*یزید کے بارے میں مسلک دیوبند کا عقیدہ*
تحریر:۔ ثاقب اکبر
مولانا محمد طیب قاسمی مرحوم 1898ء میں پیدا ہوئے۔ 1930ء میں دارالعلوم دیوبند کے مہتمم اعلٰی بنے۔ مکتب دیوبند کے بزرگ اور ممتاز علماء میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کی علمی خدمات کی فہرست بہت طویل ہے۔ انھوں نے ایک کتاب ’’شہید کربلا اور یزید‘‘ کے عنوان سے سپرد قلم کی۔ یہ کتاب رسوائے زمانہ ناصبی محمود احمد عباسی کی بے بصیرانہ کتاب ’’خلافتِ معاویہ و یزید‘‘ کے جواب میں لکھی گئی ہے۔
تاریخی تحقیق کے نام سے محمود عباسی نے جس دھوکہ دہی کی واردات کا گستاخانہ ارتکاب کیا، اس نے تمام اہل ایمان کے اندر ایک ایمانی ردعمل پیدا کیا۔ علمائے محققین نے اس ابلیسی کتاب کے علمی و تحقیقی جوابات لکھے اور نبی کریمؐ کے اہل بیتؑ خصوصاً امام حسینؑ سے اپنی گہری اور بصیرانہ عقیدت کا اظہار کیا۔ ان کاوشوں نے اس گمراہ کنندہ سازش کو عمدگی سے ناکام بنا دیا۔
انہی عظیم اور اکابر علماء میں سے مولانا محمد طیب قاسمی بھی ہیں۔ ان کی کتاب بہت منظم ہے۔ اس میں محمود عباسی کے افکار کی تمام بنیادوں کا ترتیب وار جائزہ لیا گیا ہے اور ان کے ابطال کے لئے جہاں قرآن و سنت سے استفادہ کیا گیا، وہاں تاریخی حوالوں کو بھی قرآن و سنت کے فہم کے تحت رکھا اور پیش کیا گیا ہے۔
اہل سنت علماء و فقہاء اور ماہرین علم کلام کے نظریات کو بھی پیش نظر رکھا گیا ہے اور یوں اہل سنت کے اصولِ مذہب کی روشنی میں امام حسینؑ کے اقدام کا جائزہ لیا گیا۔ آپؐ کے مقام اور اقدام کو بیان کیا گیا ہے، نیز یزید کی ماہیت کو بھی کھول کر بیان کر دیا گیا ہے۔ آیئے کتاب کے چند مطالب پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔
امام حسین ؑ کی صحابیت
محمود عباسی نے اپنے گمراہ کن افکار کی پہلی بنیاد یہ بنائی ہے کہ امام حسینؑ صحابی رسول نہیں ہیں۔ اس کے لئے انھوں نے امام احمد سے منسوب ایک قولِ غریب کا سہارا لیتے ہوئے اولاً امام حسنؑ ہی کی صحابیت کی نفی کر دی ہے، تاکہ امام حسینؑ کی صحابیت کی نفی بدرجہ اولٰی ہو جائے۔ ان کا مقصد یہ ہے کہ ایک صحابی کی حیثیت سے امام حسینؑ کا جو احترام پایا جاتا ہے، اسے ختم کر دیا جائے اور پھر آسانی سے امام حسینؑ اور ان کے اقدام پر تنقید کی جاسکے۔
مولانا قاسمی نے ان کے اس نظریئے کو باطل ثابت کرنے کے لئے بہت سے دلائل پیش کئے ہیں اور حسنین کریمین دونوں کی صحابیت کو ثابت کیا ہے۔ محمود عباسی نے انھیں بچہ قرار دے کر ان کی روایات کو بھی ناقابل اعتناء قرار دیا ہے۔ اس پہلو سے بھی محمود عباسی کے انحراف کو مولانا قاسمی نے واشگاف کیا ہے۔
وہ لکھتے ہیں: حافظ ابن عبدالبراستیعاب میں تحریر فرماتے ہیں: حفظ الحسن بن علی عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم احادیث و رواھا عنہ منھا حدیث الدعأ فی القنوت ومنھا انّا ال محمد لا تحل لنا الصدقۃ(استیعاب،ج۱،ص۱۴۲) "حسن بن علی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے متعدد حدیثیں حفظ کی ہیں اور حضور سے انھوں نے کئی روایتیں کیں۔ جس میں سے ایک حدیث دعا قنوت کی ہے اور انہی سے یہ بھی ہے کہ ہم آل محمد کے لئے صدقہ لینا حلال نہیں۔"
حافظ ابن حجر عسقلانی نے تہذیب التہذیب میں فرمایا: الحسن بن علی بن ابی طالب الھاشمی سبط رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وریحانتہ من الدنیا و احد سیدی شباب اھل الجنۃ روی عن جدہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وابیہ علی واخیہ حسین وخالہ ھند بن ابی ھالہ(تہذیب التہذیب،ج۲،ص ۲۹۵) "حسن بن علی بن ابی طالب ہاشمی سبط رسول اور ریحانہ رسول دنیا میں اور جنت کے نوجوانوں کے دو سرداروں میں سے ایک، انھوں نے روایت کی ہے اپنے جد پاک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اور اپنے والد حضرت علی سے اور اپنے بھائی حسین سے اور اپنے ماموں ہند بن ابی ہالہ سے۔"
اس پر حافظ نے (خت۴) کا نشان دے کر بتلایا ہے کہ حضرت حسن کی روایات کے رجال تاریخ بخاری اور سنن اربعہ کے رجال میں داخل ہیں۔ یعنی حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی یہ روایت موثق مانی گئی ہیں، جن کے ثبوت میں کوئی شبہ نہیں، پھر یہ بھی ظاہر ہے کہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ کو حضور سے روایت حدیث کرتے وقت خود بھی اپنے تحمل روایت کا یقین و اذعان تھا، ورنہ وہ اداء روایت کیسے فرماتے؟ تو دوسرے لفظوں میں یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ انھیں خود بھی اپنے صحابی اور صاحب روایت صحابی ہونے کا پورا پورا یقین اور اس کا دعویٰ تھا جس پر یہ اداء روایت شاہد ہے۔
اس بناء پر یہ دعوائے صحابیت و محدثیت حسن بلکہ صحابیت اطفال خورد سال جہاں آئمہ حدیث کا مسلک ثابت ہوتا ہے، وہیں ایک جلیل القدر صحابی اہلبیت کا مسلک اور عملی دعویٰ بھی ثابت ہوتا ہے۔
پس عباسی صاحب نے تو امام احمد کے ایک مجروح قول سے حضرت حسن کی صحابیت کی نفی کرکے حضرت حسین کی صحابیت کی بھی نفی کرنی چاہی تھی، مگر ان کی قسمت کہ حضرت حسن کی صحابیت کی ساتھ اور الٹا ان کی روایت اور حضور سے سماع حدیث کا ثبوت بھی ہوگیا اور دو حافظ حدیث یعنی ابن عبدالبر اور ابن حجر ان کے صاحب روایت صحابی ہونے کے قائل اور شاہد عدل نکل آئے، بلکہ ان کی تائید عملی طور پر خود حضرت حسن رضی اللہ عنہ سے بھی ہوگئی اور ساتھ ہی حسن کے صاحب روایت ہونے کی حقیقت ان تمام محدثین کا مسلمہ مسئلہ ہوگیا، جنھوں نے اپنی کتب حدیث میں یہ روایتیں نقل کیں اور جنھوں نے ان روایتوں کو پڑھا اور تسلیم کیا۔
گویا امت کے جم غفیر کا یہ ایک مسلمہ مسئلہ ہوگیا اور اس طرح سے امام احمد کا وہ غریب قول شک سے گزر کر یقین کی حد تک غیر ثابت شدہ ہوگیا جس سے عباسی صاحب کی تاریخی ریسرچ کے اوپر سے ایک غلیظ پردہ اور اٹھ گیا، بلکہ ان روایات سماع سے ایک لطیفہ اور مستزاد یہ پیدا ہوگیا کہ عباسی صاحب تو حضرت حسین کو عمر میں حضرت حسن سے چھوٹا دکھلا کر ان کی صحابیت کو ختم کرنا چاہتے تھے، مگر ان حفاظ حدیث نے حضرت حسین کو حضرت حسن کا استاد دکھلا کر انھیں حضرت حسن سے بھی زیادہ مضبوط اور آپ کی قسم کی صحابی ثابت کر دیا۔
اب یہ بالکل ایک تقریری بات ہے، جس میں بیچارے عباسی صاحب کر ہی کیا سکتے تھے، انھوں نے تو نفی صحابیت حسین کے لئے ساری ہی کوششیں تمام کر لیں، مگر جب وہی حفاظ حدیث نہ مانیں، جن کے سر رکھ کر عباسی صاحب نے نفی صحابیت کی یہ کوششیں کی تھیں بلکہ صحابیت کے ساتھ وہ ان کا سماع روایت ہی ثابت کر ڈالیں تو اس کا کیا علاج۔؟
غالباً یہی بنیادیں ہیں جن پر مبنی کرکے حافظ ابن حجر نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ صحابی ہونے کے لئے بالغ ہونے کی قید ہرگز صحیح نہیں، ورنہ حسن صحابیت سے خارج ہو جائیں گے۔ گویا حسن کا صحابی ہونا ایک مسلمہ کل حقیقت تھی، جس کو حجت کے طور پر پیش کرکے حافظ اور محدثین نے بلوغ کی قید کو اڑایا۔ ہماری ان نقول بالا کی پیش کش سے اس مسئلہ کے مسلمہ کل ہونے کی حقیقت کھل جاتی ہے کہ جب محدثین حضرت حسن کی روایات حدیث قبول کئے ہوئے ہیں اور آگے تک ان کی روایت چل رہی ہے اور ان کو صاحب روایت صحابی باور کرتے آرہے ہیں تو کیوں نہ ان کی صحابیت کو مسلمات فن میں سے سمجھتے۔
بہرحال جبکہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی صحابیت بے غبار ہوگئی اور وہ ان کی تابعیت والا غریب مقولہ ہی ثابت شدہ نہ رہا تو اس پر قیاس تفریع کرکے حضرت حسین کی صحابیت کی نفی کا کوئی سوال ہی باقی نہ رہا کہ اس پر کوئی رد و قدح کیا جائے؟ جب قیاس کی بنا ہی منہدم ہوگئی تو قیاس کہاں سے ثابت ہوا کہ اس کے رد کی کوئی ضرورت ہو اور حضرت حسین کی صحابیت سے نفی کو دفع کرنے کے لئے کوئی کلام کیا جائے۔ تاہم ان کی صحابیت کی اثبات کے دلائل میں سے بطور مثال پھر بھی ہم چند نمونے پیش کئے دیتے ہیں، جن سے اس تابعیت والے مقولے کی اور زیادہ قلعی کھل جائے۔
اول تو عباسی صاحب نے جن حافظ ابن کثیر کی روایت سے حضرت حسین کی عمر صرف پانچ سال کی نقل کرکے ان کی صحابیت کی نفی کرنی چاہی تھی، وہی حافظ ابن کثیر خود اپنا مذہب اس بارہ میں یہ بیان کر رہے ہیں: والمقصود ان الحسین عاصر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم و صحبہ، الی ان توفی وھوعنہ راضٍ ولکنہ کان صغیرا۔(البدایہ،ج۸خص۱۵۰) "اور مقصود یہ بیان کرنا ہے کہ حسین معاصر رسول ہیں، جنھوں نے (حضور کا زمانہ پایا اور) حضور کی صحبت اٹھائی، تاآنکہ حضور نے وفات پائی اور آپ ان سے راضی تشریف لے گئے۔ البتہ حسین خورد سال تھے۔"
اس عبارت میں حافظ ابن کثیر نے انھیں صغیر کہہ کر بھی ان کی معاصرۃ اور صحبت کا اقرار کیا ہے، جس کے صاف معنی یہی ہیں کہ حافظ ابن کثیر کے نزدیک صحابیت میں صغر سنی مانع نہیں اور حضرت حسین بلاشبہ صحابی ہیں۔ پھر اس سے بھی زیادہ صاف لفظوں میں ابن کثیر نے ایک دوسرے موقعہ پر ان کی صحابیت کا اعلان اس عنوان سے فرمایا ہے کہ:
فانہ من سادات المسلمین وعلماء الصحابۃ وابن بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم التی ھی افضل بناتہ وقدکان عابداً و شجاعاً و سخیّاً۔(البدایہ،ج۸،ص۲۰۳)"(حسین) سادات مسلمین میں اور علماء صحابہ میں سے ہیں اور اللہ کے رسول کی سب سے افضل صاحبزادی کے بیٹے ہیں اور وہ عابد بہادر اور سخی تھے۔"
امام حسینؑ پنجتن پاک میں سے ہیں
مولانا قاسمی نے امام حسینؑ کی صحابیت کے علاوہ ان کے اہل بیتؑ کے فرد ہونے کو بھی بیان کیا ہے۔ اس سلسلے میں انھوں نے بتایا ہے کہ امام حسینؑ آیت تطہیر اور آیت مباہلہ کے مصادیق میں سے بھی ہیں، اس طرح ان کی طہارت و صداقت قرآن حکیم میں ثابت ہے۔ نیز انھوں نے اس امر پر اپنے سوز کا اظہار کیا ہے کہ کفار تک آپ کے مقام نورانیت کو پہچان لیتے تھے، لیکن محمود عباسی جیسے سیاہ باطن آپ کے مرتبے کو نہ پہچان سکے۔ ان کے الفاظ میں ملاحظہ کیجیے:
جب آیت تطہیر ٗ اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰہُ لِیُذْھِبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ اَھْلَ الْبَیْتِ وَیُطَھِّرَکُمْ تَطْھِیْرًا۔ نازل ہوئی تو آپ نے اپنی رداء مبارک میں اپنے اہل بیت کو جمع فرمایا، جس میں حضرت حسین رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے اور دعا کی: اللھم ھولا اھل بیتی فاذھب عنھم الرجس (رواہ مسلم)"اے اللہ! یہ میرے اہل بیت ہیں ان سے رجس دور فرما۔"
اسی طرح جب آیت مباہلہ نازل ہوئی تو پھر آپ اپنے اہل بیت کو لے کر نصاریٰ کے مقابلہ میں مباہلہ کے لئے تشریف لے گئے، جن میں حضرت حسین رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے اور فرمایا کہ اللھم ھولاء اھل بیتی جیسا کہ صحیح مسلم میں روایت موجود ہے تو کیا نبی کے ساتھ رہنا بلکہ نبی کی چادر، میں نبی کے بدن مبارک سے قریب تر ہو کر رہنا صحبت و مجاورۃ نہیں؟
حتٰی کہ اس موقع پر نصاریٰ کے اسقف (لاٹ پادری) نے ان آفتاب و مہتاب چہروں کو دیکھ کر جن میں حضرت حسین رضی اللہ عنہ بھی شامل ہیں، کہا تھا کہ اے گروہ نصاریٰ! میں یہ ایسے چہرے دیکھ رہا ہوں کہ اگر وہ اللہ سے پہاڑوں کو ٹل جانے کا سوال بھی کریں گے تو اللہ پہاڑوں کو ٹلا دے گا۔ اس لئے ان سے مباہلہ کرکے اپنے کو تباہی میں مت ڈالو۔
گویا اس اسقف نے بھی اہل بیت اور حسن و حسین کے مبارک چہروں پر مقبولیت اور نور فطرۃ کا مشاہدہ کر لیا اور کفار تک بھی نبی کے رفقاء اور ساتھیوں کے آثار، مقبولیت و محبوبیت کو دور سے دیکھ کر پہچان لیتے تھے۔ جو اسی شرف صحبت کے آثار تھے تو کیا یہ شرف صحبت کا ثبوت نہیں۔؟ امام حسینؑ اور قرابت نبوی کے بارے میں مولانا قاسمی نے آگے چل کر مزید وضاحت کی ہے اور ایک مرتبہ پھر آپ کو آیہ تطہیر کا ایک مصداق قرار دیتے ہوئے ناصبی ٹولے کو ان کی گمراہی پر ٹوکا ہے:
پھر حضرت حسین رضی اللہ عنہ نہ صرف صحابی ہیں بلکہ قرابت نبوی کی خصوصیت سے بھی مالامال ہیں۔ جو اہل بیت کا مخصوص حصہ تھا اور اس کی بناء پر ان کی قلبی تطہیر اور رجس و نجس باطن سے پاکی اور بھی زیادہ مؤکدہ ہو جاتی ہے، کیونکہ خدائے برتر نے اہل بیت کی تطہیر کا خصوصی ارادہ ظاہر فرمایا:اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰہُ لِیُذْھِبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ اَھْلَ الْبَیْتِ وَیُطَھِّرَکُمْ تَطْھِیْرًا۔"اللہ تعالٰی کو یہ منظور ہے کہ اے گھر والو تم سے آلودگی کو دور رکھے اور تم کو پاک و صاف رکھے۔"
امام حسینؑ کے پاک باطن ہونے پر اہل سنت کا عقیدہ
امام حسینؑ کے پاک باطن ہونے کے بارے میں اہل سنت والجماعت کا عقیدہ مولانا طیب قاسمی یوں واشگاف انداز سے بیان کرتے ہیں:"بہرحال امام حسین رضی اللہ عنہ کے بارے میں عمومی اور خصوصی نصوص شریعہ کی روشنی میں اہل سنت والجماعت کا عقیدہ یہ ہے کہ وہ جزو رسول اور صحابی جلیل ہونے کی وجہ سے پاک باطن، پاک نیت اور عادل القلب تھے۔ خواہ ان کا عمل گھریلو تھا یا میدانی، وہ مدینہ کے مقدس مقام میں رہ کر بھی رجس باطن سے پاک تھے اور کربلا کے میدان میں جا کر بھی پاک ضمیر اور رجس ظاہر و باطن سے پاک اور پاک نہاد تھے۔
جس سے اللہ ہی نے انھیں پاک کرنے کا ارادہ ظاہر فرما دیا تھا۔ ان کے ساتھ سوئے ظن یا بدگوئی یا دل میں غل و غش رکھنا شرعی تصریحات کی مخالفت ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ اہل سنت کا عقیدہ ہے، نظریہ نہیں۔ نظریہ عقل سے بنتا ہے اور عقیدہ خدا اور رسول کی خبر سے، عقیدہ دین ہوتا ہے اور نظریۂ رائے۔"
۔۔۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔۔۔
نوٹ: یہ تمام عبارات مولانا محمد طیب قاسم کی کتاب ’’شہید کربلا اور یزید‘‘ سے ماخوذ ہیں، جسے ادارہ اسلامیات، لاہور نے شائع کیا ہے اور اس پر مولانا کے صاحبزادے مولانا محمد سالم قاسمی کی تقریظ بھی موجود ہے، جس میں انھوں نے لکھا ہے کہ:’’یہ کتاب جماعت دارالعلوم دیوبند کے متفقہ مسلک حق کی ترجمان ہے۔