس کرسکتا ہوں کہ ان مرنے والوں کے لاشعور میں کیا ہے۔اور یہ جواب دینے کے قابل ہوتے تو کیا جواب دیتے۔اور تم بھی ان کی صورتحال کو محسوس کر لو تو اس امر کا اندازہ کر سکتے ہو کہ ان کے پاس اس کے علاوہ اور کوئی جواب اور کوئی پیغام نہیں ہے کہ *بہترین زاد راہ تقوی ہے*
...
محتاج دعا۔

احیائے فکر دینی میں اقبال اور شہید مطھری کا کردار

*احیائے فکر دینی میں علامہ اقبال اور استادمرتضیٰ مطہری کا کردار*

 

پیش نظر مطالب البصیرہ کے زیراہتمام 20 نومبر 2011 کو منعقد ہونے والے سیمینار”احیائے فکر دینی میں علامہ اقبال اور استاد مرتضیٰ مطہری“ میں میزبان کی حیثیت سے جناب ثاقب اکبر (صدر نشین البصیرہ) کے خطاب پر مبنی ہیں۔

صدر مجلس اور خواتین و حضرات! میں اپنا یہ خوشگوار فریضہ سمجھتا ہوں کہ ملک کے طول و عرض سے آنے والے مہمانوں کو خوش آمدید کہوں۔ انھوں نے ہمارے شارٹ نوٹس پر ہماری دعوت کو پذیرائی بخشی اور ہماری درخواست پر انھوں نے مقالے بھی لکھے اور آج اس سیمینار ”احیائے فکر دینی میں علامہ اقبال اور استاد مطہری کا کردار“ میں وہ اپنے اپنے افکار پیش بھی کررہے ہیں ۔ ہمارے مہمانان گرامی ملک کے گوشے گوشے سے تشریف لائے اور راولپنڈی و اسلام آباد سے بھی ہمارے دانشور حضرات نے اس سیمینار میں شرکت کرکے واقعی اسے ایک قومی سیمینار کی شکل دے دی ہے۔

دیکھنا یہ ہے کہ آج ہم اس سیمینار میں علامہ اقبال اور استاد مطہری کو جو اکٹھا یاد کررہے ہیں یہ کس تناظر میں ہے۔ انھوں نے جو خدمات اسلامی فکر کی تعبیر نوکے لیے انجام دی ہیں وہ اہل دانش سے پوشیدہ نہیں ہیں۔ اقبال کے پیغام نے نہ صر ف مسلمانوں کے اذہان کو متاثر کیا بلکہ اس کے اندروہ قوت موجود ہے جو دلوں کو گرماتی ہے اوریہ پیغام لہروں کی طرح دلوں سے اٹھتا ہے اور قوموں کے اندر ایک اضطراب پیدا کردیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انقلاب اسلامی ایران سے وابستہ تمام معماران انقلاب اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ ان کے انقلاب میں بنیادی روح جن ہستیوں کی فکر نے پیدا کی ان میں حکیم الامت علامہ ڈاکٹرمحمد اقبال کا نام سر فہرست ہے۔ یہ بات ہمیں عجیب اس لیے نہیں لگتی کہ ایران کے موجودہ روحانی پیشوا آیة اللہ سید علی خامنہ ای فرماتے ہیں کہ ”من مرید اقبال ہستم“(میں اقبال کا مرید ہوں)۔ اگر اس اسلامی ملک کا روحانی رہبر جو آج اس مملکت کی راہنمائی کررہا ہے، اس طرح کہہ رہا ہو تو پھر یہ بات واضح ہو سکتی ہے کہ اس انقلاب کی رشد و نمو میں علامہ اقبال کی فکر کا کس قدر اثر ہے۔ علامہ اقبال کی شاعری اور بیشتر کلام بھی فارسی زبان میں ہے ۔ وہ فارسی بھی اس طرح کی ہے کہ آج کے تہران کا ایک سکالر بھی اس بات کو تسلیم کرتا ہے کہ اقبال نے ان کی زبان میں، انہی کی طرز سے ان سے بات کی ہے۔ آج کا ایران کا پڑھا لکھا نوجوان بھی علامہ کے فارسی کلام اور آپ کی فکرسے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتا۔ آپ کے فارسی کلام کی تاثیر اسلامی ممالک میں اس قدر زیادہ ہے کہ پورا عالم اسلام اس سے قوت حاصل کرتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ آپ کے کلام کا عربی میں بھی ترجمہ ہوا اور انگریزی میں بھی اس کے تراجم ہوئے ہیں جس کی وجہ سے علامہ کی فکر سے نہ صرف مسلمان بلکہ غیر مسلم اقوام بھی متاثر ہیں کیونکہ علامہ اقبال کا اپنے دور کے بڑے بڑے دانشوروں سے رابطہ بھی رہا جن میں جرمنی، فرانس اور انگلینڈ کے بڑے بڑے دانشوروں کے نام نمایاں ہیں۔ اس لیے ان کا پیغام پوری دنیا میں پہنچا۔ علامہ اقبال کو جدید فلسفی اصطلاحات پر بھی عبور تھا۔ مغربی فلسفے اور فکر نیز جدید تہذیب کی فکری بنیادوں پر بھی ان کی گہری نظر تھی۔یہی وجہ ہے کہ ان کا پیغام خاصا موثر طریقے سے مشرق و مغرب میںپہنچا ہے لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ جس طرح باقی قومیں اپنے محسنوںکا دن مناتی ہیں پاکستان میں وہ حق ادا نہیں ہورہا۔ ایسی شخصیات کو نظرانداز کرنے کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ میدان فکروعمل سے خارج ہوتی چلی جاتی ہیں۔ یہی کچھ پاکستان میں علامہ اقبال کے ساتھ بھی ہورہا ہے۔

ایک وقت تھا جب ملک میں یوم اقبال بڑے شایان شان طریقے سے منایا جاتا تھا۔ سکولوں اور کالجوں میں سیمینار، کانفرنسیں، جلسے اور محافل ہوتی تھیں۔ اُس وقت علامہ اقبال کی فکر اور فلسفے کو سمجھنے اور سمجھانے کی کوششیں ہوتی تھیں۔ آج وہ سب کچھ نظر نہیں آتا۔ آج اس مقام پر مقتدرہ قومی زبان کے آڈیٹوریم میں، میںیہ بات کہتا ہوں کہ جس طرح اردو زبان سے انحراف اور اس کی جگہ انگریزی زبان کا تسلط ہوتا چلا جارہا ہے اگر یہ سلسلہ اسی طرح آگے بڑھتا رہا تو شاید آنے والے وقتوں میں علامہ اقبال، وارث شاہ، بلھے شاہ، مرزا غالب اور ان جیسے ہمارے دیگر مفکرین و شعراءکے کلام اور ان کی فکر سے ہماری آئندہ نسلیں بلا واسطہ مستفید نہیں ہوسکیں گی اور جس طرح آج ہم اپنی تہذیب اور تاریخ کو مغربی دانشوروں کے ذریعے سے پڑھ رہے ہیں علامہ اقبال بھی وہی ہمیں پڑھایا کریں گے کیونکہ علامہ اقبال کی زبان ہم سے آہستہ آہستہ متروک ہوتی چلی جارہی ہے۔ جس طرح ہم ذہنی طور پر غلام ہوتے چلے جارہے ہیں اسی طرح عملی طور پر بھی غلام ہوتے چلے جارہے ہیں۔ ذہنوں کی آزادی ہی قوموں کو عملی طور پر آزاد کرتی ہے اور اس میں زبان جس طرح بڑا کردار ادا کرتی ہے وہ کسی اہل دانش سے پوشیدہ نہیں ہے۔ کاش ہم مل بیٹھ کر سوچ سکیں کہ کس طرح ہم اس المیے سے اپنے آپ کو اور اپنی قوم کو نکال سکتے ہیں۔

مجھے یہاں کچھ ذکر استاد مطہری کا بھی کرنا ہے۔ استاد شہید مطہری کا نام بھی انہی عظیم شخصیات میں شامل ہے جنھوں نے قوموں کی تقدیر بدلی۔ شہید مطہری نے بھی دین کی تعبیر نو کے حوالے سے اُسی کام کو آگے بڑھایا جو ان سے پہلے علامہ اقبال نے شروع کیا تھا۔ یہ درست ہے کہ کلام جدید کی بنیاد سرسید احمد خان نے رکھی۔ یہ الگ بات ہے کہ کسی کو اُن کی فکر سے اختلاف ہو لیکن دین کی تعبیر نو کے حوالے سے سر سید احمدخان کے کام سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ البتہ ذرائع علم کے مرحلے پر ان کا اشتباہ خاصا نمایاں ہے تاہم انھوں نے ری کنسٹرکشن کے حوالے سے ایک بنیاد ضرور رکھی ہے۔ اس پہلو سے ان سے ضرور استفادہ کرنا چاہیے۔ اس سلسلے میں عالم اسلام کے دوسرے خطوں میں کئی ایک دانشوروں نے کردار ادا کیا ہے۔ خاص طور پر مصر اور ایران کا نام اس حوالے سے لیا جاسکتا ہے ۔جن افراد نے عالم اسلام میں دین کی تعبیر نو کے کام کو آگے بڑھایا ہے ان میں استاد شہید مطہری کا نام بہت بلند ہے۔ استاد مطہری نے اس زمانے میں علامہ اقبال کی فکر کو قریب سے پڑھا اور فارسی میں جو کچھ ان کے افکار موجود تھے اُن کا مطالعہ دقت نظر سے کیا۔ علامہ اقبال کی Reconstruction of religious thought(تشکیل جدید الٰہیات) ترجمہ بھی ان دنوں فارسی میں ہوچکا تھا۔ یہ ترجمہ احمد آرام نے کیا تھا۔ اس میں نبوت اور ختم نبوت کے حوالے سے علامہ اقبال کے افکار بھی شامل ہیں۔ استاد مطہری نے علامہ اقبال کے افکار سے خاصا استفادہ کیا ہے۔ اس کے بعد شریعتی وغیرہ نے بھی بہت استفادہ کیا ہے لیکن گہرائی میں جا کر علامہ اقبال کے فلسفے اور کلام جدید کے پہلوﺅں سے جس شخصیت نے باریک بینی سے جائزہ لیا اور اُس پر اپنی آرا کا اظہار کیا وہ استاد شہید مطہری ہیں اور بلاشبہ جن شخصیات نے علامہ اقبال کے افکار کا تنقیدی جائزہ لیا ہے ہمیں انھیں بھی پڑھنا اور سمجھنا چاہیے کیونکہ ان افکار کو ناقدانہ نظر سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔اس میں شک نہیں کہ ناقدانہ نظر سے دیکھنا انسان پر ادراک کے نئے دروازوں کو کھولتا ہے۔

میرا خیال ہے کہ علامہ اقبال کی بعض چیزیں اس زمانے میں استاد مطہری تک نہیں پہنچی تھیں۔ لہٰذا ختم نبوت کی جو بنیادیں علامہ اقبال نے بیان کی ہیں اس پر استاد مطہری نے بڑاکھل کر اپنا نقطہ نظر بیان کیا ہے۔

اگر میں یہ کہوں کہ استاد مرتضیٰ مطہری بنیادی طور پر ایک فلسفی تھے تو یہ بجا ہوگا کیونکہ انھوں نے فلسفہ الٰہیات کو منظم طور پر تمام پہلوﺅں سے پیش کیا ہے۔ ان کی کتاب اصول فلسفہ وروش رئالیسم(Realism) بنیادی طور پر استاد علامہ طباطبائی کی کتاب پر ان کے حواشی پر مبنی ہے۔ علاوہ ازیں انھوں نے حکیم سبزواری کی منظومہ کی بھی مبسوط شرح کی ہے جو دراصل ان کے دروس پر مشتمل ہے۔ علاوہ ازیں انھوں نے بو علی سینا کی الہیات شفاءکی بھی شرح کی ہے۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو انھوں نے اسلامی فلسفے کے بنیادی متون پر کام کیا ہے۔ دوسری طرف سر سید اور اقبال کے کام کا جائزہ لیا جائے تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ انھوںنے اسلامی فلاسفہ کے متون کو اس طرح سے نہیں دیکھا تاہم مغربی فلسفے اور کلام پر ان کی نظر وسیع تر معلوم ہوتی ہے ۔

علامہ اقبال نے مغربی فلسفے کے اصطلاحیں استعمال کی ہیں، شاید ضرورت بھی تھی کہ انہی کی اصطلاحوں میں اُن سے بات کی جاتی اور ان کے فلسفی افکار میں موجود جھول کی نشاندہی انہی کی زبان میں کی جاتی۔ علامہ اقبال نے اس کام کی بہت اچھی بنیاد فراہم کی ہے۔استاد مطہری کو مغربی زبانوں پر دسترس حاصل نہیں تھی۔ انھوں نے مغربی فلسفے کا مطالعہ عربی اور فارسی میں ہونے والے تراجم کی مدد سے کیا تھا، تاہم اُن کا یہ مطالعہ بھی خاصہ وسیع معلوم ہوتا ہے۔

استاد مطہری نے جہاںبھی مغربی فلسفے پر تنقید کی ہے وہاں ان کی روش یہ رہی ہے کہ وہ ان کے ہاں موجود جزوی صداقت کو تسلیم کرتے ہیں اور پھر اپنی بات پیش کرتے ہیں۔ انھوں نے اپنے فلسفی اور کلامی موضوعات میں یہی طریقہ کار اختیار کیا ہے۔ مثال کے طور پر انسان کامل کے بارے میں ان کے نظریے کو پیش کیا جاسکتا ہے۔ انھوںنے اشتراکیت کی نظرمیں انسان کامل کا جائزہ لیا ہے۔ اسی طرح انھوں نے نطشے کے انسان کامل کا بھی ذکر کیا ہے۔انھوں نے مختلف فلسفی مکاتب فکر کے انسان کامل کا ذکر کیا ہے۔ پھرانھوں نے عرفاءاور صوفیاءکے انسان کامل کو بھی پیش کیا ہے۔ انھوں نے قرآن کے انسان کامل کی تصویر کشی بھی کی ہے۔اس طرح ہر مکتب فکر کے انسان کامل میں موجود کمال کے کسی نہ کسی پہلو کی نشان دہی کرتے ہوئے انھوں نے انسان کامل کی جامع تصویر اس طرح سے پیش کی ہے کہ اسے دیکھ کر انسان دنگ رہ جاتا ہے۔

استاد مطہری نے فطرت کے مسئلے پر بھی اسی انداز سے بات کی ہے۔ اُن کی بحث کا طریقہ بہت شاندار اور عمدہ ہے۔ انھوں نے عقل کو انسان کا مابہ الامتیاز قرار دیا ہے۔ فطرت کی بحث میں انھوں نے انسان اور حیوان کے مابین موجود مشترکات کی نشان دہی کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جبلی پہلوﺅں سے انسان اور حیوان آپس میں مشترک ہیں لیکن فطری پہلو سے انسان حیوان سے مختلف اور عظیم تر ہے۔ یہاں وہ اپنے نظریہ فطرت کو بیان کرتے ہوئے قرآن کی اس آیت کو بنیاد بتاتے ہیں۔

فِطرَتَ اللّٰہِ الَّتِی فَطَرَ النَّاسَ عَلَیھَا(روم:۰۳)

یہاں وہ علم دوستی اور انسان کی جمال دوستی کو انسانی فطرت میں موجود جوہر کے طور پر پیش کرتے ہیں۔وہ انسان کی احسان شناسی، جذبہ ایثار اور حق کی شناخت کے لیے بے قراری کو انسان کی فطرت ہی کے مظاہر قرار دیتے ہیں۔ وہ انسان کے ان پہلوﺅں کو اس کی فطرت کے اندر تلاش کرتے ہیں۔ وہ ایمان باللہ اورغیب پر ایمان کی توجیہ بھی اپنے نظریہ فطرت کی بنیاد پرکرتے ہیں۔

میری رائے یہ ہے کہ وہ علمائے کرام یا دانشور جو فلسفے کو علم کا عنوان دینے کے لیے تیار نہیں ان کے لیے بھی ضروری ہے کہ فلسفے کو پڑھیں تاکہ وہ بہتر طور پر اس پر تنقید کر سکیں۔ پڑھے بغیر مخالفت یا تنقید کرنا کوئی علمی روش نہیں ہے۔اگرچہ ہمیں اس پراعتراض نہیں کہ کوئی یہ رائے رکھے کیونکہ ہر انسان کا حق ہے کہ وہ آزادانہ طورپر کسی مسئلے میں کوئی رائے اختیار کرے۔ مجھے یہاں پر صرف یہ کہنا ہے کہ جب ہمارے مقابلے میں ابھرنے والی تہذیب اور اس کے حامی دانش ور ایک خاص علم کی اصطلاحات استعمال کررہے ہیں اور وہ اپنے تہذیبی تصور کی خاص علم کے ذریعے سے توجیہ کررہے ہیں تو پھر ہمیں ان کا مقابلہ کرنے کے لیے اس علم سے رجوع کیے بغیر اور اس کی اصطلاحات برتے بغیرچارہ نہیں۔

مغرب کے دانشور مغربی فکروفلسفہ کو اپنی تہذیب کی بنیاد قراردے رہے ہیں۔ ان کے جواب کے لیے ہمیں ان کے نظریات و افکار کی بنیادوں کو پڑھنا اور سمجھنا ہوگا۔ امام غزالی کو بھی آخر کار یہی راستہ اختیار کرنا پڑا تھا۔ جدید فلسفے کے بانی ڈیکارٹ سے لے کر آج تک مغربی فلسفیوں نے جو افکار پیش کیے ہیں ان کا گہری نظر سے جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ فلسفہ وجودیت اورکانٹ کی اس پر تنقید کو دیکھنے کی ضرورت ہے۔ اسی طرح ملا صدرا نے مسلمان فلسفیوں کے افکار کو جس طرح سے کمال تک پہنچایا ہے اس سے صرف نظر نہیں کیا جاسکتا۔ گذشتہ فلسفیوں کے ہاں جو مسائل لا ینحل رہ گئے تھے انھیں ملا صدرا کے فلسفے نے کس طرح حل کیا ہے اس کا مطالعہ کیا جانا چاہیے۔ ابن سینا نے خدا شناسی کے لیے کیا دلائل پیش کیے ہیں اور ان میں ملا صدرا نے کیا اضافات کیے ہیں اورآج کے مسلمان فلسفی اس حوالے سے کیا کررہے ہیں ایسا لگتا ہے کہ ہمیں یہاں اس کی بالکل خبر نہیں۔

مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہماری دانشگاہوں میں صرف پنجاب یونیورسٹی میں ایک فلسفے کاشعبہ ہے لیکن چند سال پہلے پتہ چلا کہ انتظامیہ اسے بند کرنے کے درپے ہے کہ اب طالب علم اس میں نہیں جاتے ۔ ظاہر ہے جب طلبہ اس شعبے میں نہیں جائیں گے تو وہ شعبہ بند ہی ہوجائے گا۔ پھر چند دوستوں نے یہ کوشش کی کہ وہاں کچھ طلبہ بھیجیں تاکہ یہ شعبہ چلتا رہے لیکن یہاں یہ بات جاننا نہایت ضروری ہے کہ وہاں جو استاد ہیں ان کا مبلغ علم کیا ہے، وہ فلسفے کو کتنا جانتے اور کتنا سمجھتے ہیں۔ یہ صرف فلسفے کی بات نہیں تمام انسانی علوم، تمام سوشل سائنسز پاکستان جیسے ملک میں جس طرح زوال کا شکار ہیں دل اُس پر کڑھتا ہے۔ ہم نے چونکہ مغرب کی مادی ترقی کو دیکھاہے وہاں کی سائنس اور ٹیکنالوجی کے ارتقائی سفر کو نہیں دیکھا اس لیے ہم نے جو دیکھا ہے اس سے متاثر ہوئے ہیں۔ ہم نے وہاں یہ نہیں دیکھا کہ انسانی فکر کی آزادی نے انسانوں کو سوچنے پرمجبور کیا اور کلیسا کے فکری جمود اوراستبداد کے خلاف انھوں نے قیام کیا اور اپنی ایک نئی تہذیب کی بنیاد رکھی۔ ان کی تہذیب کے اندر ایک فکر موجود ہے، ایک فلسفہ موجود ہے جس کے نتیجے میں آخر کار انھوں نے مادی کائنات کا سراغ لگایا اور ٹیکنالوجی کے بہت سارے شعبوں میں پیش رفت کی۔میرا یہ خیال ہے کہ ہم نے ظاہری ترقی کو دیکھا لیکن اس کے پیچھے جو انسانی دانش نے کرامات کی ہیں اُسے نہیں دیکھا اور نہیں سمجھا۔

ولیم جیمز جیسے لوگوں نے انسان شناسی پر جو کام کیا ہے وہ قابل قدر ہے۔ مغرب نے انسانی علوم میں جوخدمات انجام دی ہیں وہ عام طور پر ہماری نظروں سے اوجھل رہتی ہیں۔ ہم نے انہی ظواہر کو دیکھا اور اس تہذیب کے مظاہر کی نقل کرنے کی کوشش کی ہے۔ نتیجتاً ہم ذہنی طور پر اُن سے مرعوب ہو گئے اور اسی مرعوبیت کے سبب ہم اُن کے غلام بن کر رہ گئے اور ایک فیشن کے طور پر ہم نے میڈیکل سائنسز اور کمپیوٹر سائنسز کو ہی علم گردان کر اُسی کی طرف بڑھنا شروع کردیا۔ ہم نے اس پر غور نہیں کیا کہ انسان کی کیا ضرورت ہے، معاشرے کی کیا ضرورت ہے، ریاستوں کی بنیادیں کن افکار اور کس فلسفے پر ہونی چاہئیں۔ ظاہر ہے کہ ہم سماجی علوم کے ماہرین کواہمیت نہیں دیں گے تو بہت پیچھے رہ جائیںگے اور پہلے ہی بہت پیچھے رہ چکے ہیں۔ جب ہم سماجی علوم اور سوشل سائنٹسٹ کو معاشرے میں عزت نہیں دیں گے، اُسے مقام نہیں دیں گے، جب ہم تھنک ٹینکس نہیںبنائیں گے اور حکومت کی طرف سے ان کی حوصلہ افزائی نہیں ہوگی تو پھر اسی طرح ہم اغیار کے غلام بنے رہیں گے۔ چنانچہ ضرورت ہے کہ ہم سماجی علوم کی طرف متوجہ ہوں، سوشل سائنسز کی طرف رجوع کریں اور معاشرے کے اندر ان علوم کا احیاءکریں۔ سوچنے سمجھنے والے لوگوں کو آگے لائیں بلاشبہ ڈاکٹر قدیر خان اور ڈاکٹر ثمر مبارک مند ہمارا قومی اثاثہ ہیں لیکن ان کو بھی سوشل سائنسز کے ماہرین کے انڈر ہونا چاہیے۔ اُن لوگوں کے ہاتھوں میں جنھوںنے قوموں کا ہدف معین کرنا ہے، جنھوںنے قوموں کے مقاصد اور ترجیحات کا تعین کرنا ہے۔

ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم البصیرہ کے پلیٹ فارم سے انہی مقاصد کے لیے کام کریں گے۔ بلاشبہ ہم اس پلیٹ فارم سے مسلمانوں کے اتحادکے لیے کام کررہے ہیں مگر مسلمانوں کا اتحاد ویسے ہی، بے ہدف نہیں ہے، اس اتحاد کو نتیجہ خیز بھی بنانا ہے اور اس اتحاد کی طاقت سے ملک و قوم کو طاقت ور بھی بنانا ہے تاکہ ہم اغیار کی غلامی کی تمام زنجیریں توڑ ڈالیں اور اپنے پاﺅں پر کھڑے ہوکر ترقی یافتہ قوموں کے برابر آکھڑے ہوں۔ مسلمانوں کو اتحاد کرکے آگے کی طرف بڑھنا ہے۔اگر آگے کی طرف نہیں بڑھنا تو پھر اتحاد کی کوئی ضرورت نہیں۔

ہمیںاپنے تنزل اورزوال کے اسباب کو سمجھنا ہوگا اور پھر ترقی و ارتقا کی طرف جانا ہو گا۔اس کے لیے ضرورت ہے کہ ہم علامہ اقبال اور استاد مطہری جیسے عظیم مفکرین کو پہچانیں، اُن کو اپنے دل و دماغ میں جگہ دیں اورآج ہمیں ایسے ہی مفکرین کی ضرورت ہے۔ مغربی تہذیب کی بنیادیں جنھیں اقبال نے کمزور بنیادوں سے تعبیر کیا وہ واقعی کمزور پڑ گئی ہیں۔ اشتراکیت کا زوال مکمل ہوچکا ہے، مغربی سرمایہ داری کا سفینہ ڈوبنے والا ہے۔ کیا ہمارے پاس کوئی مرد حر موجود ہے جو اس مغربی زوال پذیر تہذیب کے مقابلے میں ایک عظیم تر، ایک جامع تر اور ایک ایسی تہذیب پیش کرسکے جو کائنات کی جامع شناخت اورمعرفت پر مبنی ہو، جو انسان کی صحیح شناخت پر مبنی ہو۔ ایک ایسا شخص چاہیے جو مغرب و مشرق کے پرانے تجربات کی روشنی میں ایک جامع تر روحانی تہذیب کو پیش کرسکے۔ ہم اس حقیقت کو ضرور تسلیم کریں کہ ہم علمی انحطاط کی اس سطح پر پہنچ چکے ہیں کہ ہم مغربی تہذیب کے اترن کو اپنے لیے باعث فضیلت سمجھتے ہیں اور اپنے فکری سماجی فلسفہ کو جو ہماری میراث ہے اسے فرسودہ جانتے ہیں۔ چنانچہ ضرورت ہے کہ ہم ان حقائق کو سمجھ کر من حیث القوم اپنی ترقی کی راہوں کا تعین کریں

حضرت زینب س کے یوم ولادت پر رھبر معظم امام خامنہ ای حفظه الله کا خطاب

قائد انقلاب اسلامی آیت اللّٰہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای نے پیغمبرِ اسلام کی نواسی حضرت زینب سلام اللّٰہ علیہا کے یومِ ولادت با سعادت اور یوم تیماردار پر ملک کی نرسوں اور تیمارداروں کے ایک اجتماع سے خطاب کیا, اس خطاب کا اردو ترجمہ حسبِ ذیل ہے:
13.11.1991


*بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم*

تمام بھائیوں اور بہنوں کو اِسلام کی عظیم خاتون، حضرت زینب کبریٰ سلام اللّٰہ علیہا کے یوم ولادت کی مبارکباد پیش کرتا ہوں اور آپ سب کا خیر مقدم کرتا ہوں,
حضرت زینب سلام اللّٰہ علیہا کا یومِ ولادت اس بات کا متقاضی ہے کہ ہماری بحث کا دائرہ بالخصوص انسانیت کے موجودہ حالات کے مدِنظر، وسیع تر ہو۔ حضرت زینب کبریٰ ایک عظیم خاتون ہیں۔
اس عظیم خاتون کو مُسلم اقوام میں جو عظمت حاصل ہے، وہ کس وجہ سے ہے؟ یہ نہیں کہا جاسکتا کہ اس لئے ہے کہ آپ علی بن ابیطالب کی بیٹی یا حُسین بن علی یا حسن ابن علی (علیہم السَّلام) کی بہن ہیں۔

نسبتیں ایسی عظمت کا سبب نہیں بن سکتیں, ہمارے تمام ائمہ کی مائیں اور بہنیں تھیں لیکن حضرت زینب کبریٰ(ع) کی مثل کون ہے؟
حضرت زینب کبریٰ کی اہمیت و عظمت فریضہ الٰہی کی بنیاد پر آپ کی عظیم اسلامی اور انسانی تحریک اور موقف کی وجہ سے ہے, آپ کے کام، آپ کے فیصلے اور آپ کی تحریک کی نوعیت نے آپ کو ایسی عظمت عطا کی, جو بھی یہ کام کرے چاہے وہ دُخترِ امیرالمومنین(ع) نہ ہو تب بھی، اس کو عظمت مل جائے گی۔
اس عظمت کا ایک حصہ یہ ہے کہ آپ نے پہلے موقع کو پہچانا، امام حُسین علیہ السَّلام کے کربلا جانے سے پہلے کے موقع کو بھی، یوم عاشور کے بحرانی موقع کو بھی اور شہادت امام حُسین علیہ السَّلام کے بعد کے ہولناک واقعات کے موقع کو بھی پہچانا اور پھر ہر موقع کی مناسبت سے ایک اقدام کا انتخاب کیا اور ان انتخابات نے حضرت زینب کی شخصیت کی تعمیر کی۔

کربلا کی جانب روانگی سے پہلے ابن عباس اور ابن جعفر جیسی صدرِ اسلام کی معروف ہستیاں جو فقاہت، شجاعت اور صدارت کی دعویدار تھیں، گومگو کا شکار تھیں، نہ سمجھ سکیں کہ اُنہیں کیا کرنا چاہئے۔
لیکن حضرت زینب کبریٰ تذبذب کا شکار نہیں ہوئیں اور آپ سمجھ گئیں کہ آپ کو اس راستے کا انتخاب کرنا چاہئے اور اپنے امام کو اکیلا نہیں چھوڑنا چاہئے اور آپ گئیں, ایسا نہیں تھا کہ آپ نہ سمجھتی ہوں کہ یہ راستہ بہت سخت ہے, آپ دوسروں سے بہتر اس بات کو محسوس کر رہی تھیں۔ آپ ایک خاتون تھیں, آپ ایک ایسی خاتون تھیں جو اپنے فریضے کی ادائيگی کے لئے اپنے شوہر اور کنبے سے دور ہو رہی تھیں، اسی بناء پر اپنے چھوٹے بچوں کو اپنے ساتھ لیا آپ محسوس کر رہی تھیں کہ حادثہ کیسا ہے۔ 
ان بحرانی لمحات میں جب قوی ترین انسان بھی نہیں سمجھ سکتے کہ انہیں کیا کرنا چاہئے، آپ اپنا فریضہ سمجھ گئیں اور اپنے امام کی حمایت کی اور شہادت کے لئے آپ کو آراستہ کیا, شہادت حُسین ابنِ علی کے بعد جب دنیا تاریک ہو گئی، دل و جان اور آفاق عالم پر اندھیرا چھا گیا تو یہ عظیم خاتون نور بن کے درخشاں ہو گئیں۔
حضرت زینب(ع) اُس منزل پر فائز ہو گـئيں کہ جہاں تک تاریخ بشریت کے صرف اعلیٰ ترین افراد یعنی پیغمبر پہنـچ سکتے ہیں۔
آپ کی والدہ ماجدہ حضرت فاطمہ زہرا ( سلام اللّٰہ علیہا) کی بات اور ہے، آپ کا مرتبہ حضرت زینب کبریٰ سے بھی بلند تر ہے.
یہ اسلام کی مثالی خواتین ہیں, آج کی صنف نازک کو نمونہ عمل کی ضرورت ہے اگر اس کے لئے حضرت زینب اور حضرت فاطمہ زہرا (سلام اللّٰہ علیھما) نمونہ عمل ہوں تو اس کا فہم صحیح ہو گا، مواقع کے ادراک میں ہوشیاری سے کام لے گی، بہترین کاموں کا انتخاب کرے گی اور اس عظیم فریضے کی انجام دہی میں جو خُدا نے انسانوں کو سونپا ہے، مزاحمت اور فداکاری سےکام لے گی۔
وہ مسلمان عورت جو حضرت زینب کبریٰ اور حضرت فاطمہ زہرا ( سلام اللّٰہ علیھما) کو نمونہ عمل بنائے، ایسی ہو گی۔

اگر عورت آرائش و آسائش کی فکر میں ہو، جلد ختم ہو جانے والی ہوا و ہوس کی اسیر ہو، بے بنیاد جذبات کے سامنے جُھک جائے تو اس راستے پر نہیں چل سکتی, اسے ان وابستگیوں کو جو ایک مسافر انسان کے قدموں سے لپٹے ہوئے تارِ عنکبوت کی طرح ہیں، خود سے دور کرنا ہو گا تاکہ اس راستے پر چل سکے۔ چنانچہ ہماری خواتین نے انقلاب اور جنگ کے دوران یہی کیا اور توقع ہے کہ انقلاب کے ہر دور میں یہی کام کریں گی۔ 
اس راستے میں ہماری خواتین کے لئے نمونہ عمل وہی ہے جو عرض کیا حضرت زینب کبریٰ(ع) نمونہ عمل ہیں۔ حضرت زینب ایسی خاتون نہیں تھیں کہ جو علم و معرفت سے بے بہرہ ہوں, اعلیٰ ترین علوم اور پاکیزہ ترین معرفتیں آپ کے پاس تھیں۔
وہی "سکینہ کبریٰ(ع)" کہ جن کا نام آپ نے کربلا کے تعلق سے سنا ہے، اور آپ دخترِ امام اور حضرت زینب کبریٰ(ع) کی بھتیجی ہیں، جو لوگ اہلِ تحقیق اور اہلِ مطالعہ ہیں وہ دیکھیں، آپ پوری تاریخ اسلام میں آج تک معرفت کی ایک مشعل ہیں, جو لوگ حتیٰ حضرت زینب(ع) کے والد اور حضرت سکینہ(ع) کے والد کو قبول نہیں کرتے، وہ بھی اعتراف کرتے ہیں کہ حضرت سکینہ(سلام اللّٰہ علیہا) علم و معرفت کی ایک مشعل ہیں۔ 
اس راستے پر چلنے کا مطلب علم و معرفت، عالمی بصیرت، روشن فکری، معلومات اور آداب سے دوری نہیں ہے, یہ سب چیزیں ان سے ماوراء ہیں۔

اِسلامی عورت، وہ ہے جو صحیح راستے پر چلتی ہے, ہدف کو صحیح پہچانتی ہے اور اس راہ میں فداکاری کے لئے تیار ہے اور ایسی خاتون عظمتیں خلق کرتی ہے, چنانچہ ہماری خواتین نے عظمتیں خلق کی ہیں یہ حقیقت بیانی ہے۔ 

#Khamenie.ir

شام پر حملہ کیوں؟؟؟؟

https://jang.com.pk/news/480240
شام پر حملہ کیوں؟
ندیم عباس بلوچ
کسی بھی جنگ میں کیمیکل ہتھیار استعمال کرنا جس سے عام انسان متاثر ہوں، ایک انسانیت دشمن عمل ہے۔ اسکی جتنی مذمت کی جائے وہ کم ہے، مگر تھوڑی سی عقل رکھنے والا آدمی بھی یہ تسلیم کرنے کیلئے تیار نہیں ہوگا کہ ایک فوج جس نے چاروں طرف سے دشمن کو گھیر لیا ہے اور اسکی رسد کے تمام راستے بند کر دیئے ہیں۔ دو تہائی دشمن معاہدہ کرکے نکل چکا ہے اور اسے زمین اور فضا دونوں جگہ پر برتری حاصل ہے تو وہ کبھی کیمیکل ہتھیار استعمال کرے گی، کیونکہ اسے معلوم ہے کہ اس سے بین الاقوامی رائے عامہ اس کیخلاف ہو جائیگی۔ اگر کوئی کیمیکل گیس استعمال ہوئی بھی ہے تو وہ دہشت گروں کی طرف سے ہی ہوئی ہے۔ اس بات کی تحقیق ہونی چاہئے کہ ان قاتلوں کو یہ گیس کس نے فراہم کی؟
شام ایک ہنستا مسکراتا ملک تھا۔ یہاں کی یونیورسٹیاں اور میڈیکل نظام خطے میں موجود دیگر ممالک سے بہت اچھے تھے۔ بہت سلیقے سے شام کا انفراسڑکچر بنایا گیا تھا۔ ریلوے اور روڈ کا نظام پورے ملک کو باہم مربوط کئے ہوئے تھا۔ یہاں مسلکی و مذہبی آہنگی موجود تھی۔ اہلسنت کے بڑے بڑے علماء پیدا ہوئے، جنہوں نے قرآن، حدیث اور فقہ میں بہت کام کیا اور ان کاکیا ہوا کام بنیادی نوعیت کا ہے۔ دمشق سے بنیادی اسلامی علوم کی کتب بڑے پیمانے پر شائع کی جاتی تھیں۔ دمشق یونیورسٹی کا شعبہ علوم اسلامی جدید اسلامی موضوعات پر کام کر رہا تھا۔ اسی طرح حضرت زینب ؓکے حرم میں قائم حوزہ علمیہ میں دنیا بھر کے طلباء زیر تعلیم تھے۔ درس و تدریس کا سلسلہ جاری رہتا تھا۔ شام کے مسیحی مکمل آزادی کے ساتھ اپنی مذہبی رسومات کو ادا کر رہے تھے۔ شام کوئی پابندیوں میں جکڑا ہوا ملک نہیں تھا۔ یہاں خواتین کو بھی آزادی حاصل تھی، وہ گاڑی چلا سکتی تھیں، وہ ملک کے اندر اور باہر سفر کرسکتی تھیں، اسی طرح شامی خواتین کی بڑی تعداد ملازمت پیشہ تھی۔ ایسی صورت حال میں عرب بہار کے نام سے خطے میں طوفانی تبدیلیوں کا سلسلہ شروع ہوتا ہے۔ اس کے آغاز پر ہی اسے اتنے بڑے پیمانے پر کوریج اور دنوں میں ملکوں کا نظام تبدیل ہو جانے سے ہی کئی ماہرین نے اسے مشکوک قرار دیا۔
شام میں بھی کچھ لوگ مظاہرہ کرتے ہیں، انہیں مظاہرے کرنے دیا جاتا ہے۔ کئی شہروں میں مظاہرے کرتے ہیں اور منتشر ہو جاتے ہیں۔ ان کے مقابلے میں بشار کی حمایت میں بھی مظاہرے شروع ہو جاتے ہیں۔ لوگ بڑی تعداد میں ان میں شریک ہوتے ہیں۔ بشار کی حمایت میں لوگوں کی بڑی تعداد کو دیکھ کر ان لوگوں کو پرتشدد مظاہروں پر اکسایا جاتا ہے اور پھر یہی ہوتا ہے، شام میں ایک خونریز جنگ کا آغاز ہو جاتا ہے۔ یہ سادہ سی اور سمجھ میں آنے والی بات ہے۔ مگر اصل کہانی تو اس کے پیچھے ہے۔ اب ذرا اس کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کہا گیا کہ اس پوری جنگ کا مقصد شام میں جمہوریت کا قیام ہے اور آمریت کا خاتمہ مقصود ہے۔ بہت اچھا، ممکن ہے آپ کا مقصد یہ ہوتا، مگر بشار کو ہٹانے کے لئے فنڈنگ کون کر رہا ہے؟ خلیجی ممالک تو جناب ان دونوں ممالک میں آخری بار صدارتی یا پارلیمانی انتخابات کب ہوئے تو اس کی تاریخ بتا دیں۔؟ یہ ایک لطیفہ ہے کہ برادر عرب ملک اور قطر شام میں جمہوریت لانے کے لئے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔ دوسری بات بڑی اہم ہے کہ جو گروہ شامی حکومت سے نبردآزما ہیں، فرض کرتے ہیں یہ شام پر قابض ہو جاتے ہیں تو کیا وہ شام کو ایک جدید جمہوری ملک بنائیں گے؟ داعش اور دیگر باغی گروہوں کے زیر قبضہ جو علاقے رہے ہیں، انہوں نے اپنے نظام کو بھرپور انداز میں نافذ کرنے کی کوشش کی ہے۔ کہیں قیدیوں کو زندہ جلایا، کہیں پانی میں ڈبو کر مارا، کہیں ٹینکوں کے نیچے دیا اور غیر مسلموں کی خواتین کو فروخت کیا۔ جانے شامی عوام پر اور کیا کیا ستم ڈھائے، تو جناب جن لوگوں کو آپ نے دنیا بھر سے جمع کرکے شام کی اینٹ سے اینٹ بجا دی ہے، وہ جس نظام کو لانے کے لئے انسانیت کا قتل عام کر رہے تھے، وہ وہی تھا جس کا تھوڑا بہت مظاہرہ میڈیا نے عوام کو دکھا دیا۔
بشار نے بہت سی غلطیاں کی ہوں گی، ہم ان کا انکار نہیں کرتے، مگر اتنے پاگل اور بے وقوف نہیں ہیں کہ سادہ سی بات کو بھی نہ سمجھ سکیں کہ اصل مسئلہ جمہوریت و آمریت نہیں ہے، بلکہ اصل مسئلہ جمہوریت کے دلفریب نعرے میں شام کو ایسے گروہوں کے حوالے کرنا ہے، جو ہمیشہ آپس میں لڑتے رہیں اور اسرائیل کبھی ایک گروہ اور کبھی دوسرے گروہ پر بم برسا کر سکون کی نیند سویا رہے۔ شام خطے میں اسرائیل کے خلاف ایک بڑی طاقت تھا، اس کی فوج مضبوط تھی اور سب سے بڑی بات اس کی قیادت میں دم تھا کہ وہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں برابری کی سطح پر بات کرسکے۔ اس لئے شام کو تباہ و برباد کرکے سبق سکھانے کی کوشش کی گئی کہ جو بھی سر اٹھا کر جینے کی کوشش کرے گا، اس کا سر کاٹ دیا جائے گا۔ شام کی فوج نے ہزاروں جوانوں کی قربانیاں دے کر اپنے ملک کی حفاظت کی ہے۔ داعش جیسے انسانیت دشمن گروہوں سے نجات دلانے کی کامیاب سعی کی ہےکیونکہ یہ انسانیت دشمن گروہ اگر کامیاب ہو جاتے تو کوئی بھی مہذب معاشرہ ان سے محفوظ نہیں رہ سکتا تھا۔ یورپی ممالک میں اس گروہ کی طرف سے ہونے والی چند انسانیت دشمن کارروائیاں سب کے سامنے ہیں۔
بین الاقوامی استعمار اور اس کے مقامی فنانسرز نے جب دیکھا کہ حمص پرامن ہوگیا اور اب اگر دوما بھی فتح کر لیا جاتا ہے تو شام کا استحکام واپس آجائےگا۔ شامی ریاست مضبوط ہو جا ئے گی تو انہیں یہ نظر آنے لگا کہ ہماری اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری ڈوب جائے گی تو انہوں نے دوما میں کیمیکل ہتھیاروں کے استعمال کا الزام لگا دیا۔عین اس وقت کہ جب اقوام متحدہ کی ٹیم تحقیق کے لئے دمشق پہنچ چکی ہو، شام پر میزائل حملوں کا ہونا جہاں ان ممالک کے کردار کو مشکوک کرتا ہے، وہیں ان کے مقامی فنانسرز کو بھی بے نقاب کرتا ہے۔ شام پر حملہ تو بنتا تھا، کیونکہ شام نے داعش اور دیگر باغی گروہوں کو شکست دے کر پورا منصوبہ خاک میں جو ملا دیا ہے۔

حضرت زینب ع

♥حضرت ذینب سلام الله علیہا.

لکهاری: نامعلوم

تاریخ بشریت میں چند خواتین ایسی آئی ہیں، جنہوں نے تاریخ رقم کی ہے۔ جناب مریم، جناب آسیہ، جناب خدیجہ، جناب فاطمۃ الزہراء کے بعد حضرت زینب ؑہی وہ عظیم ہستی ہیں کہ چودہ سو سال گزر جانے کے باوجود آج تک آپ کا کوئی ثانی نہیں۔ اس میں جہاں آپ کے نسب کا اثر ہے تو ساتھ ہی حسب بھی بے مثل ہے۔ آپ کی ولادت باسعادت کے بارے میں کئی اقوال ہیں ان میں سے سب سے مشہور 5 جمادی الاوّل 6ہجری ہے۔ آپ کا نام بھی آپ کے جد نامدار حضرت محمدؐ نے “زینب” رکھا؛ یعنی باپ کی زینت۔ آپ کے مختلف القابات میں سے “عقیلہ” سب سے مشہور ہے۔ آپ ماں باپ دونوں طرف سے ہاشمی ہیں۔ وراثت، نسب، حافظہ، معاشرہ اور ارادے سے مربوط تمام عوامل جو ایک انسان کی تقدیر ساز حیثیت کی حامل ہیں، بطور اتم آپ میں موجود تھے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ حیا میں حضرت خدیجہؑ کی مانند، عفت میں اپنی مادر گرامی حضرت فاطمہؑ جیسی اور فصاحت و بلاغت میں اپنے والد گرامی کی شبیہ تھیں، حلم اور غیر معمولی صبر میں آپ اپنے بھائی حسنؑ سے مشابہت رکھتی تھیں اور بہادری و قوت قلبی میں آپ حسینؑ کی مانند تھیں۔ آپ نے ایک ایسے معاشرے میں پرورش پائی، جو مرکز عظمت و کمال کی حیثیت رکھتا تھا۔ پورے معاشرے کو ان کی فضیلت نے پاکیزگی اور سچائی سے بھر دیا تھا۔ آپ کی نشو و نما مدینے میں حضرت علیؑ، حضرت فاطمہؑ، حضرت حسنؑ اور حضرت حسینؑ کے ہاں انجام پائی۔ ابتدا میں آپ نے رسول خدا ﷺ کے نور کے سائے میں پھر حضرت فاطمہؑ و حضرت علیؑ کے یاروں اور خاندان نبوت کی ممتاز خواتین اور ان کی شاگردوں کے زیر سایہ پرورش پائی۔ بنابرایں آپ نے رسالت و امامت کے گھرانے میں آنکھ کھولی اور آپ نبوی، علوی اور فاطمی خصائص و کمالات کی وارث قرار پائیں۔ آپ کے جد امجد محمد مصطفٰی ﷺ مالک کون و مکان ہیں۔

آپ کی نانی ام المؤمنین حضرت خدیجہ کبریٰ ہیں، آپ ہی وہ خاتون ہیں کہ جو سب سے پہلے پیغمبر اسلام پر ایمان لائیں، دین اسلام کو قبول کیا اور سب سے پہلے رسول اکرم ﷺ کی اقتداء میں نماز پڑھی، آپ کے والد بزرگوار علی مرتضٰی حق و باطل کی شناخت کا معیار اور مؤمن و منافق کی پہچان کا پیمانہ ہیں، آپ کی والدہ ٔ ماجدہ زہراء مرضیہ زنان عالم کی سربراہ اور آپ کے دو بھائی حسنؑ و حسینؑ بہشت کے جوانوں کے سردار ہیں۔ اس طرح حضرت زینبؑ کی شخصیت ایک باکردار اور شخصیت ساز گھرانے میں تشکیل پائی۔ آپ کے بارے میں حضورؐ کا ارشاد پاک ہے کہ “اس بیٹی کا احترام کیا کرو، کیونکہ یہ خدیجہ کبریٰ کی مانند ہیں۔” حضرت خدیجہؑ میں جتنی خصوصیات پائی جاتی تھیں، وہ تمام خصوصیات کامل طور پر حضرت زینبؑ میں بھی پائی جاتی تھیں۔ آپ کے والد بزرگوار نے آپ کی شادی آپ کے چچازاد بھائی، سخاوت کے دریا جناب عبد اللہ بن جعفر طیار سے ہوئی۔ شادی کے بعد حضرت علیؑ ہر روز آپ کے دیدار کے لئے جناب عبد اللہ کے ہاں تشریف لے جایا کرتے تھے اور آپؑ جناب عبداللہ اور حضرت زینبؑ کے ساتھ نہایت شفقت و محبت سے پیش آتے تھے۔ جو سلوک آپؑ اپنے دو صاحبزادوں حضرت حسنؑ اور حضرت حسینؑ سے روا رکھتے، وہی رویہ جناب عبد اللہ بن جعفر سے بھی روا رکھتے تھے۔ جب بھی حضرت زینبؑ اپنے جد نامدار حضرت رسول خداؐ کی زیارت کے لئے مسجد کا رخ کرتیں، تب امام حسنؑ ایک طرف اور امام حسینؑ دوسری طرف ان کے ساتھ تشریف لے جایا کرتے تھے۔ امیر المؤمنینؑ کسی کو مسجد کی طرف بھیجتے، تاکہ وہ مسجد کی لائٹوں کو بند کرے کہ کہیں کسی نامحرم کی نظر اس مخدرہ عصمت پر نہ پڑے ۔ جناب عبداللہ سے شادی کے بعد خداوند متعال نے آپ کا دامن متعدد موتیوں سے بھر دیا۔

ابن سعد کے قول کے مطابق آپ کے پانچ بچے تھے: علی، عون، عباس، محمد اور ام کلثوم۔ انسان کی کامیابی کا راز خواہ وہ مرد ہو یا عورت، اپنی زندگی کے تمام شعبوں میں وقت سے زیادہ سے زیادہ استفادہ کرنے پر منحصر ہے۔ ان خواتین کو ایک خاص امتیاز اور کامیابی نصیب ہوگی، جو اپنے بچے کو بااخلاق اور مہذب بنا کر ایک بہترین ماں ہونے کا ثبوت دیں۔ آپ نے اپنی مادر گرامی کی سیرت کو اپناتے ہوئے ان دونوں پہلوؤں کی طرف خصوصی توجہ دی۔ در نتیجہ آپ ایسے بچوں کی تربیت کر گئیں کہ حضرت عون و محمد کربلا میں امام حسینؑ کے ساتھ شہید ہوئے۔ آپ کی ایک صاحبزادی امّ کلثوم تھی۔ ان کی شان میں کہا گیا ہے کہ آپ حسن و جمال، کمالات معنویت، عقلمندی اور تیز فہم ہونے میں معصومینؑ کے علاوہ باقی خواتین میں بے مثل تھیں۔ لٰہذا تمام مسلم خواتین کو آپ کی مانند اپنے بچوں کی تربیت دینے کی ضرورت ہے۔ آپ اپنے گھر کا سارا کام خود انجام دیا کرتی تھیں۔ آپ کے شوہر حضرت عبداللہ صاحب استطاعت اور صاحب جاہ و حشم کے مالک ہونے کے باوجود بھی آپ نے ان کو کبھی گھر میں خدمت گار رکھنے نہ دیا اور تمام گھریلو امور عبادت سمجھ کر آپ خود انجام دیتی رہیں۔ یوں آپ قیامت تک آنے والی خواتین کے لئے نمونہ عمل قرار پائیں۔ آپ نے اس حقیقت کو عملی جامہ پہنا کر دکھا دیا کہ عفت کے پردے میں رہ کر گھریلو امور کو انجام دینا نہ صرف معیوب نہیں بلکہ بہترین عبادت ہے۔

اخلاق اور روحانی زاویے سے بھی آپ اعلٰی مقام پر فائز تھیں۔ آپ خضوع و خشوع اور عبادت و بندگی کے اعتبار سے اپنے پدر بزرگوار اور مادر گرامی کی حقیقی وارث تھیں۔ اکثر راتوں میں آپ تہجد کی حالت میں صبح کرتیں۔ آپ ہمیشہ قرآن کی تلاوت کیا کرتی تھیں۔ آپ کی شب بیداری اور تہجد کا سلسلہ پوری زندگی میں کبھی قطع نہیں ہوا۔ حضرت سجادؑ فرماتے ہیں کہ محرم الحرام کی گیارھویں کی شب بھی ان تمام دلسوز مصائب و آلام اور تھکاوٹ کے باوجود بھی میں نے اپنی پھوپھی جان کو جائے نماز پر مشغول عبادت پایا۔ روایات کے مطابق آپ کی ایک عظیم خصلت ایثار ہے۔ عاشور کے بعد بھی آپ ایثار کا پیکر بن کر اپنے حصے کا کھانا بچوں میں بانٹ دیا کرتیں اور خود بھوکی رہتی تھیں۔ آپ اپنی عفت اور حجاب کے لحاظ سے یگانہ تھیں، کیونکہ اپنے والد بزرگوار اور بھائیوں کی زندگی میں عاشور کے دن تک آپ پر کسی نامحرم کی نظر نہیں پڑی تھی۔ یحیٰی مازنی کا کہنا ہے کہ “میں نے کافی مدت مدینے میں حضرت علیؑ کی ہمسائیگی میں زندگی گزاری۔ خدا کی قسم ! میں نے اس طولانی مدت میں کبھی بھی زینبؑ کو نہیں دیکھا اور نہ ہی آپ کی کوئی آواز ہمارے کانوں سے ٹکرائی۔” صبر کی تو آپ پہاڑ تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ واقعہ کربلا کے بعد جب آپ اسیر ہوکر ابن زیاد کے دربار میں پہنچیں تو اس نے طنزیہ لہجے میں کہا کہ تمہارے خدا نے تمہارے ساتھ کیا کیا؟ تب آپ نے دو ٹوک الفاظ میں کہا: “میں نے خدا سے اچھائی کے سوا کچھ نہیں دیکھا۔” آپ نے بھایئوں اور بیٹوں کو خدا کی راہ میں شہید ہوتے دیکھا، صبر کیا، اموال کو غارت ہوتے دیکھا، صبر کیا۔ شہداء کے بچے بچیوں کو پایا اور ان کو اسیر ہوتے دیکھا، صبر کیا۔ بھوک، پیاس، قتل و غارت گری، توہین، اسیری اور شہداء کے بدن کو بے گور و کفن دیکھا، ان کے سروں کو نیزے پر بھی دیکھا، ان تمام مواقع پر بھی صبر کیا۔ عام انسانوں کے لئے ایسے وقائع کا تصور کرنا بھی مشکل ہوتا ہے اور اس کا جگر خون ہو جاتا ہے۔

آپ مقام رضا پر فائز تھیں، یہی وجہ ہے کہ جب آپ اپنے بھائی کی لاش پر پہنچیں، تب اس خون میں لت پت لاش کو سینے سے لگا کر خدا سے دعا کرتی ہیں: “خدایا! ہماری طرف سے اس قلیل قربانی کو اپنی بارگاہ میں قبولیت کا درجہ عطا فرما۔” حضرت زینبؑ کی طینت، طینت رسول اللہ ہے اور آپ نے جہاد بالنفس کے ذریعے لذائذ حیوانی کو ترک کرکے ایک ایسا مقام حاصل کیا جسے “عصمت صغریٰ” سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ عصمت صغریٰ کا مقام اولیائے الٰہی بھی حاصل کرسکتے ہیں۔ یہ عصمت مجاہدۂ نفس اور لذائذ حیوانی کو ترک کرکے حاصل کی جا سکتی ہے۔ اسی قول کو آیت اللہ تبریزی اور آیت اللہ خوئی دونوں نے قبول کیا ہے۔ یہاں سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ ائمہ معصومینؑ کے بعد ایسی باعظمت ہستی ہیں، جو عصمت کے دوسرے درجہ پر فائز ہیں اور دوسرے تمام نیکو کاروں اور پرہیزگاروں پر برتری رکھتی ہیں۔ آپ تمام مسلمان خواتین کے لئے مرجع کی حیثیت رکھتی تھیں اور وہ اپنے دینی معاملات میں آپ کی طرف رجوع کیا کرتی تھیں۔ آپ انہیں درس تفسیر دیا کرتیں، حلال و حرام بیان فرماتیں اور ان کے سوالات کے جواب دیا کرتی تھیں۔ آپ نے حلال و حرام کو قرآن و سنت کی روشنی میں بیان کیا اور مشتبہ امور کو ترک کرنے کی تلقین فرمائی۔ فصاحت و بلاغت تو آپ کو اپنے والد گرامی سے ورثے میں ملی تھی۔ جب بھی آپ کسی سے بات کرتیں، تب مخاطب گمان کرتا کہ شاید آپ کے والد بزرگوار ان سے بات کر رہے ہیں۔ آپ نے اپنے منطقی، ولولہ انگیز اور بامعنی خطبوں سے اپنے انقلاب کا آغاز کیا۔ اس کا سب سے پہلا نتیجہ یہ ہوا کہ نبیﷺ کے خاندان کو ایک ایسے خطرناک مرحلے سے نجات دلا دی، جس کی دشمن دھمکی دے رہے تھے۔

کیونکہ ہر لحظہ یہ خطرہ رہتا تھا کہ ابن زیاد کہ جس کا باطن خباثت اور اہل بیتؑ کی دشمنی سے پر تھا، ابھی فتح کے نشے میں مست بیٹھا تھا، کہیں ان کے قتل کا حکم صادر نہ کر دے۔ آپ نے ایسے موثر اور ماہرانہ انداز سے گفتگو کی کہ کوفے کے لوگوں کو مجہول الاصل اولاد زیاد کی حکومت سے کوسوں دور کر دیا۔ آپ نے اپنے خطبوں، بیانات، احتجاجات اور مجالس عزاء کے ذریعے امام حسینؑ کے اہداف کو لوگوں پر واضح کرکے رکھ دیا، امام کے پیغام کو سادہ لوح افراد تک پہنچایا۔ آپؑ نے کوفے میں اسیری کی حالت میں جو خطبے دیئے، ان سے بنو امیہ کے ہاتھوں کربلا میں سیدالشہداء کی شہادت اور دوسرے تمام جرائم کا پردہ چاک ہوا۔ آپؑ نے بنو امیہ کے فریب، دھوکے اور ان کے ظلم و ستم کی حقیقت کو فاش کیا۔ کوفے والوں کو ان کی عہد شکنی اور تاریک مستقبل کی طرف متوجہ کرکے ان کے درمیان انقلاب پیدا کر دیا۔ ظالم، غاصب اور فریب کار حاکموں کی طاقت کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا۔ آخر کار واقعہ کربلا اور امام حسینؑ کی شخصیت اور ان کے اہداف اور انکے مددگاروں کے اہداف کو واضح کرنے کے ساتھ ساتھ شہیدوں کے پیغام کو غفلت اور دھوکے میں پڑے ہوئے افراد پر واضح کر دیا، تاکہ اسیری اور خطبوں کا تسلسل، شہادت اور عاشورا کے پیغام کو دوسرے مراحل تک پہنچانے کا سبب بنیں۔

پس مدینے سے مکہ پھر مکے سے کربلا تک امام حسینؑ کا امتحان تھا، جس میں آپؑ سرخرو ہوئے، عصر عاشور سے حضرت زینبؑ کا امتحان شروع ہوا، کربلا سے کوفہ، کوفے سے شام، شام سے دوبارہ کربلا پھر مدینے سے باعزت نکلنے والا اہل بیتؑ لٹا ہوا یہ قافلہ تمام بھائی بیٹوں سے محروم ہوکر حضرت امام سجادؑ اور حضرت زینب ؑ کی قیادت میں مدینہ پہنچا۔ غرض آپ پیغمبر کربلا ہیں۔ آپ نے زندان شام میں ہی عزاداری امام حسینؑ کا اہتمام کیا، رہائی کا حکم ملتے ہی چند روز تک شام کی خواتین کو امت رسول کی جانب سے آل رسول کے ساتھ ہونے والے سلوک کا تذکرہ کرتی رہیں۔ جب لوگوں میں آگہی بڑھتی گئی اور آل رسول کی معرفت میں اضافہ ہوتا گیا تو یزید کی حکومت کا تختہ الٹنے کا خطرہ لاحق ہوا، پھر اس نے مجبور ہو کر اہل بیت اطہارؑ کو رہا کر دیا۔ یوں تمام مسلمانوں کے لئے عزاداری امام حسینؑ حضرت زینبؑ کی ایک اہم امانت ہے۔ اسی وجہ سے شاعر نے کیا خوب کہا ہے: “کربلا کے واقعے میں رنگ دونوں نے بھرا، ابتدا شبیرؑ نے کی انتہا زینبؑ نے کی۔” آپ کی رحلت اور مدفن کے بارے میں بھی کئی اقوال ہیں۔ مشہور یہی ہے کہ آپ نے 62 ہجری، رجب المرجب کی پندرہویں کو رحلت فرمائی اور آپ کو شام میں دمشق کے مقام پر دفنا دیا گیا۔ جہاں آج بھی ہزاروں لوگ آپ کی زیارت سے شرفیاب ہو رہے ہیں۔

غیر شرعی بندھن

*V⭕N*

*غیر شرعی بندھن*

✍ *ڈاکٹر سید شفقت شیرازی*
----------🔻

یہ ایک تاریخی حقیقت ہے ، حقیقت تک پہنچنا محقق کی ذمہ داری ہے، جب ہم نے بنگال کو کھو دیا تو باقی ماندہ ملک شدید مشکلات میں  گھرا ہوا تھا. اس  وقت ان گنت مجبوریوں کے باعث ہمیں اقبال وقائد اعظم کے نظریہ پاکستان کی مخالف قوتوں سے غیر شرعی عقد کرنا پڑا.  اور اسی دور میں ہمیں  ان کانگرسی ایجنٹوں اور مسلکی طور پر جمہوریت کے بجائے امارت وخلافت کا خواب دیکھنے والوں کو شریک حیات بنانا پڑا۔

پاکستانی قوم کا حصہ ہونے کی وجہ سے پاکستان آرمی بھی اس وقت  مجبور تھی۔ یوں قائداعظم اور علامہ اقبال کے مخالفین کے ساتھ  اس غیر آئینی و غیر شرعی بندھن  کے نتیجے میں  متعددنا جائز اولادیں پیدا ہوئیں .جنھوں نے بانیان پاکستان کے فرزندوں سے خوب انتقام لیا.اور ملک کو تباھی کے دہانے  پر لا کھڑا کیا. اور اب انکے یہ بچے دشمنوں کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں۔

آج جب پاکستان دشمن قوتیں، ان ناجائز بچوں  کے ذریعے  اس ملک کو مزید تقسیم کرنا چاہتی ہیں. تو پاک آرمی کے جانثاروں کی اوّلین ذمہ داری یہ بنتی ہے کہ وہ  اس ملک کی بقاء اور سلامتی کی خاطر سب سے پہلے علامہ اقبال اور قائداعظم کے دشمنوں کا قلع قمع کریں . نیز دشمن کے ہاتھوں میں کھیلنے والے  ، غلط بندھن کی پیداوار ناجائز نسل کے خلاف آپریشن کیا جائے۔

 اس کے ساتھ ساتھ اس غلط بندھن  فائدہ اٹھانے والوں اور کمیشن لینے والوں کو وطن سے خیانت کے جرم میں عدالتی کٹہروں میں بھی لا کر انہیں عبرتناک سزائیں دی جائیں  تا کہ یہ غلط بندھن ہمیشہ کے لئے ٹوٹ جائے۔

حکمران ، سیاستدان اور فوجی حلقے اچھی طرح یہ جان لیں کہ پاکستان  کے مخلصین  خواہ سنی ہوں یا شیعہ صرف وہی ہیں  جو قائداعظم محمد علی جناح کو بابائے ملت مانتے ہیں اور پاکستان کو فقط وہی بچا سکتے ہیں جنھوں نے اس کے قیام میں مخلصانہ کردار ادا کیا تھا اور قربانیاں دی تھیں.

اب یہ غلط فہمی دور کر لینی چاہیے کہ  " پاکستان کے قیام کےمخالف ،قائداعظم کے دشمن ،کانگرس نواز اور ہندوستان سے علیحدگی کو ایک برطانوی سازش قرار دینے والے لوگ پاکستان سے مخلص ہیں."

لہذا اس حساس دور میں پاکستان کے وفادار بیٹوں کا ماوراء آئین جیلوں میں ہونا جبکہ  اور وطن سے بغاوت کے جرائم کے مرتکب لوگوں کا آزاد گھومنا بذات خود استحکام پاکستان پر ایک کاری ضرب لگانے کے مترادف ہے.

ہم امید کرتے ہیں کہ ہمارے مقتدر حلقے اس مسئلے پر توجہ دیں گے اور وطن کے وفاداروں اور وطن کے غداروں کے درمیان حد فاصل مقرر کریں گے۔

 voiceofnation.blogfa.com

بچوں پر تعلیم مسلط نہ کریں

*بچوں پر تعلیم مسلط نہ کریں!*

آصف زیدی

’’میرا بیٹا بڑا ہوکر ڈاکٹر بنے گا‘‘۔

’’میں تو اپنے بیٹے کو انجینئر بناؤں گا‘‘۔

’’ہماری شہزادی بھی ڈاکٹر بنے گی‘‘۔

’’ہم تو اپنے بچے کو فوج میں بھیجیں گے‘‘۔

’’ہمارے بیٹے سول سروس میں چلے جائیں تو زندگی سنور جائے گی‘‘۔

یہ جملے ہمارے معاشرے میں روزانہ ہزاروں نہیں تو سیکڑوں لوگ ضرور بولتے ہیں، ہم بھی ان جملوں کو سنتے بھی ہیں اور شاید بولتے بھی ہیں۔ بحیثیت قوم یہ ہمارا مزاج بن گیا ہے کہ ہم حقائق کا سامنا بعد میں کرتے ہیں ، عملی کاموں کی طرف توجہ دیر سے دی جاتی ہے لیکن پہلے خوابوں کا طویل سلسلہ شروع کردیا جاتا ہے۔

بطور والدین ہم خود سے طے کرلیتے ہیں کہ ہمارے بچوں نے بڑے ہوکر کیا بننا ہے، کون سے شعبے اور فیلڈ میں جانا ہے۔ جب ہم یہ سوچ لیتے ہیں تو پھر ہم اپنی بات کو منوانے کے لیے بچوں کو شب و روز یہی بات یاد کراتے رہتے ہیں کہ اب تم نے کچھ نہیں کرنا ، بس ہم نے جو سوچ لیا ہے ، جو تمہیں بتادیا ہے، اس پرعمل کرنا ہے اور اس فیلڈ یا شعبے میں جاکر دکھانا ہے۔ یہ اتنی بھیانک غلطی ہے جس کا اندازہ ہمیں ہوتا ہی نہیں اور اگر ہوتا بھی ہے تو اس وقت تک کافی دیر ہوچکی ہوتی ہے۔ شاعر نے کہا ہے کہ

خواب کتنے بھی سنہری ہوں مگر

زندگی بیداریوں کا نام ہے

اچھے خواب دیکھنا، بڑی منزلوں کی طرف جانے کا سوچنا سب کا حق بھی اور فرض بھی لیکن زمینی حقائق کو سامنے رکھ کر اگر فیصلے یا اقدامات کیے جائیں تو مقصد کے حصول میں آسانیاں ہوسکتی ہیں۔ بچے ہمارا مستقبل ہیں اور مستقبل کے معمار ہیں، ہم انھیں آگے بڑھنے، دنیا کا مقابلہ کرنے، آزمائشوں سے گزرنے کی تربیت دینی ہے۔ انھیں ہر طرح کی ممکنہ آسائشوں اور سہولتوں کی فراہمی کے ساتھ ساتھ انھیں مشکل حالات سے نمٹنا بھی سکھانا ہے لیکن اگر ہم ان کو پابند کردیں گے کہ ’’تم نے صرف یہی کرنا ہے جو ہم کہہ رہے ہیں‘‘ تو ہوسکتا ہے کہ آپ انجانے میں ایسی غلطی کربیٹھیں جس کا مداوا مشکل سے ہو۔

یہ اللہ کا قانون اور ہمارا ایمان ہے کہ ہر بچہ مختلف خصوصیات لے کر دنیا میں آتا ہے، اگر کوئی پڑھائی لکھائی میں بہت اچھا ہوتا ہے تو کوئی جسمانی مشقت کے کاموں میں آگے آگے ہوتا ہے۔ کوئی اپنی آواز کے ذریعے دنیا میں خودکو منوانا چاہتا ہے تو کوئی پینٹنگ کے برش سے اپنی قسمت کے صفحے پر رنگ بکھیرتا ہے۔ کسی کو کتابوں سے زیادہ قدرت کے بکھرے حسن کو تسخیر کرنے کا شوق ہوتا ہے تو کوئی نصابی کتب کو ہی اوڑھنا بچھونا بنالیتا ہے۔

ایسا ممکن ہی نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کسی بچے کو خالی ذہن اور بے کار دماغ کے ساتھ دنیا میں بھیجا ہو۔ ضرورت اس بات کی ہوتی ہے اور ہمیشہ رہے گی کہ والدین اپنے بچوں کی ان مثبت صلاحیتوں اور کارآمد ٹیلنٹ کو پہچانیں، جو اسے آگے بڑھانے کی ترغیب دیتے ہیں۔

بچوں کو اعلیٰ تعلیم کی منازل تک پہنچانا فرض بھی ہے اور ہر ایک کی خواہش بھی ہوتی ہے لیکن یہ بات سب کو ذہن میں رکھنی چاہیے کہ اولاد کو ضخیم کتابیں یاد کرادینے سے بات نہیں بنتی، بات اس وقت بنتی ہے جب آپ اپنی اولاد کوتہذیب و اقدار سکھائیں اور اسے بتائیں کہ زندگی آسائشوں کے ساتھ اور بغیر آسائشوں کے کس طرح گزاری جاتی ہے۔ ہر حال میں زندہ رہنے کا فن سیکھنے والے ہی آگے بڑھتے ہیں۔

آئیے تعلیم کے حوالے سے کچھ اقوال زریں پڑھیں۔

٭ آپ اپنی تعلیم پر پورا دھیان دیں اور خود کو عمل کے لیے تیار کریں۔ یہ آپ کا پہلا فریضہ اور آپ کی تعلیم کا حصہ ہے۔ ہماری قوم کے لیے تعلیم زندگی و موت کا مسئلہ ہے۔ (بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح ؒ)

٭ بچے ہمارے مستقبل کی بہترین امید ہیں۔ (سابق امریکی صدر جان ایف کینیڈی)

٭ تعلیم کا مقصد یہ ہے کہ ایک خالی دماغ کو بامقصد بنادیا جائے۔ (میلکم فوربس)

٭ تعلیم زندگی کی تیاری نہیں بلکہ خود ایک زندگی ہے۔ (امریکی فلسفی جان ڈیوی)

٭ تعلیم کی جڑیں کڑوی ہوسکتی ہیں مگر اس کا پھل بہت میٹھا ہوتا ہے۔ (ارسطو)

٭ تعلیم کا مقصد حقائق کو نہیں بلکہ اقدار کو جاننا ہے۔ (امریکی مصنف ولیم بورو)

٭ بامقصد تعلیم کسی فوج سے زیادہ بہتر انداز میں آزادی کا تحفظ کرسکتی ہے۔ (امریکی سیاستدان ایڈورڈ ایورٹ)

٭ اچھی تعلیم کا سب سے بہترین نتیجہ برداشت ہے۔ (ہیلن کیلر)

٭ تعلیم کے بغیر انسان ایسا ہی ہے جیسے بنیاد کے بغیر عمارت۔

٭ ہر انسان کے لیے تعلیم اس کے مستقبل کا پاسپورٹ ہے۔

٭ تعلیم اندھیرے سے روشنی کا سفر ہے۔

تعلیم کی اہمیت اپنی جگہ لیکن ایک اور ضروری چیز تعلیمی نظام ہے۔ پاکستان میں یوں تو بہت سے تعلیم نظام رائج ہیں اور ہر کوئی اپنی اپنی حیثیت کے مطابق یا اپنی حیثیت سے بھی بڑھ کر نظام تعلیم اپنے بچوں کے لیے منتخب کرتا ہے۔ بات اس میں بھی وہی آتی ہے کہ بڑے تعلیمی ادارے، لاتعداد کتابوں سے بھرے بھاری بھرکم بستے، مختلف days منانے کے نام پر تعلیمی اداروں میں سرگرمیاں ہی status symbol نہیںہیں، اصل چیز اچھی، معیاری اور بامقصد تعلیم ہے جس پر حکمرانوں، والدین، اساتذہ سمیت سب کو توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

کوشش کرنی چاہیے کہ ہم اپنے بچوں کو اچھی اور بامقصد تعلیم دیں، ان پر تعلیم تھوپیں نہ، اگر ایسا کیا جائے گا تو وقتی طور پر تو ہمیں خوشی بھی ملے گی، تعریفیں بھی ہورہی ہوں گی لیکن اس سے بچوں کی اصل صلاحیتیں اور ٹیلنٹ دب جائے گا اور اعلیٰ تعلیمی مدارج طے کرنے کے باوجود بچہ اپنی اصل صلاحیتوں کو استعمال نہ کرنے کی کسک لیے رہے گا جو اس کے لیے صحیح نہیں۔

ہمیں اپنے بچوں کو نصابی کتابیں یاد کرانے کے ساتھ ساتھ صبر و برداشت، تحمل، ادب، تمیز، تہذیب، دوسرے کی بات سننے کا فن، غیر متوقع بات کو برداشت کرنے کی صلاحیت ، مشکل حالات میں بھی ہنسنے مسکرانے کی عادت جیسے ہنر بھی سکھانے ہوں گے اور یہ سب کچھ اس وقت ہوگا جب آپ خود ان باتوں کو اپنے اندر پیدا کریں اور بچوں کے سامنے عملی طور پر ان صلاحیتوں کا مظاہرہ کریں کیونکہ وہ آپ سے ہی سیکھتے ہیں۔

مجھے یقین ہے کہ قارئین میں سے اکثریت اپنے اپنے بچپن میں اس صورتحال سے گزری ہوگی اور اب ان کے بچے ان کی جانب سے صحیح فیصلہ کرنے کے منتظر ہوں گے۔ بروقت صحیح فیصلہ کرکے ہم نہ صرف اپنا مستقبل محفوظ بناسکتے ہیں بلکہ اپنے بچوں کو بھی ملک و قوم کا صحیح معنوں میں نمایندہ بننے کا اہل ثابت کرسکتے ہیں، اس پر سب کو سوچنا ہوگا۔ کچھ باتوں میں کڑواہٹ ضرور ہوتی ہے، افسوس بھی ہوتا ہے لیکن اگر انسان غلطیوں سے سیکھنے اور انھیں نہ دہرانے کا تہیہ کرلے تو ہم بہت سے مثبت نتائج حاصل کرسکتے ہیں۔

سب کو بحیثیت والدین اور اساتذہ یہ کوشش کرنی چاہیے کہ بچوں کو ان غلطیوں اور کوتاہیوں سے بچائیں جو جانے انجانے میں ہم سے ہوچکی ہیں۔ ماضی سے سیکھ کر اگر ہم اپنے حال پر کچھ توجہ دے لیں گے تو مستقبل یقینی طور پر بچوں کی بہترین تعلیم و تربیت کی شکل میں ہمارے سامنے آئے گا۔

سامراج ک گماشتے نہاد مسلمان حکمرانوں پر طنزیہ تحلیل

بشار اسد خطے کی ناپسندیدہ ترین شخصیت ۔۔
ّ(کچھ آس پاس کی باتیں )
کوئی چاہے یا نہ چاہے لیکن یہ ایک کھلی حقیقت ہے کہ شام کے صدر بشار الاسد خطے میںبہت سوں کے نزدیک ایک ناپسندیدہ شخص کے طور پر شہرت رکھتے ہیں ۔
اسرائیل اسے ایک خوفناک دشمن سمجھتا ہے کیونکہ وہ خطے میں اسرائیل مخالف قوتوں کے ساتھ تعاون کرتے بالکل بھی کتراتے نہیں ۔
اخوان المسلمون کی سوچ سے جنم لینے والی فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس کی قیادت دمشق میں بشار الاسد کی گود میں بیٹھ کر ہی اسرائیل کے ناک میں دم کرتی آئی ہے ۔
اس فلسطینی گروہ کی پرورش کرتے ہوئے کبھی بھی بشار اسد یا اس کے باپ حافظ اسد نے اسے یہ احساس نہیں ہونے دیا کہ وہ کوئی غیر ہے یا ان میں سرحدوں اور شناختی کارڈ کا فرق ہے ۔
بات یہاں تک بھی محدود نہیں بلکہ بشار اسد اس لئے بھی ناپسندیدہ شخص ہے کیونکہ اس نےبلاتفریق اسرائیل مخالف ہر گروہ اور ہر سوچ کو مدد فراہم کیا ہے ،خواہ وہ شام اور لبنان میںفلسطینی پناہ گذین ہوں یا پھر پی ایل او سے تعلق رکھنے والے سیکولر مزاحمت کار یا پھر لبنان کی جماعت حزب اللہ سب کے لئے شام اور اس کا صد ایک مہربان گود کا کردار ادا کرتے آئے ہیں ۔
اس کی ناپسندیدہ گی کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ وہ دوسرے عرب بادشاہوں اور شہزادوں سے قدرے مختلف ہے جو امریکہ کو مائی باپ کہتے ہیں اور ہر سال اربوں ڈالر کے فرضی سودے کرتے ہیں ۔
بشار اسد اس لئے بھی ناپسندیدہ ہے کیونکہ وہ نہ تو طویل چھٹیاں گذارنے کسی یورپی ملک کےپورے ساحل سمندر کو کروڑوں ڈالر یومیہ دیکر کرایے پر لیتا ہے اور نہ ہی وہاں کی واہیات بے حیاپرون فلم انڈسٹری میں اپنی پسند کی فلموں میں سرمایہ کاری کرتا ہے ۔
اب ایک ایسا شخص کیسے پسندیدہ قرارپاسکتا ہے جو اپنے ملک کے سرمائے کو فلسطینی پناہ گذینوں پر خرچ کرے اور اس میں سے ایک دھیلا بھی امریکہ یا یورپ میں سرمایہ کاری کے عنوان سے ہی سہی خرچ نہ کرے ۔
یہ شخص کیسے پسندیدہ ہوسکتا ہے کہ جو تیل کی ریل پیل سے مالا مال بڑے عرب ملکوں کی اس پائپ لائن کو گذرنے کی اجازت نہ دے جو ترکی کے راستے سے یورپ کے کارخانوں کے پہنچانا چاہتے ہیں
یہ کیسا شخص ہے جو اسرائیل کو نقصان پہنچانے کے لئے اپنے فائدے کا بھی بالکل ہی نہیں سوچتا ۔
فلسطینی مظلومیت اور قبلہ اول کی حمایت کی بھی کوئی حد ہوتی ہے ،کیا دوسرے روزانہ بیانات نہیں دیتے ؟
کیا جب بھی غزہ پر اسرائیل بمباری کرتا ہے تو ا سکی مذمت نہیں کرتے ؟
کیا بمباری کے بعد تباہ حال گھروں کی تعمیر میں مدد نہیں کرتے ؟
آخر فلسطین اور قبلہ اول کو لیکر اتنی بھی جذباتیت اچھی نہیں
دیکھیں زرا ترکی اور مصر کو ترکی نے پورا فریڈ م فورٹیلا چلایا اور اردگان کی زبان ہمیشہ اسرائیل کی مذمت کرتے تھکتی نہیں ،اب ا سکا مطلب یہ تھوڑی نا ہے کہ ترکی اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات ختم کرے اور اپنا اربوں کا نقصان برداشت کرے ،اردگان اب بشار اسد جیسا جذباتی بھی نہیں ۔
بشار اسد کیا سوچتا ہے کہ باریش حرمین کے خادموں سے زیادہ اسے قبلہ اول اور فلسطینوں کی فکر لاحق ہے ؟وہ بھی تو اسرائیلوں کے ساتھ معاملات سیٹل کررہے ہیں تو پھر بغیر کلین شیو کرنے والے بشاراسد کو اتنی مخالف کی کیا ضرورت ہے ؟
بشار اسد کیسا سر پھیراشخص ہے کہ سات سال سےدو درجن ملکوں کے ساتھ جنگ لڑرہا ہے اور اب بھی فلسطین فلسطین کرتا ہے ۔
بشار الاسد کو چاہیے تھا کہ عالمی صیہونی لابی کے ساتھ ہاتھ ملاتا اور خطے پر راج کرتا جیساکہ سارے عرب بادشاہ ،شہزادے اور مطلق العنان حکمران کررہے ہیں ۔
بشار اسد الئے بھی ناپسندیدہ ملک ہے کہ وہ عرب عوام کوسامراج کے مقابل مزاحمت ،مقاومت ،ڈٹ جانا جیسی اصطلاحات سیکھاتا ہے جبکہ وہ اپنے حکمرانوں سے اب تک سامراج کو مائی باپ کے رشتے سے پہچانتے آئے ہیں کہ جن کے ساتھ بات چیت ، مذاکرات اور پھر مذاکرات ،قرارداد جیسی معاملات ہی ہوسکتے ہیں ۔
اب بھلا کوئی بدتمیرز ہی ہوسکتا ہے جو مائی باپ کو سامراج ،استعمار،Imperialismجیسے الفاظ سے یاد کرتا ہے ۔
ایسے بدتمیز کو سبق سیکھانا ضروری ہے ،ایسے بدتمیز کی ہم جدی پشتی عربوں کے درمیان کوئی گنجائش نہیں جومزاحمت ،مقاومت باتوں سے غیر عربوں کو ہم عربوں پر برتری دے رہا ہے ۔
ایسے گستاخ کو مرجانا چاہیے اور ایسے گستاخ کو ختم کردینا ہی اچھا ہے
https://www.facebook.com/FocusonMiddleEastURDU/posts/1084743521673733

جنگ کی دستک

*V⭕N*
Voiceofnation.blogfa.com

🔥 *جنگ کی دستک*
-----------🔺
امن  اور تہذیب لازم و ملزوم ہیں، انسان کی تہذیب کا پیمانہ اس کی امن پسندی ہے، کوئی شخص جتنا شدت پسند ہوتا ہے اتنا ہی غیر مہذب بھی ہوتا۔ غیر مہذب لوگ امن پسندی کی جدوجہد کو بزدلی اور شدت پسندی کو بہادری سمجھتے ہیں، دنیا میں اپنے آپ کو سپر پاور کہنے والا امریکہ کس قدر مہذب ہے اس کا اندازہ عراق، افغانستان اور شام کے کھنڈرات سے لگایا جا سکتا ہے۔

اس کے علاوہ ہم لوگ بحیثیت پاکستانی کتنے مہذب ہیں اس کا بخوبی اندازہ، قبرستانوں میں بے گناہوں کی قبروں سے کیا جا سکتا ہے۔ اور بحیثیت قوم ، مسلمان اس وقت تہذیب و تمدن کے کس درجے کو چھو رہے ہیں اس کا پتہ  ۱۴ اپریل ۲۰۱۸ کی شب سے لگایا جا سکتا ہے۔

گزشتہ ہفتے کی شب  کو شام کے مقامی وقت کے مطابق تین بج کر پچپن منٹ پر امریکہ فرانس اور برطانیہ کی جانب سے  مسلمان ممالک کی پشت پناہی کے سبب شام پر110 میزائیل حملے کیے گئے۔

ان حملوں کے لئے شام کے بشار الاسد پر وہی الزام لگایا گیا جو عراق کے صدام پر لگایا گیا تھا یعنی کیمیائی ہتھیاروں کی موجودگی کا الزام۔الزام لگانے والے اتنی عجلت اور جلدی میں تھے کہ انہوں نے  کیمیائی ہتھیاروں کی روک تھام کی عالمی تنظیم او پی سی ڈبلیو کے نمائندوں کو اپنی تحقیقات بھی مکمل کرنے کی مہلت نہیں دی۔ان کی تحقیقات مکمل ہونے سے پہلے ہی حملہ کردیا گیا۔کچھ لوگ اس حملے پر افسردہ ہیں کہ یہ حملہ ایک بڑی جنگ کی دستک ہے اور کچھ اس پر خوش ہیں کہ یہ حملہ ناکام رہا جبکہ ایک طبقے کا دعویٰ ہے کہ یہ حملہ کامیاب رہا۔

اگرچہ ذرائع ابلاغ کے مطابق یہ حملہ ناکام ہی رہا ہے تاہم اس حملے میں عالمِ بشریت کے لئے کوئی اچھی خبر نہیں ہے، چونکہ حملہ بالآخر حملہ ہی ہے اور جنگ پھولوں کی مالا نہیں بلکہ آگ کا شعلہ ہوا کرتی ہے۔

اس جنگ  کے آغاز پر بغلیں بجانے والوں کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ امریکہ و روس صرف اپنے مادی مفادات کے حصول کے لئے اس  جنگ کے پارٹنر ہیں، اگر جنگ کے شعلے بھڑکتے ہیں اور امریکی و روسی مفادات  کو زِک پہنچتی ہے تو کبھی بھی دوسروں کی خاطر امریکہ و روس اپنے ممالک کو جنگ میں نہیں دھکیلیں گے اور اس کا سارا خمیازہ مسلمان ریاستوں کو ہی بھگتنا پڑے گا۔

سعودی عرب اپنے اتحادیوں کے ساتھ یمن اور بحرین میں جس آگ کو اپنے دامن کی ہوا دے رہا ہے وہ آگ ایک طرف اور اسرائیل کو مضبوط کر کے اپنے لئے جو شکنجہ تیار کررہاہے یہ دوسری سے طرف سعودی عرب کےمستقبل کے لئے بڑا خطرہ ہے۔

اس خطرے کا اندازہ اس سے بھی لگا لیجئے کہ ۱۴ مئی ۱۹۴۸ کو جیسے ہی تل ابیب ریڈیو سے اسرائیلی رہنما بن گوریان نے اسرائیل کی آزادی کا اعلان نشر کیا تھا تو  فوراً بلا فاصلہ سب سے پہلے  امریکہ نے اسے آزاد ملک کے طور پر تسلیم کیا تھا۔

بعد ازاں ایک صحافی نے امریکی صدر ہیری ٹرومین سے سوال کیا کہ ہمیں اسرائیل کو تسلیم کرنے کی اتنی جلدی کیا تھی کہ ہم نے یہ بھی نہیں سوچا کہ  اس سے دس کروڑ عرب ہم سے ناراض ہوجائیں گے!

امریکی صدر نے برجستہ جواب دیا کہ  میرے حلقہ انتخاب میں عرب نہیں بستے یعنی مجھے  ۶۰ لاکھ یہودیوں نے ووٹ دے کر صدر بنایا ہے دس کروڑ عربوں نے نہیں۔

یہ بڑی طاقتوں کی مشترکہ نفسیات ہے، انہیں اکثریت و اقلیت، جمہوریت اور انسانی حقوق وغیرہ کے بجائے صرف اپنے مفادات عزیز ہوتےہیں۔

یہ بات اپنی جگہ پر درست ہے کہ اسرائیل تقریبا چار مرتبہ عرب ممالک کو شکست دے چکا ہے لیکن یہ بھی پتھر پر لکیر ہے کہ خود اسرائیل  وقت آنے پر ایران اور شام سے ایک شکست بھی افوررڈ نہیں کر سکتا اور اس وقت سعودی عرب جو وہابی ازم کے بعد لبرل ازم کے ذریعے اسرائیل اور یورپ کا سہارا لینا چاہتا ہے اسے یہ نوشتہ دیوار ابھی سے پڑھ لینا چاہیے کہ روس اگر اپنے مفادات کے پیشِ نظر شام سے نکل بھی جائے تو ایران کبھی بھی  شام کو میدانِ جنگ میں  تنہا نہیں چھوڑے گا جبکہ  امریکہ و اسرائیل کبھی بھی مشکل وقت میں سعودی عرب کے کام نہیں آئیں گے۔

سعودی عرب پہلے بھی اس تلخ حقیقت کو چکھ چکا ہے کہ امریکہ اور یورپ نے  وہابی مدارس ،داعش، القائدہ اور طالبان کو صرف اپنے مفاد کے لئے استعمال کیا ہے اور بے شک آج شام پر ایک سو دس میزائل داغے گئے ہیں لیکن  اگر  ایران اور شام کی طرف سے جنگ کی اس دستک کا جواب دیا گیا تو پھر سعودی عرب یاد رکھے کہ   امریکہ کبھی بھی نقصان کے سودے میں حصہ دار نہیں بنتا۔

یہ سوال ہمیشہ اپنی جگہ موجود رہے گا کہ اگر شام پر حملہ کامیاب رہا ہے تو پھر وہ کیمیائی ہتھیار کہاں گئے جن کی وجہ سے حملہ کیا گیا تھا  اور اگر میزائل اپنے ہدف پر نہیں لگے تو پھر کامیابی کس بات کی!?؟

*نذر حافی*
nazarhaffi@gmail.com                  

 

حالات حاضره

حالات حاضرہ

ثاقب اکبر 


گذشتہ روز (15 اپریل 2018ء بروز اتوار) شدت پسند تنظیم جو اپنے آپ کو دولت اسلامیہ کہلواتی ہے اور جو داعش کے نام سے منفور جہاں اور بدنام زمانہ ہے، نے کوئٹہ میں عیسٰی نگری پر حملے کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔ اس حملے میں پاکستان کی مسیح برادری سے تعلق رکھنے والے دو افراد جاں بحق اور سات زخمی ہوگئے۔ یہ لوگ کلیسا سے عبادت کرکے نکل رہے تھے کہ داعشی سفاکوں نے ان پر حملہ کر دیا۔ داعش نے موبائل ایپ ٹیلی گرام پر جاری کئے گئے اپنے ایک پیغام میں اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ ”دولت اسلامیہ خراسان“ کا عنوان اختیار کرنے والے پاکستان اور افغانستان میں موجود نیٹ ورک نے ٹیلی گرام پر اپنے پیغام میں کہا ”خلافت کے سپاہیوں نے کوئٹہ میں مسیحیوں کے گرجا گھر پر حملہ کیا۔“ یہ حملہ بروری روڈ سے متصل عیسٰی نگری میں کیا گیا۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ اسی مہینے کے آغاز میں کوئٹہ ہی میں مسیحی برادری پر ایک اور حملہ ہوچکا ہے، جس میں ایک خاتون سمیت کم از کم چار افراد واصل بحق ہوئے اور ایک بچی زخمی ہوگئی۔ اسلام کے نام پر قتل و قتال کا یہ سلسلہ گذشتہ چار دہائیوں سے جاری ہے۔ نام بدل بدل کر مختلف گروہ یہ کردار ادا کر رہے ہیں۔ جدید تاریخ اس امر کی شہادت دیتی ہے کہ ہر نئے نام سے سامنے آنے والا گروہ سفاکی اور درندگی میں پہلے سے بڑھ کر ہوتا ہے۔ ان گروہوں سے مسلمان محفوظ ہیں اور نہ غیر مسلم۔ افسوس ناک امر یہ ہے کہ یہ لوگ اپنے آپ کو اسلام کا نام لیوا اور اپنا مقصد اسلامی خلافت کا قیام قرار دیتے ہیں۔ داعش کے تازہ بیان میں بھی قاتلوں کو خلافت کے سپاہی قرار دیا گیا ہے۔


کس کی خلافت اور کیسی خلافت؟ کون سا اسلام اور کس کا اسلام؟ اگر اسلام قرآن اور سنت نبوی کا نام ہے تو پھر ان کا یہ کردار کسی صورت میں اسلامی کہلانے کے لائق نہیں اور اگر خلافت سے مراد اسلامی حکومت کا کوئی تصور ہے تو پھر اسلام ایسی حکومت کے تصور سے بیزار ہے۔ قرآن حکیم میں فرمایا گیا ہے:" مَن ± قَتَلَ نَف ±سًا بِغَی ±رِ نَف ±سٍ اَو ± فَسَادٍ فِی ال ±اَر ±ضِ فَکَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِی ±عًا(مائدہ:۲۳)"جس نے کسی ایک انسان کو بغیر اس کے کہ اس نے کسی انسان کو مارا ہو یا زمین پر فساد برپا کیا ہو، قتل کر دیا تو وہ ایسے ہی ہے جیسے اس نے سب انسانوں کو قتل کر دیا ہو۔"قابل غور بات یہ ہے کہ اس آیت میں مسلمان یا مومن کے قتل کا ذکر نہیں کیا گیا بلکہ ایک بے جرم و خطا انسان کے قتل کو ساری انسانیت کے قتل کے مترادف قرار دیا گیا ہے۔ ہمارے مذہبی لٹریچر میں ذمی کا لفظ ان غیر مسلموں کے لئے استعمال کیا جاتا ہے، جو ایک معاہدے اور قانون قاعدے کے مطابق کسی اسلامی ریاست میں زندگی بسر کر رہے ہوں۔ وہ ریاست کو سرکاری واجبات ادا کرتے ہیں اور ریاست ان کی جان و مال کی حفاظت کرتی ہے۔ پاکستان اور دیگر مسلمان ملکوں میں رہنے والے غیر مسلم، ہر ملک کے قوانین و قواعد کے مطابق اس میں زندگی بسر کرتے ہیں اور ہر ریاست اپنے آئین و قانون کے مطابق ان کے حقوق کی محافظ ہے۔ پاکستان میں بسنے والے مسیحی ہوں یا کسی اور دین و مذہب سے تعلق رکھنے والے غیر مسلم، سب ”معاہد“ کی تعریف میں آتے ہیں۔ وہ ریاست کے قابل احترام شہری ہیں اور ان کی جان و مال کی حفاظت ریاست کے ذمے ہے۔ انہیں اسلامی اور ملکی قوانین کے مطابق اپنی مذہبی رسوم ادا کرنے کی آزادی دی گئی ہے۔ اس آزادی کا چھیننا اور ان کے درپئے آزار ہونا اسلامی تعلیمات کے بھی منافی ہے اور پاکستان کے آئین و قوانین کے بھی۔ لیکن داعش، القاعدہ، بوکوحرام اور ان جیسی دیگر تنظیموں کو اس سے کیا کہ اسلام کیا کہتا ہے اور کسی ملک کا قانون اپنے شہریوں سے کیا عہد کرچکا ہے، جس کی پاسداری ضروری ہے۔


نبی کریم نے نجران کے مسیحیوں سے جو معاہدہ کیا، امت کو اپنے بعد کے لئے بھی اس معاہدے کا پابند قرار دیا۔ امام علیؑ کے بارے میں ایک چشم کشا واقعہ تاریخ میں نقل ہوا ہے، جس کے مطابق جب آپ نے کوفہ میں ایک بوڑھے یہودی کو بھیک مانگتے ہوئے دیکھا تو آپ نے سوال کیا کہ یہ میری حکومت میں بھیک کیوں مانگ رہا ہے؟ اس نے کہا یاعلی! کل تک مجھ میں قوت تھی، میں کام کرتا تھا، لیکن اب مجھ میں قوت نہیں رہی۔ امام نے فرمایا: اس کی تمام ضرورتوں کو بیت المال سے پورا کیا جائے اور اسے ماہانہ وظیفہ دیا جائے۔ کسی نے کہا یاعلی! یہ یہودی ہے۔ آپ نے فرمایا: یہ ایک انسان ہے جب تک اس کے جسم میں قوت تھی اس نے معاشرے کی خدمت کی ہے، اب حکومت کی ذمہ داری ہے کہ اس کی ضرورتوں کو پورا کرے۔ آپ کا یہ طرز عمل نبی اکرم کی تعلیمات کے عین مطابق تھا، جنھوں نے فرمایا کہ جو رحم نہیں کرتا، اس پر رحم نہیں کیا جاتا۔ آپ نے یہ بھی فرمایا تم زمین والوں پر رحم کرو، تم پر آسمان والا رحم کرے گا۔ ہمارے ہاں یہ مشہور عوامی شعر اسی حدیث کی حکایت پر مشتمل ہے:

کرو مہربانی تم اہل زمیں پر

خدا مہرباں ہو گا عرش بریں پر

داعش کا تصور خلافت اگر حضرت ابو بکرؓ اور حضرت عمرؓ کے تصور حکومت پر مشتمل ہوتا تو بھی وہ ہرگز یہ کچھ نہ کرتے، جو اس وقت کر رہے ہیں۔ چنانچہ حضرت ابو بکرؓ نے کفار کے مذہبی معاملات سے متعلق جو معاہدہ لکھا اس میں ہے:”ان کے چرچ اور کلیسے منہدم نہیں کئے جائیں گے اور نہ کوئی ایسی عمارت گرائی جائے گی، جس میں غیر مسلم ضرورت کے وقت دشمنوں کے حملہ کے موقع پر قلعہ بند ہوتے ہیں۔ ناقوس اور گھنٹیاں بجانے کی ممانعت نہیں ہوگی اور نہ تہواروں کے موقع پر صلیب نکالنے سے روکے جائیں گے۔"


اس طرح کے احکام نبی کریم کی تعلیمات کے عین مطابق ہیں۔ چنانچہ نبی کریم نے ارشاد فرمایا:”خبردار جس نے کسی غیر مسلم شہری پر ظلم کیا، اس کا حق مارا، اس کی طاقت سے بڑھ کر اس پر بوجھ ڈالا یا اس کی دلی رضامندی کے بغیر کوئی چیز اس سے چھین لی تو قیامت کے دن میں اس کے مقدمے کی پیروی کروں گا۔“انہی تعلیمات اور ان میں موجود انسانی جذبے کے پیش نظر ہم کوئٹہ میں مارے جانے والے اور زخمی ہونے والے اپنے مسیحی بھائیوں کے لئے اظہار رنج و غم کرتے ہیں۔ ان کے غم کو ہم اپنا غم سمجھتے ہیں۔ ہم ان کی خدمت میں ہدیہ تعزیت پیش کرنے کے ساتھ ساتھ اس امر کی طرف متوجہ کرتے ہیں کہ ان پر حملہ کرنے والے اسی طرح مسلمانوں کا بھی قتل عام کرنے سے دریغ نہیں کرتے، جس طرح وہ مسیحیوں کو قتل کرنے سے نہیں چونکے۔ اس لحاظ سے ہمارا اور آپ کا غم ایک ہے، آپ مشرق و مغرب میں رہنے والے تمام مسیحیوں سے کہیں کہ آیئے مل کر داعش جیسے ظالم گروہوں کے خلاف ایک ہو جائیں اور ان کے خلاف بھی صف آراء ہو جائیں، جنھوں نے داعش جیسی تنظیمیں تخلیق کی ہیں، انہیں پروان چڑھایا ہے اور ان کی تربیت کی ہے اور آج بھی انہیں وسائل فراہم کر رہے ہیں۔ کون نہیں جانتا کہ ہمارے خطے میں داعش کو کون لا رہا ہے اور کون ان کا پشت پناہ ہے۔ آیئے انسانیت کے تمام سفاک قاتلوں کے خلاف ایک ہو جائیں، چاہے انہوں نے مسلمانوں جیسا نام رکھا ہو اور چاہے مسیحیوں جیسا اور چاہے کسی اور مذہب و ملت کے ماننے والوں سے ملتا جلتا۔

دین کو کلچر سے الگ کرو

دین کو کلچر سے الگ کرو۔

کھانا خود گرم کرلو۔۔یہ لبرل ازم ہے۔۔
کھانا گرم کرکے لا۔۔۔یہ کلچر ہے۔۔
آپ رہنے دو میں خود گرم کرلیتا ہوں۔۔یہ دین ہے۔۔

بیوی کو غلام بنانا۔۔۔یہ کلچر ہے
بیوی کا غلام بن جانا۔۔۔یہ لبرل ازم ہے۔۔
بیوی کو بیوی سمجھنا۔۔۔یہ دین ہے۔۔

بیوی پر تشدد کرنا۔۔۔یہ کلچر ہے
میاں بیوی میں فساد کروانا۔۔یہ لبرل ازم ہے
بیوی سے محبت سے پیش آنا۔۔۔یہ دین ہے۔۔

بیٹی کے پیدا ہونے پہ منہ کالا ہونا۔۔۔یہ کلچر ہے
بیٹی کے پیدا ہونے کو روزگار کے مواقع سمجھنا۔۔۔یہ لبرل ازم ہے
بیٹی کی پیدائش پر رب کا شکر ادا کرنا۔۔یہ دین ہے۔۔

لڑکی کو آنکھوں کے پپوٹے نکال کر دیکھنا۔۔یہ کلچر ہے
لڑکی کو گھیر کر فرینڈ بنانا۔۔یہ لبرل ازم ہے۔۔
لڑکی جس حالت میں بھی ہو آنکھیں نیچی کرلینا ۔۔یہ دین ہے۔۔۔

لڑکی کو مکمل ڈھانپ کر خود دوسروں کی عورتیں دیکھنا ۔۔۔یہ کلچر ہے۔۔
لڑکی کو کم یا بے لباس کرنا یہ لبرل ازم ہے۔۔
لڑکی کو پردہ کا پابند کرواکر خود بھی آنکھوں کا پردہ کرنا۔۔۔یہ دین ہے۔۔

اغلام پرستی کرنا۔۔۔یہ راجہ داہریت سے منسوب کلچر ہے۔۔
اغلام بننا اور اسکی ترغیب دینا یہ لبرل ازم ہے۔۔
اغلام پرست کسی بھی شعبے کا ہو اس کی سرکوبی کرنا۔۔۔یہ دین ہے۔۔

قوم پرستی کرنا۔۔۔یہ کلچر ہے۔۔
قوم پرستی پہ بھڑکانا۔۔۔یہ لبرل ازم ہے۔۔
قوم پرستی ختم کرکے سب کو گلے لگانا ۔۔یہ دین ہے

مایوں مہندی دودھ پلائ جوتا چھپائ سے دلہن کو خوش کرنا۔۔۔یہ کلچر ہے۔۔۔
مایوں مہندی جملہ تہواروں کو مکمل نافذ رکھنا یہ لبرل ازم ہے۔۔
ان ساری رسومات کا خاتمہ کرکے دلہن دولہا کا اخلاقی رشتہ اور ایک دوسرے کے حقوق پورا کرنا۔۔۔یہ دین ہے۔۔

ساس جیٹھ دیور دیورانی سسر کا بیوی کو دھونس میں رکھنا۔۔۔یہ کلچر ہے۔۔
ساس جیٹھ وغیرہ سے بیوی کو لڑوانا۔۔۔یہ لبرل ازم ہے۔۔
ساس سسر جیٹھ دیور کا دلہن پہ کوئ حکومت نا ہونے کا اعلان ۔۔۔یہ دین ہے۔۔۔۔

بیوی کو نوکر بناکر رکھنا۔۔یہ کلچر ہے۔۔
بیوی کا خود کو بیوی نا سمجنا۔۔۔یہ لبرل ازم ہے۔۔
بیوی کے ساتھ گھر کے کام کروانا۔۔۔یہ دین ہے۔۔

لوگو غلط کو غلط کہو جو دین نہیں ہے اسے دین مت بنائو برصغیر پاک وہند کے کلچر کو دفن کردو عورت کو غلام سمجھ کر خود کو بادشاہ سمجنا یہ اسلام نہیں کلچر ہے جو صدیوں سے نافذ ہے۔۔۔
دین میں مکمل داخل ہو جائو تم لوگوں کی جہالت سے لبرل ازم اور خود سری کو فروغ مل رہا ہے۔۔۔

کلچر اور "لبرل ازم" کو طلاق دو جہالت سے باہر نکلو

لبرل ازم اور الحاد کے فروغ میں حصہ دار مت بنو۔۔۔۔۔!!

دین کا کلچر بناؤ کلچر کا دین نہیں بن سکتا اتنے انسان سیانے ہوتے تو خسارے میں نہ ہوتے ایک قانون ایسا نہیں بنا سکتے جس میں خامی نا ہو

وعلیکم السلام ورحمة الله

وِژن

*V⭕N*


وژن

voiceofnation.blogfa.com

وژن (Vision)کہتے ہیں:’’ مستقبل کی وہ تصویر جسے میں دیکھنا چاہتا ہوں۔‘‘ دبئی کے شیخ محمد نے اپنی ایک کتاب میں وژن کا ترجمہ ’’الرؤیا‘‘ سے کیا ہے۔مطلب ہے: دیکھنے کی صلاحیت یعنی ’’بصیرت۔‘‘ اسی کو انگریزی میں وژن سے تعبیر کرتے ہیں۔ ایک وہ چیز جو نظر کے سامنے ہے۔ اسے دیکھنے میں بچہ، بڑا، مسلمان، کافر سب برابر ہیں۔ دوسری صورت یہ ہے کہ سامنے نظر آنے والی چیز کو آنکھ سے تعبیر نہ کرنا، بلکہ ذہن سے تعبیر کرنا کہ  میں دیکھ رہا ہوںکہ کل کو ایسا ہونے والا ہے، مثلاً: کسی کا بچہ صحیح زندگی نہیں گزار رہا تو وہ کہتا ہے کہ میں دیکھ رہا ہوں کہیں میرا بچہ آگے جا کر اوباش نہ بن جائے۔ حالانکہ اس کی آنکھوں کے سامنے فی الحال ایسا کچھ نہیں ہے، اسی کو بصیرت کہتے ہیں۔ ہماری وژن سے یہی مراد ہے۔ دو زندگیاں، دو وژن

بامقصد زندگی دو پہلو وںپر مشتمل ہے:دینی اور دنیاوی۔

1 دینی پہلو میں اللہ کی رضا اور آخرت کی کامیابی کو سامنے رکھ کر زندگی گزارنا بامقصد زندگی کہلاتا ہے۔

2 دنیاوی پہلو میں ایک منزل کو سامنے رکھ کر، اس منزل تک پہنچنے کے بعد جو زندگی شروع ہوتی ہے، اس کو بامقصد زندگی سے تعبیر کیا جاتا ہے۔

چڑھتی جوانی اور بڑھتی امنگوں کے موڑ پر انسان کئی ایک سپنے دیکھتا ہے۔ ضروری تعلیم، کامیاب بزنس اور خوش حال گھرانہ۔ ماہرین کے بقول وژن کے بغیر کوئی زندگی مکمل نہیں، بھول بھلیوں کا ایک سلسلہ ہے اور بس! ایک تاجر کے لیے اس کے بنا چارہ نہیں، کیونکہ اس کا نقصان بہت سے ناقابل تلافی نقصانات کا باعث بنتا ہے۔ زیر نظر تحریر ایسے اصول ہمیں دیتی ہے جو ہمیں واضح مقصد زندگی عطا کریں گے، جن کے ذریعے ہم کامیاب اور مثالی تاجر بننے کے اپنے خواب کو بہت جلد شرمندہ تعبیر کر سکیں گے۔

مثال کے طور پر میں 18سال کا ہوں۔ کالج میں پڑھ رہا ہوں۔ ابھی بامقصد زندگی نہیں گزار رہا۔ جب میں یونیورسٹی جاؤں گا، وہاں سے ڈگری لوںگا۔ اچھی نوکری لگے گی، شادی کروں گا۔ بچے ہوں گے۔ اونچی پوسٹ پر پہنچوں گا، پھر جا کر میری بامقصد زندگی شروع ہو گی۔

راستے پر چلنے یا منزل تک پہنچنے میں ، مسلم اور غیر مسلم کے زاویہ نگاہ میں بڑا فرق ہے۔ غیر مسلم سوچتا ہے کہ میں کسی منزل پر پہنچوں گا تو وہاں سے میری بامقصد زندگی شروع ہو گی، جبکہ مسلمان یہ سمجھتا ہے کہ منزل کی تگ و دو میں لگے رہنا ہی بامقصد زندگی ہے۔ مسلمان کے ہاں منزل سے مراد اللہ کے احکامات پرعمل کرنا اور جنت کا حصول ہوتا ہے۔ جبکہ غیر مسلم کی تگ ودو صرف دنیا کے لیے ہوتی ہے۔اسی سے سمجھ آتا ہے ایک غیر مسلم کا وژن محدود، جبکہ مسلمان کا وژن بے شمار وسعتیں لیے ہوئے ہے۔ اس کی مزید وضاحت اس واقعے سے ہو گی۔

دبئی کے ایک بزنس مین کی ملاقات محمد سلیمان نامی ایک پاکستانی سے ہوئی۔ بزنس مین کی عمر35سال تھی۔ اس نے کہا: جب میں اپنے سامنے سے کوئی جنازہ جاتے دیکھتا ہوں تو آرزو کرتا ہوں کہ کاش! یہ جنازہ میرا ہوتا!! محمد سلیمان نے پوچھا: کیا کوئی مالی پریشانی ہے؟ انہوں نے جواب میں کہا: نہیں! میرے پاس دولت کی کمی نہیں، کاروبار بھی بہت اچھا چل رہا ہے۔ ملازمت بھی بہت اچھی ملی ہوئی ہے۔ میں ایک اچھی کمپنی کا ہیڈ ہوں، گھر میں بھی کوئی پریشانی نہیں۔

 سلیمان صاحب نے پوچھا: پھر مسئلہ کیا ہے؟ اس نے جواب دیا: مجھے اب اپنی زندگی بے مقصد نظر آ رہی ہے۔ میری زندگی کا وژن 50،55 سال کا تھا۔ لیکن وہ 35سال میں ہی مکمل ہو گیا ہے۔ بچپن میں، میں نے سوچا تھامیں اپنا وژن 50،55 سال میں پورا کر کے باقی 4،5 سال ویسے گزار لوں گا اور دنیا سے چلا جاؤں گا۔ اللہ کا کرنا ایسا ہوا کہ میرے وژن کے تمام مراحل بہت جلد طے ہو گئے۔ سب کچھ 35برس میں پا لیا ہے۔ اب سمجھ نہیں آتا کروں کیا؟

اب جوان ہوں، جوش بھی ہے۔ زندگی میں کچھ کرنے کی اُمنگ بھی، لیکن سامنے کوئی وژن نہیں کہ کرنا کیا ہے؟در اصل اس نے کافروں کے دیے ہوئے وژن کو اپناوژن بنایا تو بہت جلد اسے اپنے سامنے سارے راستے بند نظر آنے لگے۔ معلوم ہوا بامقصد زندگی یہ ہے کہ ہمارا وژن اور مقصد اتنا بلند ہو کہ آدمی اگر اس پر چلنا شروع کردے تو کسی موڑ پر اس کا راستہ دھندلائے نہیں۔ تعریف اور مصداق جدا جدا

ہم نے گزشتہ تفصیل میں یہ بات سمجھ لی کہ ’’ وژن کہتے ہیں کہ مستقبل کی وہ تصویر جسے میں اور آپ دیکھنا چاہتے ہیں۔‘‘یہ نکتہ بھی پیش نظر رہے کہ جب ہم کسی چیز کی تعریف کرتے ہیں تو تعریف کے الفاظ تو یکساں ہوتے ہیں۔ ان مختلف تعریفوں میں کم و بیش بات ایک ہی ہوتی ہے۔ لیکن جب ہم زندگی کے اندر اس چیز کا حوالہ اور مصداق اس سے پوچھتے ہیں تو پتہ چلتا ہے ہر ایک کی مراد دوسرے سے مختلف تھی۔

 جیسے یہ کہنا کہ میں اچھی زندگی گزارنا چاہتا ہوں، لیکن ’’اچھی‘‘ کا مطلب آپ کے ہاں اور، جبکہ میرے ہاں مختلف ہے۔ جب دو آدمی مل کر طے کریں کہ ہم اچھی زندگی گزارنے کی کوشش کرتے ہیں۔یہ دونوں اچھی زندگی گزارنے میں ہم خیال بن گئے۔ کل کو ایک کہے کہ کمرے میں اے سی لگانا اچھی زندگی ہے، دوسرا کہے اے سی کا نہ لگانا اچھی زندگی ہے۔ اب ان دونوں میں اختلاف ہو گیا، لہذا پہلے سے طے کرنا ضروری ہے کہ اچھی زندگی سے مراد کیا ہے۔ اس کی مزید وضاحت کے لیے ایک واقعہ عرض کرتا ہوں۔

کراچی میں چندڈاکٹروں نے مل کر غریبوں کے علاج کے لیے ایک’’Excellent‘‘ہسپتال کھولنے کا ارادہ کیا۔جب انہوں نے اپنے ہسپتال کی بنیاد رکھی تو ان کے ذہن میں تھا ہم ایک ایسا ہسپتال بنانا چاہتے ہیں جو ’’بہترین‘‘ ہو۔ سب ڈاکٹروں نے اس پر اتفاق کر لیا، لیکن جیسے ہی کام آگے بڑھا، مسائل سامنے آئے۔ اس کے لیے زمین کہاں خریدنی ہے؟ تعمیر کے اخراجات کہاں سے ہوں گے؟ ڈاکٹروں کی ماہانہ سیلری کتنی ہو گی؟ مشینری کتنے کی آئے گی؟ وغیرہ۔ جب ہسپتال بننا شروع ہوا تو پہلے دن ہی یہ اختلاف کھڑا ہو گیا۔ ایک نے کہا: ہم یہ مشینری نہیں خریدیں گے، ہم تو ایسی مشینری خریدیں گے جو سب سے اعلیٰ ہو، کیونکہ ہم نے توExcellentہسپتال بنانا ہے۔

 دوسرے نے کہا: نہیں بھائی! بہترین ( Excellent) کا مطلب یہ تھوڑی ہے کہ ہم اعلیٰ مشینری ہی خریدیں تو ہسپتال بہترین کہلائے گا۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ انتہائی کم لاگت میں لوگوں کو صحت کی سہولیات دی جائیں۔

تیسرے نے کہا:ـبہترین(Excellent) کا مطلب بہترین اسٹاف ہے نہ کہ بہترین مشینری ۔اب تینوں ’’بہترین‘‘ پر تو متفق ہیں، مگر سب کا ’’بہترین‘‘ الگ الگ ہے۔ وہی ڈاکٹرز جو دوسروں پر جان دینے کے لیے تیار تھے، اب یہ ایک دوسرے کی جان لینے کو آ گئے۔ کچھ دنوں بعد یہ متفقہ بزنس اختلافات کا شکار ہوا اور رفتہ رفتہ اس کا نام و نشان نہ رہا۔

کمپنیوں میں بھی یہی حالت ہوتی ہے۔ سب پارٹنرز شروع شروع میں ایک قسم کے بزنس پر متفق ہوتے ہیں، لیکن آخر میں جا کر اختلافات میں بدل جاتے ہیں۔ لہذا اس قسم کی صورت حال سے نمٹنے کے لیے وژن کی تعریف اور مصداق پہلے دن سے ہی واضح ہونا چاہیے۔ کمپنیاں وژن کو اس طرح تعبیر کرتی ہیں کہ انہوں نے کس طرح کا کاروبار کرنا ہے۔بعض تاجر وژن کو منزل سے تعبیر کرتے ہیں، وغیرہ۔ وژن کی بنیادیں

وژن کے دو بنیادی جز ہیں:

(1) وژن کی صفات، (2)

وژن کا فنگشن۔

یہ دونوں الگ الگ چیزیں ہیں۔ معنی میں تقارب کی وجہ سے دونوں کو ایک سمجھ لیا جاتاہے۔ مثال کے طور آپ کے پاس ایک گاڑی ہے۔ کسی نے پوچھا:آپ کی گاڑی کی خصوصیات کیا ہیں؟ کہا: میری گاڑی فورویل ڈرائیو ہے۔ انتہائی مضبوط باڈی والی اور خوش رنگ ہے۔ یہ گاڑی کی صفات ہیں۔ پوچھنے والے نے مزید سوال کیا: اس کے فوائد کیا ہیں؟ اس نے جواب دیا: اس میں مٹی نہیں پھنستی، پہاڑوں اور ریگستانوں میں بھی چلتی ہے۔ معلوم ہوا کہ صفات اور فوائد دونوں الگ الگ چیزیں ہیں۔

وژن کی صفات

وژن کی صفات درج ذیل ہیں:

1 وژن قابل عمل ہو۔

2 وژن قلیل المدت بھی ہو سکتا ہے اور کثیر المدت بھی۔ وژن میں کچھ چیزیں وقت کی وجہ سے اور کچھ وسائل اور صلاحیت کی وجہ سے مکمل نہیں ہو سکتیں۔

3 وژن وضاحت سے لکھا ہو۔ دیکھ لینا چاہیے کہیں اس کے اندر ایسی بات تو نہیں جس کی وجہ سے بعد میں ندامت کا سامنا کرنا پڑے۔ آپ بعد میں کہیں میں نے تو ایسے لکھا تھا اور میری اس سے مراد یہ تھی۔

4 جو قربانی اس وژن کو مکمل کرنے کے لیے درکار ہے وہ قربانی میں دے سکوں گا یا نہیں۔ یہ قربانی جانی اور مالی دونوں طرح کی ہو سکتی ہے۔

دو وضاحتیں

1 اکثر طور پر ہم جو وژن بناتے ہیں، وہ خواب ہوتا ہے۔ وژن اور خواب میں بڑا فرق ہے۔ خواب میں تمنا یا آرزو ہے۔ اس کے پیچھے جو قربانی ہوتی ہے، وہ ہم دینے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ اس لیے خواب خواب ہی رہتا ہے۔ اگر ان میں سے کوئی خواب ایسا ہو جس کے لیے ہم قربانی دینے کے لیے تیار ہوں تو یہ وژن ہے، خواب نہیں۔

2 وژن کبھی اصول و قواعد کے لحاظ سے درست ہوتا ہے، مگر وژن اپنی ذات میں درست نہیں ہوتا۔ آج کل بہت سے لوگ کہتے ہیں ہم مستقبل میں سٹہ باز، شراب خور یا سب سے بڑے ڈاکو بنیں گے، لہذا یہ بھی ضروری ہے کہ ہمارا وژن درست ہو، غلط نہ ہو۔ ایک آدمی کا وژن قابل عمل ہے اور وہ اس کے لیے قربانی دینے کو بھی تیار ہے لیکن اس کا وژن درست نہیں تو ایسا وژن اس آدمی کے لیے سخت نقصان کا باعث ہے۔ اسی بات کو بالفاظ دیگر یوں کہہ سکتے ہیںکبھی ایک وژن ایک آدمی کے نزدیک درست ہوتا ہے اور وہی وژن دوسرے آدمی کے ہاں غلط ہوتا ہے۔ شراب کا فروخت کرنا، غیر مسلم کے ہاں درست، جبکہ مسلمان کے ہاں غلط ہے۔ وژن کے فوائد

1 وژن زندگی کو ایک رخ دیتا ہے کہ میں نے کرنا کیا ہے۔

2 وژن انسان کو ایک راستہ بتاتا ہے کہ میں نے پہنچنا کہاں ہے۔ ایک پرانے ناول میں ایک بلی اور بچی کی کہانی ذکر کی گئی ہے۔ اس میں ایک7،8سالہ بچی اپنا راستہ کھو جاتی ہے۔ وہاں ایک درخت کے اوپر بلی بیٹھی ہوتی ہے۔ بچی اس بلی سے کہتی ہے کہ میں اپنا راستہ کھو چکی ہوں، لہذا تم راستے کی راہنمائی کرو۔

 بلی نے پوچھا: تم نے جانا کہاں ہے؟ بچی نے جواب دیا: یہ مجھے معلوم نہیں کہ میں نے کہاں جانا ہے۔ بلی نے بچی کو جواب دیا: جب خود تمہیں ہی پتا نہیں کہ میں نے کہاں جانا ہے تو پھر میں آپ کی راہنمائی کیسے کر سکتی ہوں؟؟

3 وژن ہمیں آگے بڑھنے کا شوق دلاتا ہے۔ حالات خواہ جیسے بھی ہوں مجھے فلاں کام ضرور کرنا ہے۔

4 وژن ہمیں اپنے کام میں استقامت دیتا ہے ،مثلاً: کوئی غیر متوقع چیز پیش آجائے تو اگر ہمارا کوئی وژن ہو گا تو ہم اس کو مضبوطی سے تھام سکیں گے ۔اگروژن نہیں ہو گا تو ہم پریشان ہو کر ہمت ہار بیٹھیں گے۔ بعض تاجر کسی دوسرے کی باتوں میں آ کر کوئی کاروبار شروع کر دیتے ہیں۔ حالانکہ اس میں ذاتی کوئی رغبت نہیں ہوتی۔ پھر جونہی کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آتا ہے تو وہ فوراً اس کاروبار کو چھوڑ دیتے ہیں۔کیوں کہ یہ ان کا ذاتی وژن نہیں ہوتا۔ اس وجہ سے تھوڑی سی مشکل میں بھی وہ ہار مان لیتے ہیں۔

 اگر اپنا ذاتی کوئی وژن ہو تو انسان حتی الامکان اس کو مکمل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ خاص وژن کی خاطر طویل قربانی کی مثال جنوبی افریقہ کے وزیر اعظم نیلسن منڈیلا کی ہے۔ اس نے صرف سیاہ فام لوگوں کے حقوق کی آواز اٹھانے کی وجہ سے42سال جیل کاٹی ہے۔ اب یہ افریقہ کا وزیر اعظم ہے۔ اس کی عمر85سال سے زائد ہے۔

گویا اس نے اپنے وژن کی تکمیل کی خاطر اپنی آدھی زندگی قید میں گزار دی۔ طویل قید وبند کی یہ صعوبتیں اسے اپنے مشن سے پیچھے نہ ہٹاسکیں۔ یہ سب کچھ اس نے اپنے ذاتی وژن کو پورا کرنے کے لیے کیا ہے۔ اگر اس کا ذاتی وژن نہ ہوتا تو جیلوں کی مصیبتوں کی وجہ سے وہ ہار مان جاتا اور کبھی بھی افریقہ کا وزیر اعظم نہ بن سکتا۔ آج افریقہ کے نوٹوں پر اسی کی تصویر چھپتی ہے۔

5 اگر ہمارا ذاتی کوئی وژن نہ ہو تو یہ عین ممکن ہے ہم کسی اور کے وژن کا حصہ بن جائیں۔ آپ جانتے ہیں بہت سارے ایسے نوجوان جن کا اپنا ذاتی کوئی وژن نہیں ہوتا ، وہ بہت بڑے چور، ڈاکو، اور جوّے باز بن جاتے ہیں۔

6 وژن ہمیں زندگی کے اندر کچھ کردار ادا کرنے میں مدد دیتا ہے۔ وژن اور مقصد ساتھ ساتھ

وژن کے ساتھ ساتھ کوئی نہ کوئی مقصد ہونا بھی ضروری ہے، ورنہ خالی وژن زندگی کے لیے نقصان دہ ہے، مثلاً: کسی کا وژن یہ ہو کہ میں نے کراچی کا سفر کرنا ہے۔ اب کراچی کا سفر کرنا کیوں ہے؟ وہ جواب دے کہ مجھے معلوم نہیں کہ میں نے کراچی کا سفر کیوں کرنا ہے۔ یہاں پر وژن تو موجود ہے لیکن مقصد موجود نہیں ہے، لہذا وژن کے ساتھ ساتھ اس کا کوئی مقصد ہونا بھی انتہائی ضروری ہے۔ اگر ہم تاجر ہیں تو صرف تجارت ہمارا مقصد نہ ہو، بلکہ اللہ کی رضا، مخلوق کی خدمت اور بیوی بچوں کے لیے حلال رزق کمانا ہمارا اولین مقصد ہونا چاہیے۔

ریسرچ:۔ وقاص عبد اللہ

 

ایم ایم اے اور شیعہ ووٹ بینک

*ایم ایم اے اور شیعہ ووٹ بنک*

*سکندر علی زرین*

سیاست کو ممکنات کا کھیل کہا جاتا ہے. تیسری دنیا کے ملکوں کی سیاست پر یہ بات اور زیادہ صادق آتی ہے. غیر منضبط سیاسی نظام اور مخصوص سیاسی حرکیات وہ عوامل ہیں جو ان ممالک کی سیاست کو جذباتی, جارحانہ اور غیر سنجیدہ سا بنا دیتے ہیں, ممکنات کا گیم بنا دیتے ہیں. پاکستان کی سیاست بھی ہنوز بلوغت کی حد کو نہیں پہنچی. ہماری لغت میں سیاست کے معنی ایک دیرپا اور سنجیدہ عمل ہرگز نہیں. یہاں کے اہل نظر و صاحبان فکر کو بھی دشت سیاست سے کوئی علاقہ نہیں. لوگ اب بریکنگ نیوز کے چیختے چلاتے ٹکرز سے پھوٹتی سیاسی اقدار کے شیدائی بن چکے ہیں. پاکستان سمیت اس خطے کے کچھ ممالک میں مذہب کا سیاست میں کافی عمل دخل ہوتا ہے. بعض اوقات مذہبی تنظیموں اور شخصیات کا کردار حکومتیں بنانے یا بگاڑنے میں کلیدی حیثیت اختیار کر جاتا ہے. پاکستان کے ایوان ہائے اقتدار سے لیکر پارلیمنٹ کے ایوان ہائے بالا و زیریں تک مذہبی سیاسی جماعتوں کے کردار کو صرف نظر نہیں کیا جا سکتا. انتخابی سیاست کی طرف نگاہ دوڑائی جائے تو مذہبی سیاسی جماعتوں کو مزید فعال و متحرک دیکھا جا سکتا ہے. یہی وجہ ہے کہ مذہب کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کرنے والی یہ تنظیمیں انتخابات میں اپنا حصہ نکالنے کے لئے سر دھڑ کی بازی لگاتی ہیں.
ملک میں عام انتخابات 2018 کی آمد آمد ہے. مختلف جماعتوں نے اپنے تُرپ کے پتے سیاسی بساط پر بچھانا شروع کئے ہیں. نئی سیاسی صف بندیاں بھی ہوتی نظر آ رہی ہیں. حالیہ دنوں میں ایک اہم پیشرفت یہ ہوئی کہ متحدہ مجلس عمل کو بحال کیا گیا ہے. ابتدائی طور پر 5 جماعتوں کا اتحاد تشکیل دیا گیا ہے. ایم ایم اے کے تن مردہ میں دوبارہ جان ڈالنے کے عمل کو سیاسی پنڈٹ مختلف زاویوں سے دیکھ رہے ہیں. بعض واقفان حال کا ماننا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ نے ایم ایم اے کے تن مردہ میں روح پھونکی ہے. یہی سیاسی سکول آف تھاٹ پہلے بھی ایم ایم اے کو "ملا ملٹری الائنس" کہتا آیا ہے. سیاسی حالات پر نظر رکھنے والے کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ خیبر پختونخوا میں عمران خان کو کاونٹر کرنے کے لئے ایم ایم اے کو نشاط ثانیہ بخشی گئی. ان دونوں سازشی نظریات سے قطع نظر اس اظہاریے میں ہم یہ جائزہ لینے کی کوشش کرتے ہیں کہ وقتی ضرورت کی کوکھ سے جنم لینے والے اس انتخابی اتحاد میں شامل جماعتوں میں سے کس کس کو کیا ملے گا؟ کس کی پانچوں انگلیاں ہوں گی گھی میں؟ اس اتحاد میں کوئی ایسی جماعت بھی ہے جس کے ہاتھ کچھ نہیں لگنے والا؟
جمیعت علمائے اسلام اس انتخابی اتحاد میں شامل کلیدی جماعت ہے. بحال شدہ انتخابی الائنس کا سربراہ جمیعت علمائے اسلام کے امیر مولانا فضل الرحمان کو چُنا گیا ہے. اسی جماعت کا انتخابی نشان کتاب ہی ایم ایم اے کا نشان ہو گا. یہ بات خوب یاد رکھنے کی ہے جب 2002 میں ایم ایم اے کا قیام عمل میں لایا گیا تو صدارت جماعت اسلامی کے حصے میں آئی تھی. قاضی حسین احمد مرحوم صدر نشین ٹھہرے تھے. مگر اس بار شاید سراج الحق کو مذہبی جماعتوں کی سیاسی امامت کا اہل نہیں سمجھا گیا. جمیعت علمائے اسلام کے ووٹرز کے لئے ایم ایم اے کو ووٹ دینا کوئی اچھنبے کی بات نہیں ہو گی, ٹھپہ انہوں نے کتاب پہ ہی لگانا ہے. سیٹ ایڈجیسمنٹ کے نتیجے میں خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے کئی حلقوں میں جماعت اسلامی و دیگر جماعتوں کے ووٹ بھی جے یو آئی کے امیدواروں کو پڑیں گے, یوں جن حلقوں میں مولانا فضل الرحمان کے امیدوار ایم ایم اے کے پلیٹ فارم سے کھڑے ہوں گے ان کی پوزیشن مضبوط ہو گی. مولانا فضل الرحمان نے 2002 میں ایم ایم اے کے پلیٹ فارم کا خوب استعمال کیا تھا, خیبر پختونخوا (اس وقت کا صوبہ سرحد) میں اپنے عزیز اکرم خان درانی کو وزیر اعلی بنایا. خود قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر بن گئے. سوال یہ ہے جماعت اسلامی اور دیگر حلیف جماعتوں کے حصے میں کیا آیا؟ مشرف کی بدنام زمانہ سترہویں ترمیم کی منظوری کا ملبہ, مشرف کو باوردی صدر رہنے کا جواز فراہم کرنے کی ذمہ داری, دیگرکئی طرح کی سیاسی بد نامیاں. قاضی حسین احمد یہی پشیمانی ذہن میں لئے آسودہ خاک ہو گئے.
ایم ایم اے میں شامل دوسری اہم پارٹی جماعت اسلامی ہے.جماعت اسلامی اپنی تنظیمی نظم و ضبط اور پارٹی کے اندر جمہوری اقدار میں اپنی مثال آپ ہے. ایک نظریاتی جماعت بھی ہے. تاہم انتخابی سیاست اور جماعت اسلامی کا ازل سے بیر رہا ہے. اپنی تمام تر انتظامی فعالیت اور کارکنوں کے جوش و جذبے کے باوجود ہر الیکشن میں اس کو منہ کی کھانی پڑی. یہی وجہ ہے کہ جماعت اسلامی انتخابی موسم شروع ہوتے ہی کسی سیاسی اتحاد کے شجر پر آشیانہ تلاش کرتی ہے. گزشتہ 10 عام انتخابات میں سے جماعت اسلامی نے دو ہی الیکشن اپنے زور بازو پہ لڑے, دونوں ہی دفعہ شکست فاش مقدر بنی. 1977 کے انتخابات میں نظام مصطفی کا نعرہ بلند کیا, سات جماعتی اتحاد میں سیاسی پناہ ڈھونڈی, ترازو چھوڑ کے ہل کو انتخابی نشان بنایا. 1985 کے انتخابات غیر جماعتی بنیادوں پر ہوئے. 1988 اور 1990 کے انتخابات اسٹیبلیشمنٹ کی چھتری تلے آئی جے آئی (اسلامی جمہوری اتحاد) کے پلیٹ فارم سے لڑے گئے. 1993 میں قاضی حسین احمد نے پاکستان اسلامی اتحاد کے نام سے چند جماعتوں کا اتحاد کیا. 2002 میں جماعت اسلامی مولانا فضل الرحمان کا بغل بچہ بن گئی. ایم ایم اے کا حصہ بنی. 2008 میں الیکشن کا بائیکاٹ کیا. 2013میں جماعت اسلامی نے تنہا پرواز کی. جب بیلٹ بوکس کھلے تو یہ حقیقت بھی کھلی کہ اس کے بیشتر امیدوار ضمانتیں ضبط کروا بیٹھے ہیں. 272 میں سے قومی اسمبلی کی 2 سیٹوں پر اس کے امیدوار کامیاب ہوئے. یہی وجہ ہے جماعت اسلامی ایم ایم اے کی بحالی کے لئے سب سے زیادہ بے چین و بے تاب تھی. انتخابی سیاست کی ولن کا درجہ رکھنے والی جماعت کے سامنے 2018 کے انتخابات کا نقشہ اور ممکنہ نتیجہ دونوں موجود ہیں. لھذا اس نے مولانا فضل الرحمان کی سیاسی امامت میں ہی عافیت جانی. مزے کی بات یہ ہے خیبر پختونخوا میں پانچ سال تک حکومت کا حصہ رہنے والی جماعت کے اکابرین الیکشن مہم میں مولانا فضل الرحمان کے ساتھ کھڑے ہو کر اسی صوبے کی حکومت کی کارکردگی کو مطعون کریں گے. بالفرض خیبر پختونخوا میں ایم ایم اے میدان مار لیتی ہے تو زمام حکومت تو جے یو آئی کے ہاتھ میں جائے گا. جماعت اسلامی کو کیا ملے گا؟ اس کا جواب خود امیر جماعت اسلامی سراج الحق کے پاس نہیں تو ہم کیا دیں گے؟
متحدہ مجلس عمل میں شامل ساجد میر کی جماعت اہل حدیث کی کوئی انتخابی پہچان نہیں. ساجد میر کو سینیٹر بننا ہوتا ہے, اس مقصد کے لئے وہ کسی بھی اتحاد کا حصہ بن سکتے ہیں. جمیعت علمائے پاکستان کا کوئی سیاسی قد کاٹ نہیں. سو یہ جماعت یہاں قابل بحث نہیں.
باقی بچے علامہ ساجد علی نقوی. یہ ایم ایم اے کا سب سے دلچسپ مگر عجیب پہلو ہے. اسلامی تحریک (کالعدم تحریک جعفریہ) کا متحدہ مجلس عمل میں کیا کام؟ یہ وہ سوال ہے جو سیاسی تجزیہ کاروں اور تبصرہ نگاروں کے لئے مخمصے سے کم نہیں. ایم ایم اے خالصتا ایک انتخابی الائنس ہے. اس اتحاد کا ہدف حصول اقتدار اور سیاسی فائدے کے سوا کچھ نہیں. ایسا بھی نہیں کہ ایم ایم اے نے اقتدار میں آنے کے بعد ملک کو فلاحی اسلامی ریاست بنانے کا کوئی پروگرام دیا ہو, یا بِنا مسلکی تعصبات کے تمام فرقوں کی حکومت میں نمائندگی کا ایجنڈا دیا ہو. ایسا بالکل نہیں ہے. پھر ساجد علی نقوی کی اسلامی تحریک کو جے یو آئی اور جماعت اسلامی جیسی جماعتوں سے کیا علاقہ؟ یہ بات یاد رہے 2002 میں بھی تحریک جعفریہ ایم ایم اے کا حصہ تھی. اس اتحاد کے پلیٹ فارم سے پورے ملک سے کسی ایک قومی یا صوبائی اسمبلی کی نشست پر شیعہ امیدوار کھڑا نہیں کیا گیا. تحریک جعفریہ کا ووٹ بنک ایم ایم اے کے کھاتے میں گیا. اقتدارکے مزے اکرم درانی اینڈ کمپنی نے لوٹے. شیعہ ووٹرز کے منتخب ایم این ایز اور ایم پی ایز متحدہ مجلس عمل کے نمائندے کے طور پر اسمبلیوں میں تو موجود تھے مگر ان کی پورے پانچ سالوں میں کوئی شنوائی نہیں ہوئی.
اس بار بھی صورت حال کم و بیش وہی ہے. خیبر پختونخوا کی بات کی جائے تو پشاور سے لیکر مالا کنڈ تک کوئی ایسا حلقہ انتخاب نظر نہیں آتا جو مولانا فضل الرحمان اور جماعت اسلامی علامہ ساجد نقوی کے امیدواروں کے لئے چھوڑ دیں. ڈیرہ اسماعیل خان میں اہل تشیع کا معقول ووٹ بنک موجود ہے, مگر مولانا فضل الرحمان اپنے اس آبائی حلقے کو ساجد نقوی کی محبت میں قربان کر دیں گے؟ دہلی ہنوز دور است. کوہاٹ اور ہنگو میں بھی اول الذکر دونوں جماعتیں تحریک جعفریہ (اسلامی تحریک) کو جھنڈے گاڑنے نہیں دیں گی. بلوچستان میں انتخابی پلاٹ اس طرح بنتا نظر آتا ہے کہ کوئٹہ سے ایک صوبائی اسمبلی کے حلقے پر ساجد علی نقوی کو کتاب مل سکتی ہے. باقی 60 کے قریب صوبائی جبکہ 17 قومی اسمبلی کے حلقوں میں اسلامی تحریک پاکستان کا کام محض ووٹروں کو الیکشن کے دن پولنگ سٹیشنوں پر پہنچانا ہو گا. کراچی کا منظر نامہ بھی ایم ایم اے میں شامل شیعہ مسلکی جماعت کے لئے سازگار نہیں ہو گا. جماعت اسلامی اپنی تنظیمی قوت کے بل بوتے پر زیادہ حلقوں میں اپنے امیدوار اتارے گی. 21 قومی اور42 صوبائی اسمبلی کے حلقوں میں سے شاید ایک یا دو صوبائی نشستوں پر اسلامی تحریک کو ٹکٹ ملے. اندرون سندھ اور پنجاب میں ایم ایم اے خانہ پُری کے لئے الیکشن لڑے گی. گمان غالب ہے ان حلقوں سے کچھ امیدوار میدان میں اتارے جائیں تاکہ ایم ایم اے میں شامل تحریک اسلامی بھی کسی گنتی میں آجائے.
لھذا یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ تحریک جعفریہ کی ایم ایم اے میں شمولیت سے شیعہ قوم کو سیاسی طور پر کچھ حاصل ہونے والا نہیں. پشاور, کوہاٹ, ہنگو, ڈی آئی خان اور کراچی کے شیعہ ووٹ جے یو آئی اور جماعت اسلامی کی جھولی میں جائیں گے. لیکن اسمبلیوں میں عملا ان کی نمائندگی نہیں ہو گی. خیبر پختونخوا سے ایم ایم اے صوبائی اسمبلی کی معقول تعداد میں نشستیں نکالنے میں کامیاب رہی تو شاید علامہ ساجد علی نقوی کو سینیٹ کی سیٹ مل جائے. مگر ان کی رہبری پر کل بھی سوالیہ نشان تھا. آنے والے کل بھی سوالیہ نشان رہے گا.
مجھے راہزنوں سے گلہ نہیں تیری رہبری کا سوال ہے

ایمان ابو طالب سے متعلق شبہات کا مدلل جواب

اصل میں آج کل مختلف شبہات کو دور کرنے کے لیے منظم انداز سے ہمیں کام کرنے کی ضرورت ہے۔
فی الحال یہ جوابات میسر آئے ہیں۔ علمائے کرام اس سے بھی قانع کنندہ جوابات کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھیں گے ان شاء اللہ👇
تمام علمائے شیعہ اور اہل سنت کے بعض بزرگ علماء نے حضرت ابوطالب کو مومنین اہل اسلام میں سے بیان کیا ہے۔اسلام کی بنیادی کتابوں کے منابع میں بھی ہمیں اس موضوع کے پر سے شواہد ملتے ہیں کہ جن کے مطالعہ کے بعد ہم گہرے تعجب اور حیرت میں پڑجاتے ہیں کہ حضرت ابوطالب پرایک گروہ کی طرف سے اس قسم کی بے جا تہمتیں کیوں لگائی گئیں؟!
‎جو شخص اپنے تمام وجود کے ساتھ پیغمبر اسلام کا دفاع کیا کرتا تھا اور بارہا خوداپنے فرزند کو پیغمبراسلام کے وجود مقدس کو بچانے کے لئے خطرات کے مواقع پر ڈھال بنادیا کرتا تھا!!یہ کیسے هوسکتا ہے کہ اس پر ایسی تہمت لگائی جائے۔
‎یہی سبب ہے کہ دقت نظر کے ساتھ تحقیق کرنے والوں نے یہ سمجھا ہے کہ حضرت ابوطالب کے خلاف، مخالفت کی لہر ایک سیاسی ضرورت کی وجہ سے ہے جو ” شجرہٴ خبیثہٴ بنی امیّہ“ کی حضرت علی علیہ السلام کے مقام ومرتبہ کی مخالفت سے پیداهوئی ہے۔ کیونکہ یہ صرف حضرت ابوطالب کی ذات ہی نہیں تھی کہ جو حضرت علی علیہ السلام کے قرب کی وجہ سے ایسے حملے کی زد میں آئی هو بلکہ ہم دیکھتے ہیں کہ ہر وہ شخص جو تاریخ اسلام میں کسی طرح سے بھی امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام سے قربت رکھتا ہے ایسے ناجو انمردانہ حملوں سے نہیں بچ سکا، حقیقت میں حضرت ابوطالب کا کوئی گناہ نہیں تھا سوائے اس کے وہ حضرت علی علیہ السلام جیسے عظیم پیشوائے اسلام کے باپ تھے۔
ہم یہاں پر ان بہت سے دلائل میں سے جو واضح طور پر ایمان ابوطالب کی گواہی دیتےہیں کچھ دلائل مختصر طور پر فھرست وار بیان کرتےہیں۔

الف: پیغمبر اسلام کا جناب ابوطالب کے لئے طلب خیر کرنا
ابن جوزى زاد المسير میں اور شمس الدين ذهبى تاريخ الإسلام میں اس طرح رقم طراز ہیں کہ:"عن العباس أنّه سأل النبي صلّى اللّه عليه وآله، ما ترجو لأبي طالب؟ قال: كل الخير أرجوه من ربي".ابن عباس سے نقل ہوا ہے کہ انھوں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے جناب ابوطالب سے متعلق سوال کیا کہ آپ اُن سے متعلق خدا سے کیا دعا کرتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: میں اپنے پروردگار سے اُن کے لئے ہر طرح کا خیر طلب کرتا ہوں۔[1]
ب: محسن اسلام کی تشییع میں بانی اسلام کی حاضری:
بيهقى دلائل النبوة میں لکھتے ہیں: "عن ابن عباس: أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم عاد من جنازة أبي طالب فقال: «وصلتك رحم، وجزيت خيرا يا عم"ابن عباس سے مروی ہے کہ رسول خدا جناب ابوطالب کو دفنا کر لوٹ رہے تھے کہ اثناء راہ میں فرمایا: اے چچا جان بے شک آپ نے صلہ رحم کو بطور احسن انجام دیا اور بہترین نیکی کو انجام دیا ہے۔[2]
يعقوبى کہتا ہے:"ولمّا قيل لرسول الله: إن أبا طالب قد مات عظم ذلك في قلبه واشتدّ له جزعه، ثمّ دخل فمسح جبينه الأيمن أربع مرّات، وجبينه الأيسر ثلاث مرّات، ثمّ قال: يا عم ربيت صغيراً، وكفلت يتيماً، ونصرت كبيراً، فجزاك الله عني خيراً، ومشى بين يدي سريره وجعل يعرضه ويقول: وصلتك رحم، وجزيت خيراً." جب پیغمبر اسلام کو ابوطالب کی خبر وفات دی گئی تو اس غم اندوز خبر نے آپ پر گہرا اثر ڈالا اور آپ چیخ مار کر رونے لگے چنانچہ آپ ابوطالب کے جنازہ پر تشریف لائے اسکے بعد آپ نے چار مرتبہ چہرے کے دائیں طرف دست شفقت کو پھیرا اسکے بعد بائیں طرف دست شفقت کو ان کے چہرے پر بھیرا اور آپ نے فرمایا: اے چچا جان: جب میں چھوٹا تھا تو آپ نے میری تربیت کر کے بڑا کیا، جب میں یتیم تھا تو آپ نے میری کفالت کی ذمہ داری لی، اور جب میں بڑا ہوگیا تو آپ نے میری ہر طرح سے مدد کی لہذا بے شک اللہ آپ کو اسکی جزا دے گا، اسکے بعد آپ تابوت کے قریب گئے اور فرمایا : اے چچا جان بے شک آپ نے صلہ رحم کو بطور احسن انجام دیا اور بہترین نیکی کو انجام دیا ہے۔[3]۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جاری۔

...........................................................................................................
حوالہ جات
[1] زاد المسير في علم التفسير، ج 5، ص 362، و تاريخ الإسلام ووفيات المشاهير والأعلام، ج 1، ص 233۔
[2] دلائل النبوة، ج 2، ص 349 و تاريخ بغداد، ج 13، ص 196 و البداية والنهاية، ج 3، ص 125۔
[3] تاريخ اليعقوبي، ج 2، ص 35۔


جناب ابوطالب کی شباہت کی بناء پر رسول خدا کا عقیل سے محبت کرنا:

محمد بن سعد اور دوسرے اھل سنت کے بزرگ علماء، رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی جناب ابوطالب سے محبت کے بارہ میں اس طرح لکھتے ہیں:" عن ابی اسحاق أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صلى اللَّهُ عليه وسلم قال لِعُقَيْلِ بن أبي طَالِبٍ: يا أَبَا يَزِيدَ اني احبك حُبَّيْنِ لِقَرَابَتِكَ مِنِّي وَحُبٌّ لِمَا كنت أَعْلَمُ من حُبِّ عَمِّي إِيَّاك"َ پیغمبر اسلام نے جناب عقیل سے فرمایا: اے عقیل میں تم سے دو وجہ سے محبت کرتا ہوں،پہلے تو یہ کہ تم میرے رشتہ دار ہو اس لئے تم کو چاہتا ہوں، دوسرے یہ کہ تم سے چچا ابوطالب محبت کرتے تھے اس لئے میں محبت کرتا ہوں۔[1]
رسول خدا کے اس جملہ سے معلوم ہوجاتا ہے کہ ابوطالب کی رسول خدا کے نزدیک کتنی منزلت تھی کہ عقیل سے ان کی محبت اور لگاو کی بناء پر رسول خدا عقیل سے محبت کرتے تھے پس اگر ابوطالب کافر یا مشرک ہوتے تو رسول خدا کبھی بھی ان سے اتنی محبت کا اظہار نہیں کرتے پھر جن سے وہ محبت کرتے اس سے محبت، اس سے محبت کا اظہار کرنا تو دور کی بات تھی۔

د:ابوطالب کی وفات پر اس سال کو عام الحزن سے موسوم کرنا:
رسول خدا جناب ابو طالب سے اس قدر محبت کرتے تھے کہ جس سال آپ کا انتقال ہوا اس سال کو عام الحزن یعی غم و اندوہ کے نام سے موسوم فرمایا:چنانكه حلبى اس طرح لکھتا ہے:"مات أبو طالب وخديجة عليهما السلام في عام واحد وهو عام الهجرة، فسماه رسول الله صلى الله عليه وسلم عام الحزن".جناب ابوطالب اور خدیجہ دونوں کا ایک ہی سال میں انتقال ہوا در حالیکہ وہ ہجرت کا سال تھا مگر پیغمبر اسلام نے ان دوںوں سے فرقت کی بناء پر اس سال کو عام الحزن کے نام سے موسوم کردیا:[2]
هـ: جناب ابوطالب کی وفات کے بعد قریش کا اذیت کرنا
کیسے ممکن ہے رسول خدا (صلى الله عليه و اله و سلم) ایک کافر اور مشرک سے اتنی محبت کریں اور کیسے مشرک تھے جناب ابوطالب کہ جب تک وہ زندہ رہے کسی کافر میں اتنی ہمت نہیں ہوئی کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو کوئی نقصان پہنچاسکے۔"ما نالت مني قريش شيئا أكرهه حتى مات أبو طالب" جب تک ابوطالب زندہ تھے کسی قریش کے کسی فرد میں اتنی مجال نہیں تھی کہ مجھے نقصان پہنچاسکے۔[3]
ابن اثير الكامل فى التاريخ میں اس طرح رقم طراز ہیں:"فعظمت المصيبة على رسول الله بهلاكهما فقال رسول الله ( ما نالت قريش مني شيئا أكرهه حتى مات أبو طالب. وذلك أن قريشا وصلوا من أذاه بعد موت".جناب ابوطالب اور خدیجہ کی وفات، پیغمبر اسلام کےلئے بہت سخت مرحلہ تھا اسی لئے رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا جب تک ابوطالب زندہ تھے قریش کے کسی فرد میں اتنی مجال نہیں تھی کہ مجھے نقصان پہنچاسکے، قریش نے ابوطالب کی وفات کے بعد سے مجھ پر ظلم کرنا شروع کردیا ۔[4]

مذکورہ جتنی بھی روایات ہیں وہ اہل سنت کی کتابوں سے نقل کی گئی ہے ، جس سے نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جناب ابوطالب کی قدر و منزلت رسول اسلام کی نگاہ میں بہت زیادہ تھی اور یہ بات روز روشن کی طرح ہے جس طرح رسول اسلام وما ینطق عن الھوی ان ھو وحی یوحی کی منزلت پر فائز ہیں اسی طرح سے و ماتشائون الا ان یشاء اللہ کی منزل پر فائز ہیں یعنی جس طرح پیغمبر خود کی مرضی سے کوئی کلام نہیں کرتے اسی طرح سے اپنی مرضی سے کچھ چاہتے بھی نہیں ہیں اگر کوئی کلام کرتے ہیں یا کسی سے محبت و الفت کا اظہار کرتے ہیں ان تمام میں خدا کی رضایت پیغمبر اسلام کے شامل حال رہتی ہے لہذا جو بھی محسن اسلام کے لئے کہا ہے یا محبت کا اظہار کیا ہے اسمیں بھی خدا کی مرضی شامل رہی ہے پس کیسے ممکن ہے کہ خدا وند عالم معاذ اللہ ایک کافر سے کھلم کھلا اظہار محبت سے راضی ہے چنانچہ پیغمبر اسلا م کا فعل اور خدا کا سکوت ہمیں بتا رہا ہے کہ ابوطالب کافر یا مشرک نہیں تھے بلکہ حقیقت میں محسن اسلام اور پاسبان توحید و رسالت تھے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات
[1] الطبقات الكبرى، ج 4، ص 43، و المعجم الكبير، ج 17، ص 191 و المستدرك على الصحيحين، ج 3، ص 667، و الاستيعاب في معرفة الأصحاب، ج 3، ص 1078، اسکے علاوہ اور بھی منابع ہیں جسے یہاں ذکر نہیں کیا گیا ہے۔
[2] البصائر والذخائر، ج 4، ص 179، و المحكم والمحيط الأعظم، ج 3، ص 225، و نهاية الأرب في فنون الأدب، ج 1، ص 157، و التحفة اللطيفة في تاريخ المدينة الشريفة، ج 1، ص 12، و السيرة الحلبية في سيرة الأمين المأمون، ج 3، ص 498،
[3] السيرة النبوية، ج 2، ص 264، و تاريخ الطبري، ج 1، ص 554، و السيرة النبوية، ج 2، ص 123، و فتح الباري شرح صحيح البخاري، ج 7، ص 194،۔
[4] الكامل في التاريخ، ج 1، ص 606۔

فرمودات حضرت علی ع

بھروسہ:
‎کسی پہ بھروسہ کرو تو آخر تک بھروسہ کرو آخر میں یا تو ایک اچھا دوست ملے گا یا ایک اچھا سبق۔ 
 

صبر:

 صبر ایسی سواری ھے جو اپنے سوار کو گرنے نہیں دیتی نہ کسی کی قدموں میں نہ کسی کے نظروں میں۔ 

*طنزاوربحث*
‎طنز اور بحث سے رشتے کمزور ھوجاتے ہیں کبھی بھی اپنوں سے ایسی لڑائی نہ لڑنا لڑائی تم جیت جاؤ اور اپنوں کو ھار جاؤ۔

*وقت اور دولت: وقت اور دولت دو ایسی چیزیں جو انسان کے اختیار میں نہیں وقت انسان کو مجبور اور دولت انسان کو مغرور بنادیتی ھے۔

*کمینہ پن*
‎کسی کا کمینہ پن دیکھنا ھو تو تب دیکھو جب ان کے پاس دولت آجاتی ھے تو تمھاری محفلیں چھوڑ دیتا ھے۔

*دولت*
‎دولت مٹی کی طرح ھے اسے ھمیشہ پاؤں کے نیچے رکھنا چاہئے اگر تم سرپہ چڑھاؤگے تو یہ قبر بن جاے گی اور زندہ لوگوں کے لئے قبریں نہیں ھوتی

*فطرت*

‎انسان کی فطرت اسکے چھوٹے چھوٹے کاموں سے ظاہر ھوتی ھے بڑے کام تو ھمیشہ سوچ سمجھ کر کرتا ھے ۔

*زبان اور دشمن*
‎اپنے دشمنوں کے درمیاں ایسے رہا کرو جیسے بتیس دانتوں کے درمیان زبان رہا کرتی ھے ملتی تو ہر کسی کے ساتھ ھے لیکن دبتی کسی کے نیچے آکر نہیں۔

 *رذق*
‎رزق کے پیچھے اپنا ایمان خراب مت کرو رزق انسان کو ایسے تلاش کرتا ھے جیسے مرنے والے کو موت۔

افغانوں کا خون بیچنے والے

شہزادہ بندر بن سلطان بن عبدالعزیز سعودی شاہی خاندان کے سینئر رکن ہیں‘ یہ 22 برس امریکا میں سعودی عرب کے سفیر رہے‘یہ سعودی عرب کی نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری جنرل اور خفیہ ایجنسی کے سربراہ بھی رہے‘ شہزادے نے افغان جنگ میں مرکزی کردار ادا کیا تھا ٗ اکتوبر 2006ء میں ان کی آپ بیتی ’’دی پرنس‘‘ کے نام سے مارکیٹ میں آئی۔
کالم جاوید چوہدری بروز منگل 3اپریل 2018
یہ آپ بیتی ان کے برطانوی کلاس فیلو ولیم سمپسن نے تحریر کی ٗ اس کتاب نے افغان جنگ کے بارے میں پوری دنیا کے تصورات جڑوں سے ہلا دیے ‘دنیا کو پہلی بار افغان جنگ انا اور مفادات کی جنگ محسوس ہوئی ٗ شہزادے نے انکشاف کیا ‘ امریکا نے یہ جنگ ڈالروں کے بل بوتے پر لڑی تھی اور ڈالروں کی مددہی سے جیتی تھی۔

امریکا اور سعودی عرب افغان مجاہدین کو اسلحہ ‘ گولہ باروداور ڈالروں سے نوازتے رہے ٗ شہزادے نے کتاب میں ’’ڈالروں کی برسات‘‘ کے لفظ تک استعمال کیے تھے‘ یہ انکشاف بھی کیا صدر ریگن اور شاہ فہدکے درمیان معاہدہ ہواتھاوہ یہ جنگ ہرقیمت پر جیتیں گے اور دونوں اس معاملے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کریں گے‘ شہزادے کا کہنا تھا افغان جنگ میں امریکا اور روس کا وہی کردار تھا جو مرغ لڑانے والے دو شکاریوں کا ہوتاہے۔

شہزادے نے انکشاف کیا سعودی عرب اور امریکا نے انھیں روسی صدر گورباچوف کو جنگ بندی پر راضی کرنے کا مشن سونپا تھا اور انھوں نے اس سلسلے میں امریکا میں تعینات روسی سفیر انتالولی ڈوبرنین کو استعمال کیا تھا‘ انتالولی 24 برس سے امریکا میں تعینات تھا اور اسے صدر گوربا چوف تک خصوصی رسائی حاصل تھی‘ انتالولی ڈوبرنین امریکا‘ سعودی عرب اور روس کے درمیان بیک ڈور چینل ڈپلومیسی کا ذریعہ بنا۔

روسی سفیر نے شہزادے کی صدر گوربا چوف کے ساتھ ملاقات کا بندوبست بھی کیا ٗ شہزادے نے اعتراف کیا وہ فروری 1985ء میں ماسکو گئے اور انھوں نے صدر گورباچوف کے ساتھ ملاقات کی‘ اس ملاقات کے شروع میں گوربا چوف نے ان پر برسنا شروع کر دیا تھا‘ صدرگوربا چوف شاہ فہد کو افغانستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کا مجرم قرار دے رہے تھے‘ گوربا چوف نے امریکا کو بھی جلی کٹی سنائیں اور سعودی عرب کی جنوبی یمن اورایتھوپیا کی پالیسیوں کو بھی ہدف تنقید بنایا۔

شہزادے نے انکشاف کیا ملاقات کے دوسرے دور میں گوربا چوف کا رویہ نسبتاً بہتر تھا لہٰذا انھوں نے روسی صدر کو سمجھایا روس کا ایک مسلمان ملک پر قابض رہنا درست نہیں اور افغانستان میں روس کا وہی انجام ہو گا جو ویتنام میں امریکا کا ہوا تھا ‘ روس یہ جنگ نہیں جیت سکے گا لہٰذابہتر ہے وہ یہ جنگ ترک کرکے امن کے لیے کوشش کریں لیکن گوربا چوف نے جواب دیا ’’افغانستان میں سعودی عرب کا کوئی مفاد نہیں پھر تم لوگ افغانستان میں 200 ملین ڈالر سالانہ کیوں خرچ کر رہے ہو‘‘ شہزادے نے گوربا چوف کو سمجھایا’’ جناب صدر آپ کی ایجنسیاں آپ کو غلط اطلاعات دے رہی ہیں۔

سعودی عرب افغانستان میں 200 ملین نہیں 500 ملین ڈالر خرچ کر رہا ہے اور اگر ہمیں افغانستان میں مزید رقم خرچ کرنا پڑی تو بھی ہم کریں گے‘‘شہزادے نے لکھا ‘میں نے گوربا چوف کو سمجھایا’’ ہم افغانستان میں صرف سرمایہ خرچ کر رہے ہیں جب کہ سوویت یونین اپنے فوجیوں کی قربانی دے رہا ہے‘ امریکا مزید ڈالر چھاپ لے گا اور ہم مزید تیل بیچ کر اپنا نقصان پورا کر لیں گے لیکن روس اس جنگ میں اپنے لوگوں‘ اپنے وقار‘ اپنے ساز و سامان اوراپنے سرمائے سے محروم ہو جائے گا‘ روس اپنا سب کچھ کھو بیٹھے گا ‘‘۔

شہزادے نے انکشاف کیا‘ ملاقات کے آخر پر گوربا چوف نے کہا ’’اگر ہماری تذلیل نہ کی جائے تو ہم افغانستان سے نکلنے کے لیے تیار ہیں‘‘ شہزادے نے انکشاف کیا‘ افغان جنگ کے دوران سعودی عرب اور امریکا پوری دنیا میں خچروں کا سب سے بڑا خریدار تھا‘ افغانستان کا 90 فیصد علاقہ دشوار گزار پہاڑوں پر مشتمل ہے‘ وہاں باربرداری کا کوئی ذریعہ کام نہیںآتالہٰذا ہم لوگ خچروں کے ذریعے جنگی سازو سامان افغانوں تک پہنچاتے تھے ‘ہم نے پوری دنیا سے دھڑا دھڑ خچر خریدے‘ اس خریداری کے نتیجے میں پوری دنیا میں خچر مہنگے ہوگئے۔

شہزادہ بندر بن سلطان کی کتاب نے ڈیٹرجنٹ پائوڈر کا کام کیا اور افغان جنگ کے بارے میں میری نسل کے تمام تصورات دھو کر رکھ دیے‘ میری نسل افغان جنگ کے دوران پل کر جوان ہوئی تھی لہٰذا ہم اسے کفر اور اسلام کی جنگ سمجھتے تھے لیکن یہ کتاب پڑھ کر معلوم ہوا افغان جنگ کفر اور اسلام کی جنگ نہیں تھی‘ وہ امریکا اور سوویت یونین کی انا کا ٹکرائو تھا اور سعودی عرب اس ٹکرائو میں امریکا کا حلیف تھا ‘ میری نسل اس جنگ کو پاکستان کا کارنامہ بھی سمجھتی رہی۔

ہم جنرل ضیاء الحق کو اس جنگ کی بنیاد پر بیسویں صدی کا سلطان صلاح الدین ایوبی سمجھتے تھے لیکن شہزادہ بندر بن سلطان نے امریکی ڈالروں کو اس جنگ کی کامیابی کی وجہ قرار دیا اور جنگ میں شریک لوگوں اور ملکوں کو مہرہ ثابت کردیا ‘ میری نسل جنگ میں پاکستان کے کردار کو کلیدی سمجھتی تھی لیکن شہزادے نے صاف اعلان کر دیا ’’اگر سعودی عرب اس جنگ سے ہاتھ کھینچ لیتا تو پاکستان کے لیے افغانستان میں ٹھہرنا مشکل ہو جاتا‘‘لہٰذا اس کتاب نے تمام فکری مغالطے دور کردیے اور ہمیں پہلی بار معلوم ہوا افغان وار کے بعد امریکا نے پاکستان کو تنہا کیوں چھوڑا تھا۔

میری نسل امریکا کوپاکستان کا مجرم سمجھتی آ رہی تھی‘ ہم امریکا پر الزام لگاتے تھے جنگ کے بعد اس نے ہمیں ٹشوپیپر کی طرح پھینک دیا لیکن اس کتاب سے معلوم ہوا اس جنگ میں ہمارا کردار ٹشو پیپر سے زیادہ تھا ہی نہیں‘ ہم جنگ میں امریکا کے حلیف یا دوست نہیں تھے‘ ہم اس کے ملازم تھے اور ہمیں ہماری ملازمت کا باقاعدہ معاوضہ ملتارہا تھا لہٰذا جونہی ہماری جاب ختم ہوئی۔

ہمارے باس نے ہمیں سلام کیا اور ہمیں چھوڑ کر واپس واشنگٹن چلا گیا ‘ میری نسل کو پہلی بار معلوم ہوا ہمارے ایک آمر نے اپنی آمریت کو تحفظ دینے کے لیے امریکا کا بازو بننے کا فیصلہ کیا تھااور امریکا نے نظریہ ضرورت کے تحت نہ صرف اس کے وجود کو تسلیم کر لیاتھا بلکہ یہ اسے تحفظ بھی دیتا رہا۔

افغانستان سے روسی فوجوں کا انخلاء شروع ہواتو امریکا کو جنرل ضیاء الحق کی ضرورت نہ رہی چنانچہ انھیں شہادت کے رتبے پر فائز کر دیا گیا یوں امریکا اور اس کے حواری پاکستان میں اپنی تمام ذمے داریوں سے سبکدوش ہو گئے اور ہمیں پہلی بار معلوم ہوا افغانستان سے روسی فوجوں کا انخلاء شہزادہ بندر بن سلطان اور گوربا چوف کے درمیان ملاقات کی وجہ سے ہوا تھا اور امریکا اور سعودی عرب نے سوویت یونین کے ساتھ مذاکرات میں پاکستان کو اطلاع تک دینا گوارہ نہیں کیاتھا۔

مجھے کل پرنس بندر بن سلطان کی یہ کتاب 12 سال بعد اچانک یاد آ گئی‘یادداشت کی دو وجوہات ہیں‘ پہلی وجہ سعودی عرب کے ولی عہد پرنس محمد بن سلمان کا تازہ ترین انٹرویو ہے‘ پرنس محمد نے 22 مارچ کوواشنگٹن پوسٹ کو انٹرویو دیتے ہوئے انکشاف کیا ’’سرد جنگ کے دوران مغرب کو اسلامی دنیا میں وہابیت کی ضرورت محسوس ہوئی‘ ہم نے مغرب کی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے وہابی مدارس اور مساجد کی تعمیر میں سرمایہ کاری کی‘‘ آپ اگر اس انٹرویو کو پرنس بندر بن سلطان کی کتاب کے ساتھ جوڑ کر پڑھیں تو آپ کے باقی ماندہ مغالطے بھی دور ہو جائیں گے۔

ہم جس جنگ کو کفر اور اسلام کا معرکہ سمجھتے رہے تھے وہ ایک ’’گلوبل گیم‘‘ تھی‘ ہم اس ’’گلوبل گیم‘‘ کا مہرہ بنے اور ہم نے اپنے آپ کو تباہ کر لیا‘ ہم آج تک اس جنگ کے اثرات سے باہر نہیں آ سکے اور شاید کبھی نہ آ سکیں‘ پرنس بندر بن سلطان کی کتاب کو یاد کرنے کی دوسری وجہ افغان وار کے ہیرو جنرل حمید گل کے بچوں کی لڑائی کی خبریں ہیں‘ جنرل حمید گل کی صاحبزادی عظمیٰ گل نے 28 مارچ کو تھانہ ائیرپورٹ میں اپنے بھائی عبداللہ گل کے خلاف باقاعدہ درخواست دی۔

ان کا کہنا تھا عبداللہ گل نے جائیداد پر قبضہ کر لیاہے‘ یہ والدہ اور میرا حصہ دینے کے لیے تیار نہیں‘ یہ ماں اور بہن کے ساتھ بدکلامی بھی کرتا ہے اور دھمکیاں بھی دیتا ہے‘ عظمیٰ گل نے مجھے فون کر کے بتایا‘ جنرل صاحب کے بیٹے عبداللہ اور عمر والد کی پنشن تک کھا جاتے ہیں‘ والدہ علیل ہیں‘ ان کی حالت بہت خراب ہے‘ عمر گل آسٹریلیا میں جا بیٹھا ہے‘ عبداللہ گل والد کے ساتھ بھی گستاخی اور بدتمیزی کرتا تھا اور والد ان بدتمیزیوں کی وجہ سے دنیا سے رخصت ہو گئے۔

کل مجھے عبداللہ گل نے بھی اپنی بہن کے خلاف عدالتی سمنوں اور پولیس درخواستوں کی کاپیاں بھجوا دیں‘ ان کا کہنا تھا بہن بھائیوں کے ساتھ زیادتی کر رہی ہے‘ یہ والد کی جائیداد اور زمین ہتھیانا چاہتی ہے‘ مجھے نہیں پتہ بہن ٹھیک کہہ رہی ہے یا بھائی تاہم میں اتنا ضرور کہہ سکتا ہوں شاید‘ شاید اور شاید جنرل حمید گل مرحوم کی جائیداد میں افغان جنگ کا تھوڑا بہت معاوضہ بھی مل گیا ہو‘شاید جنرل صاحب کی جائیداد میں وہ ڈالر بھی شامل ہو گئے ہوں جو پرنس بندر بن سلطان اور صدر ریگن چارلی ولسن کے ذریعے پاکستان پہنچاتے تھے‘ آج وہ ڈالر اپنا رنگ دکھا رہے ہوں اور بھائی کو بہن اور بہن کو بھائی نظر نہ آ رہے ہوں۔

آپ اس مثال کو ذرا سا پھیلا کر دیکھیں‘ آپ کے رونگٹے کھڑے ہو جائیں گے‘ روس‘ امریکا‘ سعودی عرب‘ پاکستان اور افغان وار لارڈز نے صرف اپنی انا کی تسکین کے لیے لاکھوں بے گناہ افغانوں کا خون بہایا تھا چنانچہ آج یہ تمام ملک اور افغان وار میں شامل تمام لوگ اللہ کے انتقام کا نشانہ بن رہے ہیں‘آپ تحقیق کر لیں آپ توبہ پر مجبور ہو جائیں گے۔

افغانوں کا خون بیچنے والے ہر شخص کے بچے دست و گریبان بھی ہوئے اور یہ غیر فطری موت بھی مرے‘کاش کوئی شہزادہ افغان وار کے بینی فیشریز کے انجام پر بھی کوئی کتاب لکھے‘وہ کتاب دنیا کی سب سے بڑی بیسٹ سیلر ہو گی۔

سید جیکاک سے سید صادق تک

کاپی پیسٹ

زاویہ نگاہ

سید جیکاک سے سید صادق تک

شیرازی تکفیری فرقہ، تشیع کے سینے پر انگریز کا لگایا ہؤا رستا زخم

لندن میں شیرازی فرقے کے چند کرائے کے تخریب کار برطانوی پولیس کی موجودگی میں ایک سفارتخانے پر حملہ آور ہوئے؛ اور اس تشہیری پتلی تماشے کو ایک سفارتخانے کے خلاف غیر قانونی جارحانہ اقدام سے زیادہ وسیع تناظر میں دیکھنا چاہئے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ تقریبا 70 سال قبل دوسری جنگ عظیم میں ایک اجنبی مرد ـ جو مقامی لوگوں سے کسی قسم کی شباہت نہیں رکھتا تھا ـ بصرہ سے جنوبی ایران میں داخل ہؤا اور بختیاری قبائل میں سے “موری” قبیلے کے پاس پہنچا۔ اس شخص نے اس قبیلے کے لئے گلہ بانی کا کام شروع کیا۔ موری قبیلہ خوزستان اور چہار محال صوبوں کے درمیان کوچ کرتا رہتا تھا: سردیوں میں خوزستان جاکر بسیرا کرتا تھا اور گرمیوں میں چہارمحال کی طرف پلٹ آتا تھا۔

اس شخص نے اپنے آپ کو اندھے اور بہرے شخص کے عنوان سے متعارف کرایا تھا اور سات سال تک موری قبیلے کی گلہ بانی میں مصروف رہا۔ اور جس طرح کہ وہ بالکل خاموشی سے آیا تھا بالکل خاموشی سے غائب ہوگیا۔

یہ شخص مسٹر جیکاک کہلاتا ہے۔ انٹیلجنس سروس کا ایجنٹ۔۔۔ سات سالہ خاموشی اور سات سالہ بلااجرت مشقت کی بنا پر اب وہ مزید گلہ بان یا گڈریا نہیں رہا تھا بلکہ عابد و زاہد شخص میں تبدیل ہوچکا تھا، بختیاریوں سے بھی زیادہ بختیاری، بن چکا تھا۔

اس کی کرامات یہ تھیں کہ عصا کے اشارے سے اس کے جوتے اس کے سامنے سیدھے ہوجاتے تھے، اور آگ اس کی داڑھی جلانے سے قاصر تھی؛ سادہ دل قبائلی کیا جانتے تھے کہ مقناطیس بھی پایا جاتا ہے اور غیر محرق یا ناسوز (Firproof) مواد بھی دستیاب ہے۔

اس قدر لوگوں نے برطانوی جاسوس کے کشف و کرامات کے مظاہر دیکھے کہ اس کا نام “سید جیکاک” پڑا۔۔۔۔ اس طرح کے واقعات ہمارے ہاں کوہاٹ، پنجاب کے مختلف شہروں، کوئٹہ اور کراچی اور حتی کے قبائلی علاقوں میں نیز بھارت کے مختلف شہروں میں ہندوؤ‎ں، بدھ مت کے پیروکاروں، سکھوں اور مسلمانوں کے بیچ بہروپ بدل بدل کر اپنا کام چلاتے رہے ہیں۔ افغانستان میں آسٹریلوی مسٹر وید کو شینواری خان، سید، ملک وغیرہ کے ناموں سے مختلف شہروں میں امان اللہ خان کا تختہ الٹنے کے لئے استعمال کیا گیا؛ یا پھر انگریزوں نے علمائے دیوبند کو اپنے آدمیوں کے طور پر برصغیر سے افغانستان میں داخلے کی اجازت دے دی تا کہ انگریزی مقاصد کے لئے کام کریں اور افغانی دانشوروں کے بقول ان ایجنٹوں نے 100 سال گذرنے کے باوجود ابھی تک افغانوں کو اپنے حال پر نہیں چھوڑا۔

انیسویں صدی عیسوی میں ۔۔۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد ایرانی جنوبی علاقوں کی عملی حکمرانی سید جیکاک کے ہاتھ میں تھی، اس کا مشن یہ تھا کہ علاقے سے نکل کر لندن روانہ کئے جائے والے تیل کے راستے میں کبھی کوئی رکاوٹ نہ ابھرے!! اس نے ایک پیر و مرشد کی حیثیت سے “طلوعی” (یا تولوئی یا سروشی) نامی فرقے کی بنیاد بھی رکھی تھی اور یہ فرقہ جیکاک کی فوج اور پولیس کا کردار ادا کرتا تھا۔

ذاتی زندگی میں جیکاک تارک دنیا تھا اور اس کے انگریز ساز فرقے کی تعلیمات میں بھی ترک دنیا کو اولیت حاصل تھی، دنیاوی امور ان کے ہاں بالکل بےوقعت تھے، مٹی کو بےقدر و قیمت سمجھتا تھا اور تیل کو ایک بےوقعت مادہ سمجھتا تھا۔

تیل کی صنعت قومیائے جانے کی تحریک چلی تو مسٹر جیکاک نے ایک مشہور شعرگونہ جملہ افواہ عامہ پر رائج کردیا جس کو طلوعی فرقے کے افراد خیمہ بہ خیمہ جاکر لوگوں کے لئے پڑھتے تھے جو کچھ یوں یوں تھا:

تو کہ مہر علی مین دلتہ

نفت ملی سی چنتہ

(تم جو حب علی(ع) دل میں رکھتے ہو، قومیایا ہؤا تیل کس لئے چاہتے ہو؟)

گذشتہ سال 16 فروری کو امریکی کانگریس نے ایران کے سیاسی اور سلامتی امور کے بعض امریکی ماہرین کو “ایران زیر نگرانی” (Iran on Notice) کے زیر عنوان ایک سماعتی نشست میں شرکت کی دعوت دی، تو انھوں نے اسلامی جمہوریہ ایران کا مقابلہ کرنے کے لئے کچھ تجاویز پیش کیں۔ یہ وہ وقت تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے برسراقتدار آنے کو کچھ ہی عرصہ گذرا تھا اور وہائٹ ہاؤس ایران کے خلاف اپنی نئی حکمت عملی کی تدوین میں مصروف تھا۔

اسکاٹ موڈیل (Scott Modell) بھی ان افراد میں سے تھا جس نے اپنی آراء ایک عملیاتی منصوبے (Operational plan) کے ضمن میں بیان کی تھیں۔

ماڈل سی آئی اے میں تیرہ سال تک کام کرنے کا تجربہ رکھتا ہے اور عرصہ دراز سے سی آئی کے خصوصی کاروائیوں کے شعبے سے منسلک رہا ہے اور شمالی افریقہ اور مغربی ایشیا سمیت مشرق وسطائی ممالک ـ بالخصوص افغانستان ـ میں مختلف قسم کی مہمات سر کرتا رہا ہے۔ وہ انگریزی اور فارسی کے علاوہ پرتگالی اور ہسپانوی زبانوں پر بھی عبور رکھتا ہے۔ افریقہ میں ایک ہی ملک کو تیل کے ذخائر کے حوالے سے جانا پہچانا جاتا ہے جس کا نام لیبیا ہے جہاں موڈیل کے قدموں کے نشان واضح ہیں، جہاں تیل ہو وہاں موڈیل ہے۔

اور ہاں لگتا ہے کہ مغربی جاسوسوں کی تیل سے دلچسپی جِبِلّی (Instinctive) اور جینیاتی (Genetic) ہے جو سی آی کے کارکنوں کو اپنے اینگلوسیکسن (Anglo-Saxons) اسلاف سے ورثے میں ملی ہے۔ موڈیل توانائی سے متعلق

ریپڈان اینرجی گروپ (Rapidan Energy Group) نامی کمپنی کا ناظم انتظامی (Managing Director) ہے جو توانائی ـ بالخصوص تیل ـ کے سلسلے میں جنوب مغربی ایشیا میں سرگرم عمل ہے۔

موڈیل نے ایک سات نکاتی مکمل عملیاتی منصوبہ ایران کا سدّ راہ اور مقابلہ کرنے کے سلسلے میں پیش کیا۔ یہاں تک کہ علاقے میں کم ہی کوئی ایسا واقعہ رونما ہؤا ہوگا جو موڈل کے منصوبے پر منطبق نہ ہو۔

موڈيل اپنے منصوبے کے نکتہ نمبر 6 میں لکھتا ہے: ایرانی ماڈل ایک قسم کی دینی حکمرانی ہے جو ایک عالم دین کو سیاسی اقتدار کی چوٹی پر متعین کرتی ہے، حالانکہ عراق میں علماء دین کی روایتی تفسیر کے قائل ہیں اور یہ تفسیر کہتی ہے کہ عالم دین کو سیاست سے الگ تھلگ ہونا چاہئے۔

دیکھ لیجئے سوشل میڈیا پر اپنے لوگوں کی تشریحات، سوالات اور شبہات جو ایران اور عراق کے حوالے سے پیش کرتے ہیں اور ولایت فقیہ کے سلسلے میں بیان کرتے ہیں، یا ولایت فقیہ کے تعدد اور چند گانگی کے بارے میں پیش کرتے ہیں، یا قومیتوں کو دین پر مقدم رکھتے ہیں اور اندازہ لگائیں کہ ان حضرات کے الفاظ موڈیل کے منصوبے کا حصہ ہیں جان بوجھ کر یا انجانے میں یا نہیں؟؟؟

موڈیل اس شق میں مزید کہتا ہے: ہمیں اپنے عرب حلیفوں [سعودی عرب، مصر، امارات، قطر وغیرہ] کو ترغیب دلانا ہوگی کہ وہ نجف کو ایک قابل برداشت روایتی دینی تشریح کے طور پر تسلیم کریں اور نرم روی سے اس کی حمایت کریں، یہ مسئلہ امریکہ کے لئے خاص اہمیت کا حامل ہے۔

موڈیل کہتا ہے: ہمیں آیت اللہ صادق شیرازی جیسے چہروں کو آگے لانا پڑے گا تا کہ وہ ولایت فقیہ کے مد مقابل آ کھڑے ہوجائیں اور عراق میں ایسے افراد کو مراجع تقلید کے طور پر تسلیم کرنا اور کرانا پڑے گا اور ان کی ترویج کرنا پڑے گی جو قابل برداشت شیعہ تفکر کے حامی ہوں، مغرب اور اسرائیل کے خلاف دشمنانہ بہت کم اور بےضرر جذبات رکھتے ہوں اور سیاست میں بہت کم مداخلت کریں۔

لندن میں شیرازی فرقے کے چند کٹھ پتلیوں کے تشہیری پتلی تماشے کو ایک سفارتی مرکز کے خلاف غیر قانونی جارحانہ اقدام سے کچھ زیادہ وسیع تناظر میں دیکھنا چاہئے۔ بہت ہی بَھول پن ہوگا اگر کوئی گمان کرے کہ یہ حملہ برطانوی حکومت کے جاسوس ایجنسیوں کے کارکنوں اور بعض شعبوں کی حمایت کے بغیر انجام پایا ہے؛ ایک ثبوت یہ کہ برطانوی پولیس نے انہیں کئی گھنٹوں تک سفارتخانے کی عمارت پر حملوں کی کھلی اجازت دی اور رات گئے اعلان کیا کہ کئی دہشت گرد گرفتار ہوئے ہیں لیکن دوسرے ہی روز یہ بھی اعلان ہؤا کہ انہیں رہا کردیا گیا ہے۔

حملہ آوروں کے سامنے عالمی سفارتی قوانین کے برعکس، کسی قسم کی کوئی روکاٹ نہیں تھی، وہ بڑی آسانی سے برطانوی پولیس کی نظروں کے سامنے حملے کررہے تھے۔ پولیس اس ابلاغیاتی اور تشہیری پتلی تماشے میں پوری طرح کرائے کے حملہ آوروں کا ہاتھ بٹا رہی تھی، اور لندن کے حمایت یافتہ تمام کے تمام ذرائع ابلاغ اس پتلی تماشے کی لمحہ بہ لمحہ روئیداد براہ راست نشر کررہے تھے۔ اور پھر بیرونی ہدایات کے مطابق حملہ آور عمارت سے بحفاظت باہر نکلتے ہیں اور گرفتار کئے جاتے ہیں اور دوسرے دن رہا کئے جاتے ہیں۔ ہؤا نا پتلی تماشا!!
شیرازی فرقہ، یا وہی انگریزی شیعہ، داعش اور النصرہ کا ہی کردار ادا کررہا ہے وہ سنی مذہب کو اپنا دستاویز بناتے ہیں یہ شیعہ مذہب کو، وہ بھی اسلام کو ایک پرتشدد مذہب کے طور پر متعارف کراتے ہیں، یہ بھی؛ انگریزی شیعوں کو جو ٹاسک دیا گیا ہے اس میں کسی مرجع تقلید کو ـ عراق سے لے کر ایران تک اور لبنان تک ـ نہیں بخشا جاتا، یہ فرقہ تشیع کو ایک غیر معقول، متشدد اور تکفیری مذہب کے عنوان سے متعارف کرانا چاہتے ہیں؛ شیعہ انقلابیت اور ظلم و جبر کے خلاف جدوجہد کو ـ جو عاشورا 61 ہجری سے شروع ہوچکی ہے ـ گرا کر خرافات اور غیر دینی اعمال میں بدل دینا چاہتے ہیں، دنیا کے زندہ ترین مذہب کو مردہ مذہب کے طور پر پیش کرنا چاہتے ہیں: قمہ زنی، زنجیر زنی، فرقہ وارانہ تکفیری رویوں، آگ پر چلنا، امام حسین علیہ السلام کی عزاداری کو ہدف حسینی بنا کر پیش کرنا اور مقصد حسینی کو اذہان اور افکار سے مٹا دینا اور عزاداری کے اہداف کو نابود کرنا، شیعیان اہل بیت کو اہل بیت کے حرم کے دفاع سے دور رکھنے کی کوشش کرنا، عزاداری میں نت نئی روشیں اختراع کرکے شیعہ نوجوانوں کو دفاع حرم جیسے عظیم فریضے سے غافل کرنے کے سلسلے میں اسرائیل اور آل سعود کا ہاتھ بٹانا، مزاحمت تحریک کے خلاف تشہیری مہم میں آل سعود اور یہودی ریاست کے منصوبوں پر عملدرآمد کرنا اور کرانا وغیرہ وغیرہ۔۔۔

امریکہ اور اسرائیل آل سعود کو استعمال کرکے علی الاعلان شیعہ اور سنی کے درمیان اختلافات کو ہوا دے رہے ہیں تو اگر ہمیں اس کے پس پردہ عوامل کا اندازہ لگانا مشکل ہے تو اسی اعلانیہ امریکی اسرائیلی موقف کو دیکھ کر انداز لگانا بڑا آسان ہوجاتا ہے کہ شیعہ اور سنی کی جنگ کا فائدہ صرف اور صرف یہود و نصاری کو مل رہا ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران کی اعتقادی اور تزویری حکمت عملی قرآن کریم کے احکامات اور زمینی حقائق پر مبنی اور امریکہ، برطانیہ اور اسرائیل جیسے ظالم و خونخوار دشمنوں کے مقابلے میں شیعہ سنی اتحاد اور یکدلی اور یکجہتی پر استوار ہے؛ اور اس کی معاندت میں شیرازی تکفیری فرقہ امریکی ـ برطانوی ـ یہودی ایجنڈے کے عین مطابق اپنی پوری قوت کو میدان میں لا چکا ہے جو شیعہ مکتب کے اصولوں کو پامال کرکے مسلمانوں کے درمیان اختلافات کو ہوا دینے میں شیعہ مکتب کا نمائندہ بن کر کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔ ایجنڈے کے عین مطابق ایک طرف سے وہابی فرقہ دوسری طرف سے شیرازي فرقہ، جو مل کر دشمنان اسلام کی تباہ کن گاڑی کو ایندھن فراہم کرنے میں مصروف ہیں۔

انگریزی شیعہ امریکی سنی کی طرح، مسلم برادران کو کافر قرار دے کر وہ ہاتھ اور وہ صدا امریکی اور صہیونی جارحوں کے خلاف بلند ہونے کے بجائے، تشیع اور تسنن کی باہمی پیکار میں اٹھانے کے درپے ہیں۔

یہ شیعہ کہلوانے پر مصر ہیں اور دنیا بھر میں واحد شیعہ حکومت کے خلاف لندن کا ساتھ دے رہے ہیں، اس کو انگریزوں نے ـ وہابی فرقے کو امریکہ اور برطانیہ کے فراہم کردہ چینلوں کی طرح ـ متعدد سیٹلائٹ چینلز فراہم کردیئے ہیں، یہ فرقہ اپنی نفرت انگیز صدا بی بی سی نامی سینگے سے بھی بآسانی نشر کرتا ہے۔

جس وقت آیت اللہ العظمی میرزا سید محمد حسن شیرازی نے انگریزوں کی ٹوبیکو کمپنی کے قضیئے میں تنباکو کا استعمال حرام کرکے انگریزوں کی ناک خاک پر رگڑ لی؛ اور امام روح اللہ خمینی (رضوان اللہ علیہ) کے بقول “میرزائے شیرازی رضوان اللہ تعالی علیہ کی اسی آدھی سطر نے ہمارے ملک کو اجنبیوں کے حَلقُوم سے خارج کردیا”۔

بہرحال آیت اللہ العظمی شیرازی کے فتوے کے نتیجے میں انگریزوں کی شکست فاش کے بعد سے وزارت نو آبادیات [موجودہ MI6] نے “لندنی مولوی” پالنے کے منصوبے پر کام شروع کیا اور آج یہ سلسلہ چلتے چلتے “لندنی مرجع” کے نقطے تک پہنچ چکا ہے۔

شیعہ مکتب عاشورا، مرجعیت، ولایت فقیہ اور انتظار امام مہدی کی برکت سے زندہ اور پائندہ ہے اور ہمیں ان سب کی ضرورت ہے اور یہ سب ہمارے پاس ہیں، لیکن یہ سب بوڑھے سامراج اور نئے سامراج یعنی امریکہ اور برطانیہ کے پاس نہیں ہیں چنانچہ وہ جعل سازی کے راستے پر گامزن ہوکر جعلی مبلغ، جعلی مولوی اور جعلی مرجع بنانے پر اتر آتے ہیں، انہیں ایسا مرجع چاہئے جو خارجی پالیسی میں اس کا ہاتھ بٹائے، امریکہ اور برطانیہ کے ہاتھوں مسلم ممالک پر قبضے کی مخالفت نہ کرے، دہشت گردی کے مقابلے میں مظلوم مسلم اقوام کی حمایت نہ کرے بلکہ خرافات کو دفاع اور جہاد کے متبادل کے طور پر پیش کرے، “عَلَم کو زمین پر گرا رہنے دو اور امریکی ساختہ تلواریں اپنے سر پر دے مارو”، فلسطین پر جعلی یہودی ریاست کے قبضے کو نظرانداز کرے۔ انسانیت ساز مکتب عاشورا سے قمہ زنی اور زنجیر زنی سے متعلق تمام امور کو چھوڑ کر اس سے خودزنی اور اپنا خون گرانے کا مطلب لیا کرے، بجائے اس کے کہ علمی انداز سے مکتب کا دفاع کرے اور مکتب کے لئے نظریں فراہم کرے، گالی گلوچ اور توہین و بےحرمتی کے ذریعے دوسروں کی دل آزاری کو مقصد تبلیغ گردانے، ایسا مرجع نہ تو استکبار اور آمریت و استبدادیت کے لئے خطرناک نہیں ہے بلکہ امریکہ اور برطانوی ان کے لئے لندن، واشنگٹن اور خلیج فارس کی عرب ریاستوں میں ان کے دفاتر کھلوا دیتے ہیں اور ان کی حفاظت کرواتے ہیں، جبکہ ان ممالک میں تشیع کی دشمنی ایک اعلانیہ رجحان ہے۔

جب انٹیلجنس سروس کا مسٹر جیکاک سید جیکاک بن کر صاحب کشف و کرامات بن سکتا ہے اور علاقے کے بعض ممالک میں انگریز جاسوس مولوی اور مفتی بن کر وقت کی حکومت کو کافر قرار دے کر عوامی بغاوت کے اسباب فراہم کرتے ہیں، تو پھر اس میں کیا تعجب ہے کہ انگریزی مکتب کے شیعہ بیٹھ کر ملکہ برطانیہ کے لئے شجرہ نسب تیار کریں اور اس کو سیدہ اور بنی ہاشم کی پوتی ثابت کرنے کی کوشش کریں!!!

خطے میں برطانیہ کی ناک خاک پر رگڑی گئی ہے چنانچہ وہ تلافی کے لئے کچھ کرنا چاہتے ہیں، لندن میں ایرانی سفارتخانے پر حملہ ایک احمقانہ اور رذیلانہ منظرنامے کا حصہ تھا جس نے شیرازی فرقے کو فائدہ نہیں پہنچایا بلکہ اس کے چہرے سے نقاب اتارا اور جو اس فرقے کی حقیقت نہیں جانتے تھے، وہ بھی اب پوچھنے لگے ہیں کہ برطانیہ تو تشیع اور اسلام کا دشمن ہے پھر شیرازی فرقے کے ساتھ اس کے تعلقات ایک ہی خاندان کے افراد کی مانند کیوں ہیں؟

ایم آئی6 کے کرتے دھرتے شاید ابھی تک دوسری عالمی جنگ کے بعد کے ایام میں جی رہے ہیں جبکہ سید جیکاک اور اس جیسے دوسرے مکار جاسوسوں کا دور گذرچکا ہے، شیعہ نوجوان واقعی ہوشیار ہیں وہ استکباری طاقتوں کے ہتھکنڈوں کو جانتے ہیں اور ان کے دھوکے میں نہیں آتے۔

ترجمہ و تکمیل: فرحت حسین مہدوی

منبع: جاثیہ تجزیاتی ویب سائٹ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دیسی لبرلز کی حقیقت

دیسی لبرلز کی حقیقت:
اصلی لبرلز سے معزرت کے ساتھ:
دوستو ہزار اختلاف کے باوجود میں زاتی طور پر جدید لبرلزم کے بانی جان لاک سے لیکر آج تک کے تمام روشن خیال افراد کا احترام کرتاہوں- سمجھنے کے لئے لکھتا ہوں سمجھانے کے لئے نھیں-سلجھنے کے لئے بحث کرتاہوں الجھنے کے لئے نھیں- لہٰذا میرا یہ پوسٹ دیسی لبرلز کے حوالے سے آخری پوسٹ ہوگا ان سے الجھنے کا کوئی فائدہ نھیں ان کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی انسان سول انجینیرنگ کی ڈگری لیکر آپریشن ٹھیٹر میں گس جائے اور زبردستی آپریشن شروع کردیں اور کچھ کہے تو آپ کو بھی چیڑ پھاڑ دینگے باقی ان کی نفسیاتی اور زہنی سطح کی معرفت کے لئے جعفر ادریس کی تحریر کافی رہے گا
ﻣﺸﺮﻗﯽ ﺍﻭﺭ ﺧﺎﺹ ﮐﺮ ﻣﺴﻠﻢ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﮯ ﺗﻨﺎﻇﺮ ﻣﯿﮟ ﻟﺒﺮﻟﺰﻡ ﮐﯽ ﺩﻭ ﺍﻗﺴﺎﻡ ﮨﯿﮟ:
ﺍﯾﮏ ﺑﺎﮨﺮ ﮐﺎ ﺑﻨﺎ ﮨﻮﺍ، ﺍﺻﻠﯽ۔
ﺩﻭﺳﺮﺍ، ﯾﮩﺎﮞ ﮐﺎ ﺑﻨﺎ ﮨﻮﺍ، ﺩﻭ ﻧﻤﺒﺮ،
ﺟﺲ ﮐﻮ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﯾﮩﺎﮞ ‘ﺍﺻﻠﯽ’ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﭘﺮ ﺑﯿﭽﺎ ﺟﺎﺭﮨﺎ ﮨﮯ! ﺍﻭﻝ ﺍﻟﺬﮐﺮ ﮐﮯ ﻣﺎﻟﮑﺎﻥ ﺧﻮﺩ ﺍﭘﻨﺎ ﺗﯿﺎﺭﮐﺮﺩﮦ ﻣﺎﻝ ﺑﯿﭻ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ، ﻟﮩٰﺬﺍ ﺍُﻥ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺑﺎﺕ ﮨﻮﺳﮑﺘﯽ ﮨﮯ۔ ﺍُﻥ ﮐﮯ ﻣﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﮐﯿﺎ ﻧﻘﺺ ﮨﮯ، ﺍُﻥ ﮐﻮ ﻧﺸﺎﻧﺪﮨﯽ ﮐﺮﮐﮯ ﺩﯼ ﺟﺎﺳﮑﺘﯽ ﮨﮯ۔ ﯾﮧ ﻧﻘﺎﺋﺺ ﺑﮯ ﺣﺪ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮨﯿﮟ، ﻣﮕﺮ ﺁﭖ ﺍُﻥ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮔﻔﺖ ﻭ ﺷﻨﯿﺪ ﮐﺮﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﻭﮦ ﺳﻨﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺗﯿﺎﺭ ﺑﮭﯽ ﮨﻮﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﮐﺴﯽ ﮐﺴﯽ ﻭﻗﺖ ﻭﮦ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﺗﺴﻠﯿﻢ ﺑﮭﯽ ﮐﺮﻟﯿﺘﮯ ﮨﯿﮟ، ﯾﮩﺎﮞ ﺗﮏ ﮐﮧ ﺍﭘﻨﯽ ﭼﯿﺰ ﮐﺎ ﻋﯿﺐ ﺩﻭﺭ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﺑﮭﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ،ﺟﯿﺴﺎﮐﮧ ﻭﮦ ﻋﺮﺻﮧٔ ﺩﺭﺍﺯ ﺳﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺍِﻥ ﺍﺷﯿﺎﺀ ﮐﻮ ﺑﮩﺘﺮ ﺳﮯ ﺑﮩﺘﺮ ﺑﻨﺎﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﻟﮕﮯ ﮨﯿﮟ؛ ﻟﮩٰﺬﺍ ﺗﻨﻘﯿﺪ ﮐﻮ ﺧﺎﺻﯽ ﻭﻗﻌﺖ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔
ﻣﮕﺮ ‘ﺩﻭ ﻧﻤﺒﺮ’ ﻣﺎﻝ ﺑﯿﭽﻨﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺁﭖ ﯾﮧ ﻣﻌﺎﻣﻠﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺳﮑﺘﮯ؛ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ‘ﺍﺻﻞ’ ﺟﺲ ﮐﯽ ﻧﻘﻞ ﮨﻮﺭﮨﯽ ﮨﮯ ﺍِﻥ ﮐﯽ ﺍﭘﻨﯽ ﺗﯿﺎﺭﮐﺮﺩﮦ ﻧﮩﯿﮟ۔ ﺍِﻥ ﮐﯽ ﻣﮩﺎﺭﺕ ﮐﺎﭘﯽ ﮐﺮﻧﺎ ﮨﮯ؛ ﺍﻭﺭ ﯾﮩﯽ ﺍِﻥ ﮐﯽ ﮐﺎﻣﯿﺎﺑﯽ ﮐﺎ ﭘﯿﻤﺎﻧﮧ۔
ﺍِﺱ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ‘ﺗﺒﺪﯾﻠﯽ’ ﯾﺎ ‘ﺑﮩﺘﺮﯼ’ ﻻﻧﯽ ﮨﮯ ﺗﻮ ﻭﮦ ‘‘ﺍﺻﻞ’’ ﻭﺍﻟﮯ ﻧﮯ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺁﻧﯽ ﮨﮯ ۔ ﺍِﺱ ﭘﺮ ﮐﺴﯽ ‘ﻧﻈﺮﺛﺎﻧﯽ’ ﮐﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﮨﮯ ﺗﻮ ﻭﮦ ‘‘ﺍﺻﻞ’’ ﻭﺍﻟﮯ ﮐﺎ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍُﺳﯽ ﮐﻮ ﺍِﺱ ﻛﺎ ﻛﻮﺋﯽ ﻋﻴﺐ ﻳﺎ ﻧﻘﺺ ﺟﺎﻧﻨﮯ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﺩﻟﭽﺴﭙﯽ ﮨﻮﺳﮑﺘﯽ ﮨﮯ؛ ﺍِﻥ ﮐﯽ ﺗﻮ ﭼﯿﺰ ﮨﯽ ﺗﺐ ﺑﮑﮯ ﮔﯽ ﺟﺐ ﻭﮦ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ‘‘ﺍﺻﻠﯽ’’ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮨﻮ!
ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ ﺩﯾﺴﯽ ﻧﻘﺎﻟﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺁﭖ ﻟﺒﺮﻝ ﺍﺯﻡ ﭘﺮ ﮔﻔﺘﮕﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺳﮑﺘﮯ؛ ﺍﯾﮏ ﻟﻤﺤﮯ ﻣﯿﮟ ﻣﺴﺌﻠﮧ ﺧﺮﺍﺏ ﮨﻮﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ۔ ﺍﻥ ﺩﺍﻧﺶ ﻭﺭﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﻭﮦ ﺍﺳﭙﺮﭦ ﯾﮑﺴﺮ ﻣﻔﻘﻮﺩ ﮨﮯ ﺟﻮ ﻣﻐﺮﺏ ﮐﮯ ﻓﻼﺳﻔﮧ ﮐﮯ ﮨﺎﮞ ﭘﺎﺋﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ۔
ﻟﺒﺮﻝ ﺍﺯﻡ ﮐﮯ ﺍﺻﻞ ‘ﻣﺎﻟﮑﺎﻥ’ ﺍﭘﻨﮯ ﻧﻈﺮﯾﮯ ﻣﯿﮟ ﺳﻘﻢ ﺗﺴﻠﯿﻢ ﮐﺮﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﻋﺎﺭ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ،
ﮨﻤﺎﺭﮮ ﻧﻘﺎﻝ ﺍﺳﮯ ﮨﺮ ﻋﯿﺐ ﺳﮯ ﻣﺎﻭﺭﺍﺀ ﺑﺘﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ، ﻧﺎﻗﺎﺑﻞ ﺗﻨﻘﯿﺪ، ‘ﻣﻘﺪﺱ ﮔﺎﺋﮯ!’ ﺁﭖ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﺴﮯ ﺷﺨﺺ ﺳﮯ ﮐﯿﺎ ﻣﮑﺎﻟﻤﮧ ﮐﺮﻟﯿﮟ ﮔﮯ ﺟﺲ ﮐﯽ ﺣﺪِﺗﺨﯿﻞ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻭﮦ ﯾﻮﺭﭘﯽ ﻣﺨﻠﻮﻕ ﻧﻈﺮ ﺁﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﯽ ﮨﺮ ﭼﯿﺰ ﯾﻮﺭﭖ ﺳﮯ ﺁﺋﮯ! ﯾﮧ ﺗﻮ ﻭﮦ ﻋﺒﻘﺮﯼ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﺁﭖ ﮐﻮ ﯾﻮﺭﭘﯽ ﺑﺎﺷﻨﺪﮮ ﮐﮯ ﺷﮑﻢ ﻣﯿﮟ ﭘﻠﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮐﯿﮍﻭﮞ ﺗﮏ ﮐﮯ ﻓﻮﺍﺋﺪ ﺍﻧﮕﻠﯿﻮﮞ ﭘﺮ ﮔﻨﻮﺍ ﺩﯾﮟ! ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻋﺮﺻﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺍ ﺗﺮﮐﯽ ﮐﮯ ﺍﻧﻘﻼﺑﯽ ‘ﮐﻤﺎﻝ ﺍﺗﺎﺗﺮﮎ’ ﺍﻭﺭ ﻣﺼﺮ ﮐﮯ ﻋﺒﻘﺮﯼ ‘ﻃﮧ ﺣﺴﯿﻦ’ ﮐﮩﺎ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ﮨﻤﯿﮟ ﺍﮨﻞ ﻣﻐﺮﺏ ﺳﮯ ﻣﯿﭩﮭﺎ ﮐﮍﻭﺍ ﺳﺐ ﮨﯽ ﻟﯿﻨﺎ ﮨﻮ ﮔﺎ۔ ﮈﺍﮐﭩﺮ ﺯﮐﯽ ﻧﺠﯿﺐ ﻣﺤﻤﻮﺩ ﺭﺍﮦ ﺣﻖ ﭘﺮ ﺁﻧﮯ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ: ‘‘ﺍﭘﻨﮯ ﯾﮩﺎﮞ ﻓﮑﺮ ﮐﯽ ﺑﺎﻟﯿﺪﮔﯽ ﻧﺎﻣﻤﮑﻦ ﮨﮯ ﺟﺐ ﺗﮏ ﮨﻢ ﺍﭘﻨﮯﻓﮑﺮﯼ ﻭﺭﺛﮯ ﺳﮯ ﺟﺎﻥ ﻧﮩﯿﮟ ﭼﮭﮍﺍ ﻟﯿﺘﮯ، ﺍﭘﻨﮯ ﻣﻌﺎﺻﺮﯾﻦ ﺟﯿﺴﺎ ﻋﻠﻤﯽ ﻭﺗﮩﺬﯾﺒﯽ ﻃﺮﺯِﺣﯿﺎﺕ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﻟﯿﺘﮯ، ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺍﻭﺭ ﮐﺎﺋﻨﺎﺕ ﮐﻮ ﺍُﺳﯽ ﻧﻈﺮ ﺳﮯ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﻟﮕﺘﮯ، ﺑﻠﮑﮧ ﻣﯿﮟ ﺗﻮ ﮐﮩﻮﮞ ﮔﺎ ﮐﮧ ﮨﻢ ﮐﮭﺎﺋﯿﮟ ﺗﻮ ﺍُﻥ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ، ﮐﺎﻡ ﻣﯿﮟ ﺟﺘﯿﮟ ﺗﻮ ﺍُﻥ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ، ﮐﮭﯿﻞ ﺷﻐﻞ ﮨﻮ ﺗﻮ ﺍﻥ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ، ﻟﮑﮭﯿﮟ ﺗﻮ ﺍُﻥ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺑﺎﺋﯿﮟ ﺳﮯ ﺩﺍﺋﯿﮟ!
ﺑﺘﺎﺋﯿﮯ ﮐﯿﺎ ﺍﯾﺴﮯ ﻣﻘﻠﺪِﺟﺎﻣﺪ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺗﺒﺎﺩﻟﮧ ﺧﯿﺎﻝ ﮐﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﮨﻮ ﺳﮑﺘﯽ ﮨﮯ؟ ﺍﯾﺴﺎ ﺷﺨﺺ ﺟﺲ ﮐﯽ ﮨﺮ ﺭﺍﺋﮯ ﻭﮨﯽ ﮨﻮﻧﯽ ﮨﻮ ﺟو ﭘﯿﺸﻮﺍﺅﮞ ﮐﯽ ﮨﮯ!
ﺍِﺱ ﺧﻄﮯ ﮐﯽ ﻗﺴﻤﺖ ﻣﯿﮟ ﺷﺎﯾﺪ ﺍﺻﻠﯽ ﭼﯿﺰ ﮨﮯ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ۔ ﺟﻮ ﭼﯿﺰ ﺩﯾﮑﮭﻮ، ﺩﻭ ﻧﻤﺒﺮ!
ﺟﺲ ﻗﻮﻡ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺍﺻﻞ ﭼﯿﺰ ﮨﻮ – ﯾﻌﻨﯽ ﮐﺘﺎﺏِ ﮨﺪﺍﯾﺖ – ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺍﺱ ﺳﮯ ﻻﺗﻌﻠﻖ ﮨﻮ، ﺍﺱ ﭘﺮ ﺗﻌﺠﺐ ﺑﮭﯽ ﮐﯿﺴﺎ !
ﻋﺎﻟﻢ ﺍﺳﻼﻡ ﻣﯿﮟ ﭘﺎﺋﮯ ﺟﺎﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﻣﻐﺮﺑﯽ ﺍﻓﮑﺎﺭ ﮐﮯ ‘‘ﻣﻘﻠﺪﯾﻦ’’ ﺟﻮ ﺁﺝ ﮐﻞ ‘ﻟﺒﺮﻝ’ ﮐﮩﻼﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﻣﻐﺮﺑﯽ ﺍﻓﮑﺎﺭ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺻﺮﻑ ﺑﺎﻃﻞ ﻧﻈﺮﯾﺎﺕ ﮨﯽ ﺩﺭﺁﻣﺪ ﮐﺮﻧﮯ ﭘﺮ ﺳﻨﺠﯿﺪﮦ ﻧﻈﺮ ﺁﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔
ﻭﺍﻗﻌﮧ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺧﻮﺩ ﻣﻐﺮﺏ ﻧﮯ ﺍﯾﺴﮯ ﺑﺎﻃﻞ ﻧﻈﺮﯾﺎﺕ ﺍﺱ ﮔﻤﺎﻥ ﭘﺮ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﮐﯿﮯ ﺗﮭﮯ ﺟﻮ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺧﯿﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﻣﻐﺮﺏ ﻣﯿﮟ ﭘﺎﺋﮯ ﺟﺎﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺧﻠﻔﺸﺎﺭ ﮐﺎ ﺣﻞ ﺛﺎﺑﺖ ﮨﻮﮞ ﮔﮯ۔
ﻋﺎﻟﻢ ﺍﺳﻼﻡ ﮐﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺣﺎﻻﺕ ﮨﯿﮟ ﻣﻐﺮﺏ ﺳﮯ ﺳﺮﺍﺳﺮ ﻣﺨﺘﻠﻒ ﮨﯿﮟ۔ﯾﮩﺎﮞ ﻭﮦ ﻣﻐﺮﺏ ﻭﺍﻟﮯ ﺣﺎﻻﺕ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﯿﮟ ﯾﮩﺎﮞ ﮐﺎ ﻣﺎﺣﻮﻝ ﺑﮭﯽ ﺍﻥ ﺍﻓﮑﺎﺭ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻗﻄﻌﺎً ﺳﺎﺯ ﮔﺎﺭ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ۔ ﯾﮩﺎﮞ ﺑﮭﯽ ﺍﻧﮩﯽ ﺍﻓﮑﺎﺭ ﺍﻭﺭ ﻧﻈﺮﯾﺎﺕ ﮐﯽ ﭘﯿﻮﻧﺪ؟! ﻣﻘﻠﺪﯾﻦِ ﻣﻐﺮﺏ ﮐﻮ ﻻﺣﻖ ﺁﻓﺖ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﯾﮧ ﻣﻐﺮﺏ ﮐﮯ ﺑﻌﺾ ﺍﻓﮑﺎﺭ ﺍﻭﺭ ﺳﺴﭩﻤﺰ ﺍﭘﻨﮯ ﯾﮩﺎﮞ ﮐﭽﮫ ﺍﯾﺴﮯ ﻣﺴﺎﺋﻞ ﮐﻮ ﺣﻞ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺩﺭﺁﻣﺪ ﮐﺮﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﻦ ﮐﺎ ﺍﭘﻨﮯ ﯾﮩﺎﮞ ﻭﺟﻮﺩ ﮨﯽ ﮐﮩﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ!
ﺍﺱ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﻣﺜﺎﻝ: ﺳﯿﺎﺳﺖ ﺳﮯ ﻣﺬﮨﺐ ﮐﻮ ﺑﮯ ﺩﺧﻞ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﻓﻠﺴﻔﮧ ﺟﻮ ﺳﯿﮑﻮﻟﺮﺯﻡ ﮐﮩﻼﺗﺎ ﮨﮯ، ﻣﻐﺮﺏ ﮐﻮ ﺍﺱ ﻧﻈﺮﯾﮯ ﮐﯽ ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﭘﮍﯼ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﻣﻐﺮﺏ ﻣﯿﮟ ﭘﺎﺋﯽ ﺟﺎﻧﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﺗﮭﯿﻮ ﮐﺮﯾﺴﯽ میں ‏ ﻣﺬﮨﺒﯽ ﺷﺨﺼﯿﺎﺕ ﮐﯽ ﺍﺟﺎﺭﮦ ﺩﺍﺭﯼ تھی )
یہاں تو حالت یکسر مختلف ہے امن امان مثالی , پیار و محبت لازوال , تعلیم شرعی وظیفہ , جنگ و جدال ناپید اور تمام انسانی اقدار بے مثال ہے جب ساری چیزیں ٹھیک ہے تو میرا سوال ہے آپ لبرلزم اور سکیولرزم کے زریعے ہمیں کیا دینا چاھتے ہیں
ایسی ﻓﺮﺍﺥ ﺩﻟﯽ ﺗﻮ ﺁﭖ ﮐﻮ ﻟﺒﺮﻝ ﺍﺯﻡ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﮐﮩﯿﮟ ﻧﻈﺮ ﻧﮧ ﺁﺋﮯ ﮔﯽ۔
سرزمین بلتستان میں ناچ گانے رقص و سرور اور ڈانس پارٹی جیسے ﺑﺎﻃﻞ ﻧﻈﺮﯾﺎﺕ ﮐﻮ ﺭﻭﺍﺝ ﺩﯾﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺩﯾﺴﯽ ﻟﺒﺮﻟﺰ ﮐﻮ ﻧﮩﺎﯾﺖ ﺳﺮﮔﺮﻡ ﻋﻤﻞ ﭘﺎﯾﺎ ﮨﮯ
ﻟﯿﮑﻦ ﻣﻐﺮﺏ ﻣﯿﮟ ﭼﻨﺪ ﺍﻋﻠﯽٰ ﺍﻗﺪﺍﺭ ﺑﮭﯽ ﭘﺎﺋﯽ ﮔﺌﯽ ﮨﯿﮟ مثلاً مطالعہ تحقیق , تصنیف و تالیف اور ایجاداد ﺍُﻥ ﭘﺮ ﮨﻢ ﻧﮯ ﮐﺒﮭﯽ ﺍﻥ ﻟﺒﺮﻟﺰ بھائیوں ﮐﻮ ﺳﺮﮔﺮﻡ ﮨﻮﺗﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﺎ!
ﭼﻠﯿﮟ ﺍُﻥ ﺍﺷﯿﺎﺀ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺗﻮ ﯾﮧ ﮐﺒﮭﯽ ﺍﻋﻠﯽٰ ﻧﻤﻮﻧﮧ ﺑﻦ ﮐﺮ ﺩﮐﮭﺎﺗﮯ!
صرف ناچ گانا ڈانس اور عورت تک رسائی
سوچئے گا مت, سوچنا منع ہے
ولسلام

میں بلتستان ھوں مجھے ایسے ہی رئنے دیں

میں بلتستان ہوں مجھے ایسے ہی رہنے دیں

ہمارے دیسی لبرلز بغیر مطالعے کے زبردستی اسلام کو لبرلزم سے جوڑنے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں ان کے پاس کوئی دلیل بھی نھیں ہے جن کو مذھبِ اسلام ,علماء اور مجتھدین کا نام سن کر گن آتا ہے وہی لوگ صرف منہ زوری کی بنیاد پہ یہ منوانا چاہ رہے ہیں کہ اسلام ایک لبرل مذھب ہے  اور چاھتے ہیں کہ  ہم صرف اس بنیاد پر  اسے  بلا چوں چراں تسلیم کروں کہ یہ ان کی رائے ہیں اگر ان کے اپنی منگھڑت باتوں کو تسلیم نہ کرے تو اس شخص کو بغیر تحقیق کے جاھل تنک نظر اور شدت پسند قرار دیکر جان چھڑاتے ہیں
بھائی ٹھیک ہے آپ چاھے تو لبرل بنے ,کمیونسٹ کی راگ الاپے یا پھر سکیولرازم کے ثمرات سے لطف اندوز ہوجائے یہ آپ کا زاتی مسئلہ ہے لیکن آپ یہ حق ہر گز نھیں رکھتے کہ بلتستان جیسے اعلٰی  مذھبی اقدار  سے مذین عوام کو خود سے لبرل قرار دیں
جبکہ عوام اسے قبول بھی نہ کرتا ہو کیونکہ ہماری عوام کو لبرل ہونے پر نھیں بلکہ ایک سچا مسلمان ہونے پر فخر محسوس ہوتا ہے
      آج اگر بلتستان میں امن بھائی چارگی اور  پیارو محبت کی فضا موجود ہے تو یہ آپ کے مغرب کی اختراء کردہ لبرل سوچ کی وجہ سے نھیں بلکہ اس الٰہی سوچ اور  صدیوں پہ محیط علماء کی اخلاقی دوروس ,جمعہ و جماعت اور مجلس و ماتم کی وجہ سے ہیں جو بلتستان کی گلی گلی میں منعقد ہوتا ہے
 آپ کے لبرل طبقے نے تو ہمیشہ اخلاق و مروت کی دھجیاں اڑائی ہے اسی لئے آج عوام علماء کو ان کی شرافت اخلاق ,مروت, دلسوزی اور سادہ زندگی کی وجہ سے پسند کرتے ہیں
اور بے دین طبقے سے ان کی رشوت , اقرباپروری اور کرپشن کی وجہ سے نفرت کرتے ہیں
اسی وجہ سے  بلتستان میں ہر اس فکر کو شکست ہوئی ہے جس نے یہاں کے مثالی ثقافت اور اعلٰی دینی اقدار کو چھیڑنے کی کوشش کی ہے
خدا کا شکر کریں دنیا میں اب بھی ایک ایسا علاقہ موجود ہے جہاں پہ انسان بلا خوف خطر زندگی گزار سکتے ہیں, تعلیم تعلیم کا راگ الاپتے ہو تو سن لو یہاں پہ تعلیم کو واجب فریضہ اور شرعی زمہ داری سمجھ کر حاصل کرتے ہیں  آزادی نسواں کی آپ کو بڑا فکر ہے تو سن لو ہماری بہنیں آزاد ہے ملز اور فیکٹری کی مشقت سے , جسم فروشی کی لعنت سے , اشتہار کے نام پہ ایک بلیٹ کے خاطر ناچنے جیسی عادت سے- ہاں یہ آزاد ہے , بازار حسن کا ملکہ نھیں بلکہ اپنی کھر کی شہزادی ہے
جن معاشروں کو آپ نے لبرلزم کمیونزم اور سکیولرزم کا تحفہ دیا ہے وہاں خاندانی نظام تباہ و برباد اور  بھائی بہن کا مقدس رشتہ تارتار ہوچکا ہے بچے حقیقی مہرومحبت سے محروم ہیں کیونکہ ماں ایک اور باب متعدد ہوچکے ہیں اسی وجہ سے شناختی کارڈ پہ باپ کا نھیں ماں کے نام لکھنے پہ مجبور ہے میاں بیوی ایک دوسرے کو مشین سمجھ کر استعمال کرتے ہیں جس کو دن میں کسی بھی وقت متعدد لوگ استعمال کرسکتا ہے  بیٹی کو باپ کی طرف سے خطرہ لاحق رہتا ہے اس کی ایک واضح مثال موجودہ امریکی صدر ٹرنپ ہے  جس نے ایک ٹی وی انٹریو  میں اپنی بیٹی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر میری بیٹی نہ ہوتی تو میں اسے جنسی تعلقات قائم کرتا
بس کافی ہے
میں بلتستان ہوں مجھے ایسے ہی رہنے دیں
"رسول میر"

بلتستان کے لوگ کیسے لبرل ہیں۔۔۔۔۔!

بلتستان کے لوگ کیسے لبرل ہیں۔۔۔۔!

آٹھ مارچ کو عالمی یوم خواتین کے موقع پر تقریب سے کمشنر بلتستان نے گلگت بلتستان کے لوگوں کو لبرل قرار دیتے ہوئے اسے خوش آئند قراردیا۔ ویسے تو عام طور پر لبرل کے معنی دینی امور اور احکام کی پابندی سے ماورا ہوکر شخصی آزادی، فکری آزادی، اور من مانے طریقے سے زندگی گزارنے کے کئے جاتے ہیں۔ لیکن ہمارے ہی معاشرے کے پڑھے لکھے افراد لبرل ازم کی ترقی یافتہ دنیا میں عملی نمونوں سے آنکھیں چراتے ہوئے اسے دینی احکامات کی پابندیوں سے آزادی کی بجائے ہر ایک کو اپنے طریقے سے جینے، عبادات کے کرنے نہ کرنے اور محرمات سے بچنے نہ بچنے وغیرہ میں نرمی اور عورتوں کو گھروں میں مقید کرنے کے خلاف ایک فرضی اور خودساختہ مطالب سے جوڑتے ہیں۔
اندھے، گونگے اور بہرے بھی جانتے ہیں کہ گلگت بلتستان میں عورتوں کےساتھ عام طور پر کوئی امتیازی سلوک کیا جاتا ہے، نہ انہیں جدید تعلیم سے کوئی روکتا ہے، نہ انہیں ملازمت سے منع کرتا ہے، اور نہ ہی کسی بھی شعبے میں مردوں سے کمتر سمجھا جاتا ہے۔ اندھے بہرے اور گونگے بھی اس بات کو بھی بہت اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ گلگت بلتستان میں تعلیمی مواقع مردوں اور عورتوں دونوں کیلئے محدود ہیں، اور جو جو ادارے موجود ہیں ان میں مواقع دونوں صنفوں کیلئے بھی یکساں ہیں۔ ان میں عورتوں کا داخلہ بھی اتنا ہی ہمیشہ ہوتا رہا ہے جتنا مردوں یا حکومتی و ادارتی طور پر جتنی گنجائش رکھی گئی ہوتی ہے۔ اعلیٰ ترین مقابلے کے امتحانات یعنی سی ایس ایس سے لیکر تمام سرکاری و غیر سرکاری اداروں میں ملازمتوں کو دیکھیں مردوں کیساتھ ساتھ خواتین کی بھی اچھی خاصی تعداد مقابلے کیلئے تیار نظر آتی ہیں، اور ہر ادارے میں خواتین کی خدمات موجود ہیں اور ان کے خاندان والے بھی کسی روک ٹوک اور سختی کی بجائے ان پر ٖفخر کرتے اور دوسری گھر کی خواتین کو بھی اچھا پڑھنے لکھنے کی ترغیب دیتے ہیں۔ کون نہیں جانتا سکولوں، کالجوں اور موجود یونیورسٹی کی کلاسوں میں مردوں کیساتھ خواتین کی تعداد کو؟ کون نہیں جانتا سرکاری و غیر سرکاری ہسپتالوں میں خاتون ڈاکٹرز، نرسز، اور دائیوں کو؟ کون نہیں جانتا کالج سکولوں اور یونیورسٹی میں خاتون اساتیز کو؟ کون نہیں جانتا بیرون ممالک اعلیٰ تعلیم اور ملک بھر کی جامعات میں پروفیشنل، اور مروجہ تعلیم کی سیٹوں سمیت ہر درجے پر سال بہ سال ڈبل سے ٹرپل ہوتی گلگت بلتستان کے خواتین کی تعداد کو؟
ہمارے معاشرے کو اگر سمجھا جائے تو عورتوں کے حوالے سے دنیا کے آئیڈئل ترین معاشروں میں سے ایک قراردیا جاسکتا ہے۔ جہاں پر عورتیں گھر کے کام کاج سے لیکر کھیتی باڑی، ملازمت غرض ہر شعبے میں بلاروک ٹوک مردوں کےساتھ ساتھ کام بخوشی کام کرتی اور خاندان کی کفالت اور بچوں کی تربیت میں اہم ترین حصہ ڈالتی ہیں۔ اور ایسا کرنے سے ہم لبرل کہلاتے ہیں تو ہم فخر سے کہتے ہیں ہاں ہم سے زیادہ لبرل کوئی اور ہو ہی نہیں سکتا۔
جن دوستوں کو لبرل ازم کے لفظی معنی کی وجہ سے لبرل کہنا اچھا لگتا ہے مگر معاشرے کو دینی اقدار کے حامل اسی طرح سے سمجھتے ہیں جیسے کہ اوپر چند حقائق بیان کیں ہیں، وہ خاطر جمع رکھیں، آپ سے الجھنا یا آپ کو غلط ثابت کرنے سے ہمیں کوئی سروکار نہیں، لیکن ایسے معاشرے میں بیرونی ایجنڈوں پر ملحد اور تنگ نظر مگر بظاہر روشن خیالی کے لبادے میں عورتوں کے حقوق کیلئے چیخنا چلانا اور سال میں دو تین تقریبات منعقعد کرکے اسلامی اصولوں اور گلگت بلتستان کے علمائے کرام اور متدین والدین کی تضحیک و توہین کرنا چہ معنی؟ یہ برملا سازش ہے اور اس کے پیچھے باقاعدہ ڈالر خرچ ہورہے ہیں۔ این جی اوز کی ماں امریکی خیراتی ادارے یو ایس ایڈ، الشہباز ویمن، اور عورت فاونڈیشن جیسے مغربی فنڈڈ اداروں کو چاہئے کہ وہ ان علاقوں میں جاکر کام کریں جہاں عورتوں کو وٹہ سٹہ، ونی، کاری اور پنچائیت کے دوسرے دردناک مظالم کا سامنا کرنا پڑتا ہے، مغربی دنیا خصوصا امریکہ جہاں ہر چھے میں سے ایک عورت کی عزت لوٹی جاتی ہے ان کو تحفظ فراہم کریں، روزانہ کی بنیاد پرہر سکول کالج اور یونیورسٹی میں سینکڑوں عورتوں کیساتھ جنسی زیادتی کے کیسز درج ہوتے ہیں اور ان کو ہراس کیا جاتا ہے ان کیلئے سیمینار منعقد کرائیں، انکا اعتماد بڑھائیں، انکو حقوق دلائیں اور نا انصافیوں کے خاتمے کیلئے کام کریں۔ لیکن نہیں، انہوں نے گلگت بلتستان کو ہی ٹارگٹ کرنا ہے، یہاں کی متدین ، فرض شناس، والدین کی عزتوں کا لاج رکھنے والی غیرتمند عورتوں کے لئے حقوق کے نام پر ڈرامے رچانے ہیں، یہاں کے جوانوں کو ہی لنڈے کے پتلون اور لنڈے کے جیکٹ پہنا کر ان سے عورتوں کیلئے مہم چلوانا ہے، کیونکہ یہاں دینی اقدار اب تک محفوظ ہیں، یہاں کی خواتین ذہین و فطین اور ہر شعبہ زندگی میں دنیا میں مثالی خدمات سرانجام دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ اوراگر یہ دینی اقدار کےساتھ نئی نسل کی تربیت جاری رکھتی ہیں تو اگلے چند دہائیوں میں یہاں کے تعلیم یافتہ جوانوں کو نہ صرف اس خطے کی بلکہ ملک بھر کے مسائل کو حل کرنے میں اپنی خداداد صلاحیتیں بروئے کار لاتے ہوئے صف اول میں پائیں گے۔
جس طرح کینو کا ذائقہ کئی تقاریر سننے، کئی کتابیں پڑھنے اور کئی لوگوں سے بحث کرنے کے باوجود تب تک سمجھ نہیں آتی جب تک اس کو ایک بار چکھ نہ لیں ، اسی طرح لبرل ازم ، سوشل ازم، کمیون ازم، کیپٹل ازم وغیرہ وغیرہ ، صرف الفاظ کے ذخیرے نہیں، بلکہ نظریئے جن سے اقوام عالم کی تاریخ جڑی ہے۔ ان کے رسم و رواج، بودوباش، سوچ و فکر زندگی کے ہر پہلو کا احاطہ کرتی عملی نظریات ہیں یہ۔ ان کے لفظی معانی نے معاشرے اور ہمارے لوگوں کیساتھ کچھ بھی نہیں کرنا۔ یہ کیا ہیں؟ ان کو سمجھنے کیلئے ان معاشروں کی ماضی، حال اور مستقبل پر نظر کریں، انکے مدوجزر دیکھیں، ان کے پانے اور کھونے کی دستانیں پڑھیں، ان افراد سے ملیں جو ایسے معاشروں میں رہتے ہیں، ان سے ان کے فوائد و نقصانات جانیں، تب ہی سمجھ آجائیگی۔ مگر ہمارے ہاں لبرل ہونے کے دعوے اور فخر کرنیوالے اکثر وہ لوگ ہیں جنکا کسی لبرل معاشرے سے واسطہ ہی نہیں پڑا، کسی لبرل معاشرے میں رہنے والے سے گفتگو تک نہیں ہوئی، کسی لبرل بندے کے سوچنے کے معیارات کی ہوا تک نہیں لگی۔ ان لبرل معاشروں میں عورتوں، بچوں اور غرض ماں باپ کیساتھ روا رکھنے والے سلوک کا شائبہ تک نہیں۔ لیکن لگے ہیں لبرل ہونے پر فخر کرنے۔
ان مغربی ملکوں کے این جی اوز کو گلگت بلتستان سے کوئی خاص ہمدردی کی وجہ ؟ کیا ان کے پیسے پائپ لائن سے نکلتے ہیں؟ یا ان کو سمندر سے ڈالر ملتے ہیں جو اپنے خطے چھوڑ کر آپ کو روشن خیال اور ماڈرن بنانے کیلئے لٹادیتے ہیں؟ یقین کریں یہ ایک ایک پائی انتہائی سوچ سمجھ کر خرچ کرنے والی قوم ہے۔
ان کو اپنے مال کی بھی قدر ہے اور اپنی توانائیوں کی بھی، لیکن یہ جانتے ہیں کہ کسی بڑے ایجنڈے کیلئے خرچ کرنا انکے ایجنڈے کی تکمیل کیلئے ضروری ہے۔ تبھی یہ ہر ممکن طریقے سے یہاں اپنا رسوخ بڑھا کر لوگوں کو اپنے طریقے سے چلانا چاہتے ہیں۔ اب تک جو چیزیں واضح ہیں وہ یہ کہ ان کو اس علاقے میں اپنی چودھراہٹ قائم رکھنے کی ضرورت ہے، یہاں سے ارد گرد نظر رکھنا جس کیلئے ان کی مجبوری ہے۔ جس کیلئے متدین اور تہذیب و تمدن کا ساتھ نہ چھوڑنے والی قوم رکاوٹ بن سکتی ہے۔ لہٰذا ان کو ڈر ہے تو ہماری نئی نسل کی متدین، با اخلاق، مہذب اور چمکتی مستقبل سے۔ جدید دور میں بھی روشن مثال بنتے ہمارے معاشرے کے اقدارسے ہے جو کسی غیر کی چودھراہٹ کو قبول کرنے کیلئے ہرگز آمادہ نہیں ہونگے۔ ان کو ڈر ہماری عورتوں کے پردے سے ہے۔ ہماری خواتین کی تعلیم کیساتھ ساتھ تربیت اور دینی اقدار کا پاس و لحاظ سے ہے۔ زندگی کے ہر شعبے میں مردوں کے شانہ بشانہ اور قدم سے قدم ملا کرتی ہوئی ترقی سے ہے۔ ان ماوں کے گودوں میں تربیت پاتے بچوں کی فکری استعداد سے ہے جو ماوں سے دودھ کیساتھ محبت آئمہ اہلبیت بھی لیتے ہیں کیونکہ جو ظلم و بربریت کیساتھ ساتھ بے راہ روی اور لادینیت کے بھی سخت مخالف ہیں جس کیلئے یہ اپنی جان دینے سے بھی گریز نہیں کرنیوالے۔ یہی وجوہات ہیں ایک طرف این جی اوز کے ذریعے خواتین خاص طور پرنوجوان لڑکیوں کو فیشن زدہ اور مغرب زدہ بنا کر بے پردگی کو عامنے پر تلے ہوئے ہیں تو دوسری طرف نوجوان لڑکوں کو چرس کے دھندے میں ڈال کر ان کو خراب کررہے ہیں۔

شریف ولی کھرمنگی
بیجنگ چائینہ۔ 10 مارچ 2018

سیکولر ازم اور لبرل ازم میں فرق

سیکولرزم اور لبرلزم

سیکولرزم اور لبرلزم میں فرق کو مختلف اسالیب میں بیان کیا جا سکتا ہے۔ مختصراً عرض ہے کہ یہ دونوں تحریک تنویر کی جڑواں اولاد ہیں اور جدیدیت کی پیدا کردہ مغربی تہذیب میں ایک ساتھ پروان چڑھے ہیں۔ اب سیکولرزم سٹھیا گیا ہے اور لبرلزم پوپلا گیا ہے۔
تنویری اور جدید عقل نئے انسان اور نئی دنیا کا ایک مفصل نقشہ بناتی اور بتاتی رہی ہے، اس میں جب وہ یہ بتائے کہ ”کیا نہیں ہونا چاہیے“ تو یہ سیکولرزم ہے اور جب یہ بتائے کہ ”کیا ہونا چاہیے“ تو یہ لبرلزم ہے۔ جب جدید عقل یہ بتا رہی ہو کہ ”کیا نہیں ہونا چاہیے“ تو اس وقت اس کی نظر مذہب پر گَڑی ہوتی ہے اور یہ سیکولرزم کی فکری تشکیلات کر رہی ہوتی ہے جن کا تعلق زیادہ تر سیاسی اور اجتماعی دائرے سے ہے۔ یہ ایک سیاسی آئیڈیالوجی ہے۔ جدید عقل کے پیدا کردہ سیاسی اور معاشی دعووں کو براہ راست چیلنج مذہب سے آتا ہے، اس لیے اس کا ”بندوبست“ اول اول ضروری ہے۔ توہم پرستی کیونکہ سیاسی دعوے نہیں رکھتی اس لیے سیکولرزم اسے قبول کر لیتا ہے اگرچہ وہ عقل کے اپنے قائم کردہ ٹھیٹھ معیارات کے برخلاف ہوتی ہے، جیسے اس نے آج کل سائنٹالوجی کو گود لیا ہوا ہے۔
اور جب جدید عقل یہ بتانا چاہے کہ ”کیا ہونا چاہیے“ تو نگاہ میں مراداتِ نفس انسانی اور دنیاوی آرزؤں کی قوس قزح ہوتی ہے۔ یہ قوس قزح امید کی اس واحد کرن سے پیدا ہوتی ہے جسے عقل یرغمال بنانے اور سفاک تاریخ کے نیم تاریک افق پر گھڑی بھر کو رنگ برنگ دکھانے میں کامیاب ہو جائے۔ لیکن افسوس کہ امید عقل کی یرغمال بنتے ہی مر جاتی ہے۔
سیکولرزم میں دیگریت کا پہلو نمایاں ہے اور دیگر کے بغیر سیکولرزم اپنی تشکیل نہیں کر پاتا، کیونکہ reflexive reason اس کے عین مرکز میں متحرک رہتی ہے۔ یہ بنیادی طور پر سلبی ہے اور جدید انسان کے ”لا“ کا کل حاصل ہے۔ لبرلزم میں دیگریت کا عنصر نہیں ہے اور یہ اغلباً ایجابی ہے۔ لیکن چونکہ عقل کے بنائے ہوئے سارے نظریات عدم استحکام کا شکار ہو جاتے ہیں، لٰہذا تاریخی دباؤ میں لبرلزم بھی دیگریت سے بچ نہیں سکتا۔ اگر لبرلزم میں دیگریت داخل ہو جائے تو یہ فسطائیت ہے۔ یعنی تاریخ اور فطرت سے خوشحالی اور خوشیاں کشید کرتے ہوئے جدید اور غلبہ جُو انسان ”دوسرے“ کو پسند نہیں کرتا جو کباب میں ہڈی کی طرح ہوتا ہے۔ لبرلزم اپنے جوشِ کسب و حصول میں اس ”دوسرے“ کا وجود اپنی خوشیوں اور خوشحالی میں رکاوٹ قرار دیتے ہی فسطائیت بن جاتا ہے، کیونکہ حصول کی مکمل کامیابی کے لیے دوسرے کا خاتمہ ضروری ہے۔ لبرلزم جدید انسان کا ”لا“ کے بعد کا سفر ہے۔ فسطائیت لبرلزم اور رومانویت کا مجموعہ ہے، یعنی لبرلزم میں نفسی داعیات کی شدت کی وجہ سے reflexive reason دب جاتی ہے، اور نسل اساس رومانوی کبر و ادعا غالب آ جاتے ہیں۔
سیکولرزم میں عقلی داعیات غالب ہوتے ہیں اور مقتدائے عقل ماسوا کو قبول نہیں کرتا۔ لبرلزم میں انسان کے انفرادی اور اجتماعی نفسی داعیات غالب ہوتے ہیں، جن میں شناخت کا رول مرکزی ہوتا ہے اور جو اصلاً نسلی ہے۔ اگر لبرلزم کے جذبۂ حصول پر شناخت، یعنی نسلی شناخت، غالب آ جائے تو فسطائیت نمودار ہو جاتی ہے۔
لبرلزم بنیادی طور پر نفس کی آٹونومی اور ارادے کی حریت کا علمبردار ہے، اور سیکولرزم ان کا مذہب سے محافظ۔ نفس کی آٹونومی کا مقصود لذت ہے، اور حسن و قبح اہوائی ہے، اس لیے اخلاقی اور جمالیاتی اقدار کا یہاں کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا، اور ذوی الارحام سے جنسی تعلق اور کتے، گھوڑے وغیرہ جانوروں سے جنسی تعلق میں کوئی فرق باقی نہیں رہتا۔ سماجی اور معاشی دائرے میں ارادے کی حریت کی توسیط قانون سے ہوتی ہے اور اجتماعی سیاسی دائرے میں صرف سیاسی طاقت سے۔ آئیڈیا اور قدر یہاں بھی غیر حاضر ہیں۔ سیکولزم اور لبرلزم سے بننے والے سیاسی، معاشی اور فوجی نظام میں سائنس معمار اور مزدور ہے اور فکری علوم اس کا سیوریج سسٹم ہیں، جو اس پورے سسٹم کے وجودی تعفن کو دور رکھنے اور اسے مسلسل پوچی لگا کے چمکانے کا کام کرتے ہیں۔
سیکولرزم کا روئے سخن خدا کی طرف ہے کہ تو نہیں ہے، بالکل بھی نہیں ہے، اور لبرلزم انسان سے مخاطب ہے کہ صرف تو ہی تو ہے، اور کوئی نہیں ہے۔ جب ”اور کوئی“ آ دھمکے تو دیکھتے ہی دیکھتے لبرل دنیا کسی ہٹلر، مسولینی، ہنری کسنجر، ریگن، تھیچر، ٹونی بلیئر، اور بش کو آواز دیتی ہے۔ ہم عصر دنیا میں یہ آوازیں لبرلوں کی چنگھاڑ اور کمزوروں کی آہ و بکا بن گئی ہیں، اور کسی بڑی جنگ کے کابوس پرے کے پرے بن کے اترنے والے ہیں۔
و اللہ اعلم
محمد دین جوہر

صنعتی انقلاب اور عورت کی آزادی کے نعرہ

ندیم بلوچ


یورپ میں صنعتی انقلاب کے زمانے میں بڑے پیمانے پر صنعتیں لگیں۔ اس صنعتی انقلاب سے پہلے مقامی پیداوار کے حساب سے علاقائی صنعتیں موجود تھیں، جو بہت چھوٹے پیمانے پر  کام کرتی تھیں۔ جیسے کچھ عرصہ پہلے تک گاؤں کا کمہار برتن سازی کا کام کرتا تھا، لوہار لوہے کا کام کرتا تھا، ترکھان لکڑی کا کام کرتا تھا اور موچی گاؤں کے لوگوں کے لئے جوتیاں بناتے تھے۔ ان تمام صنعتوں کے لئے اکثر خام مال گاؤں میں دستیاب ہوتا تھا، مثلاً لکڑی، کپاس اور چمڑا گاؤں میں دستیاب تھے، اب اس سے چیزیں بنائی جا رہی ہیں۔ یورپ کے صنعتی انقلاب نے یورپ کی زندگی میں جہاں طبقاتی نظام کو جنم دیا، وہیں پر معاشرتی اور ثقافتی  اعتبار سے بھی یورپ کے اس وقت کے معاشرے کو تبدیل کر دیا۔ اس انقلاب سے پہلے  خواتین کا معاشرے میں کم و بیش وہی کردار تھا، جو آج سے تیس چالیس سال پہلے کے پاکستانی معاشرے میں تھا۔ اس صنعتی انقلاب نے مزدوروں کی ڈیمانڈ کو بڑھا دیا۔ پہلے تو اسے زیادہ تنخواہوں اور مراعات میں اضافے سے معاشرے کے بیکار لوگوں کو کام میں لایا گیا۔ جب اس سے کام نہ چلا تو  بڑے پیمانے پر لوگوں کو ایسے خطوں سے لایا گیا، جہاں  استعماری قوتوں کا قبضہ تھا۔ افریقہ سے امریکہ منتقل ہونے والے غلاموں کی مظلومانہ داستانیں آج بھی امریکہ کے مختلف میوزیمز میں موجود ہیں، جو کام کرتے کرتے بے نام ہی  دنیا سے گزر گئے۔ کوئی محقق ان مظلوموں پر کتاب لکھے یا کوئی ڈاکمنٹری بنانے والے ڈاکومنٹری بنائیں کہ کس طرح لوگوں کا استحصال کیا گیا۔ اس تمام کے باجود یہ کمی پوری نہیں ہوئی تو ایک معاشرتی تبدیلی کا فیصلہ کیا گیا، وہ تھا عورت کو آزادی کے نام پر فیکٹروں، دفتروں اور سڑکوں پر لے آؤ۔ یہ کرنے پہلے ہر اس طبقے کی آواز کو ختم کر دیا گیا، جو ان سرمایہ داروں کے خلاف ہوسکتا تھا۔ مذہب جو ایک بنیادی عنصر تھا، اس کو ریاستی معاملات  سے نکال کر چرچ تک محدود کر دیا اور اب تو چرچ بھی برائے فروخت ہوگئے ہیں۔ سرمایہ دار اس میں کامیاب ہوگئے۔

امام خمینیؒ نے فرمایا تھا کہ عورت کو اس کے مقام سے گرا کر اشتہار بازی کا ذریعہ بنا دیا گیا ہے۔ آپ مغرب کو چھوڑ دیں، صرف پاکستان میں شام کو پانچ منٹس مختلف ٹی وی چینلز پر آنے والے اشتہارات کو دیکھ لیں، آپ کو پتہ چل جائے گا کہ امام خمینیؒ نے درست فرمایا تھا۔ آج صبح سے تمام چینلز یوم خواتین منا رہے ہیں اور اس کی وجہ زیادتی کا شکار خواتین کو بتایا جا رہا ہے، جنہوں نے اپنے ساتھ ہونے والی زیادتوں کو میڈیا پر عام کیا۔ میڈیا پر ایسی مہمات معاشرے میں اسلامی اقدار کی پامالی اور  مشرقی اقدار کے انہدام کا باعث بنتی ہیں۔ ان میں مغربی اقدار اور ان کے تصورات کو فروغ دینا مقصود ہوتا ہے۔ آج مغربی میڈیا بالخصوص ان کی اردو سائٹس کا مشاہدہ کریں، ان پر غیر محسوس انداز میں ہماری روایات و اقدار کا مذاق اڑایا گیا ہے۔ ایک واقعہ اٹھایا جاتا ہے، جس میں ایک مرد ایک عورت کے ساتھ کوئی ناروا سلوک کرتا ہے۔ اس میں سارے کا سارا قصور مرد کا بتایا جاتا ہے۔ عورت صرف مظلوم محض ہوتی ہے۔ تمام مسائل کا حل انفرادیت میں ہے۔ آپ کی زندگی میں کوئی بہن، بھائی، ماں یا باپ نہیں ہے۔ یہ زندگی آپ کی زندگی ہے، جسے آپ نے اپنی مرضی سے گزارنا ہے۔ یہ باتیں اس معاشرے کے لئے بالکل درست نہیں، جہاں بچے ریاست پالتی ہے اور والدین اولڈ ہوم والے پالتے ہیں۔ یہ بات اس معاشرے میں درست ہے، جہاں پر باپ اپنے بیٹے سے اپنے گھر میں رہنے کا کرایہ وصول کرتا ہے، یہ بات اس معاشرے میں درست ہے، جس نے دنیا کو ہی سب کچھ سمجھ رکھا ہو۔ ان کی روایات، ان کی اقدار اور ان کا طرز زندگی ہمارے معاشرے میں مِس فِٹ ہے۔ ہمارا معاشرہ خاندانی نظام کی چھتری تلے قائم ہے۔ خاندان ایک مضبوط معاشرتی اکائی کے طور پر قائم ہے۔ ہماری انفرادی زندگی بھی دراصل اجتماعی زندگی کی ہی ایک صورت ہے، جس میں ایک خاندان میں رہتے ہیں۔

کچھ ایسی چیزیں ہمارے معاشرے میں ہو رہی ہیں، جن کے خلاف نہ بولنا اور کچھ نہ لکھنا ظلم کی حمایت کرنے کے مترادف ہوگا۔ ہمارے معاشرے میں بہت عام ہے کہ لوگ بچیوں کو جائیداد میں ان کا حصہ نہیں دیتے۔ یہ بات اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔ اسلام نے جس خاندانی نظام کا تصور دیا ہے، اس میں عورت ایک انتہائی مہذب کردار کی حامل ہے۔ اس کی ذمہ داریاں بتا دی گئیں ہیں اور اس کے حقوق کو مکمل تحفظ دیا ہے۔ ہم جہاں ان اقدار کی مخالفت کرتے ہیں، جو ہماری روایات کے خلاف ہیں، اسی طرح ہم ہر اس روایت کے بھی خلاف ہیں، جس کی بنیاد پر کسی عورت کے ساتھ زیادتی کا تصور ابھر رہا ہو۔ عورت کو جائیداد میں اسلام کا مقرر کردہ حصہ دینا ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے۔ اسلام عورت کو بیٹی، بیوی اور ماں کے روپ میں دیکھتا ہے۔ ہر جگہ اسے عزت و شرف عطا کرتا ہے۔ بیٹی کی صورت میں ہو تو اسے والدین کے لئے اللہ کی رحمت قرار دیا ہے۔ آقائے نامدار ؐ کا فرمان ہے، جس کو اللہ نے دو بیٹیاں عطا کیں، اس نے ان کی اچھی پرورش کی اور ان کی شادی کر دی تو  وہ قیامت کے دن جنت میں میرے ساتھ ہوگا۔ میں نے بہت سے دوستوں سے پوچھا ہے کہ کیا ایسی کوئی روایت بیٹوں کے بارے میں موجود ہیں۔؟؟؟ یہ بیٹی کی فضیلت و اہمیت ہے۔ اللہ کے رسولﷺ کی نگاہ آنے والے زمانے کو دیکھ رہی تھی کہ جس میں لوگ تیسری بیٹی کی پیدائش پر طلاق دے دیں گے۔ اسی لئے سرور اعظم نے بیٹیوں کو عزت دی۔ جب بھی آپؐ کی بیٹی آپؐ کے پاس آتی تو کھڑے ہو جاتے۔ عرب کے اس معاشرے میں جہاں بیٹی کو توہین کی علامت سمجھا جاتا تھا، آپؐ کا یہ طرز عمل انہیں اور آنے والے مسلمانوں کو بتا رہا ہے کہ بیٹی کی قدر کرو۔ بیٹیوں کو بھی چاہیے کہ وہ والدین کی قدر کریں، جو شدید سردی اور شدید گرمی کے عالم میں سکولوں کے باہر اپنی بیٹیوں کو لینے کے لئے کھڑے ہوتے ہیں۔ اٹھارہ اٹھارہ گھنٹے کام کرتے ہیں کہ بیٹیوں کو آرام پہنچا سکیں۔ ایسے میں بیٹیوں کا بھی یہ فرض ہے کہ والدین کی عزت کریں۔ جہاں ہمیں آزادی کے نام پر عورت کا استحصال قابل قبول نہیں، اسی طرح ایسی صورت حال بھی قبول نہیں، جس میں ان سے پوچھے بغیر ان کی شادی کر دی جائے۔ اسلام نے جو حق ان کو دیا ہے، اس کو کسی صورت میں ختم نہیں کیا جا سکتا۔ اسلام اعتدال کا نام ہے، جس میں عورت کو باعزت مقام حاصل ہے اورہم نے ایسا معاشرہ قائم کرنا ہے، جس میں عورت کو اس کا یہ مقام حاصل ہو۔ 

اختلاف نظر اور اصل مدعا


گزشتہ مباحث پرمختصر نظر کرنے کے بعد چندنکات پیش خدمت ہیں.
1 شیعہ عقاید اور فقہ کے مطابق اصل اولی اور حکم اولی یہ ہے کی امامت ولایت کے بغیر کسی اور نظام کاحصہ بنا جایز نہین ہے کیونکہ توحید در حاکمیت اوربربوبیت کاتقاضاہی ایسا ہے .ہاں جب اس اصل پرعمل ممکن نہ رہاتو اس اصل کی مخالفت کرنے یعنی حکم ثانوی پرعمل کرنے کے لیے تشیع اور اسلام کی مصلحت عامہ کی ضرورت ہے .البتہ اس کامطلب یہ نہین ہے کہ ہم اصل اولی سے بلکل غافل ہوجاییں بلکہ اس کی ترویج ,تبلیغ اور اس کی حمایت اپنی جگہ پر مسلم ہے.
2 بزرگان کااختلاف میری نظرمیں ایک دوسرے کامدعی واضح ناہونےکی وجہ سے ہے جمہوریت کی مخالفت کرنے والے اصل اولی کی پیش نظر کررہے ہین .اصلی اولی میں کسی اختلاف نہین ہوناچاہیے .جمہوریت کی موافقت کرنے والے حکم ثانوی کی پیش نظر لذا مورد نفی واثبات الگ الگ ہے.اس کامطلب یہ بھی نہیں جمہوریت نقد واشکال سے مبرا نظریہ ہے ہاں فعلا دنیامیں حکمرانی کے لیے مناسب طرز عمل ہے وحالانکہ اس میں انسان کو گناجاتاہے.
3 عوام کی دخالت بھی حکم رانی میں نظام ولایت کے مطابق بلکل منتفی ہو ایسی بات نہیں ہے فرق اس کا اور مغربی جمہوریت میں یہ ہے اسلامی نظام میں حاکم اسلامی کی حمایت عوام کی شرعی ذمہ داری ہے یعنی حق اللہ ہے جوعوام پرہوتاہے اس حق کو اداکرنے کی ضرورت ہے جس طرح باقی ذمہ داریاں ہوتی ہیں مثلا زکات, خمس... حقدار تک پہنچانا ضروری ہے اگر حقدار کو نادیا تو نہ صرف ذمہ داری ادانہیں ہوگی بلکہ گناہگار بھی .اس طرح حاکم اسلامی کی حمایت ضروری ہے کیونکہ عوام اور اس کی حمایت کےبغیر اسلامی احکام کااختیاری نفاذ ممکن نہیں ہوتاہے.ہاں یہ حمایت ووٹ کی شکل میں یابیعت کی شکل میں یاکسی اور طریقے سے بھی ممکن ہے.
لیکن مغربی جمہوریت میں عوام ہی سب کچھ ہے.اس میں بھی کسی کااختلاف نہین ہے شاید.
4 علی بن یقطین ہو یابحرین کی الوفاق ہو یاحزب اللہ لبنان یا.....جو بھی ہو اصل اولی اور حکم اولی مد نظر ہوتاہے لیکن حکم ثانوی کاموضوع انکی نظر میں محرز ہوتاہے لذا یہاں سے اگے ہماری بحث شروع ہونی چاہیے.
ا.ایاہمارے ملک میں حکم ثانوی کاموضوع محرز ہواہے یانہیں?
ب.اگر حکم ثانوی کاموضوع ثابت ہواہے تو ہمیں کیاکرناچاہیے? یعنی ہماری مصلحت کس چیز میں ہے ?
1 ثقافت,علمی ,تربیتی اوراقتصادی کام انجام دینے علاوہ سیاست میں دخالت کرنی چاہیے یانہیں ?
2 اگر سیاست میں دخالت ضرورت ہے تو طریقہ دخالت کیاہوناچاہیے ?مستقل شیعہ سیاسی پارٹی تشکیل دیکر ہر الیکشن میں حصہ لیناچاہیے?
کسی بڑی پارٹی کی حمایت کرنے کی ضرورت ہے?
لابی گری کرنے کی ضرورت ہے جیساکہ امریکہ میں یہودیوں کی ہے ?
خلاصہ ہماری مصلحت کس میں ہے اس کی تشخیص ایک شخص کی بس کی بات نہیں ہے لذا ماہرفن پر مشتمل ایک کمیٹی ہو جس میں سیاستدان بھی ہوں اہل صحافت بھی اور علمای دین بھی یہ کمیٹی مصلحت کی تشخیص دے تو زیادہ مناسب ہوگا.

حلیمی

ولادت معصومین پر مدلل تحریر


* *معصومین کی ولادت ہوتی ہے نہ کہ ظہور، قرآن، حدیث و علماء کی نظر میں* *

ہم ایک ایسے زمانے میں پیدا ہوئے ہیں جس میں بدقسمتی سے دین میں تبدیلیاں کی جا رہی ہیں اور نئے سے نیا مسئلہ پیدا کیا جا رہا ہے۔چنانچہ ایسے ہی آج کل ایک فتنہ چلا ہوا ہے کہ معصومینؑ کی *ولادت* نہیں ہوتی بلکہ انکا *ظہور* یا پھر *نزول* ہوتا ہے۔ ہم اپنے اس آرٹیکل میں اس موضوع پر قرآن، حدیث اور علماکی طرف رجوع کرتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ اصل میں کونسا عقیدہ درست ہے ؟

سب سے پہلے آپ کو غالیوں کی تحریر پڑھاتے ہیں۔

ایک غالی لکھتا ہے:

*"مقصرین معصومین کی بطور ولادت کے قائل ہیں۔ اسی لئے مقصرین ملاں مجالس میں ولادت کا لفظ بولتے ہیں کبھی ظہور کا ذکر نہیں کریں گے۔"*

ایک او بدزبان غالی لکھتا ہے:

*"اصولی مجتہدین معصومین کی بطور بشر ولادت کے قائل ہیں۔ اسی لئے اصولی علما مجالس میں ولادت کا لفظ بولتے ہیں کبھی ظہور کا ذکر نہیں کریں گے۔ شیعان مولا علی کا ایمان ہے کہ معصومین اپنی والدہ کے پہلو میں ظہو ر فرماتے ہیں۔ ان پر کسی بشری پہلو یا صفت (صلب،بطن، حمل،ولادت) کا اطلاق نہیں ہوتا۔"*

ہم نے ان کتب کے نام اس لئے نہیں لکھے تا کہ فتنہ نہ پھیل سکے اور یہ گمراہ کتب عوام کالانعام کے ہاتھ نہ لگ سکیں۔ عزیزان اس نام نہاد عقیدے پر ان مصنفین نے کوئی فرمان نہیں ہمیں دکھایا۔ بلکہ *سورہ الطلاق آیت 10۔11، سورہ الاعراف آیت 157* لکھ کر اپنی مرضی سے اس کی غلط تفسیر کی ہے۔ ہم انشااللہ اپنے اس آرٹیکل کے اختتام پر ان آیات کے متعلق عرغ کریں گے۔ اب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ کیا ان لوگوں کا یہ عقیدہ صحیح ہے ؟

سب سے پہلے ایک اہم وضاحت کرنا چاہوں گا کہ ان لوگوں نے ہم پر جھوٹ باندھا ہے اور تحمت لگائی ہے کہ ہمارا عقیدہ ہے کہ آئمہ کی ولادت ہماری طرح ہوتی ہے۔جبکہ ہم آئمہ کی پاک و پاکیزہ، طاہر و مطہر ولادت کے قائل ہیں اور اس آرٹیکل میں اس موضوع پر فرامین بھی پیش کئے جائیں گے۔ دوسری بات یہ کہ ان غالیوں نے ان علماء کی ایک فہرست دی ہے جن پر انہیں اعتبار ہے۔ وہ علماء یہ ہیں:

*"محمد بن حسن الحرعاملی، علامہ مجلسی، علامہ بحرانی، ملا محسن فیض کاشانی۔* آپ یہ نام یاد کر لیا۔ ہم اپنے اس آرٹیکل میں انہی علماء کے حوالہ جات کثرت سے دیں گے تا کہ یہ لوگ پھر بھاگ نہ سکیں۔"

سب سے پہلے قرآن پر ایک نظر:

*1*. حضرت زکریا (ع) فرماتے ہیں:

*و انی خفت الموالی من وراء ی وکانت امراتی عاقرا فھب لی من لدنک ولیا۔*

"اور میں (اپنے مرنے کے بعد) اپنے وارثوں سے سہما جاتا ہوں (کہ مبادا دین کو برباد نہ کریں) اور میری بیوی (ام کلثوم بنت عمران)بانجھ ہے پس تو مجھ کو اپنی بارگاہ سے ایک جانشین (فرزند) عطا فرما۔" *(سورہ مریم آیت 5)*

اب یہاں پر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر ا ن لوگوں کاظہور ہوتا ہے تو پھر اس میں کیا مسئلہ تھا کہ ان کی بیوی بانجھ تھیں ؟

*2. فحملتہ فانتبذت بہ مکانا قصیا۔ فا اجاء ھا المخاض الی جذع النخلتہ۔۔ ۔ ۔(سورہ مریم آیت 22۔23)*

"غرض لڑکے کے ساتھ وہ آپ ہی حاملہ ہو گئیں۔ پھر اس کی وجہ سے لوگوں سے الگ دور کے مکان میں چلی گئیں (پھر جب جننے کا وقت قریب آیا) تو درد زہ انہیں ایک کھجور کی جڑمیں لے آیا۔"

یہ واقعہ حضرت مریم (ع) کا ہے۔ آپ لوگ دیکھیں کہ یہاں پر اللہ نے *حمل* کا لفظ استعمال کیا ہے اور درد زہ کا بھی ذکر کیا ہے۔ اب اگر حضرت عیسی کی ولادت نہ ہوتی بلکہ ظہور ہوتا آسمانوں سے تو پھر یہ حمل اور درد زہ کے الفاظ کے کیا معنی ہیں ؟

*3. حملتہ امہ کرحا و وضعتہ کرھا۔ (سورہ الاحقاف آیت 15)*

"اس کی ماں نے رنج کی ہی حالت میں اس کو پیٹ میں رکھا۔"

یہ آیت حضرت امام حسین (ع) کی شان میں نازل ہوئی ہے با فرمان امام صادق (ع)۔

ملاحظہ کریں:

*1. الکافی، شیخ کلینی، جلد 1، صفحہ 464 طبع بیروت،*
*2۔ تفسیر صافی، شیخ محسن کاشانی، جلد 3، صفحہ 317 طبع بیروت،*
*3۔ تفسیر نورالثقلین، شیخ عبد العلی جمعہ، جلد 7، صفحہ 419 طبع لاہور، **
*4۔ جلاء العیون، علامہ مجلسی، صفحہ 479 طبع تہران۔*

اس آیت میں اللہ نے *"حمل"* کا بھی لفظ استعمال کیا ہے اور ساتھ میں *"ماں کے پیٹ"* کے الفاظ بھی ہیں۔ یعنی کہ اگر آپ عقیدہ ظہور رکھتے ہیں تو پھر امام حسین (ع) کی شان سے یہ آیت گئی افسوس !

حدیث کا فیصلہ

سب سے پہلے ہم یہاں پر وہ احادیث نقل کریں گے جن میں آئمہ نے فرمایا ہے کہ ہم اپنی ماؤں کے صلب میں ہوتے ہیں۔

حضرت امام جعفر صادق (ع) کے ایک انتہائی قابل قدر صحابی امام موسی کاظم (ع) کی ولادت کا واقعہ اس طرح بیان کرتے ہیں:

*1۔ذکرت انہ سقط من بطنھا حین سقط و اضعا یدیہ علی الارض۔*

"جب وہ بطن سے جدا ہوئے تو اپنے دونوں ہاتھ زمین پر رکھے اور سر آسمان کی طرف اٹھایا۔"

*(الکافی، شیخ کلینی، جلد 1، صفحہ 385 طبع بیروت)*

یہ ایک طویل واقعہ ہے اور اس میں یہ اتنے بڑے صحابی امام بار بار ولادت کا لفظ بھی استعمال کر رہے ہیں اس کے علاوہ امام نے حمل کا لفظ بھی استعمال کیا ہے۔

*2۔* حضرت

امام جعفر صادق (ع) ہی فرماتے ہیں:

*فیمکث فی الرحم اربعین یوما لا یسمع الکلام ثم یسمع الکلام بعد ذلک۔*

"امام چالیس دن رات اس طرح شکم مادر میں رہتا ہے وہ کسی کی آواز نہیں سنتا اور اس کے بعد وہ آواذ سننے لگتا ہے۔"

*(الکافی، شیخ کلینی، جلد 1, صفحہ 387، طبع بیروت)*

*3*۔ حضرت امام جعفر صادق (ع) فرماتے ہیں:

*الاوصیاء اذا حملت بھم امہاتھم اصابھا فترۃ شبہ الغشیہ*

"جب اماموں کی مائیں حاملہ ہوتی ہیں تو ان کو ایک قسم کی غشی سی ملتی جلتی لاحق ہوتی ہے۔"

*(الکافی، شیخ کلینی، جلد 1, صفحہ 387 طبع بیروت)*

*4۔* حضرت امام علی رضا (ع) امام کی صفات بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ امام کی جملہ صفات میں سے ایک صفت یہ ہے کہ :

*واذا وقع علی الارض من (بطن) امہ وقع علی راحتیہ رافعا صوت بالشہادۃ*

"شکم مادر سے جب زمین پر آئے گا تو اپنی ہتھیلیوں کے سہارے بیٹھے گا اور شہادتین کے لئے اپنی آواز بلند کرے گا۔"

*(خصال، شیخ صدوق، صفحہ 528 طبع قم، احتجاج, شیخ طبرسی، صفحہ 509 طبع قم، معانی الاخبار، شیخ صدوق، صفحہ 102 طبع قم)*

یہ چیز امام کی صفت ہے اور اگر آپ اس صفت کا انکار کر رہے ہیں تو پھر امامت کیا رہ جائے گی ؟

*5۔* حضرت امام جعفر صادق (ع) فرماتے ہیں:

*فا ان الامام یسمع الکلام فی بطن امہ*

"امام شکم مادر میں آواز سنتا ہے۔"

*(بصائر الدرجات، شیخ صفار، صفحہ 543 طبع قم،بحار، علامہ مجلسی، جلد 25 صفحہ 431 طبع قم)*

*6۔* حضرت امام جعفر صادق (ع) فرماتے ہیں:

*لا تتکلمو ا فی الامام فان الامام یسمع الکلام وھو جنین فی بطن امہ*

"امام کے مقام و منزلت کے بارے میں گفتگو نہ کریں کیونکہ امام وہ ہوتے ہیں جو شکم مادر میں بھی سنتے ہیں۔"

*(بصائر الدرجات، شیخ صفار، صفحہ 564 طبع قم، تفسیر الصافی, شیخ محسن کاشانی، جلد 1 ص 497 طبع بیروت)*

بصائر الدرجات میں امام کے اسی قسم کے *11* فرامین ہیں اس باب میں جب کہ ہم نے صرف دو کا ترجمہ آپ کی خدمت میں پیش کیا ہے۔

*7۔* کتاب *علل الشرائع* میں ایک پورا باب ہے جس کا نام ہے :

*"العلۃ التی من اجلھا لم یتکلم النبی بالحکمہ حین خرج من بطنہ امہکما تکلم عیسی"*

"وہ سبب جس کی بنا پر رسول اللہ (ص) نے ماں کے پیٹ سے پیدا ہوتے ہی کلام کیوں نہیں کیا جیسا کہ عیسی نے کیا۔" *(باب 70, صفحہ 79 طبع قم)*

اس باب میں بھی پوچھنے والے نے رسول اللہ کے لئے شکم مادر کے الفاظ ہی استعمال کئے ہیں جب کہ رسول اللہ نے اسے روکا نہیں۔

*8۔* حضرت امام علی ابن ابی طالب (ع) کی ولادت کے وقت ان کی والدہ جناب فاطمہ بنت اسد نے جو دعا فرمائی وہ اس طرح تھی:

*ربی انی مومنہ بک و بما جاء من عندک من رسل و کتب مصدقہ بکلام جدی ابراہیم فبحق الذی بنی ھذا البیت و بحق المولود الذی فی بطن لما یسرت وعلی ولادتی*

"خدا وندا میں ایمان لائی ہوں تجھ اور ان چیزوں پر جو تیرے رسول لائے اور ان کتابوں پر جو مصدقہ ہیں میرے جد ابراہیم کی پس واسطہ اس کے حق کا جس نے اس گھر کو بنایا اور اس مولود کے حق کا واسطہ جو میرے شکم میں ہے میرے اوپر ولادت کی سختی کو آسان کر۔"

*(مناقب ابن شہر آشوب، جلد 2، صفحہ 173 طبع بیروت، امالی صدوق صفحہ 195 طبع قم، الدمعتہ الساکبہ، شیخ بہائی، جلد 1, صفحہ 180 طبع لاہور)*

*9۔* آئمہ سے مروی زیارت وارثہ میں آئمہ (ع) کو اس طرح یاد کیا گیا ہے:

*اشھد انک کنت نورا فی الاصلاب الشامخۃ والارحام المطھرۃ*

"میں گواہی دیتا ہوں بے شک آپ وہ نور ہیں جو بلند مرتبہ صلبوں اور پاک و پاکیزہ رحموں میں منتقل ہوتا آیا۔"

*(مفاتیح الجنان، شیخ عباس قمی، صفحہ 794 طبع تہران)*

قارئین ہم نے آپکی خدمت میں آیات اور فرامیں حاضر کئے ہیں جن میں آپ دیکھ سکتے ہیں کہ آئمہ نے بارہا یہی فرمایا ہے کہ وہ اصلاب میں منتقل ہوتے ہیں ہمارے پاس اس موضوع پر اور بھی بہت سے فرامین ہیں لیکن طوالت کے خوف سے ہم انہیں یہاں پر نقل نہیں کر رہے۔

اب ہم آپ کی خدمت میں چند ایسے فرامین پیش کریں گے جن میں مولود کا لفظ آئمہ نے اپنے لئے استعمال فرمایا ہے نہ کہ ظہور کا۔ جو فرامین ہم نے اوپر پیش کئے ہیں ان میں بھی آئمہ نے اپنے لئے مولود کا لفظ ہی استعمال کیا ہے لیکن ان کے علاوہ ہم یہاں پر صرف اسی پر ہی فرمان پیش کریں گے۔

*10*۔ امام زمان (عج) کے نائب خاص علی بن محمد سے روایت ہے کہ:

*ولد الصاحب علیہ السلام للنصف من شعبان*

"امام زمان (عج) کی ولادت نصف شعبان میں ہوئی۔"

*(اکمال الدین، شیخ صدوق، صفحہ 430 طبع قم)*

*11۔* حضرت امام جعفر صادق (ع) کے معتبر صحابی ابو بصیر کہتے ہیں:

*کنت مع ابی عبدللہ فذکر شیئنا من امر الامام اذا یولد قال۔ ۔ ۔ ۔*

"ابوبصیر کہتے ہیں کہ میں امام ابوعبدللہ کے ساتھ تھا تو امام کی ولادت کے بارے میں کسی چیز کا ذکر ہوا تو فرمایا۔ ۔ ۔"

*(بصائر الدرجات، شیخ صفار، صفحہ 603 طبع قم)*

*12*۔ حضرت امام حسین (ع) کی ولادت کے موقعے پر ایک فرشتہ فطرس کو شفا ملنا ۔ رسول اللہ نے فطرس کو فرمایا کہ شفا حاصل کرنے کے

لئے یہ عمل انجام دو:

*فمسح بھذا المولود*

"اس مولود کے جسم سے اپنے پر کو مس کرو۔"

*(الخرائیج، شیخ راوندی، جلد 1، صفحہ 252 طبع قم، امالی صدوق، 201، جلاء العیون، علامہ مجلسی، صفحہ 477 طبع تہران، اثبات الھداۃ, شیخ حر عاملی، جلد 4, صفحہ 45 طبع بیروت)*

*13۔* حضرت امیر المومنین امام علی (ع) کی زیارت میں ہے:

*اسلام علیک یا من ولد فی الکعبہ (مفاتیح الجنان، شیخ عباس قمی، صفحہ 700 طبع تہران)*

*14۔ الھم انی اسالک بالمولود دین فی رجب محمد بن علی ثانی ۔ ۔ ۔*

*(مفاتیح الجنان، شیخ عباس قمی، صفحہ 268 طبع تہران و بحار الانوار وغیرہا)*

*15*۔ امام حسین (ع) کی ولادت کے دن دعا جو تعلیم ہوئی:

*الھم انی اسالک بحق المولود فی ھذا الیوم الموعود۔ ۔ ۔*

*(مفاتیح الجنان، شیخ عباس قمی، صفحہ 319 طبع تہران)*

*16.* حضرت امام جعفر صادق (ع) فرماتے ہیں:

*"ایک مرتبہ بشار امام جعفر صادق (ع) کے پاس آیا تو آپ نے فرمایا کہ یہاں سے نکل جا. تو ملعون ہے. میں تیرے ساته ایک چهت کے نیچے جمع نہیں ہو سکتا. وہ اٹه کر چلا گیا تو آپ نے فرمایا کہ خدا اسے غارت کرے. اس نے خدا کی بهی توہین کی ہے. یہ شیطان ابن شیطان ہے. میرے شیعوں کو گمراہ کرنا چاہتا ہے. میں اللہ کا بندہ یوں. اصلاب و ارحام کی منزلوں سے گزرا ہوں. مجهے بهی ایک دن مرنا ہے اور میدان حشر میں جواب دینا ہے."*

*(حضرت امام جعفر صادق و مذاہب اربعہ، استاد اسد حیدر نجفی، صفحہ 247)*

امام (ع) یہاں پر خود فرما رہے ہیں کہ میں ارحام کی منزلوں سے گزرا ہوں۔ اور بشار پر لعنت فرما رہے ہیں۔ تھوڑا سوچئے کہ آٗئمہ (ع) کتنے حساس تھے ایسے موضوعات پر اور آج ہم ۔ ۔ ۔ ۔

یہاں پر ہم فرامین کا اختتام کر رہے ہیں کیونکہ پوسٹ ذیادہ طویل ہو گئی ہے جبکہ اسی موضوع پر ہمارے پاس بیسیوں فرامین اور بھی ہیں۔

اب ہم چند علماء جن کی یہ ملنگ لوگ بہت عزت کرتے ہیں (عوام کو پاگل بنانے کے کئے) ان کا ذکر کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنی اپنی کتب میں آئمہ کے متعلق کیا ظہور کا باب باندھا یا پھر ولادت کا ؟

*1*۔ سب سے پہلے شیخ کلینی جن کی وفات امام زمان (عج) کی غیبت صغری میں ہوئی اور جن کی حدیث کی کتاب اب مذہب شیعہ کی پہچان بن چکی ہوئی ہے۔ آپ اپنی کتاب الکافی میں آئمہ کی ولادت کاباب اس طرح باندھتے ہیں:

*"باب موالید الائمہ" صفحہ 385 طبع بیروت۔*

اسی طرح آپ ہر امام کی ولادت کا باب اس طرح باندھتے ہیں:

*"باب مولد امیرالمومنین" صفحہ 452، باب "مولد الزھراء فاطمہ" صفحہ 458 وغیرہا)*

*2*۔ نہج البلاغہ جیسی مشہور و معروف کتاب کے مصنف *سید رضی خصائص امیرالمومنین صفحہ 39 طبع بیروت* میں لکھتے ہیں:

*ولد علیہ السلام بمکہ فی البیت الحرام ۔۔ ۔ ۔ ۔ولدہ ہاشمی مرتین ولا نعلم مولود ولد فی الکعبہ وغیرہ*

"امیر المونین خانہ کعبہ میں پیدا ہوئے ۔ ۔ ۔آپ کی والدہ حضرت فاطمہ بنت اسد ہیں ۔ آپ پہلے ہاشمی ہیں جو سلسلہ نسب میں نجیب الطرفین ہیں، آپ کے علاوہ کوئی خانہ کعبہ میں پیدا نہیں ہوا۔"

*3۔* علامہ مجلسی نے بھی اپنی کتب میں یہی باب باندھے ہیں جیسے:

*"در بیان تاریخ ولادت و شھادت امیر المومنین" جلاء العیون صفحہ 288 طبع تہران۔*

اس کے علاوہ بحار الانوار میں بھی آپ نے یہی باب باندھے ہیں نہ کہ ظہور یا نزول کے باب۔ اس کے علاوہ علامہ مجلسی نے *حق الیقین جلد 1 صفحہ 54* پر آئمہ کے ارحام و اصلاب ہی لکھا ہے۔ اب آپ لوگ دیکھ لیں کہ جن علماء کا یہ لوگ نام لیتے ہیں وہ علماء بھی انکے ہم خیال نہیں ہیں۔ یہ لوگ عوام کو پاگل بنانے کے لئے صرف علماء کا نام لیتے ہیں۔

ظہور کے لئے جن آیات کا یہ لوگ حوالہ دیتے ہیں ان میں آئمہ کی ولادت کا کوئی تذکرہ ہی نہیں ہے اور نہ ہی کسی امام نے ان آیات کی تفسیر میں کوئی ایسی بات فرمائی ہے۔ جب کے ہم نے آپ کی خدمت میں متعدد فرامین پیش کئے ہیں جن میں ولادت کا لفظ ہی استعمال کیا گیا ہے۔ لہذا یہ ان لوگوں کی تفسیر بالرائے ہے جسے آئمہ (ع) نے سختی سے روکا ہے۔اگر اسی طرح آیات کی من مانی تفسیر کرنا شروع ہو گئے تو پھر آئمہ کا کیا فائدہ ؟ آپ حضرات خود ان آیات کی تفسیر پڑھیں اور پھر دیکھیں کہ کیا ان آیات کا کوئی ربط ہے ان نظریات سے جن کا یہ لوگ پرچار کر رہے ہیں اور ان آیات کو استعمال کر رہے ہیں۔ اور پھر ایک طرف اللہ قرآن میں ہی معصومین کے لئے حمل اور درد ذہ کے الفاظ استعمال کر رہا ہے اور دوسری طرف ظہور کے لفظ استعمال کر رہا ہے یہ کیسا تضاد ہے قرآن میں ؟ اور پھر آئمہ (ع) اتنے کثیر فرامین میں ظہور کا نہیں بلکہ ولادت کا ہی ذکر کر رہے ہیں۔ آپ لوگ سوچیں کہ آپ لوگوں کی ان باتوں سے امامت پر کیسی آنچ آرہی ہے۔

قارئین ہم نے آپ کی خدمت میں قرآن ، احادیث اور علماء (جن میں غالیوں کے پسندیدہ بھی شامل ہیں)کے بیانات سے ثابت کر دیا ہے کہ آئمہ کی ولادت ہوتی ہے ان کا ظہور نہیں ہوتا اور اگر یہ لفظ غلط ہوتا تو پھر آئمہ اور ان کے اصحاب اور علماء یہ لفظ کیوں استعمال کرتے ؟ آپ سب ن

ے دیکھ لیا کہ ولادت کو لفظ استعمال کرنے پر کسی کو مقصر کہنا یا پھر گالی دینے کا مطلب یہ کہ آپ نعوذباللہ آئمہ اور ان کے اصحاب کو غلط کہہ رہے ہیں اور ان کی توہین کر رہے ہیں۔ کیا آج کل کے لوگ 1400 سال بعد دین کو ان ہستیوں سے ذیادہ جانتے ہیں ؟ اور پھر اگر ہم ان کے ظہور کا عقیدہ مان لیں تو کیا آپ جانتے ہیں کہ پھر ہمیں شہادت حضرت محسن (ع) جن کا ذکر ہم 1400 سال سے کر رہے ہیں ان سے بھی ہاتھ دھونا پڑے گا کیونکہ جب یہ ہستیاں اپنی والدہ کے شکم میں ہی نہیں ہوتیں تو پھر کسی کے دروازہ گرانے سے حضرت محسن کیسے شہید ہو گئے ؟ اگر ہم نے اپنے ذہن سے ہی دیکھنا ہے تو پھر آئمہ کو اسی خاک میں دفن کرنا جہاں پر سب کو دفن کیا جاتا ہے یہ بھی آئمہ کی توہین ہوئی۔ آئمہ کو تو دفنانا ہی نہیں چاہئے تھا بلکہ انہیں تو ہیرے و جواہرات کے صندوقوں میں رکھنا چاہئے تھا اور پھر ظہور کا لفظ امام زمان (عج) کے لئے خاص ہے اگر ہم اس لفظ کو ہر امام کے لئے استعمال کرنے لگ گئے تو پھر امام زمان (عج) کی خصوصیت ہی ختم ہو جائے گی۔

آج کل کچھ وہابی نما بریلووں نے رسالے لکھنے شروع کئے ہیں کہ امام علی (ع) مولود کعبہ نہیں ہیں۔ ان کے جواب میں بریلوی علماء نے ہی شاندار تحقیقات کر کے ان کا ناطقہ بند کر دیا ہے جیسا کہ پیر عظمت علی شاہ صاحب کی کتاب اس موضوع پر اس کے علاوہ مولود کعبہ نمبر وغیرہا۔ دوسری طرف ہم جو صدیوں سے یہ عقیدہ رکھتے آرہے ہیں آج تبدیل کر کے ظہور کعبہ کہہ رہے ہیں۔ کس قدر افسوس کی بات ہے کہ ہم نے آل محمد کو اپنے ذہن کے مطابق سمجھ لیا ہے اور جب لوگوں کو روکا جائے تو کوئی کہتا ہے کہ ایک لفظ تبدیل کرنے سے کیا ہو جاتا ہے۔ انہی لوگوں سے سوال ہے کہ آپ لوگوں نے دیکھ لیا کہ ایک لفظ تبدیل کرنے سے کتنے فضائل سے ہاتھ دھونے پڑیں گے، آئمہ کی صفات سے ہاتھ دھونے پڑیں گے اور کس قدر حیرت اور افسوس کی بات ہے کہ آپ مانتے حسین (ع) کو ہیں لیکن دلیل یہ دیتے ہیں کہ ایک لفظ سے کیا فرق پڑھ جاتا ہے۔ کیا آپ کے نزدیک آئمہ کی یہی حیثیت ہے کہ آپ ان کے فرامین کو اس طرح چھوڑیں ؟ کیا ایک لفظ کو تبدیل کرنا آپ کے لئے کوئی معنی نہیں رکھتا ؟ بعض لوگ ڈر کے مارے ظہور کہتے ہیں کیونکہ انہیں پتہ ہے کہ اگر انہوں نے ولادت کہا تو لوگ لعن کریں گے۔ افسوس ہے کہ آپ اس حسین (ع) کے چاہنے والے ہیں جس نے اپنا سب کچھ اس راہ میں لٹا دیا اور ایک آپ ہیں آج جو حق کو صرف اس لئے چھوڑ رہے ہیں کہ آپ کو لوگوں کی مخالفت کا ڈر ہے !!

آخر میں آپ سب کے لئے ایک انتہائی سبق آموز اور عبرت انگیز واقعہ پیش کر رہا ہوں۔

*"امام جعفر صادق (ع) فرماتے ہیں کہ گزشتہ زمانے میں ایک شخص حلال طریقے سے دنیا کمانا چاہتا تھا لیکن اس پر قادر نہ ہوااور حرام طریقے سے دنیا کمانے لگ گیا۔ لیکن اس پر بھی قادر نہ ہوا اس کے پاس شیطان نے آ کر کہا اے شخص تم نے دنیا کو حلال طریقے سے کمانا چاہا مگر کامیاب نہ ہو سکے اور جب حرام سے کمانا چاہا تب بھی کامیابی نصیب نہ ہوئی کیا میں تجھے ایسا طریقہ نہ بتاوں جس سے تیرا مال ودنیا ذیادہ ہو جائےاور تیرے چاہنے والوں کی بھی کثرت ہو کہنے لگا کیوں نہیں غرور بتاو۔ شیطان نے کہا ایک نیا دین ایجاد کر لو اور لوگوں کو اس کی طرف دعوت دو اس شخص نے ایسا ہی کیا ۔ لوگ جوق در جوق اس کے پاس آنے لگے اور س کی اطاعت کرنے لگے اور اس کی دنیا بھی آباد ہو گئی۔ پھر جب اس نے غور و فکر کیا تو خود سے کہنے لگا میں نے بہت برا کیا ہے۔ ایک نیا دین بھی گھڑا ہے اور لوگوں کو اس دین کی دعوت بھی دی ہے اور اب توبہ کا ایک ہی راستہ ہے کہ جب لوگ میرے پاس آئیں تو انہیں واپس بھیج دوں۔ بارحال جونہی اس دعوت پر لبیک کہنے والے اس کے پاس آتے تو وہ کہتا جس چیز کی طرف میں نے تمھیں دعوت دی ہے وہ میں نے خود گھڑا ہے۔ وہ کہتے تم جھوٹ بول رہے ہوتمھارا دین حق ہے صرف اتنا ہوا کہ تم اس دین میں شک کر بیٹھے اور اب واپس لوٹنا چاہتے ہو ۔ اس وقت اس نے زمین میں میخ ٹھونک کر اس کے ساتھ زنجیر باندھ لی اور اپنی گردن میں ڈال دی اور کہا کہ جب تک مجھے خدا معاف نہیں کرے گا میں اسے اپنی گردن سے نہ نکالوں گا۔ خدا نے اپنے انبیا میں سے ایک نبی کی طرف وحی کی کہ اس کے پاس جا کر کہو کہ خدا کہتا ہے مجھے اپنی عزت کی قسم اگر تم مجھے اتنا پکارو کہ تمھارے بدن کے جوڑ الیحدہ ہو جائیں میں تب بھی تمہیں معاف نہ کروں گا البتہ جنہوں نے تمھارا دین اختیار کیاتھا اور اب مر چکے ہیں انہیں زندہ کر کے اس دین سے واپس لوٹا سکتے ہو تو تب میں تمہیں معاف کروں (یعنی تمھاری معافی نا ممکن ہے)"*

*(ثواب الاعمال و عقاب الاعمال، شیخ صدوق، صفحہ 555ِ طبع قم)*

آپ سب اس فرمان پر غور کریں کہ دین میں کوئی نئی چیز ڈالنا یا تحریف کرنا کتنا بڑا نا قابل معافی جرم ہے۔

اگر آپ کو ہماری چھوٹی سی محنت پسند آئے تو مومنین کو بھی پڑھائیں اور اپنے آپ کو صراط مستقیم پر ثابت قدم رکھیں۔ آئمہ نے اپنے خون سے اس مذہب کو سینچا ہے لہذا آپ لو

گ آئمہ کی محنتوں پر اس طرح پانی نہ پھیریں