پیغام کربلا آخر ہے کیا؟؟

V⭕N
.........
*پیغام کربلا آخر ہے کیا؟*
✍ *نذر حافی*
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔⭕
nazarhaffi@gmail.com
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

انسان آج بھی جب تاریخ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھتا ہے تو اسے دور دور تک لق و دق صحرا میں گھوڑوں کی ٹاپوں سے اٹھتے ہوئے گرد و غبار کے درمیان سونتی ہوئی تلواروں، ٹوٹی ہوئی ڈھالوں اور پاش پاش لاشوں کے درمیان میں ٹوٹی ہوئی تلوار کی ٹیک لگا کر بیٹھا ہوا ایک ایسا شخص نظر آتا ہے، جس کے استغاثے کی آواز چاروں طرف پھیلے ہوئے لشکر اعداء کے سینے کو چیر کر آفاق ہستی کے قلب و جگر میں اتر رہی ہے۔ چودہ سو برس گزر گئے، مارنے والے اسے مار رہے ہیں، کوئی زبان کے نشتر چبھو رہا ہے، کوئی تیر پھینک رہا ہے، کوئی تلوار کے وار کر رہا ہے، کوئی پتھر مار رہا ہے۔۔۔۔۔ لیکن کوئی نہیں، کوئی نہیں۔۔۔ جو اس کی آواز پر آواز دے، جو اس کی پکار پر لبیک کہے، وہ چودہ صدیوں سے تاریخ بشریت کے صفحات میں تنہا ہے اور بس تنہا ہے۔ یوں تو اس کے گھر کی ہر چیز 10 محرم کو لوٹ لی گئی تھی، لیکن اس کا سر تن سے جدا ہونے کے بعد اس پر جو مظالم ڈھائے گئے، انہیں کسی مورخ نے ضبط تحریر میں نہیں لایا، کسی ادیب نے قلمبند نہیں کیا اور کسی شاعر نے شعری سانچے میں نہیں ڈھالا۔ 

یہ ایسا مظلوم ہے کہ جس کے مال و متاع کو دشمنوں نے لوٹا اور جس کے درد و غم، فکر و دانش، عزت و شرف اور پیغام و تحریک کو اپنوں نے سبوتاژ کیا۔ کسی نے اس مظلوم کے غم کو معاش کا ذریعہ بنایا، کسی نے اس کے ماتم کو نام و نمود کا وسیلہ بنایا، کسی نے اس کی تحریک کے لیبل کو اپنی کامیابی کا زینہ بنایا، کسی نے اس کے دین کو اپنا پیٹ پالنے کا سہارا بنایا۔ یہ وہ مظلوم ہے جس کی سسکیاں آج بھی فضاوں میں سنائی دے رہی ہیں اور جس کے گوشت کے چیتھڑے بازاروں میں بک رہے ہیں، مگر کوئی نہیں جو اس ظلم کے خلاف احتجاج کرے، کوئی نہیں جو اس سفاکیت کے خلاف اپنی زبان کھولے، کوئی نہیں جو ریاکاری، جھوٹی دینداری اور فریبی انقلابیت کے خلاف اپنا قلم اٹھائے۔ کوئی نہیں، کوئی نہیں "حسین (ع) کل بھی تنہا تھے، حسین (ع) آج بھی تنہا ہیں۔"

قارئین محترم۔۔۔۔۔ اپنی اصلاح اور تذکیہ نفس کے بغیر معاشرے کی اصلاح کے نعرے لگانا، حسینیت نہیں ہے اور دین کے نام پر پیسے بٹورنا، کوٹھیاں، بلڈنگیں، محلات، گاڑیاں، بینک بیلنس اور جائیدادیں بنانا بھی حسینیت نہیں ہے۔ حسینیت تو یہ ہے کہ انسان سب سے پہلے اپنی اصلاح کرے، اپنا تذکیہ نفس کرے اور راہ خدا میں سب سے پہلے اپنا گھر بار قربان کرے اور پھر دوسروں کو بھی اسی طرح قربانی کی دعوت دے۔ ہاں یہ لوگ حسینی ہیں اور حسینی ایسے ہی ہوتے ہیں، انجمنوں کے عہدے، ٹرسٹوں کے ڈھانچے، نعروں کے چربے، پوسٹروں کے انبار اور ریلیوں کے اجتماعات کسی کو حسینی نہیں بنا سکتے۔ حسینی بننے کے لئے کسی فنڈ اور کسی امداد کی ضرورت نہیں بلکہ خلوص نیت، طہارت نفس اور جذبہ ایثار کے ساتھ خود میدان میں اترنے کی ضرورت ہے۔ اگر ہم نے دین کو رقم سمیٹنے اور نام و نمود کا ذریعہ بنا لیا ہے تو پھر ہمارا حسینیت سے کوئی تعلق نہیں اور ہم بھی حسینیت کے راستے میں کھڑی ایک دیوار ہیں۔

جب کوئی انسان خلوص نیت اور تذکیہ نفس کے ساتھ میدان عمل میں اترتا ہے تو پھر وہ ٹرسٹوں کے عہدوں، انجمنوں کے چندوں اور تنظیموں کے پوسٹروں کے چکروں میں نہیں پڑتا۔ پھر وہ دین کو غریب بنا کر، مسلمان کو فقیر بنا کر اور نعوذ باللہ حضرت امام حسین (ع) کو مسکین بنا کر پیش نہیں کرتا۔پھر وہ حسین ابن علی (ع) کی طرح امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے لئے تن تنہا میدان میں اتر جاتا ہے۔ ہمیں یہ سوچنا چاہیے کہ کیا محرم الحرام کا پیغام نوحہ و ماتم کے سوا کچھ بھی نہیں، اگر ہم نے یہ نہیں سوچا تو پھر کسی مفکر کے بقول:
طوفان نوح سے قبل کے عشروں میں
چھوٹے چھوٹے سیلاب آتے رہے وقفوں کے ساتھ
اور پانی مختلف سطحوں تک چڑھتا رہا
بعض علاقوں میں لوگ سیلاب کے اتنے عادی ہوگئے
کہ وہ خشکی پر بھی کشتیوں میں رہنے لگے
پانی کو قابو میں کرنے کا علم ترقی کرتا گیا
اس سے قبل کبھی اتنے عظیم بند نہ بنائے گئے تھے
جتنے طوفان نوح سے قبل بنائے گئے
ایک معیّن سال میں لوگوں نے سوچا کہ خطرہ ہمیشہ کے لئے ٹل گیا ہے
اس سے اگلے سال
طوفان نوح آیا اور بہا لے گیا
سارے بند اور ان کے معماروں کو

حقیقت پسندانه تحریر

مولانا محمد شفیع اوکاڑوی مرحوم کی یاد میں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مولانا محمد شفیع اوکاڑوی مرحوم کی ایک کتاب سے کچھ اقتباسات پیش کئے جارہے ہیں، تمام مسلمانوں  بالخصوص محقیقین اور کالم نگاروں کو چاہیے کہ وہ بلا تفریق مسلک ماہ محرم میں اس کتاب کا مطالعہ ضرور کریں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 رائٹر:۔ ثاقب اکبر

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

”امام پاک اور یزید پلید“ ایک کتاب کا ٹائٹل ہے، جو معروف اہل سنت عالم مولانا محمد شفیع اوکاڑوی مرحوم کی تالیف ہے۔ اس کتاب کو بہت شہرت حاصل ہے۔ ہمارے پیش نظر اس کا ضیاءالقرآن پبلی کیشنز لاہور کا ستمبر2017ء کا نسخہ ہے۔ مولانا محمد شفیع اوکاڑوی ایک معروف خطیب تھے۔ مولانا کے معروف فرزند مولانا کوکب نورانی اس کی اشاعت کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ انہی کی کوششوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے مئی 1985ء کو نامور اہل سنت عالم سید احمد سعید کاظمی جنھیں غزالی زمان کہا جاتا ہے، نے اس کی تیسری اشاعت کے موقع پر لکھا: "فاضل جلیل حضرت الحاج الحافظ مولانا محمد شفیع صاحب اوکاڑوی کی شہرہ آفاق تصنیف ”امام پاک اور یزید پلید“ کی تیسری اشاعت پر میں مولانا کوکب نورانی کو ہدیہ تبریک پیش کرتا ہوں، حقیقت یہ ہے کہ اس دور پرفتن میں جبکہ سیدنا حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عظیم کارناموں اور ان کے فضائل و محاسن کے بالمقابل یزیدیت کا پرچار کیا جا رہا ہے، اس تالیف منیف کی اشاعت نہایت ضروری اور بے حد مفید ہے۔"

 

کتاب کے آغاز پر مولانا محمد شفیع اوکاڑوی نے امام حسینؑ کو ان القاب سے یاد کیا ہے: "تاجدار کربلا، سیدالشہداء، مظہر شجاعت و سخاوت نبوت، پیکر عشق و محبت و صبر و استقامت، سید شباب اہل جنت، مقصد اہل عقیدت و محبت، ریحان مصطفیٰ، دلبند مرتضیٰ، نور دیدہ مخدومہ کائنات سیدہ فاطمہ زہرا، راحتِ جانِ حسن مجتبیٰ، امام عالی مقام، فخر کونین سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ وارضاہ عنا۔" جیسا کہ اس کتاب کے ٹائٹل سے ہی ظاہر ہے کہ اس میں امام حسین علیہ السلام کے مقام اور حیثیت کو بیان کرنے کے علاوہ یزید کی ماہیت کو آشکار کیا گیا ہے۔ ٹائٹل سے ہی ظاہر ہوتا ہے کہ مولانا کے نزدیک امام حسین علیہ السلام پاک ہیں اور یزید پلید ہے۔ ایسا کیوں نہ ہو کہ قرآن کی آیة تطہیر میں امام حسینؑ اور دیگر پنجتن پاک ؑکے دیگر افراد کے لئے۔۔”یطھر کم تطھیرا“ کے الفاظ آئے ہیں اور ان ہستیوں کو رجس سے دور رکھنے کے الٰہی ارادے کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہ اللہ ہی کا ارادہ ہے کہ جس نے حسین پاکؑ کو یزید پلید کی بیعت سے محفوظ رکھا کیونکہ یزید اس دور کا سراپا رجس تھا۔

 

کتاب میں یزید کی ماہیت کو آشکار کرتے ہوئے مختلف اہل سنت متقدمین، محدثین اور مفسرین کے علاوہ متاخرین کے اقوال سے بھی استفادہ کیا گیا ہے۔ بعض خوارج اور نواصب امام حسینؑ کے قیام کو خروج سے تعبیر کرتے ہیں اور انہیں نعوذباللہ باغی قرار دیتے ہیں۔ ان کے جواب میں حضرت ملا علی قاری کی یہ عبارت نقل کی گئی ہے: "بعض جاہلوں نے افواہ اڑا رکھی ہے کہ حضرت امام حسینؓ باغی تھے تو یہ اہل سنت وجماعت کے نزدیک باطل ہے، شاید یہ خارجیوں کے ہذیانات (بکواس) ہیں، جو راہ مستقیم سے ہٹے ہوئے ہیں۔" مولانا محمد شفیع اس موضوع کو سمیٹتے ہوئے لکھتے ہیں: "الحمدللہ دلائل حقہ شرعیہ سے ثابت ہوگیا کہ حضرت امام حسینؓ کے نزدیک یزید بوجہ فاسق و فاجر ہونے کے ہرگز مسلمانوں کی امامت و سیادت کے لائق نہ تھا۔ (ص ۷۵)

 

مولانا محمد شفیع اوکاڑوی نے اپنی زیر نظر کتاب میں متعدد احادیث رسول سے یزید کی حقیقت کو واضح کیا ہے اور یہ ثابت کیا ہے کہ رسول اللہ نے اسے جہنمی قرار دیا ہے۔ چند ایک احادیث کی طرف ہم اشارہ کرتے ہیں۔ حضرت ابو سعید خدریؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ سے سنا: "وہ ناخلف ساٹھ ہجری کے بعد ہوں گے، جو نمازیں ضائع کریں گے اور شہوات کی پیروی کریں گے تو وہ عنقریب غیّ(جہنم کی ایک سخت وادی) میں ڈالے جائیں گے،(بحوالہ البدایہ والنہایہ،ج۸)۔ حضرت ابو ہریرہؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: "ساٹھ ہجری کے سال اور لڑکوں کی امارت و حکومت سے اللہ کی پناہ مانگو۔" یاد رہے کہ یزید ساٹھ ہجری میں ہی برسراقتدار آیا تھا۔

 

حضرت عبدالحق شاہ محدث دہلوی کی ایک فارسی عبارت کا ترجمہ مولانا نے یوں کیا ہے: "اور حدیث میں آیا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خواب میں دیکھا کہ آپ کے منبر شریف پر بندر کھیل کود رہے ہیں، آپ نے اس خواب کی تعبیر بنی امیہ ہی کو قرار دیا۔ اس کے علاوہ اور بہت سی باتیں ہیں کیا کہا جائے۔"(ص۰۷) مولانا محمد شفیع اوکاڑوی نے امام حسینؑ کے بارے میں لکھا ہے کہ انہوں نے عزیمت کا راستہ اختیار کیا ہے۔ اس کے لئے انہوں نے کئی ایک احادیث کا حوالہ دیا ہے اور پھر امام حسینؑ کے اپنے خطبات بھی نقل کئے ہیں، جن سے ان کے قیام کا مقصد آشکار ہوتا ہے۔ مولانا نے نبی کریم کے اس فرمان کا حوالہ دیا ہے کہ آپ فرماتے ہیں: "افضل جہاد اس کا ہے جو ظالم بادشاہ کے پاس حق بات کہے۔" (بحوالہ ترمذی، ابوداﺅد، ابن ماجہ و مشکوة)

 

مولانا نے ایک اور حدیث کا حوالہ دے کر یہ ثابت کیا ہے کہ یزید جیسے حکمرانوں کی مدد کرنے والے کو رسول اللہ نے سخت وعید کی ہے، چنانچہ انہوں نے حضرت کعب بن عجرہؓ سے مروی ایک حدیث نقل کی ہے ہم انہی کا ترجمہ پیش کرتے ہیں: "اے کعب بن عجرہ! میں تجھ کو بیوقوفوں کی حکومت سے اللہ کی پناہ میں دیتا ہوں۔ میں نے عرض کی یارسول اللہ! وہ بیوقوفوں کی حکومت کیا ہے؟ فرمایا عنقریب ایسے امراء ہوں گے کہ بات کریں گے تو جھوٹ بولیں گے اور عمل کریں گے تو ظلم کریں گے، پس جو ان کے پاس آکر ان کے جھوٹ کی تصدیق کرے گا اور ان کے ظلم پر ان کی مدد کرے گا تو وہ مجھ سے نہیں اور میں اس سے نہیں ہوں اور نہ وہ کل (قیامت کے دن) میرے حوض پر آئے گا اور جو ان کے پاس نہیں آئے گا اور نہ ان کی تصدیق کرے گا اور نہ ان کے ظلم پر ان کی اعانت کرے گا، وہ مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں اور وہ کل قیامت کے دن میرے حوض پر آئے گا۔"(بحوالہ کنزالعمال) مولانا نے یہ حدیث لکھنے کے بعد ایک بہت قابل توجہ نکتہ لکھا ہے: "امام حسینؓ کی شان میں حضور کا فرمان ہے "حسین منی وانا من حسین" اور حدیث میں ہے کہ جس نے ان حکام کی تصدیق و اعانت کی فلیس منی وہ مجھ سے نہیں تو امام عالی مقام کس طرح ان کا ساتھ دیتے۔۔۔(ص۷۳۱) مولانا اوکاڑوی نے ایک اور حدیث نقل کی ہے، جو حضرت خالدؓ سے مروی ہے: "جب لوگ کسی ظالم کو دیکھیں اور اس کے ہاتھ نہ پکڑیں تو بعید نہیں کہ اللہ ان پر عذاب عام بھیج دے۔" (بحوالہ ابوداﺅد شریف)۔


اس سارے پس منظر میں انہوں نے امام حسینؑ کا ایک خطبہ نقل کیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کیا حالات پیدا ہوگئے تھے کہ امام حسینؑ کو بیعت سے انکار کرنا پڑا اور آپ یزید کے خلاف ڈٹ گئے۔ چنانچہ انہوں نے خطبے کے ساتھ اس کا ترجمہ بھی نقل کیا ہے، ہم ترجمے پر اکتفا کرتے ہیں: "اے لوگو! بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جو شخص ایسے ظالم بادشاہ کو دیکھے، جس نے اللہ کے عہد کو توڑ دیا ہو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی مخالفت کی ہو، اللہ کے بندوں میں گناہ اور ظلم کے ساتھ عمل کرتا ہو، پھر وہ شخص اپنی قوت و طاقت کی حد تک اپنے قول اور فعل سے اس کو نہ بدلے تو اللہ تعالیٰ کو حق حاصل ہے کہ اس کو اس (بادشاہ کے) داخل ہونے کی جگہ میں داخل کر دے۔ خبردار ہو جاﺅ! بے شک ان لوگوں نے شیطان کی اطاعت کو لازم پکڑ لیا ہے اور رحمن کی اطاعت کو چھوڑ دیا ہے اور فتنہ و فساد برپا کر دیا ہے اور حدود شرعی کو معطل کر دیا ہے اور محاصل کو اپنے ہی لئے خرچ کرتے ہیں۔ اللہ کی حرام کردہ باتوں کو حلال اور حلال کو حرام قرار دے دیا ہے۔ لہٰذا میں بہ نسبت کسی اور شخص کے (ان کے خلاف جہاد کرنے کا) زیادہ حق دار ہوں اور بے شک میرے پاس تمھارے خطوط اور قاصد آئے کہ تم میری بیعت کرو گے اور ہر طرح میرا ساتھ دو گے اور مجھے کوئی تکلیف نہ پہنچنے دو گے اور مجھے چھوڑو گے نہیں، پس اگر تم میری بیعت پر قائم رہو تو ہدایت پاﺅ گے۔ میں حسین بن علی اور ابن فاطمہ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہوں۔"(بحوالہ ابن اثیر)

 

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسلمان اگر امام حسینؑ کو امام حق مانتے ہیں اور ان سے محبت کرتے ہیں تو وہ اپنے پاس اس کے لئے قوی دلائل رکھتے ہیں۔ اسی طرح امام حسینؑ کے قیام کو قرآن و سنت کی پیروی میں قرار دیتے ہیں تو ان کے سامنے قرآن و سنت کے ٹھوس شواہد موجود ہیں۔ دوسری طرف یزید سے نفرت کی دلیل خود یزید کے وجود میں موجود ہے اور یزید نے اسلام کو بنیاد سے اکھاڑنے کے لئے جو ناپاک سازشیں کیں، مسلمانوں کے سامنے اس کے لئے تاریخی ریکارڈ موجود ہے۔ ساری امت کا اس پر اجماع ہے کہ امام حسینؑ پاک سلسلے کے پاک راہنما ہیں اور یزید کا وجود نجاست و رجاست کی یادگار ہے۔ اس امر کو آشکار کرنے کے لئے ہر دور میں مسلمان علماء نے کتب لکھی ہیں۔ اس میں کسی خاص مکتب فکر کے علماء شامل نہیں بلکہ بدبخت نواصب کے علاوہ تمام مکاتب فکر کے علماء شامل ہیں اور وہ ایسا کیوں نہ کرتے کہ ان کے سامنے قرآن حکیم کی وہ آیات موجود ہیں، جن کی شان نزول امام حسینؑ کی محبت کو واجب قرار دیتی ہے اور امام حسینؑ کی عظمت و طہارت کو بیان کرتی ہے۔


دوسری طرف پیغمبر اکرم کی ان سے محبت پر لاتعداد احادیث ان کے مقام کی شاہد ہیں۔ نبی پاک نے ان سے خود محبت کا جس طرح سے اظہار کیا ہے، صدیاں گزر گئیں لیکن اس امت کے بچے بچے کو اس کے کئی واقعات یاد ہیں۔ پھر ایسی احادیث جن میں امام حسینؑ کے عظیم مقام اور مرتبے کو بیان کیا گیا ہے، نظر انداز نہیں کی جاسکتیں۔ ان علماء میں سے ایک مولانا محمد شفیع اوکاڑوی بھی ہیں، جن کی کتاب میں سے کچھ عبارتیں ہم نے نذر قارئین کی ہیں۔

شہادت امام حسین علیہ السلام

*شہادت امام حسینؓ*🏴🏴🏴🏴🏴

سید ابوالاعلیٰ مودودی

یہ تقریر لاہور میں شیعہ سنی حضرات کی ایک مشترکہ نشست میں کی گئی تھی – جو ماہنامہ ترجمان القران کی اشاعت ماہ جولائی ١٩٦٠ میں شائع ہوئی- اسے افادہ عام کی خاطر کتابی شکل میں پیش کیا جا رہا ہے

ہر سال محرم میں کروڑوں مسلمان، شیعہ بھی اور سنی بھی امام حسین ؑ کی شہادت پر اپنے رنج و غم کا اظہار کرتے ہیں۔ لیکن افسوس ہے کہ ان غم گساروں میں سے بہت ہی کم لوگ اس مقصد کی طرف توجہ کرتے ہیں جس کے لئے امام نے نہ صرف اپنی جان عزیز قربان کی بلکہ اپنے کنبے کے بچوں تک کو کٹوا دیا۔ کسی شخص کی مظلومانہ شہادت پر اس کے اہل خاندان کا اور اس خاندان سے محبت و عقیدت یا ہمدردی رکھنے والوں کا اظہار غم کرنا تو ایک فطری بات ہے۔ ایسا رنج و غم دنیا کے ہر خاندان اور اس سے تعلق رکھنے والوں کی طرف سے ظاہر ہوتا ہے۔ اس کی کوئی اخلاقی قدرو قیمت اس سے زیادہ نہیں ہے کہ یہ اس شخص کی ذات کے ساتھ اس کے رشتہ داروں کی اور خاندان کے ہمدردوں کی محبت کا ایک فطری نتیجہ ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ امام حسین ؑ کی وہ کیا خصوصیت ہے جس کی وجہ سے اتنی صدیاں گزر جانے پر بھی ہر سال ان کا غم تازہ ہوتا رہتا ہے؟ اگر یہ شہادت کسی مقصد عظیم کے لئے نہ تھی تو محض ذاتی محبت و تعلق کی بنا پر صدیوں اس کا غم جاری رہنے کے کوئی معنی نہیں ہیں۔ لہذا اگر ہم اس مقصد کے لئے کچھ نہ کریں، بلکہ اس کے خلاف کام کرتے رہیں، تو محض ان کی ذات کے لئے گریہ و زاری کر کے اور ان کے قاتلوں پر لعن کر کے قیامت کے روز نہ تو ہم امام ہی سے کسی داد کی امید رکھ سکتے ہیں اور نہ یہ توقع رکھ سکتے ہیں کہ خدا اس کی کوئی قدر کرے گا۔

اب دیکھنا چاہئے کہ وہ مقصد کیا تھا؟ کیا امام تخت و تاج کے لئے اپنے کسی ذاتی استحقاق کا دعوی رکھتے تھے اور اس کے لئے انہوں نے سر دھڑ کی بازی لگائی؟ کوئی شخص بھی جو امام حسین رضی اللہ عنہ کے گھرانے کی بلند اخلاق سیرت کو جانتا ہے یہ بدگمانی نہیں کر سکتا کہ یہ لوگ اپنی ذات کے لئے اقتدار حاصل کرنے کی خاطر مسلمانوں میں خون ریزی کرسکتے تھے۔ اگر تھوڑی دیر کے لئے ان لوگوں کا نظریہ ہی صحیح مان لیا جائے جن کی رائے میں یہ خاندان حکومت پر اپنے ذاتی استحقاق کا دعوی رکھتا تھا، تب بھی حضرت ابوبکر سے لے کرامیر معاویہ تک پچاس برس کی پوری تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ حکومت حاصل کرنے کے لئے لڑنا اور کشت و خون کرنا ہرگز ان کا مسلک نہ تھا۔ اس لئے لامحالہ یہ ماننا ہی پڑے گا کہ امام عالی مقام کی نگاہیں اس وقت مسلم معاشرے اور اسلامی ریاست کی روح اور اس کے مزاج اور اس کے نظام میں کسی بڑے تغیر کے آثار دیکھ رہی تھی، جسے روکنے کی جدوجہد کرنا ان کے نزدیک ضروری تھا حتی کہ اس راہ میں لڑنے کی نوبت بھی آ جائے تو وہ اسے نہ صرف جائز بلکہ فرض سمجھتے تھے۔

اس چیز کو ٹھیک ٹھیک سمجھنے کے لئے ہمیں دیکھنا چاہئے کہ رسول اللہ اور خلفائے راشدین کی سربراہی میں ریاست کا جو نظام چالیس سال تک چلتا رہا تھا اس کے دستور کی بنیادی خصوصیات کیا تھیں اور یزید کی ولی عہدی سے مسلمانوں میں جس دوسرے نظام ریاست کا آغاز ہوا اس کے اندر کیا خصوصیات دولت بنی امیہ وبنی عباس اور بعد کے بادشاہوں میں ظاہر ہوئیں؟ اس تقابل سے ہم یہ جان سکتے ہیں کہ یہ گاڑی پہلے کس لائن پہ چل رہی تھی اور اس نقطہ انحراف پر پہنچ کر آگے کس لائن پر چل پڑی۔

   اسلامی ریاست کی خصوصیات

اسلامی ریاست کی خصوصیت یہ تھی کہ اسمیں صرف زبان ہی سے یہ نہیں کہا جاتا تھا بلکہ سچے دل سے یہ مانا بھی جاتا تھا اور عملی رویہ سے اس عقیدہ و یقین کا پورا ثبوت بھی دیا جاتا تھا کہ ملک خدا کا ہے، باشندے خدا کی رعیت ہیں اور حکومت اس رعیت کے معاملے میں خدا کے سامنے جوابدہ ہے۔ حکومت اس رعیت کی مالک نہیں ہے اور رعیت اس کی غلام نہیں ہے۔ حکمرانوں کا کام سب سے پہلے اپنی گردن میں خدا کی بندگی و غلامی کا قلادہ ڈالنا ہے، پھر یہ ان کی ذمہ داری ہے کہ خدا کی رعیت پر اس کا قانون نافذ کریں۔ لیکن یزید کی ولی عہدی سے جس انسانی بادشاہی کا مسلمانوں میں آغاز ہوا اس میں خدا کی بادشاہی کا تصور صرف زبانی اعتراف تک محدود رہ گیا۔ عملاً اس نے وہی نظریہ اختیار کر لیا جو ہمیشہ سے ہر انسانی بادشاہی کا رہا ہے۔ یعنی ملک بادشاہ اور شاہی خاندان کا ہے اور وہ رعیت کی جان، مال، آبرو، ہر چیز کا مالک ہے۔ خدا کے قانون سے ان کے خاندان اور امرا اور حکام زیادہ تر سے مستثنیٰ ہی رہے۔

      تقویٰ

اسلامی ریاست کی روح تقویٰ اور خدا ترسی اور پرہیز گاری کی روح تھی جس کا سب سے بڑا مظہر خود ریاست کا سربراہ تھا۔ حکومت کے عمال اور قاضی اور سپہ سالار، سب اس روح سے سرشار ہوتے تھے اور پھر اسی روح سے وہ پورے معاشرے کو سرشار کرتے تھے۔ لیکن بادشاہی کی راہ پر پڑتے ہی مسلمانوں کی حکومتوں اور ان کے حکمرانوں نے قیصر و کسریٰ کے سے رنگ ڈھنگ اور ٹھاٹھ باٹھ اختیار کر لئے۔ عدل کی جگہ ظلم و جور کا غلبہ ہوتا چلا گیا۔ حرام و حلال کی تمیز سے حکمرانوں کی سیرت و کردار خالی ہوتی چلی گئی۔ سیاست کا رشتہ اخلاق سے ٹوٹتا چلا گیا۔ خدا سے خود ڈرنے کے بجائے حاکم لوگ بندگان خدا کو اپنے آپ سے ڈرانے لگے اور لوگوں کے ایمان و ضمیر بیدار کرنے کے بجائے ان کو اپنی بخششوں کے لالچ سے خریدنے لگے۔

      مشاورت دوسرا اہم اصول

دوسرا اہم ترین قاعدہ اس دستور کا یہ تھا کہ حکومت مشورے سے کی جائے اور مشورہ ان لوگوں سے کیا جائے جن کے علم، تقویٰ اور اصابت رائے پر عام لوگوں کو اعتماد ہو۔ خلفائے راشدین کے عہد میں جو لوگ شوریٰ کے رکن بنائے گئے اگرچہ ان کو انتخاب عام کے ذریعہ سے منتخب نہیں کرایا گیا تھا، جدید زمانے کے تصور کے لحاظ سے وہ نامزد کردہ لوگ ہی تھے، لیکن خلفاء نے یہ دیکھ کر ان کو مشیر نہیں بنایا تھا کہ یہ ہماری ہاں میں ہاں ملانے اور ہمارے مفاد کی خدمت کرنے کے لئے موزوں ترین لوگ ہیں بلکہ انہوں نے پورے خلوص اور بے غرضی کے ساتھ قوم کے بہترین عناصر کو چنا تھا جن سے وہ حق گوئی کے سوا کسی چیز کی توقع نہ رکھتے تھے، جن سے یہ امید تھی کہ وہ ہر معاملے میں اپنے علم و ضمیر کے مطابق بالکل صحیح ایماندارانہ رائے دیں گے، جن سے کوئی شخص بھی یہ اندیشہ نہ رکھتا تھا کہ وہ حکومت کو کسی غلط راہ پر جانے دیں گے۔ اگر اس وقت ملک میں آج کل کے طریقے کے مطابق انتخابات بھی ہوتے تو عام مسلمان انہی لوگوں کو اپنے اعتماد کا مستحق قرار دیتے لیکن شاہی دور کا آغاز ہوتے ہی شوری کا یہ طریقہ بدل گیا۔ اب بادشاہ استبداد اور مطلق العنانی کے ساتھ حکومت کرنے لگے۔ اب شہزادے اور خوشامدی اہل دربار، صوبوں کے گورنر اور فوجوں کے سپہ سالار ان کی کونسل کے ممبر تھے۔ اب وہ لوگ ان کے مشیر تھے جن کے معاملہ میں اگر قوم کی رائے لی جاتی تو اعتماد کے ایک ووٹ کے مقابلہ میں لعنت کے ہزار ووٹ آتے اس کے برعکس وہ حق شناس و حق گو اہل علم و تقوی جن پر قوم کو اعتماد تھا وہ بادشاہوں کی نگاہ میں کسی اعتماد کے مستحق نہ تھے بلکہ الٹے معتوب یا کم از کم مشتبہ تھے۔

    اظہار رائے کی آزادی

اس دستور کا تیسرا اصول یہ تھا کہ لوگوں کو اظہار رائے کی پوری آزادی ہو۔ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کو اسلام نے ہر مسلمان کا حق ہی نہیں بلکہ فرض قرار دیا تھا۔ اسلامی معاشرے اور ریاست کے صحیح راستہ پر چلنے کا انحصار اس بات پر تھا کہ لوگوں کے ضمیر اور ان کی زبانیں آزاد ہوں، وہ ہر غلط پر بڑے سے بڑے آدمی کو ٹوک سکیں اور حق بات برملا کہہ سکیں۔ خلافت راشدہ میں صرف یہی نہیں کہ لوگوں کا یہ حق پوری طرح محفوظ تھا، بلکہ خلفائے راشدین سے ان کا فرض سمجھتے اور اس فرض کے ادا کرنے میں ان کی ہمت افزائی کرتے تھے۔ ان کی مجلس شوریٰ کے ممبروں ہی کو نہیں قوم کے ہر شخص کو بولنے اور ٹوکنے اور خود خلیفہ سے باز پرس کرنے کی مکمل آزادی تھی۔ اس کے استعمال پر لوگ ڈانٹ اور دھمکی سے نہیں بلکہ داد اور تعریف سے نوازے جاتے تھے۔ یہ آزادی ان کی طرف سے کوئی عطیہ اور بخشش نہ تھی جس کے لئے وہ قوم پر اپنا احسان جتاتے، بلکہ یہ اسلام کا عطا کردہ ایک دستوری حق تھا جس کا احترام کرنا وہ اپنا فرض سمجھتے تھے اور اسے بھلائی کے لئے استعمال کرنا ہر مسلمان پر خدا اوررسول کا عائد کردہ ایک فریضہ تھا جس کی ادائیگی کے لئے معاشرے اور ریاست کی فضا کو ہر وقت سازگار رکھنا ان کی نگاہ میں فرائض خلافت کا ایک اہم جز تھا۔ لیکن بادشاہی دور کا آغاز ہوتے ہی ضمیروں پر قفل چڑھا دیئے گئے اور منہ بند کر دیئے گئے۔ اب قاعدہ یہ ہو گیا کہ زبان کھولو تو تعریف میں کھولو، ورنہ چپ رہو اور اگر تمہارا ضمیر ایسا زور آور ہے کہ حق گوئی سے تم باز نہیں رہ سکتے تو قید یا قتل کے لئے تیار ہو جاؤ۔ یہ پالیسی رفتہ رفتہ مسلمانوں کو پست ہمت، بزدل اور مصلحت پرست بناتی چلی گئی۔ خطرہ مول لے کر سچی بات کہنے والے ان کے اندر کم سے کم ہوتے چلے گئے۔ خوشامد اور چاپلوسی کی قیمت مارکیٹ میں چڑھتی اور حق پرستی اور راست بازی کی قیمت گرتی چلی گئی۔ اعلیٰ قابلیت رکھنے والے ایماندار اور آزاد خیال لوگ حکومت سے بے تعلق ہو گئے اور عوام کا حال یہ ہو گیا کہ کسی شاہی خاندان کی حکومت برقرار رکھنے کے لئے ان کے دلوں میں کوئی جذبہ باقی نہ رہا۔ ایک کو ہٹانے کے لئے جب دوسرا آیا تو انہوں نے مدافعت میں انگلی تک نہ ہلائی اور گرنے والا جب گرا تو انہوں نے ایک لات اور رسید کر کے اسے زیادہ گہرے گڑھے میں پھینکا۔ حکومتیں جاتی اور آتی رہیں، مگر لوگوں نے تماشائی سے بڑھ کر اس آمدورفت کے منظر سے کوئی دلچسپی نہ لی۔

       خدا اور خلق خدا کے سامنے جوابدہی

چوتھا اصول جو اس تیسرے اصول کے ساتھ لازمی تعلق رکھتا تھا، یہ تھا کہ خلیفہ اور اس کی حکومت خدا اور خلق دونوں کے سامنے جواب دہ ہے۔ جہاں تک خدا کے سامنے جواب دہی کا تعلق ہے اس کے شدید احساس سے خلفائے راشدین پر دن کا چین اور رات کا آرام حرام ہو گیا اور جہاں تک خلق کے سامنے جواب دہی کا تعلق ہے ’وہ ہر  وقت‘ ہر جگہ اپنے آپ کو عوام کے سامنے جواب دہ سمجھتے تھے۔ ان کی حکومت کا یہ اصول نہ تھا کہ صرف مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) میں نوٹس دے کر یہیں ان سے سوال کیا جاسکتا ہے۔ ہر ہر روز پانچ مرتبہ نماز کی جماعت میں اپنے عوام کا سامنا کرتے تھے۔ وہ ہر ہفتے جمعہ کی جماعت میں عوام کے سامنے اپنی کہتے اور ان کی سنتے تھے۔ وہ شب و روز بازاروں میں کسی باڈی گارڈ کے بغیر، کسی ہٹو بچو کی آواز کے بغیر عوام کے درمیان چلتے پھرتے تھے۔ ان کے گورنمنٹ ہاؤس (یعنی ان کے کچے مکان) کا دروازہ ہر شخص کے لئے کھلا تھا اور ہر ایک ان سے مل سکتا تھا۔ ان سب مواقع پر ہر شخص ان سے سوال کر سکتا تھا اور جواب طلب کرسکتا تھا۔ یہ محدود جواب دہی نہ تھی بلکہ کھلی اور ہمہ وقتی جواب دہی تھی۔

یہ نمائندوں کے واسطہ سے نہ تھی بلکہ پوری قوم کے سامنے براہ راست تھی۔ وہ عوام کی مرضی سے برسر اقتدار آئے تھے اور عوام کی مرضی انہیں ہٹا کر دوسرا خلیفہ ہر وقت لاسکتی تھی۔ اس لئے نہ تو انہیں عوام کا سامنا کرنے میں کوئی خطرہ تھا کہ وہ اس سے بچنے کی کبھی فکر کرتے۔ لیکن بادشاہی دور کے آتے ہی جواب دہ حکومت کا تصور ختم ہو گیا۔ خدا کے سامنے جواب دہی کا خیال چاہے زبانوں پر رہ گیا ہو، مگر عمل میں اس کے آثار کم ہی نظر آتے ہیں۔ رہی خلق کے سامنے جواب دہی کون مائی کا لال تھا جو ان سے جواب طلب کرسکتا۔ وہ اپنی قوم کے فاتح تھے۔ مفتوحوں کے سامنے کون فاتح جواب دہ ہوتا ہے۔ طاقت سے برسر اقتدار آئے تھے اور ان کا نعرہ یہ تھا کہ جس میں طاقت ہو وہ ہم سے اقتدار چھین لے۔ ایسے لوگ عوام کا سامنا کب کیا کرتے ہیں اور عوام ان کے قریب کہاں بھٹک سکتے ہیں۔ وہ نماز بھی پڑھتے تھے تو نتھو  خیرے کے ساتھ نہیں بلکہ اپنی محفوظ مسجدوں میں، یا باہر اپنے نہایت قابل اعتماد محافظوں کے جھرمٹ میں۔ ان کی سواریاں نکلتی تھیں تو آگے اور پیچھے مسلح دستے ہوتے تھے اور راستے صاف کر دیئے جاتے تھے۔ عوام کی اور ان کی مڈبھیڑ کسی جگہ ہوتی ہی نہ تھی۔

    بیت المال خدا اور مسلمانوں کی امانت

پانچواں اصول اسلامی دستور کا یہ تھا کہ بیت المال خدا کا مال اور مسلمانوں کی امانت ہے، جس میں کوئی چیز حق کی راہ کے سوا کسی دوسری راہ میں آنی نہ چاہئے۔ خلیفہ کا حق اس مال میں اتنا ہی ہے جتنا قرآن کی رو سے مال یتیم میں اس کے ولی کا ہوتا ہے کہ۔

من کان غنیا فلیستعفف ومن کان فقیرا فلیا کل بالمعروف

(جو اپنے ذاتی ذرائع آمدنی اپنی ضرورت بھر رکھتا ہو وہ اس مال سے تنخواہ لیتے ہوئے شرم کرے اور جو واقعی حاجت مند ہو وہ اتنی تنخواہ لے جسے ہر معقول آدمی مبنی بر انصاف مانے)

خلیفہ اس کی ایک ایک پائی کے آمد و خرچ پر حساب دینے کا ذمہ دار ہے اور مسلمانوں کو اس سے حساب مانگنے کا پورا حق ہے۔ خلفائے راشدین نے اس اصول کو بھی کمال درجہ دیانت اور حق شناسی کے ساتھ برت کر دکھایا۔ ان کے خزانے میں جو کچھ بھی آتا تھا ٹھیک ٹھیک اسلامی قانون کے مطابق آتا تھا اور اس میں سے جو کچھ خرچ ہوتا تھا بالکل جائز راستوں میں ہوتا تھا۔ ان میں سے جو غنی تھا اس نے ایک جبہ اپنی ذات کے لئے تنخواہ کے طور پر وصول کئے بغیر مفت خدمت انجام دی، بلکہ اپنی گرہ سے قوم کے لئے خرچ کرنے میں بھی دریغ نہ کیا اور جو تنخواہ کے بغیر ہمہ وقتی خدمت گار نہ بن سکتے تھے انہوں نے اپنی ضروریات زندگی کے لئے اتنی کم تنخواہ لی کہ ہر معقول آدمی اسے انصاف سے کم ہی مانے گا زیادہ کہنے کی جرات ان کا دشمن بھی نہیں کر سکتا۔ پھر اس خزانے کی آمدو خرچ کا حساب ہر وقت ہر شخص مانگ سکتا تھا اور وہ ہر وقت ہر شخص کے سامنے حساب دینے کے لئے تیار تھے۔ ان سے ایک عام آدمی بھر ے مجمع میں پوچھ سکتا تھا کہ خزانے میں یمن سے جو چادریں آئی ہیں ان کا طول و عرض تو اتنا نہ تھا کہ جناب کا یہ لمبا کرتا بن سکے، یہ زائد کپڑا آپ کہاں سے لائے ہیں؟ مگر جب خلافت بادشاہی میں تبدیل ہوئی تو خزانہ خدا اور مسلمانوں کا نہیں بلکہ بادشاہ کا مال تھا۔ ہر جائز و ناجائز راستے سے اس میں دولت آتی تھی اور ہر جائز و ناجائز راستے میں بے غل و غش صرف ہوتی تھی۔ کسی کی مجال نہ تھی کہ اس کے حساب کا سوال اٹھا سکے۔ سارا ملک ایک خوان یغما تھا جس پر ایک ہر کارے سے لے کر سربراہ مملکت تک، حکومت کے سارے کل پرزے حسب توفیق ہاتھ مار رہے تھے اور ذہنوں سے یہ تصور ہی نکل گیا تھا کہ اقتدار کوئی پروانہ اباحت نہیں ہے جس کی بدولت یہ لوٹ مار ان کے لئے حلال ہو اور پبلک کا مال کوئی شیر مادر نہیں ہے جسے وہ ہضم کرتے رہیں ا ور کسی کے سامنے انہیں اس کا حساب دینا نہ ہو۔

   قانون الہی کی حکمرانی

چھٹا اصول اس دستور کا یہ تھا کہ ملک میں قانون (یعنی خدا اور رسول کے قانون) کی حکومت ہونی چاہئے۔ کسی کو قانون سے بالاتر نہ ہونا چاہئے۔ کسی کو قانون کی حدود سے باہر جا کر کام کرنے کا حق نہ ہونا چاہئے۔ ایک عامی سے لے کر سربراہ مملکت تک سب کے لئے ایک ہی قانون ہونا چاہئے اور سب پر اسے بے لاگ طریقے سے نافذ ہونا چاہئے۔ انصاف کے معاملے میں کسی کے ساتھ کوئی امتیازی سلوک نہ ہونا چاہئے اور عدالتوں کو انصاف کرنے کے لئے ہر دباؤ سے بالکل آزاد ہونا چاہئے۔ خلفائے راشدین نے اس اصول کی پیروی کا بھی بہترین نمونہ پیش کیا تھا۔ بادشاہوں سے بڑھ کر اقتدار رکھنے کے باوجود وہ قانون الہی کی بندشوں میں جکڑے ہوئے تھے۔ نہ ان کی دوستی اور رشتہ داری قانون کی حد سے نکل کر کسی کو کچھ نفع پہنچا سکتی تھی اور نہ ان کی ناراضی کسی کو قانون کے خلاف کوئی نقصان پہنچا سکتی تھی۔ کوئی ان کے اپنے حق پر دست درازی کرتا تو وہ ایک عام آدمی کی طرح عدالت کا دروازہ کھٹکھٹاتے تھے اور کسی کو ان کے خلاف شکایت ہوتی تو وہ استغاثہ کر کے انہیں عدالت میں کھینچ لاسکتا تھا۔ اسی طرح انہوں نے اپنی حکومت کے گورنروں اور سپہ سالاروں کو بھی قانون کی گرفت میں کس رکھا تھا۔ کسی کی مجال نہ تھی کہ عدالت کے کام میں کسی قاضی پر اثر انداز ہونے کا خیال بھی کرتا۔ کسی کا یہ مرتبہ نہ تھا کہ قانون کی حد سے قدم باہر نکال کر مواخذہ سے بچ جاتا۔ لیکن خلافت سے بادشاہی کی طرف انتقال واقع ہوتے ہی اس قاعدے کے بھی چیتھڑے اڑ گئے۔ اب بادشاہ اور شاہزادے اور امراء اور حکام اور سپہ سالار ہی نہیں، شاہی محلات کے منہ چڑھے لونڈی غلام تک قانون سے بالاتر ہو گئے۔ لوگوں کی گردنیں اور پیٹھیں اور مال اور آبروئیں، سب ان کے لئے مباح ہو گئیں۔ انصاف کے دو معیار بن گئے۔ ایک کمزور کے لئے اور دوسرے طاقت ور کے لئے۔ مقدمات میں عدالتوں پر دباؤ ڈالے جانے لگے اور بے لاگ انصاف کرنے والے قاضیوں کی شامت آنے لگی۔ حتی کہ خدا ترس فقہاء نے عدالت کی کرسی پر بیٹھنے کے بجائے کوڑے کھانا اور قید ہو جانا زیادہ قابل ترجیح سمجھا تاکہ وہ ظلم و جور کے آلہ کار بن کر خدا کے عذاب کے مستحق نہ بنیں۔

   کامل مساوات

مسلمانوں میں حقوق اور مراتب کے لحاظ سے کامل مساوات، اسلامی دستور کا ساتواں اصول تھا، جسے ابتدائی اسلامی ریاست میں پوری قوت کے ساتھ قائم کیا گیا تھا۔ مسلمانوں کے درمیان نسل، وطن ، زبان وغیرہ کا کوئی امتیاز نہ تھا۔ قبیلے اور خاندان اور حسب و نسب کے لحاظ سے کسی کو کسی پر فضیلت نہ تھی۔ خدا اور رسول کے ماننے والے سب لوگوں کے حقوق یکساں تھے اور سب کی حیثیت برابر تھی۔ ایک کو دوسرے پر ترجیح اگر تھی تو سیرت و اخلاق اور اہلیت و صلاحیت اور خدمات کے لحاظ سے تھی۔ لیکن خلافت کی جگہ جب بادشاہی نظام آیا تو عصبیت کے شیاطین ہر گوشے سے سر اٹھانے لگے۔ شاہی خاندان اور ان کے حامی خانوادوں کا مرتبہ سب سے بلند و برتر ہو گیا۔ ان کے قبیلوں کو دوسرے قبیلوں پر ترجیحی حقوق حاصل ہو گئے۔ عربی اور عجمی کے تعصبات جاگ اٹھے۔ خود عربوں میں قبیلے اور قبیلے کے درمیان کشمکش پیدا ہو گئی۔ ملت اسلامیہ کو اس چیز نے جو نقصان پہنچایا اس پر تاریخ کے اوراق گواہ ہیں۔

*خلاصہ کلام*

یہ تھے وہ تغیرات جو اسلامی خلافت کو خاندانی بادشاہت میں تبدیل کرنے سے رونما ہوئے۔ کوئی شخص اس تاریخی حقیقت کا انکار نہیں کر سکتا کہ یزید کی ولی عہدی ان تغیرات کا نقطہء آغاز تھی اور اس بات سے بھی انکار ممکن نہیں ہے کہ اس نقطے سے چل کر تھوڑی مدت کے اندر ہی بادشاہی نظام میں وہ سب خرابیاں نمایاں ہو گئیں جو اوپر بیان کی گئی ہیں۔ جس وقت یہ انقلابی قدم اٹھایا گیا تھا اس وقت یہ خرابیاں اگرچہ بہ تمام و کمال سامنے نہ آئی تھیں، مگر ہر صاحب بصیرت آدمی جان سکتا تھا کہ اس اقدام کے لازمی نتائج یہی کچھ ہیں اور اس سے ان اصلاحات پر پانی پھر جانے والا ہے جو اسلام نے سیاست و ریاست کے نظام میں کی ہیں۔ اسی لئے امام حسین رضی اللہ عنہ اس پر صبر نہ کر سکے اور انہوں نے فیصلہ کیا کہ جو بدتر سے بدتر نتائج بھی انہیں ایک مضبوط جمی جمائی حکومت کے خلاف اٹھنے میں بھگتنے پڑیں، ان کا خطرہ مول لے کر بھی انہیں اس انقلاب کو روکنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ اس کوشش کا جو انجام ہوا وہ سب کے سامنے ہے، مگر امام نے اس عظیم خطرے میں کود کر اور مردانہ وار اس کے نتائج کو انگیز کر کے جو بات ثابت کی وہ یہ تھی کہ اسلامی ریاست کی بنیادی خصوصیات امت مسلمہ کا وہ بیش قیمت سرمایہ ہیں جسے بچانے کے لئے ایک مومن اپنا سر بھی دے دے اور اپنے بال بچوں کو بھی کٹوا بیٹھے تو اس مقصد کے مقابلے میں یہ کوئی مہنگا سودا نہیں ہے، اور ان خصوصیات کے مقابلے میں وہ دوسرے تغیرات جنہیں اوپر نمبر وار گنایا گیا ہے، دین اور ملت کے لئے وہ آفت عظمیٰ ہیں جسے روکنے کے لئے ایک مومن کو اگر اپنا سب کچھ قربان کر دینا پڑے تو اس میں دریغ نہ کرنا چاہئے۔ کسی کا جی چاہے تو اسے حقارت کے ساتھ ایک سیاسی کام کہہ لے۔ مگر حسین رضی اللہ عنہ ابن علی رضی اللہ عنہ کی نگاہ میں تو یہ سراسر ایک دینی کام تھا، اسی لئے انہوں نے اس کام میں جان دینے کو شہادت سمجھ کر جان دی

یزید کے بارے میں مسلک دیوبند کا عقیدہ

*یزید کے بارے میں مسلک دیوبند کا عقیدہ*

تحریر:۔ ثاقب اکبر

مولانا محمد طیب قاسمی مرحوم 1898ء میں پیدا ہوئے۔ 1930ء میں دارالعلوم دیوبند کے مہتمم اعلٰی بنے۔ مکتب دیوبند کے بزرگ اور ممتاز علماء میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کی علمی خدمات کی فہرست بہت طویل ہے۔ انھوں نے ایک کتاب ’’شہید کربلا اور یزید‘‘ کے عنوان سے سپرد قلم کی۔ یہ کتاب رسوائے زمانہ ناصبی محمود احمد عباسی کی بے بصیرانہ کتاب ’’خلافتِ معاویہ و یزید‘‘ کے جواب میں لکھی گئی ہے۔

تاریخی تحقیق کے نام سے محمود عباسی نے جس دھوکہ دہی کی واردات کا گستاخانہ ارتکاب کیا، اس نے تمام اہل ایمان کے اندر ایک ایمانی ردعمل پیدا کیا۔ علمائے محققین نے اس ابلیسی کتاب کے علمی و تحقیقی جوابات لکھے اور نبی کریمؐ کے اہل بیتؑ خصوصاً امام حسینؑ سے اپنی گہری اور بصیرانہ عقیدت کا اظہار کیا۔ ان کاوشوں نے اس گمراہ کنندہ سازش کو عمدگی سے ناکام بنا دیا۔

انہی عظیم اور اکابر علماء میں سے مولانا محمد طیب قاسمی بھی ہیں۔ ان کی کتاب بہت منظم ہے۔ اس میں محمود عباسی کے افکار کی تمام بنیادوں کا ترتیب وار جائزہ لیا گیا ہے اور ان کے ابطال کے لئے جہاں قرآن و سنت سے استفادہ کیا گیا، وہاں تاریخی حوالوں کو بھی قرآن و سنت کے فہم کے تحت رکھا اور پیش کیا گیا ہے۔

اہل سنت علماء و فقہاء اور ماہرین علم کلام کے نظریات کو بھی پیش نظر رکھا گیا ہے اور یوں اہل سنت کے اصولِ مذہب کی روشنی میں امام حسینؑ کے اقدام کا جائزہ لیا گیا۔ آپؐ کے مقام اور اقدام کو بیان کیا گیا ہے، نیز یزید کی ماہیت کو بھی کھول کر بیان کر دیا گیا ہے۔ آیئے کتاب کے چند مطالب پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔

امام حسین ؑ کی صحابیت

محمود عباسی نے اپنے گمراہ کن افکار کی پہلی بنیاد یہ بنائی ہے کہ امام حسینؑ صحابی رسول نہیں ہیں۔ اس کے لئے انھوں نے امام احمد سے منسوب ایک قولِ غریب کا سہارا لیتے ہوئے اولاً امام حسنؑ ہی کی صحابیت کی نفی کر دی ہے، تاکہ امام حسینؑ کی صحابیت کی نفی بدرجہ اولٰی ہو جائے۔ ان کا مقصد یہ ہے کہ ایک صحابی کی حیثیت سے امام حسینؑ کا جو احترام پایا جاتا ہے، اسے ختم کر دیا جائے اور پھر آسانی سے امام حسینؑ اور ان کے اقدام پر تنقید کی جاسکے۔

مولانا قاسمی نے ان کے اس نظریئے کو باطل ثابت کرنے کے لئے بہت سے دلائل پیش کئے ہیں اور حسنین کریمین دونوں کی صحابیت کو ثابت کیا ہے۔ محمود عباسی نے انھیں بچہ قرار دے کر ان کی روایات کو بھی ناقابل اعتناء قرار دیا ہے۔ اس پہلو سے بھی محمود عباسی کے انحراف کو مولانا قاسمی نے واشگاف کیا ہے۔

وہ لکھتے ہیں: حافظ ابن عبدالبراستیعاب میں تحریر فرماتے ہیں: حفظ الحسن بن علی عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم احادیث و رواھا عنہ منھا حدیث الدعأ فی القنوت ومنھا انّا ال محمد لا تحل لنا الصدقۃ(استیعاب،ج۱،ص۱۴۲) "حسن بن علی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے متعدد حدیثیں حفظ کی ہیں اور حضور سے انھوں نے کئی روایتیں کیں۔ جس میں سے ایک حدیث دعا قنوت کی ہے اور انہی سے یہ بھی ہے کہ ہم آل محمد کے لئے صدقہ لینا حلال نہیں۔"

حافظ ابن حجر عسقلانی نے تہذیب التہذیب میں فرمایا: الحسن بن علی بن ابی طالب الھاشمی سبط رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وریحانتہ من الدنیا و احد سیدی شباب اھل الجنۃ روی عن جدہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وابیہ علی واخیہ حسین وخالہ ھند بن ابی ھالہ(تہذیب التہذیب،ج۲،ص ۲۹۵) "حسن بن علی بن ابی طالب ہاشمی سبط رسول اور ریحانہ رسول دنیا میں اور جنت کے نوجوانوں کے دو سرداروں میں سے ایک، انھوں نے روایت کی ہے اپنے جد پاک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اور اپنے والد حضرت علی سے اور اپنے بھائی حسین سے اور اپنے ماموں ہند بن ابی ہالہ سے۔"

اس پر حافظ نے (خت۴) کا نشان دے کر بتلایا ہے کہ حضرت حسن کی روایات کے رجال تاریخ بخاری اور سنن اربعہ کے رجال میں داخل ہیں۔ یعنی حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی یہ روایت موثق مانی گئی ہیں، جن کے ثبوت میں کوئی شبہ نہیں، پھر یہ بھی ظاہر ہے کہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ کو حضور سے روایت حدیث کرتے وقت خود بھی اپنے تحمل روایت کا یقین و اذعان تھا، ورنہ وہ اداء روایت کیسے فرماتے؟ تو دوسرے لفظوں میں یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ انھیں خود بھی اپنے صحابی اور صاحب روایت صحابی ہونے کا پورا پورا یقین اور اس کا دعویٰ تھا جس پر یہ اداء روایت شاہد ہے۔

اس بناء پر یہ دعوائے صحابیت و محدثیت حسن بلکہ صحابیت اطفال خورد سال جہاں آئمہ حدیث کا مسلک ثابت ہوتا ہے، وہیں ایک جلیل القدر صحابی اہلبیت کا مسلک اور عملی دعویٰ بھی ثابت ہوتا ہے۔

پس عباسی صاحب نے تو امام احمد کے ایک مجروح قول سے حضرت حسن کی صحابیت کی نفی کرکے حضرت حسین کی صحابیت کی بھی نفی کرنی چاہی تھی، مگر ان کی قسمت کہ حضرت حسن کی صحابیت کی ساتھ اور الٹا ان کی روایت اور حضور سے سماع حدیث کا ثبوت بھی ہوگیا اور دو حافظ حدیث یعنی ابن عبدالبر اور ابن حجر ان کے صاحب روایت صحابی ہونے کے قائل اور شاہد عدل نکل آئے، بلکہ ان کی تائید عملی طور پر خود حضرت حسن رضی اللہ عنہ سے بھی ہوگئی اور ساتھ ہی حسن کے صاحب روایت ہونے کی حقیقت ان تمام محدثین کا مسلمہ مسئلہ ہوگیا، جنھوں نے اپنی کتب حدیث میں یہ روایتیں نقل کیں اور جنھوں نے ان روایتوں کو پڑھا اور تسلیم کیا۔

گویا امت کے جم غفیر کا یہ ایک مسلمہ مسئلہ ہوگیا اور اس طرح سے امام احمد کا وہ غریب قول شک سے گزر کر یقین کی حد تک غیر ثابت شدہ ہوگیا جس سے عباسی صاحب کی تاریخی ریسرچ کے اوپر سے ایک غلیظ پردہ اور اٹھ گیا، بلکہ ان روایات سماع سے ایک لطیفہ اور مستزاد یہ پیدا ہوگیا کہ عباسی صاحب تو حضرت حسین کو عمر میں حضرت حسن سے چھوٹا دکھلا کر ان کی صحابیت کو ختم کرنا چاہتے تھے، مگر ان حفاظ حدیث نے حضرت حسین کو حضرت حسن کا استاد دکھلا کر انھیں حضرت حسن سے بھی زیادہ مضبوط اور آپ کی قسم کی صحابی ثابت کر دیا۔

اب یہ بالکل ایک تقریری بات ہے، جس میں بیچارے عباسی صاحب کر ہی کیا سکتے تھے، انھوں نے تو نفی صحابیت حسین کے لئے ساری ہی کوششیں تمام کر لیں، مگر جب وہی حفاظ حدیث نہ مانیں، جن کے سر رکھ کر عباسی صاحب نے نفی صحابیت کی یہ کوششیں کی تھیں بلکہ صحابیت کے ساتھ وہ ان کا سماع روایت ہی ثابت کر ڈالیں تو اس کا کیا علاج۔؟

غالباً یہی بنیادیں ہیں جن پر مبنی کرکے حافظ ابن حجر نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ صحابی ہونے کے لئے بالغ ہونے کی قید ہرگز صحیح نہیں، ورنہ حسن صحابیت سے خارج ہو جائیں گے۔ گویا حسن کا صحابی ہونا ایک مسلمہ کل حقیقت تھی، جس کو حجت کے طور پر پیش کرکے حافظ اور محدثین نے بلوغ کی قید کو اڑایا۔ ہماری ان نقول بالا کی پیش کش سے اس مسئلہ کے مسلمہ کل ہونے کی حقیقت کھل جاتی ہے کہ جب محدثین حضرت حسن کی روایات حدیث قبول کئے ہوئے ہیں اور آگے تک ان کی روایت چل رہی ہے اور ان کو صاحب روایت صحابی باور کرتے آرہے ہیں تو کیوں نہ ان کی صحابیت کو مسلمات فن میں سے سمجھتے۔

بہرحال جبکہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی صحابیت بے غبار ہوگئی اور وہ ان کی تابعیت والا غریب مقولہ ہی ثابت شدہ نہ رہا تو اس پر قیاس تفریع کرکے حضرت حسین کی صحابیت کی نفی کا کوئی سوال ہی باقی نہ رہا کہ اس پر کوئی رد و قدح کیا جائے؟ جب قیاس کی بنا ہی منہدم ہوگئی تو قیاس کہاں سے ثابت ہوا کہ اس کے رد کی کوئی ضرورت ہو اور حضرت حسین کی صحابیت سے نفی کو دفع کرنے کے لئے کوئی کلام کیا جائے۔ تاہم ان کی صحابیت کی اثبات کے دلائل میں سے بطور مثال پھر بھی ہم چند نمونے پیش کئے دیتے ہیں، جن سے اس تابعیت والے مقولے کی اور زیادہ قلعی کھل جائے۔

اول تو عباسی صاحب نے جن حافظ ابن کثیر کی روایت سے حضرت حسین کی عمر صرف پانچ سال کی نقل کرکے ان کی صحابیت کی نفی کرنی چاہی تھی، وہی حافظ ابن کثیر خود اپنا مذہب اس بارہ میں یہ بیان کر رہے ہیں: والمقصود ان الحسین عاصر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم و صحبہ، الی ان توفی وھوعنہ راضٍ ولکنہ کان صغیرا۔(البدایہ،ج۸خص۱۵۰) "اور مقصود یہ بیان کرنا ہے کہ حسین معاصر رسول ہیں، جنھوں نے (حضور کا زمانہ پایا اور) حضور کی صحبت اٹھائی، تاآنکہ حضور نے وفات پائی اور آپ ان سے راضی تشریف لے گئے۔ البتہ حسین خورد سال تھے۔"

اس عبارت میں حافظ ابن کثیر نے انھیں صغیر کہہ کر بھی ان کی معاصرۃ اور صحبت کا اقرار کیا ہے، جس کے صاف معنی یہی ہیں کہ حافظ ابن کثیر کے نزدیک صحابیت میں صغر سنی مانع نہیں اور حضرت حسین بلاشبہ صحابی ہیں۔ پھر اس سے بھی زیادہ صاف لفظوں میں ابن کثیر نے ایک دوسرے موقعہ پر ان کی صحابیت کا اعلان اس عنوان سے فرمایا ہے کہ:

فانہ من سادات المسلمین وعلماء الصحابۃ وابن بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم التی ھی افضل بناتہ وقدکان عابداً و شجاعاً و سخیّاً۔(البدایہ،ج۸،ص۲۰۳)"(حسین) سادات مسلمین میں اور علماء صحابہ میں سے ہیں اور اللہ کے رسول کی سب سے افضل صاحبزادی کے بیٹے ہیں اور وہ عابد بہادر اور سخی تھے۔"

امام حسینؑ پنجتن پاک میں سے ہیں

مولانا قاسمی نے امام حسینؑ کی صحابیت کے علاوہ ان کے اہل بیتؑ کے فرد ہونے کو بھی بیان کیا ہے۔ اس سلسلے میں انھوں نے بتایا ہے کہ امام حسینؑ آیت تطہیر اور آیت مباہلہ کے مصادیق میں سے بھی ہیں، اس طرح ان کی طہارت و صداقت قرآن حکیم میں ثابت ہے۔ نیز انھوں نے اس امر پر اپنے سوز کا اظہار کیا ہے کہ کفار تک آپ کے مقام نورانیت کو پہچان لیتے تھے، لیکن محمود عباسی جیسے سیاہ باطن آپ کے مرتبے کو نہ پہچان سکے۔ ان کے الفاظ میں ملاحظہ کیجیے:

جب آیت تطہیر ٗ اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰہُ لِیُذْھِبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ اَھْلَ الْبَیْتِ وَیُطَھِّرَکُمْ تَطْھِیْرًا۔ نازل ہوئی تو آپ نے اپنی رداء مبارک میں اپنے اہل بیت کو جمع فرمایا، جس میں حضرت حسین رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے اور دعا کی: اللھم ھولا اھل بیتی فاذھب عنھم الرجس (رواہ مسلم)"اے اللہ! یہ میرے اہل بیت ہیں ان سے رجس دور فرما۔"

 

اسی طرح جب آیت مباہلہ نازل ہوئی تو پھر آپ اپنے اہل بیت کو لے کر نصاریٰ کے مقابلہ میں مباہلہ کے لئے تشریف لے گئے، جن میں حضرت حسین رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے اور فرمایا کہ اللھم ھولاء اھل بیتی جیسا کہ صحیح مسلم میں روایت موجود ہے تو کیا نبی کے ساتھ رہنا بلکہ نبی کی چادر، میں نبی کے بدن مبارک سے قریب تر ہو کر رہنا صحبت و مجاورۃ نہیں؟

حتٰی کہ اس موقع پر نصاریٰ کے اسقف (لاٹ پادری) نے ان آفتاب و مہتاب چہروں کو دیکھ کر جن میں حضرت حسین رضی اللہ عنہ بھی شامل ہیں، کہا تھا کہ اے گروہ نصاریٰ! میں یہ ایسے چہرے دیکھ رہا ہوں کہ اگر وہ اللہ سے پہاڑوں کو ٹل جانے کا سوال بھی کریں گے تو اللہ پہاڑوں کو ٹلا دے گا۔ اس لئے ان سے مباہلہ کرکے اپنے کو تباہی میں مت ڈالو۔

گویا اس اسقف نے بھی اہل بیت اور حسن و حسین کے مبارک چہروں پر مقبولیت اور نور فطرۃ کا مشاہدہ کر لیا اور کفار تک بھی نبی کے رفقاء اور ساتھیوں کے آثار، مقبولیت و محبوبیت کو دور سے دیکھ کر پہچان لیتے تھے۔ جو اسی شرف صحبت کے آثار تھے تو کیا یہ شرف صحبت کا ثبوت نہیں۔؟ امام حسینؑ اور قرابت نبوی کے بارے میں مولانا قاسمی نے آگے چل کر مزید وضاحت کی ہے اور ایک مرتبہ پھر آپ کو آیہ تطہیر کا ایک مصداق قرار دیتے ہوئے ناصبی ٹولے کو ان کی گمراہی پر ٹوکا ہے:

پھر حضرت حسین رضی اللہ عنہ نہ صرف صحابی ہیں بلکہ قرابت نبوی کی خصوصیت سے بھی مالامال ہیں۔ جو اہل بیت کا مخصوص حصہ تھا اور اس کی بناء پر ان کی قلبی تطہیر اور رجس و نجس باطن سے پاکی اور بھی زیادہ مؤکدہ ہو جاتی ہے، کیونکہ خدائے برتر نے اہل بیت کی تطہیر کا خصوصی ارادہ ظاہر فرمایا:اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰہُ لِیُذْھِبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ اَھْلَ الْبَیْتِ وَیُطَھِّرَکُمْ تَطْھِیْرًا۔"اللہ تعالٰی کو یہ منظور ہے کہ اے گھر والو تم سے آلودگی کو دور رکھے اور تم کو پاک و صاف رکھے۔"

امام حسینؑ کے پاک باطن ہونے پر اہل سنت کا عقیدہ

امام حسینؑ کے پاک باطن ہونے کے بارے میں اہل سنت والجماعت کا عقیدہ مولانا طیب قاسمی یوں واشگاف انداز سے بیان کرتے ہیں:"بہرحال امام حسین رضی اللہ عنہ کے بارے میں عمومی اور خصوصی نصوص شریعہ کی روشنی میں اہل سنت والجماعت کا عقیدہ یہ ہے کہ وہ جزو رسول اور صحابی جلیل ہونے کی وجہ سے پاک باطن، پاک نیت اور عادل القلب تھے۔ خواہ ان کا عمل گھریلو تھا یا میدانی، وہ مدینہ کے مقدس مقام میں رہ کر بھی رجس باطن سے پاک تھے اور کربلا کے میدان میں جا کر بھی پاک ضمیر اور رجس ظاہر و باطن سے پاک اور پاک نہاد تھے۔

جس سے اللہ ہی نے انھیں پاک کرنے کا ارادہ ظاہر فرما دیا تھا۔ ان کے ساتھ سوئے ظن یا بدگوئی یا دل میں غل و غش رکھنا شرعی تصریحات کی مخالفت ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ اہل سنت کا عقیدہ ہے، نظریہ نہیں۔ نظریہ عقل سے بنتا ہے اور عقیدہ خدا اور رسول کی خبر سے، عقیدہ دین ہوتا ہے اور نظریۂ رائے۔"

۔۔۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔۔۔

نوٹ: یہ تمام عبارات مولانا محمد طیب قاسم کی کتاب ’’شہید کربلا اور یزید‘‘ سے ماخوذ ہیں، جسے ادارہ اسلامیات، لاہور نے شائع کیا ہے اور اس پر مولانا کے صاحبزادے مولانا محمد سالم قاسمی کی تقریظ بھی موجود ہے، جس میں انھوں نے لکھا ہے کہ:’’یہ کتاب جماعت دارالعلوم دیوبند کے متفقہ مسلک حق کی ترجمان ہے۔

طالبانائزیشن ایک جنگِ مسلسل

طالبانائزیشن اِک جنگِ مسلسل

(Qasim Raza Naqvi, Nairobi)

موجودہ دور ترقی، ٹیکنالوجی اور رفتار کا زمانہ ہے، حضرتِ انسان انتہائی برق رفتاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے کائنات کے راز افشاں کرنے کے درپے ہیں۔ دوسری جانب انسانیت حیوانیت کا لبادہ اوڑھے ، ظلم وبربریت، بھوک وافلاس اور دہشت کے جہنم میں گرتی جارہی ہے۔ اگر ہم اپنے اردگرد نظر دوڑائیں تو ہمیں ہر طرف اونچی اونچی عمارات، نت نئی ایجادات اور مصنوعات بکثرت نظر آئیں گی، وہیں دوسری جانب بھوک سے بلکتے بچے، ٹریفک سگنلز پر بھیک مانگنے والوں کی بھیڑ اور اخبارات میں دہشت و بربریت کی داستانیں ہماری زندگی کا حصہ بن چکی ہیں۔ 


میری اپنی رائے ہے کہ کسی بھی معاشرے میں بدامنی، دہشت گردی، اور ظلم اور بربریت کا پودا خود سے جڑ نہیں پکڑتا، اس کی نمو کی ذمہ دار ہماری اپنی کوتاہیاں اور غلطیاں ہوتی ہیں جو اسے پنپنے میں مدد فراہم کرتی ہیں اور ایک تناور درخت کی شکل میں ہمارے سامنے لا کھڑا کرتی ہیں۔ اگر ہم اپنی غلطیوں سے سیکھیں اور اپنی ذمہ داریوں سے نظر نہ چرائیں تو ہم ان تمام خباثتوں کو جڑ پکڑنے سے پہلے کاٹ کر پھینک سکتے ہیں۔ 


پاکستان ایک اسلامی ملک ہے، ہم نے اسلام کے نام پر اس ملک کی بنیاد رکھی لیکن بدقسمتی سے ہم اسلام کے بنیادی رکن رواداری کو مکمل فراموش کر بیٹھے، ہم غیر ملکی قوتوں کے آلہ کار بن کر کئی دہائیوں تک استعمال ہوتے رہے، ان قوتوں نے پاکستان کو ایک ایسی لیبارٹری کی طرح استعمال کیا جس میں تجربات کرنے کے بعد وہ اپنا تجرباتی فضلہ یہیں چھوڑ گئے جو آج تک ہمارے اس ملک کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے۔ 

اسلام محبت و آشتی کا دین ہے، رواداری دینِ اسلام کا بنیادی رکن ہے۔ سورہ یونس میں فرمایا گیا ہے

آیت مبارکہ سورہ یونس

اگر تیرا رب چاہتا کہ زمین میں سب مومن ہی ہوں تو بے شک تمام اہلِ زمین ایمان لے آتے۔ 


اس آیت کریمہ سے یہ بات پوری طرح واضح ہے کہ اسلام کسی بھی شخص پر اپنے فلسفہ کو مسلط کرنے کی اجازت ہر گز نہیں دیتا، نہ ہی کسی شخص کے عقیدہ کو تبدیل کرنے کی ترغیب اسکی واضح مثال ہمارے نبی کریمؐ،آئمہ کرام کی حیات مقدسہ ہیں۔ ہاں اسلام تبلیغ کی اجازت ضرور دیتا ہے لیکن بغیر زور و زبردستی، خدا جانے ہمارے معاشرے میں اسلام کے ٹھیکیدار کب سے تعینات ہوئے ہیں اور کس نے انہیں حق دیا ہے کہ یہ مسلمان ، کافر ، جنت اور دوزخ کی اسناد تقسیم کرتے پھریں تاریخ اسلام اسکی وضاحت سے قاصر ہے ہاں البتہ تاریخ طالبان اس کی داعی ضرور ہے۔ 


آخر یہ طالبانائزیشن ہے کیا، جی طالبانائزیشن آسان الفاظ میں عدم برداشت اور اپنی مرضی کسی دوسرے شخص پر مسلط کرنے کا نام ہے ۔یہ اسلام کے بنیادی رکن رواداری کی مکمل نفی ہے۔ یہ کسی ایک مذہب، فرقے، مسلک یا گروہ کی میراث نہیں، یہ ہر اس شخص ، سوچ اور ارادے کا نام ہے جو کسی دوسرے پر اس کی مرضی کے خلاف مسلط کردیا جائے۔ 


ستم ظریفی کہ لیں یا سازش کہ طالبانائزیشن کو اسلام کے ساتھ نتھی کر کے اسلام کی غلط شبیہ دنیا کے سامنے پیش کی گئی ہے، جبکہ اس کا اسلام سے کوئی لینا دینا نہیں، اسلام امن کا مذہب ہے اور کسی زور زبردستی کا درس نہیں دیتا، اسلام محبت اور اخوت کا مذہب ہے، اسلام کسی کی گردن کاٹنے اورعورتوں، بچوں کے قتل و غارت جیسے قبیح افعال کی اجازت نہیں دیتا۔ اس کے بر عکس اسلام ایک انسان کے قتل کو پوری انسانیت کے قتل سے تعبیر کرنے والا دین ہے۔ 


طالبانی سوچ کے حامل افراد ہر قوم، ملک، مذہب اور فرقے میں موجود ہیں، اب آپ اس کو ٹرمپ سے تعبیر کریں یا ملا عمر سے یا پھر خود سے۔ ہم سب ان میں شامل ہیں ہاں کچھ ذرا زیادہ سوچ رکھتے ہیں کچھ کم مگر کہیں نا کہیں یہ سوچ ہم سب میں موجود ہے اور اکثر اپنا جلوہ دکھاتی ہے، یہ وہ جنگِ مسلسل ہے جو ہم ہر روز خود سے لڑتے ہیں


اب سوال یہ ہے کہ اس سوچ کا مقابلہ کیسے کیا جائے اور اس جنگِ مسلسل سے نجات پائی جائے، تاکہ یہ ناسور ہمارے معاشرے سے ہمیشہ کیلیئے دفعان ہو جائے اور اس ذلت سے جان خلاصی ہو۔ میرے خیال میں اس کا آغاز ہمیں کہیں اور سے نہیں خود سے کرنا ہوگا، اپنے آپ سے، اپنے گھر سے مانا کہ یہ آسان کام نہیں خود احتسابی دنیا کا سب سے مشکل کام ہے لیکن آغاز تو کرنا ہے نا پھر انتظار کیوں! 


بقول غالب

عمر بھر ہم یونہی غلطی کرتے رہے غالب

دھول چہرے پر تھی اور ہم آئینہ صاف کرتے رہے